1837ء میں لاہور دربار کے خلاف پونچھ بغاوت کی داستان
دانش ارشاد
جموں کشمیر کے پیرپنجال خطے کے علاقے پونچھ میں بغاوتوں اور تحریکوں کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ جموں کشمیر کے اندر ایک ذیلی ریاست ، پھر جاگیر اور بعد ازاں ایک ضلع رہنے والا یہ علاقہ 1947میں جموں کشمیر کی تقسیم کے ساتھ ہی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ پونچھ میں احتجاجی تحریکوں اور بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ تاہم 1837ء میں لاہور دربار کے خلاف ، 1947ء میں ڈوگرہ خاندان کے شخصی راج کے خلاف اور پھر 1950اور1955میں پاکستان کے خلاف پونچھ میں بڑی بغاوتیں ہوئی ہیں۔
1840کی دہائی میں پونچھ میں ہونے والی بغاوت کا تذکرہ ہمیں برطانوی مصنف میجر جنرل کارمائیکل سمتھ کی تصنیف میں ملتا ہے۔ 1847میں اس بغاوت کے 10سال بعد شائع ہونے والی ان کی تصنیف ’’اے ہسٹری آف دی ریجننگ فیملی آف لاہور‘‘ میں پہلی بار پونچھ میں ہونے والی اس بغاوت کی تفصیل تحریر کی گئی۔ یہ کتاب بنیادی طور پر پنجاب میں سکھ دور اور جموں میں ڈوگروں کے ابتدائی دور کا احاطہ کرتی ہے۔
اس کتاب کا ایک باب’دی سدھن ریوالٹ‘ یعنی سدھن بغاوت ہے۔ اس باب میں 1840 کی دہائی میں لاہور دربار کے خلاف پونچھ میں ہونے والی بغاوت کی تفصیل بتائی گئی ہے۔
کارمائیکل سمتھ اس باب میں لکھتے ہیں کہ 1832 کے آس پاس پنجاب کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں آباد کئی خودمختار قبائل کو لاہور دربار کے ماتحت لایا گیا ۔ان قبائل میں ڈونڈھ، سدھن، ستی اور ملدیال شامل تھے۔ ڈونڈھ قبیلہ بنیادی طور پر دریائے جہلم کے مغربی کناروں پر آباد تھا۔ ان کی حد دریائے جہلم کے کنارے کھکوں اور بمبوں کو الگ کرنے والی پہاڑیوں سے شروع ہوتی ہے اور دریا کے مغربی کنارے پر آگے 25 سے 30 میل تک جاتی ہے۔ اس قبیلے کی آبادی تقریباً 50 سے 60 ہزار کے درمیان بتا ئی جاتی ہے۔
سدھن قبیلہ اسی دریا کے مشرقی کنارے کے ساتھ یعنی ڈونڈھ قبیلے کے بالکل سامنے دریا کے دوسری طرف ایک وسیع علاقے میں آباد تھا اور ان کی آبادی تقریباً 40 ہزار تھی۔ ستی قبیلہ ان ( ڈھونڈوں) کے جنوب کی جانب نچلی پہاڑیوں میں آباد تھا اور ان کی تعداد 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ملدیال قبائل سدھنوں کے مشرق میں آباد تھے اور ان کی آبادی 18 ہزار کے قریب تھی۔
1832میں جموں کے ڈوگرہ برادرز (گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ) نے بظاہر ان قبائل کو لاہور دربار کے ماتحت کرنے کی مہم شروع کی، جو درحقیقت ان قبائل کو اپنی حکومت کے تابع کرنے کی مہم تھی ۔ ڈوگروں نے جب یہ مہم شروع کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ان قبائل کو زیر کرنا ان کے گمان سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ لہٰذ انہوں نے اپنے آقا رنجیت سنگھ کو راضی کیا کہ وہ اپنی پوری فوج کے ساتھ راولپنڈی کی طرف پیش قدمی کرے، ان قبائل کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرے اور ان کے خلاف ڈوگروں کی مدد کرے ،جنہیں جموں کے ڈوگرے فتح نہ کر سکے تھے۔
