← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

افغان ثور انقلاب: تاریخ، اسباب اور اسباق - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-04-27 • 3 min read

آصف رشید

آج جب افغانستان میں سامراجیت اور طالبانی وحشت کا ننگا ناچ جاری ہے تو 48 سال قبل برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

اکتوبر 1917ء میں روس میں بالشویک پارٹی نے درست نظریات، لائحہ عمل اور طریقہ کار سے محنت کش طبقے کی قیادت کر تے ہوئے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا تھا۔ اس انقلاب نے دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی تحریکوں پر بالعموم اور نو آبادیاتی ممالک کی قومی آزادی کی تحریکوں پر بالخصوص گہرے اثرات مرتب کیے۔ لیکن بعد میں روسی انقلاب کی سٹالنسٹ زوال پذیری نے دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں پر منفی اثرات بھی مرتب کیے۔ جس کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرے ملک میں انقلابات ناکام ہوئے۔ نو آبادیاتی ممالک نے رسمی طور پر تو سامراج سے آزادی حاصل کر لی لیکن سماج میں موجود غربت، بیماری اور پسماندگی جیسے مسائل مزید گہرے ہو گئے۔ ان ممالک کی بورژوازی قومی جمہوری انقلاب کا ایک فریضہ بھی پورا نہیں کر سکی۔ بورژوازی کی کمزوری اور نااہلی نے فوجی جنتا کو کسی حد تک خود مختاری دے دی۔ جس کی وجہ سے ان ممالک میں بار بار فوجی بغاوتوں کا مظہر بھی سامنے آیا۔

فوج سماج کے اندر موجود طبقاتی تضادات کا عکس ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر محنت کشوں کی تحریکوں اور سوویت یونین میں ہونے والی بے مثال ترقی نے ان ممالک کی افواج کی نچلی پرت کے افسروں اور عام سپاہیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف وہ اپنے حکمرانوں کی سماج کو ترقی دینے میں ناکامی، نااہلی اور بدعنوانی سے تنگ تھے تو دوسری طرف سماج کو جاگیردارانہ‘ سرمایہ دارانہ غلاظت سے باہر نکالنے کے لئے بے تاب تھے۔ 1952ء میں مصر میں فوج کے ترقی پسند افسروں نے جمال عبدالناصر کی قیادت میں فوجی بغاوت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کیا اور بڑے پیمانے پر ریڈیکل اصلاحات اور نیشنلائزیشن کی۔ اسی طرح لیبیا، ایتھوپیا، موزمنبیق اور شام وغیرہ میں بھی ترقی پسندی یا بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے افسروں اور سپاہیوں نے اپنے ملکوں میں بوسیدہ بادشاہتوں اور بدعنوان آمریتوں کا تختہ الٹ کر سرمایہ داری اور جاگیرداری کا خاتمہ کیا۔ لیکن یہ انقلابات اکتوبر 1917ء کے کلاسیکی سوشلسٹ انقلاب کی طرز پر برپا نہیں ہوئے اور نہ ہی انقلابی افسروں نے سماج میں موجود محنت کش طبقے کو منظم کر کے انقلابات کیے۔

