← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ: سوشلسٹ بائیں باز کے لیے اصولی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟

By جدوجہد • 2026-03-21 • 24 min read

فریدا آفرے

(ذبالازا فار سوشلزم (جنوبی افریقہ) میں 15 مارچ 2026 کو دیے گئے فریدا آفرے کے لیکچر کے نظر ثانی شدہ متن کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔)

1۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر تازہ ترین جنگ شروع کرنے کے بعد کیا ہوا؟

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بمباری کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے تیل کے ڈپو، تیل کی تنصیبات، جزیرہ خارج جزیرہ (جو ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات ،یومیہ 40 سے 50 لاکھ بیرل، کا مرکزی مرکز ہے)،فوجی مقامات، میزائل اور ڈرون تنصیبات، پولیس کی عمارتیں، بینک، میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول،ہسپتال، رہائشی عمارتوں، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا۔

بمباری کے پہلے دن اسرائیل نے علی خامنہ ای، ’’سپریم مذہبی رہنما‘‘ کے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا، جس میں وہ خود، ان کی اہلیہ، بہو، پوتا اور حکومت کے مختلف اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہو گئے۔17 مارچ کو اسرائیل نے علی لاریجانی (ایران کے سرفہرست قومی سلامتی کے اہلکار) اور غلام رضا سلیمانی (نیم فوجی فورس بسیج کے سربراہ) کو ہلاک کیا۔18 مارچ کو ایک اور فضائی حملے میں ایران کے وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو قتل کیا گیا۔

فی الحال امریکہ کے 50 ہزار سے زیادہ فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں اور اس نے مزید 2ہزار500 میرین بھیج دیے ہیں۔ جنگی بمبار طیارے اور اسالٹ شپ بھیجے جا چکے ہیں۔ پہلے 6 دنوں میں امریکہ اس جنگ پر 11 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا، اور اب بھی روزانہ ایک ارب ڈالر سے زائد خرچ کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کی بات بھی کی ہے۔

اسرائیل نے دوبارہ لبنان پر بمباری شروع کر دی ہے اور وہاں زمینی فوج بھی بھیج رہا ہے۔ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی پر مبنی جنگ اور مغربی کنارے میں نسلی صفائی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران نے جواباً امریکی اڈوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ابتدا میں اس کے اسرائیلی اہداف فوجی تھے، لیکن اب ایران اپنے بیلسٹک میزائلوں کو کلسٹر بموں سے لیس کر رہا ہے تاکہ تل ابیب کے گھروں، پارکوں، کاروباری مراکز اور سڑکوں پر حملے کیے جا سکیں۔ ایران نے خلیجی خطے کی تیل تنصیبات، آئل ٹینکروں، ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے اور اس میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔ ساتھ ہی اس نے علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا ’’سپریم مذہبی رہنما‘‘ مقرر کر دیا ہے۔

جنوری 2026 سے ایرانی حکومت نے عوام کے لیے انٹرنیٹ کی رسائی بھی بند کر رکھی ہے۔

اب تک خطے میں 2ہزار سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں جن میں سے 1200 سے زیادہ ایرانی ہیں۔ دیگر شہری ہلاکتیں زیادہ تر لبنان میں ہوئیں۔ خلیجی ریاستوں میں مرنے والوں میں زیادہ تعداد مہاجر مزدوروں کی ہے۔ایران میں 32 لاکھ سے زیادہ افراد اور لبنان میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس جنگ کی قیمت صرف معاشی نہیں رہی،تیل کی قیمت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور خوراک و کھاد جیسی ضروری اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ قیمت انسانی بھی ہے، خاص طور پر ایران میں، جہاں فضائی آلودگی اور پانی کی قلت پہلے ہی شدید تھی، ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں گلستان محل تہران بھی شامل ہے۔

مسیحی بنیاد پرستی، اسلامی بنیاد پرستی اور یہودی بنیاد پرستی پر مبنی قیامت خیز (Apocalyptic) زبان استعمال کی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کو جنگ کے لیے موٹیویٹ اور بھرتی کیا جا سکے۔مصنوعی ذہانت کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا رہا ہے،چاہے وہ بمباری ہو، میزائل داغنے کا عمل ہو، یا جعلی ویڈیوز تیار کرنا ،جن کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جا سکیں۔