رنجیت سنگھ نے 60ہزار فوجیوں کے ساتھ پیش قدمی کی اور کری کے مقام پر پڑاؤ ڈالا جو انہی قبائل کے علاقے کے داخلی دہانے پر واقع تھا۔ رنجیت سنگھ جیسے طاقتور حکمران کی بھاری بھرکم فوج اور دن رات پہاڑوں میں گونجتی 150 توپوں کی گن گرج دیکھ کر قبائل خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ایک معاہدہ طے پایا۔
کارمائیکل سمتھ لکھتے ہیں کہ معاہدے کے بعد سدھن قبیلے کے سرداروں میں ایک سردار شمس خان کو اس کے خاندان اورسدھن قبیلے کی وفاداری کی ضمانت کے طور پر راجہ دھیان سنگھ کے پاس گروی رکھا گیا۔ سردار شمس خان دھیان سنگھ کے ذاتی گھڑ سوار محافظ کے طور پر خدمت سرانجام دیتے رہے اور انہیں دھیان سنگھ کا اس قدر اعتماد حاصل ہوا کہ راجہ گلاب سنگھ کو سدھنوں کے سردار شمس خان سے نفرت اور حسد ہونے لگی۔ گلاب سنگھ نے اپنے چھوٹے بھائی دھیان سنگھ کو بار ہا سمجھایا کہ ایک مفتوح قبیلے کے شخص پر اتنا اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے مگر دھیان سنگھ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
اس دوران رنجیت سنگھ نے کچھ دیگر مہمیں شروع کیں اور ڈوگرہ برادران بھی ادھر مصروف ہو گئے۔ ان میں ایک مہم ملتان کے دیوان ساون مل کے خلاف تھی جو مکمل نہ ہو سکی ،کیونکہ 1836 کے آخر میں افغانوں نے پشاور پر حملہ کیا اور اپریل 1837 کو پشاور فتح کرنے کے بعد سکھ گورنر ہری سنگھ نلوہ کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد دھیان سنگھ افغانوں سے جنگ کے لیے پشاور روانہ ہوئے۔ ملتان کے دیوان ساون مل کے خلاف اپنی مہم ادھوری چھوڑ کر گلاب سنگھ بھی چنیوٹ سے پشاور روانہ ہوئے اور اٹک میں اپنی فوج کے ساتھ جا ملے۔ اس دوران گلاب سنگھ کو دھیان سنگھ کا خط ملا کہ پشاور کی صورتحال بہتر ہو گی ہے ،اس لیے گلاب سنگھ کو پشاور آنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ان کی خدمات دریائے کابل کے شمال میں یوسفزئی علاقے میں درکار ہیں ،جہاں لوگ اپنی آزادی کے لیے بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ گلاب سنگھ نے اٹک کے شمال مغرب کی جانب 8 میل کے فاصلے سے دریائے کابل عبور کیا اور دو ماہ کی سخت لڑائی کے بعد یوسفزئی قبائل کو زیر تو کر لیا ،لیکن علاقے کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگ نکلے ۔ کسی حد تک امن توقائم ہوا ،تاہم علاقہ غیر مستحکم ہی تھا۔
یوسفزئی علاقوں میں کارروائی کے دوران گلاب سنگھ کو پیغام ملا کہ ان کے اپنے پہاڑی علاقوں میں سدھن، ڈونڈھ، ملدیال اور ستی قبائل نے بغاوت کر دی ہے ،جو کچھ عرصہ قبل ہی دربار کا حصہ بنے تھے۔ اس کے ساتھ گلاب سنگھ کو اطلاعات ملیں کہ ان کے خلاف نقصان دہ قسم کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پشاور میں موجود اپنے بھائی دھیان سنگھ کو خط لکھا، جس میں گروی رکھے گئے سدھن سردار شمس خان پر بھی بے وفائی کا الزام لگایا گیا ۔ انہوں نے لکھا کہ وہ غدار دشمن ہے ،جو ڈوگرہ برادران کے خلاف افواہیں پھیلا رہا ہے۔ ساتھ ہی دھیان سنگھ کو تنبیہ کی کہ وہ سردار شمس خان کا ساتھ دیں، نہ ہی سردار شمس خان کو سزا دینے اور ان علاقوں میں امن بحال کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت کریں۔ اس خط کے بعد ہی گلاب سنگھ نے اپنے کارداروں اور ماتحت اہلکاروں کو حکم بھیجا کہ شمس خان اور اس کے خاندان کو پہاڑوں میں موجود اس کی رہائش گاہ پر قید کر لیا جائے ،جہاں وہ اس وقت موجود تھا۔ شمس خان کو گلاب سنگھ کے اس منصوبے کی بھنک لگ گئی ۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ اگر وہ گلاب سنگھ کے ہاتھ لگ گئے تو انجام کیا ہو گا۔لہٰذا وہ اپنے خاندان سمیت پہاڑوں میں روپوش ہو گئے اور ایک بھرپور بغاوت پھوٹ پڑی۔ پورا علاقہ ڈوگروں کے خلاف کھڑا ہو گیا ،چونکہ ابتدا میں انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا، کیونکہ گلاب سنگھ یوسفزئی علاقوں میں مصروف تھے ۔ اس دوران ان بغاوتوں نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پونچھ سے جموں تک اور کشمیر کی سرحد سے پہاڑوں کے دامن تک تمام ڈوگرہ قلعے اور مضبوط ٹھکانے تباہ کر دیے۔ ڈوگرہ دربار کی فوج 5ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی جس کی قیادت راجا کا بیٹا میاں اتم سنگھ اور گلاب سنگھ کا اہم وزیر اور سپہ سالار دیوان ہری چند کر رہے تھے۔اس فوج کو بدترین شکست ہوئی اور یہ واپس پلٹنے پر مجبور ہوگئی ، یوں ان باغی قبائل نے پورے علاقے پر قبضہ جما لیا۔
گلاب سنگھ جب یوسفزئی علاقوں سے فوج لے کر واپس کہوٹہ (راولپنڈی کے شمال مشرق) پہنچے تو فوری طاقت کے استعمال کی بجائے کہوٹہ میں قیام کیا ۔ ابتدا میں رشوت، لالچ اور سازش سے قبائلی اختلافات بھڑکانے کی کوشش کی اور شمس خان کے مخالف سرداروں کو خرید کر بغاوت کا اتحاد توڑ دیا۔ شمس خان کے مخالف سرداروں کو کہا کہ میرا ساتھ دو یا پھر غیر جانب دار رہو۔ اس دوران شمس خان نے کھل کر بغاوت کی قیادت سنبھال لی ،جس کے بعد گلاب سنگھ نے 8 ہزار کی باقاعدہ فوج اورجموں کے 12 ہزار مقامی لوگوں کی غیر باقاعدہ ،یعنی مقامی ملیشیا کے ساتھ کہوٹہ کے میدانوں سے منگ اور پلندری کی طرف پیش قدمی شروع کی۔
پیش قدمی کے دوران بغاوت کچلنے اور باغیوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے، گلاب سنگھ نے اپنی فوج کو پورے علاقے کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ لوٹ مار اور ہر قسم کی زیادتی کی بھی کھلی چھٹی دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جو بھی کسی باغی شخص (مرد، خاتون یا بچے) کا سر لائے گا اسے 5 روپے انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے نتیجے میں منظم قتل و غارت گری شروع ہوئی، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا کہ اس بدقسمت آبادی کا مکمل صفایا ہو جائے گا۔
راجہ گلاب سنگھ کی اس سفّاکی اور بے رحمی کو دیکھ کر باغی خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔ وہ جان چکے تھے کہ اس طاقتور فوج کے ساتھ ان کا مقابلہ ممکن نہیں۔ لہٰذا وہ منتشر ہو کر اپنے اہل خانہ سمیت پہاڑوں، چٹانوں، چیڑ کے جنگلوں اور گھنی جھاڑیوں میں پناہ لینے لگے۔ اپنے گھر، مویشی اور تمام سامان چھوڑ کر بھاگنے کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ یوں پورا علاقہ پیش قدمی کرتی ہوئی فوج کے رحم و کرم پر رہ گیا۔ فوج پیش قدمی کرتے ہوئے پہاڑوں اور غاروں میں چھپے ہوئے خاندانوں تک جا پہنچی۔