مارکسزم کی بنیادی تعلیمات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ انقلاب میں محنت کش طبقے کی سرگرم شمولیت کے بغیر کبھی بھی ایک صحت مند مزدور ریاست تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ اس لئے یہ ریاستیں اکتوبر 1917ء کی مزدور سوویت ریاست کی طرز پر نہیں بلکہ بعد میں تشکیل پانے والے سٹالنسٹ روس کی طرز پر تعمیر ہوئیں۔ جس کو ٹیڈ گرانٹ نے پرولتاری بوناپارٹسٹ ریا ست کا نام دیا۔ ایک ایسی ریاست جس میں سرمایہ داری اور جاگیرداری کا تو بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا ہو لیکن اقتدار محنت کش طبقے کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ ریاستی بیوروکریسی یا فوجی جنتا کے ہا تھ میں ہو۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود یہ ایک ترقی پسندانہ اقدام تھا کیونکہ ذرائع پیداوار کو قومیانے اور منصوبہ بند معیشت کی وجہ سے سماج اور ذرائع پیداوار نے بے پناہ ترقی کی۔ لیکن ایک خاص مرحلے پر آ کر بیوروکریسی ذرائع پیداوار اور سماج کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن جا تی ہے۔ یوں پھر ایک سیاسی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے جو اقتدار اور ذرائع پیداوار کو محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں لائے۔ یہ پرولتاری بوناپارٹزم اس امر کی بھی غمازی کر رہا تھا کہ عالمی انقلاب کے آنے میں تاخیر ہو رہی تھی اور نو آبا دیاتی ممالک‘ ترقی یا فتہ ممالک کے انقلاب کا انتظار نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں مسائل کہیں زیادہ گہرے ہیں اور سرمایہ دارانہ بنیا دوں پر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کی بھی مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں وضاحت کی جا سکتی ہے۔ افغانستان میں پرولتاریہ نہ ہو نے کے برابر تھا۔ ملک کی کوئی خاص صنعتی بنیاد نہیں تھی۔ مختلف بادشاہتوں نے کبھی ظاہر شاہ کی شکل میں تو کبھی سردار داؤد کی شکل میں ملک پر برسوں حکومت کی لیکن سوائے بدعنوانی اور سامراجی گماشتگی کے کچھ نہیں کیا۔ شرح خواندگی 10 فیصد سے بھی کم تھی اور کل قابل کاشت رقبے کا 50 فیصد صرف 5 فیصد افراد کے ہاتھوں میں تھا۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ترقی کا امکان نہیں تھا۔

سماج کے اندر بے چینی اور اضطراب کے ان حالات میں جنوری 1965ء میں نور محمد ترہ کئی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی بنیاد رکھی۔ جس میں زیادہ تر مارکسزم پر سٹڈی سرکل کرنے والے نوجوانوں کے مختلف گروپس شامل تھے۔ پارٹی کے ایک اور رہنما کامریڈ حفیظ اللہ امین افغان فوج میں بہت سے افسران کو انقلابی نظریات کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان افسران کے انقلابی نظریات کی طرف مائل ہونے کی وجہ سرحد پار منصوبہ بند معیشت کے تحت سوویت یونین کی حیران کن ترقی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات بھی تھے۔

17 اپریل 1978ء کو افغانستان کے صدر محمد داؤد خان کی حکومت نے ’پی ڈی پی اے‘ کے رہنما محمد اکبر خیبر کو قتل کروا دیا لیکن اس قتل کی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود پارٹی کی قیادت نے یہ محسوس کیا کہ صدر داؤد پارٹی کی پوری قیادت کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ 19 اپریل کو پارٹی نے کابل میں محمد اکبر خیبر کے جنازے کے موقع پر 30 ہزار افراد کی ایک ریلی نکالی۔ ریلی نے امریکی سفارت خانے کے سامنے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ طاقت کے اس مظاہرے سے داؤد بپھر گیا۔ اس نے ایک ہفتے کے اندر پارٹی کے سات رہنماؤں بشمول نور محمد ترہ کئی کو گرفتار کر لیا۔ البتہ حفیظ اللہ امین کو پہلے گھر میں نظر بند کیا گیا اور بعد میں 26 اپریل کو انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن حفیظ اللہ امین اس سے پہلے ہی فوج کے اندر موجود خلقی افسران کو صدر داؤد کے خلاف فوجی بغاوت کے فرمان جاری کر چکا تھا۔

27 اپریل 1978ء کی صبح ایئر فورس کے کرنل عبد القادر نے صدارتی محل پر بمباری کا حکم دے دیا۔ صدر داؤد کو خاندان سمیت ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح زمینی محاذ پر محمد اسلم وطنجار، جو ایک ٹینک برگیڈ کا کمانڈر تھا، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کابل شہر کے اندر داخل ہوا۔ اس طرح اس انقلابی فوجی بغاوت نے داؤد کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شام 7 بجے ریڈیو پر داؤد آمریت کے خاتمے کا اعلان ہوا۔ فوری طور پر مسلح افواج نے اقتدار پارٹی کی 35 رکنی انقلابی کونسل کے حوالے کر دیا۔ فوج کے انقلابی افسروں کی حمایت سے ہی یہ ممکن ہو سکا اور فوج کو پارٹی اور انقلاب کی حمایت پر آمادہ کر نے کا سہرا حفیظ اللہ امین کے سر جاتا ہے۔ اس کو ’’ثور‘‘ انقلاب اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انقلابی بغاوت افغان کیلنڈر کے دوسرے مہینے ’’ثور‘‘ میں برپا ہوئی تھی۔ نور محمد ترہ کئی نے ثور انقلاب کو دنیا بھر کے محنت کشوں کا انقلاب اور بالشویک انقلاب 1917ء کا تسلسل قرار دیا۔