عالمی سطح پر روسی حکومت کو اس جنگ سے فائدہ ہوا ہے کیونکہ تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ نے روس کے تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ روس کو اس لیے بھی فائدہ ہوا ہے کہ جواینٹی میزائل دفاعی نظام یوکرین اور یورپ، روس کی سفاک سامراجی یلغار کے مقابلے کے لیے امریکہ سے خرید رہے تھے، وہ اب مشرق وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں۔ روس امریکہ کے اہداف کے متعلق خفیہ معلومات شیئر کر کے ایرانی حکومت کی بھی مدد کر رہا ہے۔

چینی حکومت کو بھی اس جنگ سے فائدہ ہوا ہے، کیونکہ امریکی حکومت اب بحرالکاہل کے خطے پر کم توجہ دے گی اور شاید چین کو تائیوان پر قبضے کے منصوبوں پر آزادانہ طور پر آگے بڑھنے کی اجازت بھی دے دے۔

2۔1979سے آج تک کا ایران، امریکہ اسرائیل اور عالمی تبدیلیاں کا پس منظر

1979 میں عوامی ایرانی انقلاب کے نتیجے میں ایک ظالمانہ اور جابرانہ بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی اسلامی جمہوریہ نے اپنے وجود کی بنیاد امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کو قرار دیا ۔ یہ ایک مذہبی بنیاد پرست شیعہ اور فارسی قوم پرست ریاست رہی ہے، جس نے صنفی جبر، عورت دشمنی اور پدرشاہی کو بھی مضبوطی سے اپنایا۔سامراج مخالف، سرمایہ داری مخالف، اور انقلابی نعروں کو آمریت کو مضبوط کرنے اور کسی بھی ترقی پسند مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

مارچ 1979 میں، جب انقلاب نے محمد رضا پہلوی کی ظالم بادشاہت کو گرا دیا تھا، اسی کے فوراً بعد آیت اللہ خمینی اور ان کے حامیوں نے خواتین پر لازمی حجاب نافذ کرنے کے خلاف منائے گئے بین الاقوامی یومِ خواتین کے مظاہروں کو دبانا شروع کیا۔ اسی مہینے ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ایران کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا اعلان ہوا۔اسی دور میں نئی حکومت نے شمال میں خودمختاری کے لیے اٹھنے والی کرد بغاوت کو بھی سفاکی سے کچلنا شروع کیا۔ انقلاب کے پہلے دو سالوں میں بائیں بازو کے بہت سے گروہ اسلامی جمہوریہ کی ’’سامراج مخالف‘‘ حیثیت کا دفاع کرتے رہے۔ تاہم اسلامی جمہوریہ نے جلد ہی بائیں بازو پر سخت ترین کریک ڈاؤن کیا اور 1981 سے ہزاروں بائیں بازو کے کارکنوں کو قتل کرنا اور پھانسی دینا شروع کر دیا۔1988 میں ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ہزاروں بائیں بازو کے سیاسی قیدیوں کو قتل کیا گیا۔اسلامی جمہوریہ نے ہر طرح کی ترقی پسند یا جمہوری مخالفت کو دبانا جاری رکھا اور ایک پولیس اسٹیٹ قائم کر دی۔

2009 سے اب تک ایران میں پانچ بڑے عوامی احتجاجی سلسلے ہو چکے ہیں، جنہیں ہر بار انتہائی سفاکی سے کچلا گیا۔ پہلا سلسلہ 2009 میں ایک دھاندلی زدہ انتخاب کے بعد شروع ہوا، جس کا مقصد نظام کی اصلاح تھا۔تاہم بعد کے احتجاجوں(2017، 2019، 2022 اور تازہ ترین 2026 میں)کا واضح مقصد اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ تھا۔

2022 کی بغاوت ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی، اورعالمی سطح پر سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی کیونکہ اسے خواتین نے قیادت دی۔ خواتین نے اپنے اسکارف نذر آتش کیے اور ایک مضبوط انقلابی و آزادی پسند روح دکھائی۔ اس تحریک میں مزدور اور نوجوان کارکنوں کے ساتھ ساتھ کرد، بلوچ اور عرب جیسی قومی اقلیتیں بھی شامل تھیں۔