سپاہیوں کو کسی غار یا جنگل میں کوئی بے بس خاندان ملتا ،جہاں عورتیں، مرد، بوڑھے اور بچے ایک ساتھ دبکے ہوتے، تو سپاہی ان سب کو صرف چند روپوں کے انعام کی خاطر بے رحمی سے قتل کر دیتے۔ اس قتل و غارت میں عمر یا جنس کی کوئی تمیز نہیں برتی گئی۔ چند دنوں کے اس قتل عام کے بعد راجہ گلاب سنگھ نے حکم جاری کیا کہ عورتوں اور شیرخوار بچوں کو قتل نہ کیا جائے ،بلکہ عورتوں اور لڑکیوں کو گرفتار کر کے مخصوص افسروں کے حوالے کیا جائے۔ یوں تھوڑے ہی عرصے میں فوج کی ہر کمان کے ساتھ بدقسمت عورتوں اور بچیوں کا ایک بڑا غول چلنے لگا، جنہیں مویشیوں کی طرح ہانکا جاتا۔ یہ عورتیں اور بچیاں بھوکی پیاسی اور نیم برہنہ حالت میں تھیں، کیونکہ گھر چھوڑنے کی عجلت میں ساتھ لائی گئی معمولی پوشاک بھی لالچی ڈوگرہ سپاہیوں نے لوٹ لی تھی۔کئی کئی دن تک ان قیدیوں کو کوئی راشن نہیں دیا جاتا تھا۔ قیدی اتفاق سے مل جانے والی خوراک پر گزارا کرتے یا پھر فوجی رحم کھا کر جو بچا کھانا ان کو دے دیتے۔
پلندری میں جب فوج دوبارہ جمع ہوئی تو تمام قیدی عورتوں اور بچیوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا، اس وقت ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تھی۔ انہیں بھیڑ بکریوں کو باندھنے والی ایک بڑی جگہ پر قید میں رکھا گیا اور اطراف میں کانٹے لگی ایک باڑ لگائی گی ۔ پلندری میں مقید عورتوں اور بچوں کی خوراک کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔
فوج خود مکئی کے کچے دانے کھا کر گزارا کرتی تھی اور اسی میں سے کچھ روزانہ ان پانچ ہزار انسانوں میں بھی پھینک دیا جاتا، بس اتنا ہی کافی سمجھا جاتا کہ قیدی عورتیں اور بچے بھوک سے مر نہ جائیں۔ پیاس بجھانے کے لیے انہیں دن میں ایک بار باڑے سے نکال کر قریب کے نالے تک لے جایا جاتااور پانی پینے کے بعد دوبارہ بھیڑوں کی طرح ہانک کر بند کر دیا جاتا۔ اس وحشیانہ برتاؤ اور دیگر مظالم، جن کا تذکرہ بھی مشکل ہے،کے باعث صرف پلندری میں قیام کے دوران ہی ان مظلوم عورتوں اور بچیوں میں سے00 14سے 1500تک موت کے منہ میں چلی گئیں۔
بغاوت کرنے والے قبائل کے مردوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ پلندری میں16 روزہ قیام کے دوران 5سے 6 ہزار کے قریب افراد کوچن چن کر مارا گیا اور ان کے سر کاٹ کر ان کی اسیر عورتوں اور بچوں کے سامنے کیمپ میں گھمائے جاتے۔ مجموعی طور پر اس مہم میں ان چھوٹے پہاڑی قبائل کے 14سے 15 ہزار افراد مارے گئے۔
مہم کے دوران راجہ گلاب سنگھ نے سدھن قبیلے کے سردار شمس خان کے سر کی قیمت بہت زیادہ رکھی تھی۔ پلندری میں قیام کے دوران، شمس خان کے کچھ دشمن راجہ گلاب سنگھ کی فوج کو اس جگہ لے جانے پر آمادہ ہوئے جہاں وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔ میاں اتم سنگھ کے بقول وہ ایک مضبوط دستے کے ساتھ شمس خان کے دشمنوں کی رہنمائی پر اس گھر تک پہنچے، جہاں شمس خان چھپا ہوا تھا۔ وہ، اس کا بیٹا اور اس کے ساتھی رات کے وقت سوئے ہوئے تھے اور اچانک حملے میں مار دیے گئے۔ بعد میں شمس خان اور ان کے بیٹے کا سر لوہے کے پنجرے میں بند کر کے پونچھ کے اوپر’’ آدھا ڈھک پاس‘‘ کی چوٹی پر لٹکایا گیا جو کئی سال تک وہیں لٹکتا رہا۔ شمس خان کی موت کے ساتھ ہی بغاوت بھی دم توڑ گئیں۔ مزاحمت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ گلاب سنگھ نے اس سزا کو کافی سمجھا اور اپنی فوج کولے کر جموں کی طرف روانہ ہو گئے۔
