اسرائیل نے ٹرمپ کے ڈر سے شام میں مداخلت نہیں کی
(ذیل میں ہم ترک نیوز ایجنسی بایا نیٹ کے ساتھ جلبیر اشقر کا انٹرویو ترجمے کی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔ ترجمہ: حارث قدیر)
30 جنوری کو شام کی عبوری حکومت اور سیرئین ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے درمیان عسکری اور انتظامی انضمام پر ایک حتمی معاہدہ طے پایا۔ معاہدے میں جنگ بندی، عسکری و انتظامی ڈھانچوں کے بتدریج انضمام، اور شامی کردوں کے بنیادی حقوق کی ریگولیشن سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عابدی نے اعلان کیا کہ اس معاہدے پر عمل درآمد پیر، 2 فروری سے شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ متن ان کے تمام مقاصد پورے نہیں کرتا، لیکن اس کے باوجود جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں انہیں کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
6 جنوری سے ہم نے شمالی اور مشرقی شام میں کردوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا سلسلہ دیکھا ہے۔ بایانیٹ (Bianet)نے ان حملوں، مشرق وسطیٰ میں تشکیل پاتے نئے ’’نئے آرڈر‘‘ کی صورت حال، اور اس نظام میں امریکہ، ترکی اور اسرائیل کے کردار پر لبنانی سوشلسٹ مفکر اور سیاسی ماہرجلبیر اشقر سے بات کی۔
جلبیر اشقر نے اس امر کو ایک شکست قرار دیا کہ ترقی پسند قوتیں بشار الاسد کے زوال کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اسرائیلی فضائی حملوں نے صورتحال کو مزید انتشار کا شکار بنا دیا ہے، لیکن ’’نئی نسل‘‘ سے امید ہے جو افقی اور جمہوری طریقوں سے منظم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ آپ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایچ ٹی ایس طالبان جتنی طاقتور نہیں۔ تاہم حالیہ زمینی صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد الشرع عسکری و سفارتی طور پر زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طاقت کا تسلسل برقرار رہے گا؟
جلبیر اشقر:ایچ ٹی ایس کی فوج اب شام کی سرکاری فوج ہے، اور یہ واقعی اقتدار کے پہلے ہی سال میں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔اس کی وجہ خلیجی بادشاہتوں کی مالی معاونت، ترک حمایت، اور شام کی مجموعی خراب معاشی صورتحال ہے جو بہت سے لوگوں کو نئی سرکاری مسلح افواج میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ تاہم نئی قائم شدہ اس رژیم کو دو بڑے چیلنج درپیش ہیں۔
پہلا چیلنج یہ ہے کہ اسے ان تمام جہادی دھڑوں پر مکمل کنٹرول قائم کرنا ہوگا جو اس کے حلقے میں شامل تھے اور جن کے ذریعے اس نے اس خلا کو پر کیا جو اسد حکومت کے انہدام کے بعد پیدا ہوا۔
دوسرا چیلنج یہ ہے کہ اسے کئی طرح کی مخالف قوتوں کا سامنا کرنا ہے۔ جنوب میں دروز کا خودمختار علاقہ جسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے؛ شمال مشرق میں کردوں کا خودمختار علاقہ، جسے حال ہی تک امریکہ کی پشت پناہی حاصل تھی لیکن اب اسے چھوڑ دیا گیا ہے؛ اور آخر میں داعش، جو دوبارہ قوت جمع کر رہی ہے۔داعش نے ایس ڈی ایف کے کنٹرول کے خاتمے کے بعد اس علاقے میں پیدا ہونے والے انتشار کا فائدہ اٹھایا ہے۔
6 جنوری کی پیرس میٹنگز میں امریکہ کے کردار کو اس طرح بھی دیکھا گیا ہے کہ گویا واشنگٹن نے کردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کے لیے بالواسطہ طور پر ہری جھنڈی دکھائی۔ آپ کی نظر میں امریکہ نے ایس ڈی ایف کی حمایت کیوں واپس لے لی، اور اس کے پیچھے کون سا اسٹریٹیجک حساب کتاب تھا؟
