← Back to Newsroom OS پاکستان

اسلام آباد: کسانوں کے حقوق اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے پریس کلب کے سامنے احتجاج

By جدوجہد • 2025-04-16 • 8 min read

اسلام آباد(پ ر) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور ان ایکویلیٹی الائنس کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا۔ مظاہرے کا مقصد دریائے سندھ پر 6 نئی نہروں کی تعمیر، کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے زرخیز زمینوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپرد کرنے، گندم کی امدادی قیمت میں بے حسی، اور پاسکو (پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن) کی مجوزہ نجکاری کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ، وکلا، محنت کشوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں، کارپوریٹ فارمنگ، اور دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف نعرے درج تھے۔

ان ایکویلیٹی الائنس کے مرکزی کوآرڈی نیٹر نثار شاہ ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے 30 سے زائد شہروں میں، بشمول اسلام آباد، لاہور، بہاولپور، راجن پور، جھنگ، خانیوال (کچا کھو)، بھکر، جتوئی، شکارپور، لاڑکانہ، سکھر، بدین، مردان، اپر دیر، مالاکنڈ، لکی مروت سمیت دیگر علاقوں میں آج یہ مظاہرے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی کال پر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج زرعی پالیسیوں، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، گندم کی امدادی قیمت کے تعین، اور PASCO کی نجکاری جیسے اقدامات کے خلاف ہے، جو کسانوں، ہاریوں، مزارعوں اور محنت کش طبقات کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہیں۔

مقررین نے درج ذیل مطالبات پیش کیے:

•کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

•دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر کا عمل بند کیا جائے۔

•گندم کی امدادی قیمت کسانوں سے مشاورت کے بعد ازسرِ نو مقرر کی جائے۔ 

•PASCO کی مجوزہ نجکاری کو فوری روکا جائے۔

•ملک بھر میں فوری اور مؤثر زرعی اصلاحات (لینڈ ریفارمز) نافذ کی جائیں۔

•دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے۔

مقررین نے زور دیا کہ ان پالیسیوں سے صرف سرمایہ دار، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور اشرافیہ مستفید ہو رہے ہیں جبکہ چھوٹے کسان، ہاری اور محنت کش مزید معاشی پسماندگی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاشی ترقی کی بنیاد عوامی شراکت داری پر رکھی جائے اور کسانوں کو پیداوار کے عمل میں شراکت دار بنا کر ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے۔

احتجاج میں جن اہم شخصیات نے خطاب کیا ان میں شہزادی حسین (خاتون سماجی کارکن)، ممتاز آرزو، ظفر رزاق، طاہرہ عبداللہ، کامریڈ ناصر، حسین جروال، اور یاسر حسین (چیئرمین سندھی سنگت، نمل یونیورسٹی) و دیگر شامل تھے۔

مظاہرے کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ یہ صرف آغاز ہے، اور اگر حکومت نے عوام دشمن زرعی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو یہ احتجاجی تحریک پورے ملک میں مزید شدت کے ساتھ پھیلائی جائے گی۔