50 سال میں پہلی بار: بھارت کی کسی بھی ریاست میں کمیونسٹ حکومت نہیں رہی - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد رپورٹ)سال 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بھارت کے سیاسی نقشے نے تہلکہ خیز تبدیلی دیکھی ہے، جس کے نتیجے میں کوئی بائیں بازو کی جماعت کسی بھی ریاستی اقتدار میں نہیں رہی۔ 1977 کے بعد پہلی بار کوئی بائیں بازو کی حکومت برسر اقتدار نہیں آئے گی۔
پیر کے روز بھارت کی چار ریاستوں اور ایک یونین ٹریٹری پدوچری کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد گزشتہ 50سال میں پہلی بار بائیں بازو کی حکومتوں کا بھارت کی تمام ریاستوں سے خاتمہ ہوا ہے۔
مغربی بنگال جو کبھی بائیں بازو اور سیکولر سیاست کا گڑھ ہوتا تھا، وہاں گزشتہ 15سال سے قائم ممتا بینر جی کی ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی) کی حکومت بھی بالآخر ختم ہو گئی ہے۔ پہلی بار بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) وہاں حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
تاہم بی جے پی کی یہ کامیابی ووٹوں کے بڑے پیمانے پر اخراج کے الزامات کی زد میں بھی ہے۔ بی جے پی نے 294 اراکین کی اسمبلی میں 206 سے زائد سیٹیں جیت لیں، جس سے وہ پہلی بار بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان سیٹوں کا فرق تو بہت زیادہ ہے، تاہم ووٹ کا فرق محض تین فیصد ہے، جبکہ محض الیکشن سے قبل ووٹوں کے اخراج کے دوسرے مرحلے میں ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے ووٹ 4فیصد سے زائد ہیں، جس وجہ سے ناقدین بی جے پی کی اس جیت کو ممتا بینر جی کی حکومت کی ناقص کارکردگی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی منصوبہ سازی، مذہبی تفریق پیدا کرنے اور مسلم ووٹوں کے اخراج کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
کیرالہ میں 10سال سے قائم سی پی آئی ایم کو بھی شکست ہوئی ہے۔ کانگریس کی قیادت میں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ 63نشستوں کے ساتھ حکومت بنانے کا مینڈیٹ حاصل کر چکا ہے، جبکہ سی پی آئی ایم کی قیادت میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ صرف 26نشستوں تک محدود رہا ہے۔ اس شکست کے بعد کسی بھارتی ریاست میں بائیں بازو کی آخری حکومت کا بھی خاتمہ ہوا ہے۔ تاہم اس کو کوئی غیر معمولی اقدام نہیں قرار دیا جارہا ہے۔ کیرالہ میں ہمیشہ سے ہی کانگریس اور سی پی آئی کے درمیان سخت مقابلہ رہا ہے، اور مسلسل دو بار اقتدار میں رہنے کے بعد سی پی آئی ایم کو شکست ہوئی ہے۔ اس سے قبل بھی کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی وہاں حکومتیں رہی ہیں۔
تمل ناڈوں میں روایتی دراوڑ سیاست کو ایک فلم سٹار کی نئی پارٹی نے غیر معمولی شکست سے دو چار کیا ہے۔ جوزف وجے کی نئی پارٹی ’تاملا گاویتری گزعھگم(ٹی وی کے) نے 107نشستیں جیت کر سیاسی منظر نامے میں حیران کن کامیابی حاصل کی ہے۔ روایتی حریف جماعتیں حکمران ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے اتحادوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑاہے۔ سابق وزیراعلیٰ ایم کے سٹالن بھی اپنی نشست ہار گئے ہیں۔
آسام میں بی جے پی کے زیر قیادت نیشنل ڈویموکریٹک الائنس نے گزشتہ ریاستی انتخابات سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ 82نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت سے این ڈی اے حکومت بنائے گی۔ کانگریس آسام میں اس بار بھی کوئی موثر مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔
مرکز کے زیر اہتمام یونین ٹریٹری پدوچری اسمبلی کے انتخابات میں بھی این ڈی اے نے 18نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