انقلابی کونسل نے نور محمد ترہ کئی کو صدر منتخب کیا۔ حفیظ اللہ امین کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔ بعد میں وزیر اعظم کا عہدہ بھی حفیظ اللہ امین کے پاس چلا گیا۔ 10 مئی کو نور محمد ترہ کئی نے ریڈیو پر انقلابی حکومت کے پروگرام کا اعلان کیا۔ جس میں افغانستان کی تاریخ کی سب سے بڑی زرعی اصلاحات (بشمول زمینوں کی مزارعوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم)، سود خوری کے خاتمے، مفت تعلیم اور علاج، صنفی برابری، شادی کے نام پر لڑکیوں کی خرید و فروخت پر پابندی اور ہر اس چیز کو قومیانے کا اعلان کیا جو قومیانے کے قابل تھی۔ افغانستان کو صدیوں کی پسماندگی، جہالت، قبائلیت، غربت اور لاچارگی سے نکالنے، بیسوی صدی میں لانے اور جدید سماج بنانے کی جد وجہد کا آغاز کیا گیا۔ یوں ثور انقلاب نے ایک مسخ شدہ انداز میں ہی سہی‘ لیکن ٹراٹسکی کے نظریہ مسلسل انقلاب کو درست ثابت کر دیا۔ اس انقلاب نے آس پاس کے ممالک بالخصوص پاکستان میں محنت کشوں اور مظلوم قوموں کے عوام پر بہت مثبت اور حوصلہ افزا اثرات مرتب کیے۔ جس نے امریکی سامراج اور پاکستان کے حکمرانوں کے ہوش اڑا دیئے۔ لیکن سوویت یونین بھی افغانستان کے اندر پیدا ہونے والی اس انقلابی تبدیلی سے پریشان تھا۔ کیونکہ یہ وہ سوویت یونین نہیں تھا جس کو لینن اور ٹراٹسکی نے تعمیر کیا تھا۔ بلکہ یہ سٹالنسٹ بیوروکریسی کا سوویت یونین تھا جسے انقلاب، تبدیلی، سوشلزم اور مارکسزم سے زیادہ اپنے قومی مفادات، مراعات اور امریکی سامراج سے ’’متوازن‘‘ تعلقات عزیز تھے۔ اس سوویت بیوروکریسی نے اپنے آمرانہ اقتدار، سامراج کیساتھ ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کے ردِ انقلابی خیال (جو ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے سٹالنسٹ نظرئیے سے برآمد ہوتا ہے) اور امریکہ سے تعلقات کی خاطر دنیا بھر کے انقلابات کو خون میں ڈبویا۔ دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کو یہ بیوروکریسی اپنی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتی تھی اور بلاشبہ افغان ثور انقلاب نے سوویت بیوروکریسی پر سکتہ طاری کر دیا کیونکہ وہ قطعاً اپنے ہمسائے میں اس طرح کی آزادانہ انقلابی تبدیلی کے حق میں نہ تھی۔

سوویت یونین نے سب سے پہلے اس نومولود انقلابی حکومت کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کی۔ لیکن انقلاب کی قیادت افغانستان کی آزاد اور خودمختار حیثیت کی حامی تھی۔ وہ ثور انقلاب کے خلاف ہونے والی رد انقلابی سرکشی کو کچلنے کے حق میں تھے اور اس کے لئے انہوں نے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ لیکن سوویت افسرشاہی ان پر ملاؤں اور دوسری رد انقلابی قوتوں کے ساتھ سمجھوتے کے لئے دباؤ ڈالتی رہی۔ جب بات نہ بنی تو انقلابی قیادت کو راستے سے ہٹانے کی واردات شروع کی گئی۔