دارالحکومت روانگی کے وقت گلاب سنگھ نے حکم دیا کہ قید کی گئی تمام خواتین کو بھی ان کے ساتھ جموں لے جایا جائے۔ جموں جاتے ہوئے راستے میں بھوک،پیاس اور تھکاوٹ سے 700کے قریب عورتیں مر گئیں، جبکہ کئی مزید خواتین کو سپاہیوں نے بطور ’مال غنیمت‘ راستے میں ہی غائب کر لیا۔ یوں پلندری میں موجود تقریباً پانچ ہزار عورتوں میں سے صرف 900کے قریب خواتین جموں پہنچ سکیں۔
جموں پہنچنے پر ان میں سے 50کم عمر اور خوبصورت عورتوں کو راجہ کے حرم کے لیے چن لیا گیا،باقی زندہ رہ جانے والی عورتوں میں سے 100کے قریب عورتیں جموں میں بدسلوکی کے باعث جان کی بازی ہار گئیں ،کچھ کو جموں شہر کے قریب رکھ کر انہیں نیلام کیا گیا اورزیادہ بولی لگانے والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ اس طرح ان عورتیں کو ہمیشہ کی غلامی اور بربادی کے حوالے کر دیا گیا۔
کارمائیکل سمتھ لکھتے ہیں کہ یوں سدھن بغاوت کو سختی سے کچل دیا گیا اور اس کا بدلہ بھی لے لیا گیا لیکن یہ واقعات اس بغاوت کے نتائج کا ایک پہلو تھے ، سب کچھ نہیں نہیں۔ ایک دوسرا پہلو جو اس سے زیادہ بھیانک تھا وہ یہ کہ جو لوگ راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے ظلم سے بچ نکلے تھے اور پہاڑوں کے دشوار گزار علاقوں میں پناہ لینے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹے، تو انہیں ایک اور دشمن کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ دشمن بھوک تھی جو جموں کی فوج اور اس کے سفاک سردار سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔ دشمن کے قبضے کے دوران کھیت نہ جوتے گئے تھے اور نہ بوائی ہو سکی تھی۔ اس لیے پورے علاقے میں شدید قحط پڑ گیا۔ بھوک نے ایسے ایسے عذاب ڈھائے کہ زندہ رہنا مشکل ہو گیا۔ مجبوراً بیسیوں خاندان پھر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر میدانی علاقوں کی طرف نکل گئے، لیکن وہاں بھی بہت سے لوگ بھوک سے مر گئے۔ بعض بے کس والدین نے تو اپنے بچوں تک کو صرف ایک دو روپے میں بیچ دیا، تاکہ اپنے اور باقی بچوں کے لیے تھوڑا سا کھانا خرید کر زندگی بچا سکیں۔
ظلم و بربریت کی اس اندوہناک داستان کے باوجود پونچھ میں زیادہ عرصے تک ظالم حکمرانوں کی طاقت کا یہ خوف برقرار نہیں رہ سکا۔ اس کے بعد متعدد بار پونچھ میں بغاوتیں اور احتجاجی تحریکیں ابھریں۔ ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف بھی یہ جدوجہد بالآخر 1947ء کی پونچھ بغاوت کے نتیجے میں اس حد تک ضرور کامیاب ہوئی کہ پونچھ کے اکثریتی علاقوں سے ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ کر لیا گیا ۔ تاہم آزادی کے لیے جدوجہد اور تحریکوں کا یہ تسلسل ابھی تک جاری ہے اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آج بھی پونچھ کا علاقہ تحریکوں کے مرکز کے طور پر اپنی الگ ہی پہچان رکھتا ہے۔
