← Back to Newsroom OS کالم

اقوام متحدہ کی وارننگ: ’ایل نینو‘ کے باعث شدید گرمی اور غیر معمولی موسم کے لیے دنیا تیار رہے - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-06-02 • 3 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں دنیا کو ممکنہ طور پر معتدل سے شدید ’ایل نینو‘ موسمی رجحان کا سامنا ہو سکتا ہے، جو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور شدید موسمی حالات کو جنم دے سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون سے اگست 2026 کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ایل نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے جس میں بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان عام طور پر 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے اور عالمی موسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرم سمندری پانی اس عمل کو مزید طاقت دے رہا ہے، جس سے اس کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ اگرچہ ابھی اس کی شدت کے بارے میں سائنسی ماڈلز میں مکمل اتفاق نہیں، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کو اس کے اثرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ادارے کے سیکرٹری جنرل سیلیستے ساؤلو نے کہا کہ یہ رجحان خشک سالی، شدید بارشوں اور ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ سمندری اور زمینی درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایل نینو کے اثرات مختلف خطوں میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جنوبی امریکہ اور امریکہ کے کچھ حصوں میں زیادہ بارشیں جبکہ آسٹریلیا، انڈونیشیا، وسطی امریکہ اور جنوبی ایشیا کے کچھ علاقوں میں خشک سالی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ رجحان سمندری طوفانوں اور ہیٹ ویوز کی شدت میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ یہ صورتحال دنیا کے لیے ایک واضح موسمی انتباہ ہے اور فوسل فیول سے قابل تجدید توانائی کی طرف فوری منتقلی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو نہ صرف موسمی بلکہ معاشی اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے، جس میں زرعی پیداوار میں کمی، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض خطوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ شامل ہے۔