2026 کی تازہ ترین عوامی بغاوت میں پورے ملک سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے، مگر اسے بھی بدترین وحشت سے کچل دیا گیا۔ جنوری 2026 میں صرف تین دنوں کے اندر حکومت نے کم از کم 7ہزار افراد کو قتل کیا، جبکہ حقیقی تعداد 20ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران میں چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیوں کی شرح ہے، اور وہاں بے شمار سیاسی قیدی موجود ہیں۔ایرانی حکومت نے اپنے امریکہ مخالف اور اسرائیل مخالف بیانیے کا استعمال ان ملکوں میں موجود ترقی پسند اپوزیشن کو دبانے کے لیے بھی کیا ہے جہاں وہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

ایران کا علاقائی سامراجی منصوبہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں لبنان میں حزب اللہ کے قیام سے شروع ہوا، اور بعد میں عراق، شام اور یمن میں مداخلتوں کی صورت میں پھیل گیا۔شام کے معاملے میں ایران نے زمینی فوجیں بھیج کر اور روس کی مدد سے شامی عوامی بغاوت کو خون میں نہلا کر بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت کو 13 سال تک سہارا دیا۔ایران نے اربوں ڈالر حزب اللہ، حماس اور عراق و شام میں مختلف شیعہ ملیشیاؤں پر خرچ کیے ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے اس کی حمایت صرف اپنے علاقائی مفادات تک محدود ہے، اس میں نہ جمہوریت شامل ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی حمایت۔گزشتہ چند سالوں میں ایران نے روس کی یوکرین پر سامراجی جنگ کے لیے اسے ڈرون اور میزائل فروخت کیے ہیں۔ وہ سوڈانی خانہ جنگی میں بھی سوڈانی فوج کے ایک دھڑے کی مدد کر رہا ہے۔اسی طرح وہ طالبان کی بھی حمایت کر رہا ہے، جبکہ اسی وقت ایران کے اندر افغان مہاجرین کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسداران انقلاب) کو آیت اللہ خامنہ ای نے عام فوج کے متوازی ایک الگ فوج کے طور پر بنایا تھا۔1980 سے 1988 کی خونریز ایران عراق جنگ، جس میں 10 لاکھ سے زائد افراد مارے گئے یا زخمی ہوئے، کے بعد پاسداران انقلاب نے خود کو بہت وسعت دی اور وہ ایران کا سب سے بڑا سرمایہ دار و سرمایہ کار گروہ ،اور ریاست، فوج اور پارٹی کے اتحاد کا بنیادی ستون بن گئی۔پاسداران انقلاب کے پاس 1لاکھ80ہزار اہلکار ہیں، اور یہ ایران کی مجموعی فوج و پولیس کے 15 لاکھ اہلکاروں کا حصہ ہے۔ ایران دنیا کی آٹھویں بڑی فوج رکھتا ہے۔

پاسداران انقلاب نے ایران کے جوہری پروگرام پر نامعلوم مقدار میں سرمایہ خرچ کیا ہے۔جون 2025 میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اعلان کیا کہ ایران کے پاس 60فیصد تک افزودہ کیا ہوا اتنا یورینیم موجود ہے کہ 10 ایٹمی بم بنائے جا سکتے ہیں۔تاہم جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی اور تباہ کن جنگ کے بعد ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔

امریکہ اور اسرائیل کے حوالے سے کوئی شک نہیں کہ وہ خطے میں اپنے وحشیانہ سامراجی عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ نیتن یاہو کی حکومت فلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے پر تلی ہوئی ہے اور فلسطینی عوام کے قتل عام میں مصروف ہے۔ نیتن یاہو حکومت ان اسرائیلی یہودیوں کی بھی مخالف ہے جو برابری کی بنیاد پر یہودیوں اور فلسطینیوں کے پرامن باہمی وجود پر یقین رکھتے ہیں۔

واشنگٹن کی ایران کی سابق شاہی حکومت کی پشت پناہی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ امریکہ افغانستان اور عراق پر حملوں کا بھی ذمہ دار ہے، جن حملوں کے نتیجے میں لاکھوں انسان مارے گئے یا زخمی ہوئے۔

