← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

اسرائیل ایران جنگ بندی، مستقبل کیا ہے؟

By جدوجہد • 2025-06-26 • 11 min read

حارث قدیر

اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ 12روز چلنے کے بعدجنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں اور جواب میں ایران کی جانب سے امریکی اڈے پر میزائل حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ابتدائی طور پر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیاتھا، جسے امریکی صدر میڈیا سے گفتگو کے دوران شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ 24جون سے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

جنگ بندی کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ محض امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ہی سامنے آیا کہ دونوں ملکوں نے جنگ بندی کے لیے ان کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور انہوں نے دونوں ملکوں سے کہا ہے کہ وہ اب ایک دوسرے پر حملے نہ کریں۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد بالآخر جنگ بندی پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے، ایران کے حکام نے بھی اسرائیل کی جانب سے مزید حملے نہ ہونے کی صورت میں جنگ بندی پر قائم رہنے کااعلان کیا ہے۔ تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ادھر منگل کے روز امریکی صدرنے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے۔

اسرائیل نے ایران پر حملے بظاہر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے شروع کیے گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایرانی عوام سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ وہ رجیم چینج کے لیے آگے بڑھیں۔ بارہا نیتن یاہو نے ایرانی رجیم کو تبدیل کرنے کی بات کی تھی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس جانب اشارے دیے تھے۔ اسرائیل کے حملوں میں جوہری سائنسدانوں سمیت اہم عسکری شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے اقدام سے بھی یہ واضح تھا کہ یہ حملے ایران میں رجیم چینج کی ایک سنجیدہ کوشش تھے۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ سامراجی مداخلت کے ذریعے سے ایران میں رجیم چینج کرنا آسان نہیں، الٹا اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کی حکمران ملا اشرافیہ کو وقتی طور پر مزید طاقت اور عوامی حمایت ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ایران کی اپوزیشن، بائیں بازو اور نسلی اقلیتوں کی نمائندہ تنظیموں نے بھی سامراجی یلغار کی صورت میں رجیم چینج کے کسی بھی اقدام کی شدید مخالفت کی تھی۔ عوام کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر بھی اس جارحیت کے خلاف آواز بلند کر کے یہ واضح کر دیا تھا کہ ایرانی عوام ملا اشرافیہ کی آمرانہ حکومت کو ختم تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا کسی سامراجی منصوبے کے تحت اور کسی کٹھ پتلی انتظامیہ کو لانے کے لیے نہیں کرنا چاہتے۔ یوں اسرائیل کا ایران پر جنگ مسلط کرنے کا یہ مقصد پورا نہیں ہو سکا ہے، الٹا اسرائیل کے اپنے فضائی دفاعی نظام پر اس جنگ کے دوران کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ جنگ میں اعداد و شمار کے حساب سے دیکھا جائے تو ایران کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے، تاہم ایران کی جوابی کارروائی نے اسرائیل کو بھی سنجیدہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا اعتراف نیٹو سمٹ میں امریکی صدر نے بھی کیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایران پر حملے کا بظاہر بنیادی ہدف جوہری تنصیبات اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنا تھا۔ اس حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ابھی تک دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طو رپر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، البتہ انہوں نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ نقصان کی نوعت اور شدت کیا ہے۔ تاہم لیک ہونے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملے بھی ایرانی کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکے۔ ایران کا ایٹمی پروگرام تاخیر کا شکار ضرور ہوا ہے، لیکن ختم نہیں ہو سکا ہے۔ دوسری جانب مختلف ماہرین کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا ایٹمی پروگرام تاخیر کا شکار ہوا ہے، لیکن اسے ختم یا تباہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ تین سال کے اندر ایران ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس کا انحصار البتہ امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والی بات چیت اور طے پانے والے معاملات پر ہوگا۔

یوں بظاہر نہ تو ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکا، نہ ہی ایران میں رجیم چینج کی راہ فوری طور پر ہموار ہو سکی، اور نہ ہی نیتن یاہو کے اقتدار پر کھڑے سوالات کو لمبے عرصے کے لیے ٹالنے کا کوئی انتظام بظاہر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی ملا اشرافیہ کو وقتی طور پر سامراجی جنگ کی عوامی مخالفت کی وجہ سے ایک سہارا میسر آیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا سامنا کرنے اور جوابی کارروائی کرنے کی وجہ سے وقتی طور پر حکومت کو عوامی پذیرائی بھی حاصل ہو گی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر ریاستی جبر میں بھی پہلے سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہوتا ہوا نظر آئے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں پہلے ہی 700سے زائد افراد کو گرفتار، اور کم از کم 4افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہر سیاسی اور مزاحمتی آواز کو کچلنے کے لیے جاسوسی اور ملک دشمنی جیسے مقدمات کا سہارا لیا جائے گا۔

اس جنگ نے چین اور روس سے وابستہ خوش فہمیوں کو بھی کافی حد تک دور کر دیا ہے۔ نام نہاد بائیں بازو کی جانب سے جہاں چین اور روس کو سامراج مخالف کیمپ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران کو بھی ’مزاحمت کے محور‘ کے طور پر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ چین اور روس نے اس جنگ میں نام نہاد’مزاحمت کے محور‘ کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز ہی برتااور محض حملوں کی مذمت تک ہی اکتفا کیا۔

مشرق وسطیٰ پر منڈلاتے جنگ کے سائے فوری طور پر تو چھٹ گئے ہیں، لیکن تضادات اور بحران جس قدر گہرے ہیں، یہ نئی جنگوں اور خونریزیوں کی صورت میں اپنا اظہار کریں گے۔ غزہ پر جارحیت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اسرائیل جیسی صیہونی ریاست، خطے کی شاہی آمریتوں کا خاتمہ نہیں ہوتااور خطے سے سرمایہ دارانہ حاکمیت کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