← Back to Newsroom OS خبریں

آزادی صحافت پر نیا حملہ: اکبر نوتزئی کے خلاف ایک سال پرانی تحقیقاتی رپورٹ پر کارروائی

By جدوجہد • 2025-08-06 • 10 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اکبر نوتزئی کو ایک سال پرانی تحقیقاتی رپورٹ کی وجہ سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اتھارٹی نے اکبر نوتزئی کے خلاف ایک ایسے فرد کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ رپورٹ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ترمیم شدہ ایکٹ پیکا کے تحت قابل جرم ہے۔

اکبر نوتزئی کو جس رپورٹ پر نوٹس جاری ہوا وہ ’تربت بولیدہ سڑک‘ کی تعمیر کے حوالے سے تھی اور 26اگست2024کو معروف انگریزی جریدے ’ڈان‘ میں شائع ہوئی تھی، یعنی پیکا میں حالیہ ترامیم نافذ ہونے سے بھی بہت پہلے یہ رپورٹ شائع ہو چکی تھی۔ اکبر نوتزئی کی مذکورہ رپورٹ کا اردو ترجمہ روزنامہ’جدوجہد‘ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ پر اکبر نوتزئی کو صحافتی اعزاز بھی دیا جا چکا ہے۔

اکبر نوتزئی کے خلاف سائبر کرائم کی تحقیقات پر ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کارروائی کو آزادی صحافت پر نیا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس(بی یو جے) نے ایک بیان میں اس نوٹس کو آزادی صحافت پر حملہ اور آئین کے آرٹیکل 19کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

بی یو جے کے صدر خلیل احمد اور جنرل سیکرٹری عبدالغنی کاکڑ نے کہا کہ ’اکبر نوتزئی کے خلاف یہ غیر قانونی کارروائی ایک ایسی رپورٹ پر مبنی ہے، جس میں بلوچستان میں بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ کرپشن اور ضوابط کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ریاست ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے اس صحافی کو سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے سچ سامنے لایا۔‘

بی یو جے رہنماؤں نے کہا کہ سائبر کرائم قوانین کو صحافیوں کو دبانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس نوٹس کا اجرا نہ صرف اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اس امر کا بھی مظہر ہے کہ حکومت آزادی صحافت کے خلاف اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کسی بھی صحافی کے خلاف عدالتی اجازت اور شفاف تحقیقات کے بغیر کارروائی کرنا اختیارات کے ناجائز استعمال کی علامت ہے، جس پر متعلقہ اداروں کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔

سی پی این ای نے بھی اکبر نوتزئی کو نوٹس جاری کیے جانے اور نیوز چینل کے مالک سرفراز شاہ اور بلوچستان یونیورسٹی کے صحافت کے طالبعلم کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

جاری بیان میں بلوچستان میں صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان بنیادی حقوق کو دبانا اور صحافی کو گرفتار کرنا آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکبر نوتیزئی کے خلاف کارروائی ایک سال پرانی رپورٹ پر کی گئی، جس میں انہوں نے بلوچستان میں بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ بدعنوانی اور دیگر ضوابط کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ دوسری جانب سرفراز شاہ کو مبینہ طور پر صرف کرایہ داری فارم جمع نہ کروانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا، جو ایک کمزور اور بے بنیاد جواز ہے۔

سی پی این ای نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اکبر نوتیزئی کو جاری کیا گیا متنازعہ نوٹس فی الفور واپس لیا جائے اور جمہوریت سے وابستگی کو عملی طور پر ثابت کیا جائے۔ ساتھ ہی سرفراز شاہ کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔سی پی این ای نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات پاکستان کے جمہوری تشخص پر بین الاقوامی سطح پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(ایچ آر سی پی) نے بھی اپنے ایک بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کا نوٹس صحافیوں کے خلاف ہراسانی کے ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے اور میڈیا میں تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایچ آر سی پی کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ ڈان کے صحافی اکبر نوتزئی کو ایک سال پرانی رپورٹ پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس قسم کی کارروائیاں صحافیوں کے لیے خوف اور دباؤ کا ماحول پیدا کرتی ہیں اور سائبر کرائم قوانین کے غلط استعمال کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔‘ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ یہ نوٹس فی الفور واپس لیا جائے اور اظہاررائے کی آئینی ضمانتوں کا احترام کیا جائے۔

انسانی حقوق کی کارکن ندا کرمانی نے ’ایکس‘ پر اکبر نوتزئی کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اکبر نوتزئی بلاشبہ اس وقت بلوچستان پر رپورٹنگ کرنے والے بہترین صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ محنتی، متوازن اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہیں اسی لیے ہراساں کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ سچ رپورٹ کرتے ہیں۔‘