76 سالہ امریکی جنگوں کی سچائی: اعداد و شمار خوفناک، مستقبل اور بھی مہنگا - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد روپرٹ) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوریا سے لے کر موجودہ ایران جنگ تک 76 برسوں میں امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں نے دنیا کو انسانی جانوں اور مالی وسائل کی ایسی قیمت چکائی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق صرف ایران جنگ ہی چند ہفتوں میں حالیہ تاریخ کی مہنگی ترین جنگوں کی صف میں شامل ہو چکی ہے۔
2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی افغانستان جنگ،جو امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ تھی،میں 8 لاکھ 32 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے گئے، جن میں سے 2ہزار461 ہلاک اور کم از کم 20 ہزار زخمی ہوئے۔ سابق امریکی فوجی جیفری کیمپ کے مطابق”جنگ کا سب سے بھاری بوجھ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو فیصلہ سازی میں شامل ہی نہیں ہوتے۔“
براؤن یونیورسٹی واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے ”کاسٹ آف وار“ تخمینوں کے مطابق 2001 کے بعد افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن سمیت مختلف جنگ زدہ علاقوں میں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد براہ راست ہلاک ہوئے۔
ایران میں 28 فروری سے شروع ہونے والے حالیہ حملوں میں اب تک کم از کم 3ہزار375 ایرانی شہری و اہلکار جان سے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے 13 اہلکاروں کی ہلاکت اور 200 سے زائد زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کے صرف پہلے 6 دنوں میں امریکہ نے 11.3 ارب ڈالر کے مہنگے ہتھیاراستعمال کیے، جن میں فی کس 2.5 ملین ڈالر کا ٹوماہاک میزائل بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی لاگت ماہرین کے مطابق 12.7 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ پہلی ہفتہ وار بمباری کے بعد روزانہ خرچ 50 کروڑ ڈالر کے قریب رہا، جو جنگ بندی کے دوران کم ہو کر 10 کروڑ ڈالر سے بھی نیچے آ چکا ہے۔
تقابل کیا جائے تو افغانستان جنگ کی اوسط یومیہ لاگت 30 کروڑ ڈالر جبکہ عراق جنگ کی 68 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔اس کے مقابلے میں ایران جنگ سب سے زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔
اخراجات صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں۔ امریکی حکومت کو اگلے 30 برسوں میں سابق فوجیوں کی صحت اور بحالی پر مزید 2.2 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب امریکہ میں جنگ کی مخالفت اپنی بلند ترین سطح پر ہے؛تازہ سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی ایران پر حملے کے خلاف ہیں، جو جنگ کے آغاز پر 43 فیصد تھی۔
معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ہر گھرانے پر اوسطاً 200 ڈالر اضافی بوجھ پڑا۔ جنگ سے قبل پٹرول 2.90 ڈالر فی گیلن تھا جو اب بڑھ کر 4.10 ڈالر فی گیلن ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی جنگوں کی اصل قیمت نہ صرف میدان جنگ میں ادا ہوتی ہے بلکہ برسوں تک عوام، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر اس کے اثرات برقرار رہتے ہیں،اور ایران جنگ نے اس قیمت کو ایک بار پھر غیرمعمولی طور پر بڑھا دیا ہے۔