امریکہ اور اسرائیل دونوں فسطائیت کی طرف بڑھ چکے ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کی دوسری حکومت کے ساتھ ہمیں ایک ایسی فسطائی حکومت ملی ہے جو صدارت، کانگریس، اور سپریم کورٹ پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔جب میں فسطائیت کی بات کرتی ہوں تو میری مراد رابرٹ پیکسن کی کتاب’Anatomy of Facism‘میں دی گئی تعریف سے ہے۔ فاشسٹ حکومت کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ منطق اور دلیل کا عوامی سطح پر انکارکیا جاتا ہے ،سوشل ڈارونزم کا بڑے پیمانے پر قبول کیا جاتاہے،یعنی اپنی قوم یا نسل کی برتری اور ’’Survival of the Fittest‘‘ کے نام نہاد عقیدے کو اپنایا جاتا ہے۔فسطائی حکمرانی کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ حکمران اشرافیہ فسطائی حکومت کے سامنے جھک جائے۔داخلی ’’پیوری فیکیشن‘‘ کے نام پر نسل پرستی اور انتہا پسند قوم پرستی کو پروان چڑھایا جاتا ہے،جس میں بعض گروہوں کو ’’دشمن‘‘ یا ’’غیر‘‘ قرار دے کر ان کی توہین، ان سے غیرانسانی سلوک، قید اور قتل کیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ بیرونی سامراجی جنگوں کے پھیلاؤ،عورت دشمنی، جھوٹ و فریب ، تاریخ کو مسخ کرنیاور ایک شخصی آمریت تک جاتا ہے۔ان پیمانوں پر اگر دیکھا جائے تو اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کی حکومت فسطائیوں کے زیر انتظام چل رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل دونوں خلیجی ریاستوں اور ترکی کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ کو ایک ایسا مکمل آمرانہ سرمایہ دار خطہ بنانا چاہتے ہیں جہاں جمہوریت یا انسانی حقوق کا نام لینا بھی ضروری نہ رہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا خیال تھا کہ وہ ایران پر چند دن بمباری کر کے پاسداران انقلاب کے ایک حصے سے کوئی سودا کر لے گی اور ایران میں ایک فرمانبردار حکومت قائم کر لے گی۔تاہم پاسداران انقلاب کئی سالوں سے جوابی جنگی حکمت عملی تیار کر رہے تھے، اور ان کا منصوبہ جنگ کو طول دے کر امریکہ اور اسرائیل کو کمزور کرنا ہے۔ وہ ایک ایسے کثیر القطبی عالمی نظام پر بھی انحصار کرتا ہے جس میں روس اور چین اپنی سامراجی طاقت بڑھا رہے ہیں۔

روس خود ایک فسطائی اور سامراجی ریاست ہے، اور وہ ایران کو ایک اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ ایران کو جوہری ری ایکٹر، اسلحہ فروخت کرتا ہے، اور ایران سے میزائل، ڈرون، اور دنیا بھر میں غلط معلومات اور دہشت پھیلانے کی خدمات حاصل کرتا ہے۔

چینی سرمایہ دارانہ سامراج کے لیے ایران سستا تیل، پیٹروکیمیکل، معدنیات فراہم کرتا ہے اور ایک آمرانہ اتحادی ہے۔2021 میں چین اور ایران نے ایک 25 سالہ معاہدہ کیا، جس کے مطابق چین ایران کا 400 ارب ڈالر مالیت کا تیل انتہائی کم قیمت پر حاصل کرے گا، اس کے بدلے ایران میں تیل، گیس اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی اسٹریٹجک ڈاکٹرائن، روس کی یوکرین پر جنگ میں ٹرمپ حکومت کے کھلے اتحاد اور چین کی ممکنہ تائیوان پر چڑھائی کے بارے میں امریکی عدم دلچسپی کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ تینوں سپر پاور فی الحال اپنے اپنے اثر و رسوخ کے علاقوں پر متفق ہو چکی ہیں۔تاہم یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ یہ اثر و رسوخ ہمیشہ قائم رہیں گے۔ سرمایہ داری ایک غیر مستحکم نظام ہے۔یہ ایسا نظام ہے جس میں مختلف سرمایہ دار طاقتیں انسانوں اور قدرت سے مالی قدر نچوڑنے اور جمع کرنے کے لیے مسلسل ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں، اور اسی عمل میں بڑھتی ہوئی تباہ کن جنگوں میں الجھتی رہتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ روس اور چین دونوں کے مفاد میں ہے، کیونکہ یہ امریکی فوجی اور دیگر وسائل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور انہیں کمزور کر رہی ہے۔ روس اور چین اپنی اپنی سامراجی مہمات اور اپنے عوام کے سرمایہ دارانہ استحصال پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔اس حقیقت کے پیش نظر یہ نہایت ضروری ہے کہ ایران کی اندرونی ترقی پسند قوتوں کی کامیابیوں، محدودیتوں اور امکانات کو سمجھا جائے۔

