70فیصد نجی ادارے اوربعض سرکاری ادارے بھی کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد نہیں کرتے
لاہور(جدوجہد رپورٹ)پنجاب حکومت کی جانب سے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کیے جانے کے باوجود صوبے بھر میں اس پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا جا سکاہے۔ سرکاری محکموں سمیت نجی اداروں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین اب بھی مقررہ اجرت سے محروم ہیں۔
’ٹربیون‘ کے مطابق پنجاب حکومت نے اپریل 2025 میں کم از کم اجرت 37 ہزار روپے مقرر کی تھی، جسے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ستمبر 2025 میں 40 ہزار روپے کر دیا گیا۔ یہ رقم 8 گھنٹے کی یومیہ شفٹ کے حساب سے 1538 روپے بنتی ہے، تاہم اس فیصلے پر عملی طورپرعملدرآمد انتہائی محدود رہا ہے۔
سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ صوبے بھر میں لاکھوں اداروں کی نگرانی کے لیے صرف تقریباً 200 لیبر انسپکٹرز موجود ہیں۔ نجی شعبے میں اجرتوں کے اندراج، ملازمین کی شناخت اور مالی ریکارڈ کا کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کے باعث خلاف ورزیوں کی نشاندہی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔
لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر بڑے اضلاع میں اندازاً 70 فیصد نجی ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل نہیں کر رہے۔ متعدد ملازمین نے شکایت کی کہ انہیں 20 سے 24 ہزار روپے ماہانہ دیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض سرکاری اداروں میں بھی یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو مکمل 40 ہزار روپے ادا نہیں کیے جاتے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اجرتوں میں اضافے کے اعلانات کے ساتھ جامع نفاذی نظام نہ ہونا اصل مسئلہ ہے۔ مزدور حقوق کے کارکنان نے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں افرادی قوت بڑھانے، انسپیکشن نیٹ ورک کو وسعت دینے، اور تمام ادائیگیوں کو بینک کے ذریعے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