امریکی زوال روکنے کے لیے ٹرمپ کی حکمت عملی
ایلیکس کالینیکوس
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اپنی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی (این ایس ایس) شائع کی۔ ممکن ہے انہوں نے اس کا ایک لفظ بھی خود نہ لکھا ہو، لیکن یہ دستاویز قابل توجہ ہے۔
ہر امریکی حکومت اپنی ایک این ایس ایس جاری کرتی ہے جس میں وہ امریکی سامراج کی ترجیحات کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتی ہے۔ ان میں سے ایک سب سے نمایاں دستاویز جارج ڈبلیو بش کی تھی، جو عراق پر حملے سے عین پہلے ستمبر 2002 میں شائع ہوئی۔
اس میں اس وقت کی امریکی حکمران طبقے کا وہ اعتماد جھلکتا تھا، جس نے سرد جنگ جیتنے کے بعد پینٹاگون کی عسکری طاقت کے سہارے نیولبرل سرمایہ داری کو پوری دنیا میں پھیلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم عراق اور افغانستان میں بش کی شکست نے بعد کی ڈیموکریٹک حکومتوں، یعنی باراک اوباما اور جو بائیڈن کو امریکی فوجی طاقت کے براہ راست استعمال کے معاملے میں زیادہ محتاط بنا دیا۔تاہم بائیڈن، بش کی طرح ہی ’’جمہوریت‘‘ اور’’مطلق العنانیت‘‘کے درمیان ایک عالمی جدوجہد کا اعلان کرنے میں بہت جارحانہ تھے۔
نئی این ایس ایس اس سے بہت مختلف ہے۔ اس کا آغاز تو ٹرمپ کے اس شیخی بھرے بیان سے ہوتا ہے کہ’’یہ دستاویز ایک روڈ میپ ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ امریکہ انسانی تاریخ کی سب سے عظیم اور کامیاب قوم رہے، اور زمین پر آزادی کا مرکز ہو۔‘‘پھر یہی دستاویز لیکن یہ بھی کہتی ہے کہ’’امریکہ اپنے لیے عالمی بالادستی کے اس بدنصیب تصور کو مسترد کرتا ہے۔‘‘
مشرق وسطیٰ کے بارے میں حصہ اعلان کرتا ہے کہ ٹرمپ’’ان ممالک،خاص طور پر خلیجی بادشاہتوں کو اپنی تاریخی حکومتی شکلیں ترک کرنے پر مجبور کرنے کے امریکہ کے غلط اور گمراہ کن تجربے‘‘کو ترک کر رہے ہیں۔
ٹرمپ صرف اپنے آمر خلیجی دوستوں کو ہی نہیں چھوڑ رہے۔ اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی انہوں نے روس اور چین کو’’حریف‘‘اور’’رویژن اسٹ پاورز(مروجہ عالمی نظام کو چیلنج کرنے والی طاقتیں)‘‘قرار دیا تھا۔
اب روس کا ذکر صرف اس وقت آتا ہے جب این ایس ایس یورپ کو یوکرین میں’’فتح کی غیر حقیقی توقعات‘‘رکھنے پر لتاڑتی ہے، جبکہ وہ روسی گیس خریدنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
چین کو بنیادی طور پر ایک معاشی حریف کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ کی پالیسی یہ ہے کہ محصولات (ٹیرف) کے ذریعے’’متوازن تجارت‘‘حاصل کی جائے۔
یورپ کے بارے میں حصے نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ یہ اس معمول کے مطالبے سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے کہ امریکہ کے نیٹو اتحادی اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کریں۔
این ایس ایس اس’’میگا‘‘طرز کی مذمت کو دہراتی ہے جو فروری میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یورپ بڑے پیمانے پر ہجرت اور’’ووک‘‘پالیسیوں کے باعث’’تہذیبی مٹاؤ‘‘کے خطرے سے دوچار ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ’’یورپ کے موجودہ رخ کے خلاف مزاحمت کو یورپی ممالک کے اندر پروان چڑھا رہی ہے۔‘‘ اسی کے مطابق این ایس ایس ‘‘محب وطن یورپی پارٹیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ‘‘کا خیر مقدم کرتی ہے،یعنی انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کا۔
تعجب نہیں کہ روس نے اس دستاویز کو’’بڑی حد تک ہمارے نقطہ نظر کے مطابق‘‘قرار دیا ہے۔ ٹرمپ بظاہر اس’’کثیرالجہتی‘‘عالمی نظام کی توثیق کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کی وکالت چین اور روس دونوں کرتے ہیں۔دوسری طرف چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کے جس نام نہاد’’ایشیائی رخ‘‘(pivot to Asia) کا اعلان کیا گیا تھا، وہ بھی اب ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ ہے کہ جاپانی حکومت امریکہ کی اس ناکامی پر’’مایوس‘‘ہے کہ اس نے نئی وزیر اعظم سانائے تاکائچی کی حمایت نہیں کی۔ انہیں چینی حکام کی جانب سے اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ انہوں نے کہا تھاکہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جاپان فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی سامراج ختم ہو گیا ہے۔این ایس ایس مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine)میں ایک نیا’’ٹرمپ کارالری’’(Trump Corollary) شامل کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ یہ وہی پالیسی ہے جس کے تحت ابتدائی امریکی حکومت نے بیرونی طاقتوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی براعظموں سے دور رہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ایک ایسا نصف کرہ چاہتے ہیں جو دشمن غیر ملکی مداخلت یا کلیدی اثاثوں کی غیر ملکی ملکیت سے پاک ہو۔‘‘
آج یہ انتباہ اگرچہ اتنے واضح الفاظ میں نہیں دیا گیا، بنیادی طور پر چین کے لیے ہے،جو لاطینی امریکہ کی معدنیات اور زرعی برآمدات کے لیے ایک بہت بڑی منڈی ہے۔
یہ دستاویز امریکہ کی اس روایتی عالمی پالیسی کی بھی تصدیق کرتی ہے جو پہلی عالمی جنگ کے بعد سے برقرار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہمیں دنیا پر، اور کچھ مواقع پر خطے پر بھی، کسی اور کی بالادستی کو روکنا ہوگا۔‘‘ایک بار پھر ایسے کردار کے لیے واحد امیدوار چین ہی ہے۔
چنانچہ ٹرمپ کی این ایس ایس اصل میں اس بات کا تعین کرنے کی کوشش ہے کہ امریکی سامراج اپنی بالادستی کو اس وقت کیسے برقرار رکھ سکتا ہے، جب اس کی کمزوری کو بھانپنے والے حریف اسے چیلنج کر رہے ہوں۔
یہ سب روایتی امریکی اتحادیوں،جیسے یورپ اور جاپان کے لیے کہیں زیادہ مشکل ہونے والا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اس بات کو یوں سمیٹاکہ ’’ہمارے بہت سے اتحادی دراصل ہمارے دوست نہیں ہیں۔‘‘
(بشکریہ: ’سوشلسٹ ورکر‘، ترجمہ: حارث قدیر)