امریکی نگرانی میں وینزویلا کی عبوری حکومت نے اسرائیل کو تیل کی برآمد شروع کر دی
لاہور(جدوجہد رپورٹ) امریکی سیکرٹری برائے توانائی کرس رائٹ بدھ کے روز وینزویلا پہنچے، جہاں ان کا استقبال عبوری حکومت نے ایسے موقع پر کیا جب ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کی تیل صنعت پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ وہ وینزویلا کا دورہ کرنے والے اس سطح کے پہلے امریکی عہدیدار ہیں، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب نکولس مادورواور ان کی اہلیہ کو جنوری کے اوائل میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
توانائی سیکریٹری کرس رائٹ نے ڈیلسی روڈریگیزسے ملاقات کی، جو ملک کی عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ ”وینزویلا کے لوگ ان تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو کھلے دل کے ساتھ ہمارے ملک آتے ہیں۔ ہم دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، بشمول امریکی کمپنیوں، کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر تیل کی صنعت کو اعلیٰ ترین معیار تک پہنچائیں۔“
جمعرات کو کرس رائٹ نے وینزویلا کی تیل تنصیبات کا دورہ بھی کیا، جو دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر میں سے ایک ہے۔ اس موقع پر شیورون کے حکام بھی موجود تھے۔
روڈریگیز کی عبوری حکومت نے تقریباً دو دہائیوں بعد پہلی بار وینزویلا کی جانب سے اسرائیل کو تیل کی برآمد بھی روانہ کی ہے، جس کی تصدیق بلومبرگ نیوزکی ایک رپورٹ میں کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت قابل ذکر ہے، کیونکہ سابق وینزویلائی صدر ہوگوشاویزنے 2009 میں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی غزہ پالیسیوں کی مخالفت کے باعث اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