3۔ایران کے اندر ترقی پسند قوتوں کی کامیابیاں، محدودیتیں اور امکانات

اب تک کی سب سے اہم کامیابی2022 کی ’’زن، زندگی، آزادی‘‘ تحریک رہی ہے، جس نے عورتوں، مزدوروں، تعلیم، اور مظلوم اقلیتوں کے حقوق سے متعلق واضح آزادی پسند مطالبات اٹھائے۔ 20 ہزار گرفتاریوں اور 500 سے زیادہ افراد کے قتل کے ساتھ اس تحریک کو بے رحمی سے کچل دیا گیا۔

گزشتہ 20 سالوں میں ایران میں آزاد، خودمختار مزدور تنظیموں کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاًتیل اور پیٹروکیمیکل کے عارضی کنٹریکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں،گنے کے کھیتوں کے مزدوروں، بس ڈرائیوروں،اساتذہ اور نرسوں کی تنظیمیں بنی ہیں۔
ایران میں خواتین یونیورسٹی گریجویٹس کا 60فیصد ہیں اورصرف 16فیصد معیشت میں حصہ رکھنے کے باوجود اپنے حقوق کے لیے طاقتور آواز اٹھاتی ہیں، اورایک مذہبی بنیاد پرست اور آمرانہ حکومت کے تحت رہتے ہوئے بھی مسلسل مزاحمت کرتی ہیں۔

سیاسی قیدی جیلوں کے اندرتنظیم سازی کر رہے ہیں، اور بیانات، خط اور منشور لکھ رہے ہیں۔

ایرانی دانشوروں نے اہم فکری کام کیے ہیں۔ فلسفہ اور سیاسی معیشت کی تنقید پر بڑی کتابوں کے نئے تراجم کیے گئے، جن میں مارکس کی 1844 کی معاشی و فلسفیانہ تحریریں،سرمایہ (Capital)،فیمن ازم) پر اہم کتابیں،ایرانی تاریخ، سماجیات، سیاست، صنفی تعلقات اور اقلیتوں کے حقوق پر اہم تحقیقی کام،

بیرون ملک موجود ایرانی دانشوروں کی مزید آزادانہ اور تحقیقی تحریریں شامل ہیں۔

ایرانی ترقی پسند حلقوں کی محدودیت اور کمزوریاں بھی ہیں۔ فارسی قوم پرستی کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرتی ہے،جو قومی اقلیتوں کو ان کی زبان اور قدرتی وسائل کے استعمال کے حقوق تسلیم کرنے اور قانونی شکل دینے کا منصوبہ پیش کرے۔پدرشاہی اور خواتین مخالف رویے کی وجہ سے خواتین کا قتل، صنفی بنیاد پر تشدد، اور دیگر زیادتیوں کی شرح اب بھی زیادہ ہے۔ایرانی بایاں بازو عموماً سوشلزم کے تصور کو صرف ریاستی ملکیت کے کنٹرول تک محدود کر دیتا ہے، بغیر اس کے کہ سرمایہ داری کے پیداوار کے طریقہ کار کی اجنبیت کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ لہٰذا یہ محض نجی ملکیت کو ریاستی ملکیت سے بدلنے کی سطح تک محدود رہ جاتا ہے۔بائیں بازو کے بہت سے لوگ سامراجیت کو صرف مغربی سامراجیت تک محدود کر دیتے ہیں اور روسی اور چینی سامراجیت کے ساتھ ساتھ گزشتہ چار دہائیوں میں ایرانی حکومت کی علاقائی سامراجی مداخلتوں پر برابر توجہ دینے سے انکار کرتے ہیں۔

ان کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف پس پردہ قوتوں نے ایرانی عوام سے رابطہ قائم کیا، خاص طور پر سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اسٹیشنز کے ذریعے غلط معلومات پھیلا کریہ کام کیا گیا۔ اسی طرح جنوری 2026 کی بغاوت میں، جب حکومت کی طرف سے 7ہزار سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی، اس بغاوت کے دوران بہت سے لوگ، یہاں تک کہ محنت کش طبقے کے کچھ حصے بھی بادشاہت نواز نعرے لگا رہے تھے اور مسترد شدہ بادشاہ کے بیٹے، رضا پہلوی سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ایران واپس آئے اور انہیں خوشحالی فراہم کرے۔ چند معروف ترقی پسند دانشوروں اور فیمن اسٹوں نے رضا پہلوی کے ساتھ اتحاد کا اعلان بھی کیا ہے۔اس دوران رضا پہلوی نہ صرف امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کی حمایت کر چکے ہیں، بلکہ کئی سالوں سے ایرانی پاسداران انقلاب سے بھی اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہوں، بدلے میں انہیں مکمل معافی اور نئی رژیم میں مکمل شرکت دی جائے۔

