← Back to Newsroom OS سیاست

اسیر نوجوانوں کی رہائی کے لیے مہم جاری، 30 اگست کو بڑے احتجاج کی تیاریاں

By جدوجہد • 2025-08-25 • 7 min read

راولاکوٹ(نامہ نگار) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں 13اور14اگست کی درمیانی شب آزادی کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے لیے حکومت اور انتظامیہ کو 29اگست رات12بجے تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ گرفتار ہونے والے 41نوجوانوں میں سے 29کو غیر مشروط رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم 10نوجوان ابھی بھی تھانہ پولیس راولاکوٹ میں زیر حراست ہیں۔

آزادی پسند اور ترقی پسند تنظیموں نے 29اگست سے قبل نوجوانوں کی عدم رہائی کی صورت30اگست کو ضلع پونچھ کو مکمل بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ راولاکوٹ سے ہونے والے اس اعلان کے حق میں ضلع سدھنوتی کی تحصیل پلندری اور بلوچ میں بھی احتجاج اور آزاد پتن انٹری پوائنٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کوٹلی اور ہولاڑ میں بھی احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ہجیرہ میں بھی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں 30اگست کو ہجیرہ بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

پونچھ بند کی کال کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہفتے کے روز راولاکوٹ میں ایک گرینڈ جرگہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیکڑوں آزادی پسند اور ترقی پسند کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی اور نوجوانوں کی گرفتاریوں کو بدترین ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے 30اگست کو بھرپور احتجاج کرنے اور پورے ضلع کو مکمل طور پر جام کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ نوجوان طالبعلموں پر نعرے لگانے کی وجہ سے دہشت گردی ، بغاوت اور غداری کے مقدمات قائم کرنا ریاستی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ ہے۔ اس ظلم اور بربریت کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد عوام الناس کے نام جاری پیغام میں تمام آزادی پسند، جمہوریت پسند اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس ظلم و بربریت کے خلاف 30اگست کو بھرپور احتجاج کریں۔ اگر نوجوانوں کو اس بھرپور اور زوردار احتجاج کے بعدبھی رہا نہ کیا گیا تو اس کے بعد حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ آنے والے دنوں میں بیرون ملک بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