جلبیر اشقر:پی وائے ڈی کی قیادت والی قوتوں اور امریکہ کے درمیان اتحاد فطری نہیں تھا۔ داعش کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کو اپنی دور سے لڑی جانے والی جنگ کے لیے متعلقہ میدان جنگ میں اتحادی درکار تھا، کیونکہ امریکہ زمینی جنگ میں اپنے فوجی جھونکنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ صرف انہی قوتوں کے ساتھ تعاون کر سکتا تھا جو بنیادی طور پر امریکہ کی روایتی ترجیحات سے متصادم تھیں۔ ان میں شام میں بائیں بازو کی کرد تنظیمیں شامل تھیں، جو پی کے کے سے جڑی ہوئی ہیں،اور پی کے کے ترک ریاست کی سخت ترین دشمن ہے،ترکی امریکہ کا اتحادی اور نیٹو کا رکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عراق میں شیعہ ملیشیائیں تھیں، جو ایران سے وابستہ ہیں ، جبکہ ایران خود امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا علاقائی دشمن ہے۔
جب تک واشنگٹن کو پی وائے ڈی کی قیادت والی قوتوں کی ضرورت تھی،یعنی جب تک شمال مشرقی شام میں داعش کو روکنے کے لیے اسے کوئی متبادل قوت نہیں ملی، تب تک اس نے ان کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔ اسد حکومت کے حامیوں روس اور ایران نے ترکی کی مداخلت کو محدود کر رکھا تھا۔ تاہم اسد حکومت کے انہدام کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اب داعش سے نمٹنے کے لیے دمشق اور انقرہ پر انحصارکر رہی ہے۔لہٰذا اس کی نظر میں پی وائے ڈی کی قیادت والی قوتوں کا کردار ’’اب بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے‘‘،جیسا کہ امریکی علاقائی نمائندے ٹام باراک نے حال ہی میں نہایت کھلے انداز میں کہا۔
پیرس میں اسرائیل، شام اور امریکہ کے درمیان ملاقاتوں کے دوران اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے کردوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی ’’تائید‘‘ نہیں کی۔ آپ کے خیال میں یہ دعویٰ کتنا قابل اعتبار ہے؟ آپ کے نزدیک شام کے نئے طاقت کے توازن میں اسرائیل کا کیا کردار ہے؟
جلبیر اشقر:اسرائیل بھلا کیوں کردوں کے خلاف کارروائیوں کی ’’تائید‘‘ کرے گا ،جبکہ ان کارروائیوں کے پیچھے انقرہ ہے،اور اسرائیل ترکی کو ایک علاقائی حریف سمجھتا ہے، نہ کہ اتحادی؟ اگر واشنگٹن ان واقعات میں شامل نہ ہوتا تو اسرائیل شاید کردوں کی حمایت کا کوئی اظہار ضرور کرتا، یہ یقینا کردوں کے مقصد کی خاطر نہیں، بلکہ محض موقع پرستی کے تحت ہوتا۔ اسرائیل ہمیشہ سے سمجھتا آیا ہے کہ خطے کی نسلی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم اس کے مفاد میں ہے۔ یہ ایک پرانی صہیونی حکمت عملی ہے۔
اسی منطق کے تحت اسرائیل خود کو جنوبی شام میں دروز آبادی کا محافظ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اسرائیل نے تاریخی طور پر فلسطینی دروز کو دوسرے فلسطینی مسلمانوں اور عیسائیوں سے الگ کرنے کے لیے بہت کوشش کی اور ان سے مختلف طریقے سے برتاؤ رکھا۔ شام میں دروز علیحدگی پسندی کی حمایت کے ذریعے اس کی موجودہ مداخلت اسی ’’تقسیم کرواور حکومت کرو‘‘کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