حال ہی میں پانچ کرد جماعتوں نے ایک اتحاد قائم کیا ہے تاکہ وہ حکومت کے خاتمے کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ وہ امریکی اور اسرائیلی افواج کے لیے لڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں یا نہیں، یہ بات واضح ہے کہ ایرانی معاشرے میں فارسی قوم پرستی کے غلبے سے وہ گہری مایوسی کا شکار ہیں۔

ایران میں کچھ بہادر اور پرعزم دانشور موجود ہیں جنہیں ہم موجودہ وقت نہیں سن پا رہے کیونکہ وہ یا تو قید میں ہیں، یا گھر میں نظر بندی میں ہیں، یا پیرول پر ہیں۔ سب سے قابل ذکر نسرین ستودہ ہیں، جو ایک فیمن اسٹ انسانی حقوق کی وکیل و سرگرم رہنما ہیں۔ وہ کئی سالوں سے سیاسی قیدی رہی ہیں اور فی الحال پیرول پر ہیں۔ ایرانی کرد خواتین کے حقوق کی کارکن پخشاں عزیزی موت کی سزا کے خطرے کے باوجود رژیم اور امریکی فوجی مداخلت کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ نرگس محمدی 2023 کی نوبل امن انعام یافتہ، ایک اور فیمن اسٹ ہیں، جو فی الحال قید میں خاموش کر دی گئی ہیں۔

موجودہ ظالمانہ اور پھیلتی ہوئی جنگ، اور ایرانی معاشرے اور خطے میں موجود حقیقی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، بین الاقوامی ترقی پسند اب کیا کر سکتے ہیں؟

4۔ عالمی ترقی پسند اب کیا کر سکتے ہیں؟

اول:جتنا ممکن ہو، اس جنگ کو روکنے کے لیے ہر اقدام کریں۔ تعلیم دیں، آواز بلند کریں، احتجاج کریں، اپنے حکومتی نمائندوں اور آزاد دانشوروں پر دباؤ ڈالیں۔امریکہ کے معاملے میں عوامی رائے اس وقت 60 فیصد اس جنگ کے خلاف ہے۔ زیادہ تر لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے مشرق وسطیٰ میں لڑائی کے لیے بھیجے جائیں۔ بالغ آبادی کا نصف حصہ ٹرمپ انتظامیہ کے حملوں اور بے گناہ مہاجرین کی گرفتاری وملک بدر ی کے خلاف ہے۔عوام میں اس بات پر بھی بہت غصہ ہے کہ زیادہ تر امیر مردوں، جن میں ٹرمپ، دیگر سیاستدان اور حتیٰ کہ بعض علمی حلقے شامل ہیں، نے جیفری ایپسٹین کے خواتین اور لڑکیوں کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کیا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔ان تمام مسائل کو اینٹی وار پیغام تیار کرنے کے دوران واضح طور پر اجاگر کرنا ضروری ہے۔

دوم :مشرق وسطیٰ کے ترقی پسندوں یا بیرون ملک مقیم مشرق وسطیٰ کے ترقی پسندوں سے رابطہ کریں۔ اپنی گفتگو کو صرف ایک جدوجہد یا ایک ملک تک محدود نہ رکھیں۔

سوم:کیمپ ازم کی مخالفت کریں، تمام عالمی اور علاقائی سرمایہ دارانہ سامراجی طاقتوں کے خلاف واضح موقف اختیار کریں، اور ان عوام کے حقوق اور انسانی حیثیت کا دفاع کریں جن پر یہ طاقتیں ظلم کر رہی ہیں۔

چہارم:ان بنیادی مسائل کو اجاگر کریں جو ہماری جدوجہد کو پیچھے کھینچ رہے ہیں، جن میں نسلی اور لسانی امتیاز، پدرشاہی ،سرمایہ دارانہ استحصال اورسرمایہ دارانہ پیداوار کی بیگانگی شامل ہیں۔

(بشکریہ: ’نیو پول‘، ترجمہ: حارث قدیر)