اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی صحافیوں کو سنگین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا: سی پی جے
لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایک بین الاقوامی صحافتی حقوق کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حراستی مراکز میں قید فلسطینی صحافیوں کو انتہائی سنگین جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ 19 فروری کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق سی پی جے نے اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے 59 فلسطینی صحافیوں کے انٹرویوز کیے، جن میں سے 58 نے تشدد، اذیت یا کسی نہ کسی قسم کے جسمانی و ذہنی تشددکی تصدیق کی۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدی صحافیوں کو ڈنڈوں سے مارنے، برقی جھٹکے دینے، گندے پانی میں کھڑا رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے تکلیف دہ اسٹریس پوزیشنز میں باندھا جاتا تھا،جن سے جسمانی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ متعدد صحافیوں نے جنسی تشدد کی تفصیلات بتائیں جبکہ دو صحافیوں نے اپنے ساتھ ریپ کیے جانے کی تصدیق کی۔
فلسطینی صحافی سامی السائی نے بتایا کہ انہیں اسرائیل کی میگڈو جیل میں برہنہ کر کے ڈنڈے اور دیگر اشیا سے جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا۔
رپورٹ میں نفسیاتی تشدد کی بھی متعدد مثالیں سامنے آئیں، جن میں خاندان کے افراد کو قتل کرنے کی دھمکیاں، نیند سے محرومی، اور طبی سہولیات سے جان بوجھ کر محروم رکھنا شامل ہیں۔ الجزیرہ کے صحافی امین براکہ نے بتایا کہ انہیں بار بار کہا گیا کہ”اگر آپ نے رپورٹنگ جاری رکھی تو آپ کے خاندان کو بھی مار دیا جائے گا۔“
سی پی جے کا کہنا ہے کہ ان گواہیوں سے اسرائیلی جیلوں میں ایک منظم اور واضح پیٹرن سامنے آتا ہے جس کا مقصد صحافیوں کو خاموش کرانا ہے۔
بیشتر صحافی بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رکھے گئے، جبکہ ایک چوتھائی کو پورے عرصے میں وکیل تک رسائی نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو بھوک اور غذائی قلت کا بھی سامنا رہا اور اوسطاً ہر صحافی نے 23.5 کلو وزن کم کیا۔
سی پی جے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی صحافیوں پر ہونے والے اس منظم تشدد کے خلاف موثر اور عملی کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