اپنی حالیہ ملاقاتوں میں سے ایک میں عبداللہ اوجلان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کہاکہ ’’اسرائیل نے گویا جولان اور سویدا کے بدلے الفرات اور دجلہ کے درمیان کی زمین الشرع کو پیش کی ہے۔‘‘ آپ اس بیان کو کیسے سمجھتے ہیں؟
جلبیر اشقر:اسرائیل کوجولان کی پہاڑیوں پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے احمد الشرع کے ساتھ کسی سودے کی ضرورت نہیں تھی۔وہ ان پہاڑیوں کو 1967 میں فتح کر چکا ہے اور 1981 میں باضابطہ طور پر انضمام کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ اسی طرح دروز علاقے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بھی اسرائیل کو اس سے کوئی سودا کرنے کی ضرورت نہیں۔ احمد الشرع میں ہرگز اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ پیدا کر سکیں۔ ان کی حکومت اسد حکومت سے بھی کہیں کمزور ہے، خصوصاً اس وقت کے بعد جب اسد حکومت کے انہدام کے فوراً بعد اسرائیل نے شام کی بڑی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔اسرائیل اس وقت شمالی شام میں ہونے والے واقعات میں اس لیے مداخلت نہیں کر رہا کہ نیتن یاہو ٹرمپ انتظامیہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔
آج ترکی کی جانب سے ایس ڈی ایف کی تحلیل کا مطالبہ اس بیانیے کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ انقرہ میں ’’امن عمل‘‘ دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ دوہرا طریقہ ترکی میں کرد سوال کو کیسے متاثر کرے گا؟
جلبیر اشقر: یقینا یہاں کوئی تضاد نہیں۔ انقرہ کے لیے کردوں کے ساتھ ’’امن‘‘ اسی وقت ممکن ہے جب وہ ہر قسم کی علاقائی خودمختاری کی خواہش ترک کر دیں،چاہے وہ مکمل حق خود ارادیت کی صورت میں ہو یا ڈیموکریٹک ڈی سنٹرلائزیشن جیسے کم تر مطالبات کی شکل میں۔
شمال و مشرقی شام کی جمہوری خودمختار انتظامیہ انقرہ کے لیے ناقابل برداشت ہے ، خواہ اسے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی علاقوں تک محدود ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔
کیا آپ کو غزہ اور لبنان میں جاری حملوں اور شام میں ’’نئے آرڈر‘‘ کے ابھرنے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نظر آتا ہے؟
جلبیر اشقر:غزہ اور لبنان میں حملے جاری رکھنے والا اسرائیل شام کے ’’نئے آرڈر‘‘ کا حامی نہیں ہے۔ اسد حکومت کے انہدام کا بنیادی سبب احمد الشرع کی ہیت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نہیں تھی، بلکہ یہ امر تھا کہ روس نے یوکرین پر حملے اور وہاں جنگ میں پھنس جانے کے بعد شام سے اپنی زیادہ تر فوجیں واپس بلالیں۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو ختم کیا اور اس کی بڑی عسکری صلاحیت تباہ کر دی۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران پر اسرائیلی براہ راست حملوں نے تہران کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اسد حکومت کو اس طرح سہارا دے سکے جیسا وہ 2013 سے دے رہا تھا۔یوں روس اور ایران،جو اسد کی حکومت کے دو بڑے ستون تھے، ان سے محروم ہو جانے کے بعد یہ حکومت گر گئی۔تاہم شام میں ’’نئے آرڈر‘‘ کے ظہور کی حمایت کرنے کی بجائے، اسرائیل مسلسل اس کو کمزور کرنے پر کام کر رہا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، آپ کے خیال میں شام کے مستقبل کا سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ کیا ہے؟
