← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

امریکہ میں ماحولیاتی کارکنوں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن

By جدوجہد • 2026-02-20 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ماحولیاتی تنظیم ایکسٹنگشن ریبیلین (ایکس آر) نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کی سرگرمیوں کی وفاقی سطح پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ تنظیم کے نیویارک چیپٹر کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز سے اب تک کم از کم 7کارکنوں سے ایف بی آئی حکام نے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں ایک کارکن کے گھر 6 فروری کو جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس کے دو ایجنٹس بھی پہنچے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں محکمہ انصاف نے ایک اور ماحولیاتی گروہ کلائمیٹ ڈیفائنس کے خلاف بھی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ایکسٹنگشن ریبیلین نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک وائرل پرامن مظاہرے کے جواب میں کی گئی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ”ٹرمپ محکمہ انصاف کو ہتھیار بنا کر پرامن مظاہرین پر حملہ کر رہے ہیں، تاکہ اس مہنگی فوسل فیول انڈسٹری کو خوش کیا جا سکے جس نے انہیں اقتدار میں پہنچایا۔“

ایکسٹنگشن ریبیلین سڑکوں، ہوائی اڈوں اور عوامی آمدورفت کے مراکز پر براہ راست احتجاجی کارروائیوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ عالمی سطح پر موسمیاتی ایمرجنسی کے خلاف عدم تشدد پر مبنی سول نافرمانی کی حامی تنظیم ہے۔ سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی اس کے مظاہروں میں شرکت کر چکی ہیں۔

قدرتی وسائل کی نگرانی کرنے والی تنظیم گلوبل وٹنس کے مطابق آئل کمپنیاں، جیسے شیورون اور ایکسون نے گزشتہ برس ٹرمپ کی افتتاحی تقریب کے لیے 19ملین ڈالر عطیہ کیے، جو کل فنڈ کا تقریباً 8 فیصد ہے۔ متعدد کمپنیاں ان کی انتخابی مہم میں بھی حصہ ڈالتی رہی ہیں۔

ٹرمپ خودموسمیاتی تبدیلی کوفریب قرار دیتے ہیں، اورفوسل فیول صنعت کی توسیع کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے حال ہی میں 2009 میں جاری کی گئی انڈینجرمنٹ فائنڈنگ کو بھی منسوخ کر دیا، جو فضائی آلودگی کے ضوابط کی قانونی بنیاد تھی۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کوامریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیریگولیشن قرار دیا۔

اس اقدام کے خلاف درجنوں ماحولیاتی و صحت کی تنظیموں نے مقدمہ دائر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے مزید آلودگی، زیادہ اخراجات اور ہزاروں قابل گریز اموات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