حکمران طبقے کے تاریخ دان اوردانشور دانستہ طور پر ثور انقلاب کو سوویت یونین کی فوج کشی کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے کہ سوویت فوجیں ثور انقلاب کے 18 ماہ بعد 29 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔ انقلابی حکومت کے پہلے دو سربراہان نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین سوویت یونین میں قائم افسر شاہانہ ریاست کے بارے کسی خوش فہمی کا شکار نہ تھے۔ انقلاب کے یہ دونوں قائدین سوویت یونین سمیت کسی بھی ملک کی افغانستان میں سیاسی یا عسکری مداخلت کے سخت خلاف تھے۔ پڑوس میں آزادانہ طور پر پنپتا ہوا انقلاب سوویت بیوروکریسی کے سیاسی مفادات پر ضرب لگا سکتا تھا چنانچہ انقلاب کی حقیقی قیادت کا خاتمہ ضروری تھا۔ 9 اکتوبر 1979ء کو نور محمد ترہ کئی افغان صدارتی محل میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے۔ نور محمد ترہ کئی کے بعد حفیظ اللہ امین کو زہر کے ذریعے قتل کرنے کی کئی ناکام کوششیں کی گئیں۔ پھر 27 دسمبر 1979ء کو 600 سے زائد سوویت کمانڈوز نے ’’آپریشن سٹارم 333‘‘ کے تحت تاجبگ محل پر حملہ کر دیا۔ اس آپریشن میں حفیظ اللہ امین کو ان کے بیٹے اور 200 محافظین سمیت قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے دو دن بعد سوویت فوجیں باقاعدہ طور پر افغانستان میں داخل ہوئیں۔ جس سے امریکی سامراج کو افغانستان میں انقلاب کو کچلنے کے لئے کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔

مارکسسٹوں نے اس وقت بھی سوویت یونین کی فوجی مداخلت کی مذمت کی تھی کیونکہ اس نے انقلاب کو پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ سامراج اور اس کے حواریوں نے مجاہدین اور ڈالر جہاد کے ذریعے افغان ثور انقلاب کو کچلنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز سوویت فوج کے افغانستان میں داخلے سے 6 ماہ پہلے ہی سی آئی اے کے’’آپریشن سائیکلون‘‘ کے نام سے کر دیا تھا۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ اور ہزاروں نام نہاد مجاہدین پاکستان کے ذریعے افغانستان بھیجے گئے۔ اس رد انقلابی مداخلت میں سعودی عرب، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، مصر، چین اور پاکستان پیش پیش تھے۔ چین تو سوویت دشمنی میں اندھا ہو گیا تھا۔ اس نے بھی بھاری مقدار میں مجاہدین اور اپنے حمایتی گروہوں کو اسلحہ اور کمک فراہم کی۔

سوویت یونین کی جانب سے پارٹی کے پرچم دھڑے میں سے ببرک کارمل کو برسر اقتدار لایا گیا لیکن وہ بھی سوویت افسر شاہی کے معیارات پر پورا نہ اتر سکے۔ انہیں ہٹا کر ڈاکٹر نجیب اللہ کو صدر بنایا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین میں گورباچوف نے سٹالنسٹ بیوروکریسی کے اقتدار کو بچانے کے لئے ’پریسٹرائیکا‘ اور ’گلاسنوسٹ‘ کے نام سے سیاسی و معاشی اصلاحات کا آغاز کیا تھا۔ اسی قسم کی ’نرم روی‘ پر مبنی پالیسیاں نجیب اللہ نے بھی افغانستان میں اپنے آخری دور میں اپنانے کی کوششیں کیں۔ کیونکہ اس وقت تک سوویت یونین کے داخلی حالات بہت خراب ہو چکے تھے اور نجیب اللہ کی حکومت بھی کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ لہٰذا رد انقلابی قوتوں سے مصالحت اور ’قومی ہم آہنگی‘ وغیرہ کی راہ اپنائی گئی۔ جس کی ناکامی ظاہر ہے یقینی تھی۔

ڈاکٹر نجیب اللہ نے ایک قومی مصالحتی کمیشن بنایا جس نے ہزاروں رد انقلابیوں سے رابطے کیے۔ جولائی 1987ء میں ردِ انقلابیوں کو سٹیٹ کونسل (جسے پہلے انقلابی کونسل کہتے تھے) کی 20 نشستوں کی پیشکش کی گئی اور ساتھ میں حکومت میں 12 وزارتوں کی آفر بھی کی گئی۔ ان بنیاد پرست‘ ردانقلابی قوتوں نے کسی مصالحت یا امن کی بجائے انقلاب کو کچلنے کے لئے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ظاہر ہے سامراج کا مقصد اپنے نظام کو بچانا اور افغان عوام کیساتھ ساتھ دنیا بھر کے انقلابیوں کو یہ سبق سکھانا بھی تھا کہ اس کے نظام کو چیلنج کرنے کی کیا سزا ہوتی ہے۔ یوں ان نام نہاد اصلاحات کی کوششوں نے انقلاب کی شکست و ریخت کے عمل کو تیز ہی کیا۔