جلبیر اشقر:مجھے نہیں لگتا کہ ایچ ٹی ایس رژیم شام کے اس تمام علاقے پر اپنا کنٹرول پھیلا سکے گی، جس پر خانہ جنگی سے پہلے اسد حکومت کی حکمرانی تھی،چاہے وہ جولان کی پہاڑیاں ہی ہوں جو اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ سویدا کے دروز اکثریتی علاقے اور شمال کے کرد اکثریتی علاقے کو شامل کرتے ہوئے شام کی ری یونیفیکیشن صرف اسی صورت میں ممکن تھی اگر دمشق میں ایک حقیقی جمہوری اور سیکولر حکومت موجود ہوتی، جو آبادی کے تمام گروہوں کی حقیقی شمولیت کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کرتی، اور علاقائی خودمختاری و اختیارات کی منتقلی کی کسی نہ کسی شکل کی حمایت کرتی۔
ایچ ٹی ایس کی موجودہ رژیم سویدا اور جولان کے علاوہ شام کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول پھیلانے اور مستحکم کرنے کی کوشش میں ہے۔ انقرہ ایچ ٹی ایس حکومت پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ وہ شمال میں کرد اکثریتی علاقوں کو زیرنگیں کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن پی وائے ڈی پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ علاقائی خودمختاری ترک کرنے کے بدلے کسی قسم کی ضمانت قبول کرے۔ پی وائے ڈی کے لیے ایسی کسی ضمانت پر بھروسا کرنا حماقت ہوگی، لیکن وہ خود کو ایسی صورتحال میں پا سکتے ہیں، جہاں ان کے پاس کوئی آپشن نہ بچے، سوائے اس کے کہ وہ ترک حمایت یافتہ ایچ ٹی ایس فورسز کے ہاتھوں عسکری شکست کا خطرہ مول لیں۔
آخر میں ایک لبنانی مارکسی کے طور پر آپ’’2026 میں امید‘‘کی کوئی کرن دیکھتے ہیں؟ کون سی سماجی قوتیں اور کون سی سیاسی حکمت عملیاں اس امید کو لیے ہوئے ہیں؟
جلبیر اشقر:عالمی حالات کی سنگینی کے پس منظر میں خطے کی صورتحال اس وقت نہایت تاریک ہے۔ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی جنگ، لبنان میں حزب اللہ اور ایران کو پہنچائے گئے شدید نقصانات کے ذریعے اسرائیل کی علاقائی طاقت میں اضافہ، شام میں ترقی پسند قوتوں کی وہ ناکامی جس کے باعث اسد حکومت کے انہدام کے بعد پیدا ہونے والا خلا ایچ ٹی ایس نے پر کیا، ایران میں عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے مذہبی حکومت کی جانب سے حالیہ خونی کشت و خون، اور ترکی میں اپوزیشن کی وہ ناکامی کہ وہ اے کے پی حکومت کے جابرانہ حملے کا مقابلہ نہ کر سکی،ان تمام شکستوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ خطہ اب اسرائیل اور ترکی کی متقابل بالادستیوں کے ماتحت ہے، جب کہ ایران کی بالادستی کے باقی ماندہ آثار بھی موجود ہیں۔
میری امید یہ ہے کہ نئی نسل اپنے سے پہلے کی ترقی پسند قوتوں کی بار بار ہونے والی ناکامیوں سے اسباق سیکھ کر ایک معتبر، انقلابی، جمہوری متبادل تعمیر کرنے میں کامیاب ہو۔ آبادی کی بھاری اکثریت کا مفاد ترقی پسند تبدیلی سے وابستہ ہے،ایسی تبدیلی کے بغیر خطہ مزید بربریت کی طرف ڈھلتا جائے گا۔ چنانچہ میری امید بنیادی طور پر جنریشنل شفٹ سے جڑی ہے۔
ابھی تک خطے میں سب سے ترقی یافتہ تجربہ سوڈان کی ریزسٹنس کمیٹیوں کے نوجوانوں کا تھا۔ ہم نے مراکش کی حالیہ جین زی تحریک میں بھی جمہوری تنظیم سازی کی شدید خواہش دیکھی ہے۔ میری امید ہے کہ نئی نسل افقی جمہوری تنظیمی ڈھانچوں اور ایسی سیاسی قیادتوں کا درست امتزاج تلاش کر لے گی جو عوام کے مادی اور ثقافتی مفادات کے دفاع میں خودمختار ترقی پسند راستہ اختیار کرے،اور تمام رجعتی طاقتوں کی یکساں مخالفت کرے، چاہے وہ مذہبی ہوں یا ’’سیکولر‘‘۔