بالشویکوں نے اکتوبر انقلاب کے بعد بننے والی نومولود مزدور ریاست کو سامراجی حملوں سے بچانے کے لئے جہاں دسیوں لاکھ مزدوروں اور کسانوں کی سرخ فوج بنائی تھی‘ وہیں دنیا بھر کے محنت کشوں سے انقلابی یکجہتی کی اپیل بھی کی تھی۔ جس سے سامراجی ممالک کے محنت کشوں اور افواج میں بغاوتیں ہوئیں اور سامراجی قوتیں اندر سے کھوکھلی ہونے لگیں۔ سوویت روس پر حملہ آور ممالک کے بہت سے مزدوروں اور سپاہیوں نے اس ردِ انقلابی جنگ میں اپنی ریاست کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ جس سے ڈیڑھ درجن سے زائد حملہ آور ممالک کی سامراجی افواج کو شکست دینے میں بہت مدد ملی۔ لیکن افغانستان میں پارٹی خود خلق اور پرچم دھڑوں میں منقسم تھی۔ جو ردِ انقلابی قوتوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے بھی مسلسل برسر پیکار رہتے تھے۔ نہ لینن اور ٹراٹسکی جیسی کوئی مدبرانہ قیادت موجود تھی۔ ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین کو راستے سے ہٹا کے سوویت افسر شاہی کی پشت پناہی سے برسر اقتدار آنے والے پرچم دھڑے کی سوچ اور طریقے خاصے تنگ نظر، پسماندہ اور بین الاقوامی کی بجائے ’قومی‘ تھے۔ ان تمام عوامل نے بھی ثور انقلاب کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا۔

1988-89ء میں جینوا معاہدے کے تحت جب سوویت افواج کا انخلا مکمل ہوا تو نجیب اللہ حکومت کا انجام کافی حد تک عیاں ہو چکا تھا۔ لہٰذا شاہ نواز تنائی اور رشید دوستم جیسے موقع پرست اور ابن الوقت لوگ کھلی غداری پر اتر آئے۔ اس کے باوجود افغانستان کے انقلابی عوام نے تمام تر داخلی ٹوٹ پھوٹ اور پسپائی کے باوجود کئی سال تک ان گنت قربانیوں کیساتھ دل و جان سے انقلاب کا دفاع جاری رکھا۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ جب اسلحے اور تیل وغیرہ کی سپلائی کو بورس یلسن کی ردِ انقلابی اور سامراج کی کاسہ لیس حکومت نے بالکل بند کر دیا تو 1992ء میں نجیب اللہ کی حکومت بھی گر گئی۔ اس دوران کئی حقائق بالکل واضح طور پر آشکار ہوئے۔ حکمران طبقات جہاں محنت کشوں کو رنگ، نسل، زبان، مذہب، قوم اور ملک کے نا م پر تقسیم کر کے اپنی حکمرانی کو جاری رکھتے ہیں وہیں جب ان کے نظام کو کسی انقلابی تحریک سے خطرہ ہوتا ہے تو وہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کے اکٹھے ہو جا تے ہیں۔ یوں امریکی سامراج نے خلیجی بادشاہتوں، پاکستان کی دائیں بازو کی قوتوں، ریاست اور دیگر حواریوں کے ساتھ مل کر افغان ثور انقلاب کو خون میں نہلا دیا۔ کیونکہ آخری تجزئیے میں یہ سب نام نہاد جمہوریت پسند، لبرل، سیکولر اور بنیاد پرست وغیرہ ایک ہی نظام کے پاسدار ہیں۔ ایسا نظام جو ان کی جائیداد، دولت اور منافعوں کا ضامن ہے۔

رد انقلاب نے افغان سماج کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا۔ نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے بعد جہادیوں کی انتہائی تباہ کن اور خونی خانہ جنگی نے اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ مجاہدین کے مختلف ٹولے، جو دراصل مختلف سامراجی طاقتوں کی پراکسیاں تھے، کابل پر قبضے کے لئے آپس میں لڑتے رہے۔ یہ نہ ختم ہونے والا انتشار امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے مسئلہ تھا۔ لہٰذا طالبان کی جابرانہ اور وحشیانہ حکومت کو مسلط کیا گیا۔ جو جلد ہی اپنے تخلیق کاروں کے لئے نیا مسئلہ بن گئی۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد ایک نئی سامراجی جارحیت کا آغاز کر دیا گیا۔ لیکن امریکی سامراج اپنی تمام معاشی اور عسکری طاقت کے باوجود افغان سماج کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں کر سکا۔ ماضی کے مختلف مجاہدین گروہوں اور وار لارڈز کو ہی افغانستان میں جعلی جمہوریت کا چہرہ بنایا گیا۔ لیکن اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کے باوجود یہ نیٹو اتحاد‘ طالبان کو قابو نہیں کر سکا۔ اس دوران طالبان کو پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ سے مسلسل سٹریٹجک اور عسکری کمک ملتی رہی۔ لیکن 90ء کی دہائی کے برعکس اب چین، روس اور ایران جیسی طاقتوں کی بالواسطہ یا خاموش معاونت بھی طالبان کو حاصل تھی۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں دو دہائیوں میں دو ہزار اَرب ڈالر کے عسکری اخراجات کیے۔ اس کے باوجود انہیں افغانستان سے آبرومندانہ انداز میں بھاگنے کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑے۔ طالبان کے ساتھ قطر میں ہونے والا معاہدہ دراصل امریکہ کی جانب سے اعتراف شکست کے مترادف تھا۔ امریکی سامراج افغانستان میں اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہوا۔ طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کو سارے عمل سے بے خبر یا دور رکھا گیا۔ جس سے امریکیوں کی جانب سے بیس سال میں تعمیر کی گئی اس کرپٹ، کھوکھلی اور نااہل افغان ریاست کی حقیقی وقعت کا اندازہ ہوتا ہے۔

طالبان کی اس رجعتی فتح کے بعد افغان عوام کے لئے مصیبتوں اور عذابوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اگر امریکی سامراج اپنے دیوہیکل وسائل کے ساتھ افغانستان میں کوئی صحت مند حکومت اور ریاست تعمیر نہیں کر سکا تو منشیات اور بھتہ خوری کی سیاہ معیشت پر پلنے والے طالبان جیسے رجعتی گروہ سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ ظلمت کے یہ رکھوالے سماج کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے نے پاکستانی ریاست کی توقعات سے بالکل الٹ نتائج مرتب کیے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی جیسے عناصرکے خلاف طالبان نہ کاروائی کر سکتے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے یہ معاملہ ایک تنازعے اور تصادم میں بدل گیا ہے۔ طالبان کی کوشش ہے کہ چین اور بھارت وغیرہ کی طرف جھکاؤ اختیار کر کے پاکستان سے آزادانہ حیثیت اختیار کی جائے۔ لیکن یہ قوتیں بھی افغان عوام کی سگی نہیں ہیں بلکہ ان کے اپنے سامراجی اور تخریبی مقاصد ہیں۔ بھارت‘ پاکستان دشمنی کے تناظر میں افغانستان کے ذریعے اپنا حساب چکتا کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ چین کی نظریں افغانستان کی قیمتی معدنیات پر ہیں۔ اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ جیسی خلیجی ریاستوں اور ترکی کے اپنے مفادات ہیں جن کے تحت ان کے طالبان کے مختلف دھڑوں سے تعلقات استوار ہیں۔ جبکہ طالبان کے داخلی تضادات بھی (جو مخصوص حالات میں پھٹ سکتے ہیں) اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ طالبان دھڑوں کے تضادات کے پیچھے بھی نظریاتی سے زیادہ مالی اور پراکسی تنازعات کارفرما ہیں۔ یوں یہ سارا مسئلہ یا تنازعہ ایک نئی جہت اور پیچیدگی اختیار کر کے خطے میں مسلسل عدم استحکام، خونریزی اور دہشت گردی کا باعث بن رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کو جن قوتوں نے برباد کیا ہے‘ وہ اسے دوبارہ آباد نہیں کر سکتیں۔ اور جب تک افغانستان گھائل اور برباد ہے‘ پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایک تاریخی مسئلے کو اس کی تاریخی وجوہات ختم کیے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے نہ صرف افغانستان بلکہ سارے جنوب ایشیا میں بنیاد پرستی و دہشت گردی کا خاتمہ اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال معاشرے کا قیام سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے انقلابی خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ جس کے لئے 1978ء کے ثور انقلاب کی تاریخ آج بھی اہمیت کی حامل ہے۔