← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

امریکی گریجویٹس کو مشکل روزگار مارکیٹ کا سامنا - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-19 • 3 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ہر سال مئی میں جب طلبہ گریجویشن گاؤن پہن کر نیویارک کے واشنگٹن اسکوائر پارک میں تصاویر بنواتے ہیں تو امید ہوتی ہے کہ ایک نیا سفر شروع ہونے والا ہے۔ تاہم اس سال بے یقینی اور سخت روزگار مارکیٹ نے ان خوشیوں کو دھندلا دیا ہے۔ جولی پٹیل،جنہوں نے حال ہی میں ماسٹرز مکمل کیاہے،کہتی ہیں کہ ملازمت کے امکانات اُن کی توقعات سے بالکل مختلف نکلے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق افراتفری کی کئی وجوہات ہیں۔عالمی تنازعات، ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی، محصولات کی پالیسیاں، اور بعض شعبوں میں حکومتی فنڈنگ میں کمی سمیت دیگر وجوہات موجود ہیں۔ خاص طور پر نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں کے طلبہ اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔

امریکی لیبر بیورو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 6.9 ملین خالی آسامیوں کے باوجود بھرتیوں کی رفتار بہت سست ہے۔ نئے گریجویٹس کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ملازم اپنی نوکریاں چھوڑ نہیں رہے، یوں گردش کم ہو گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ’’کم بھرتی کی شرح بتاتی ہے کہ نئے آنے والوں کے لیے جگہ بنانا مشکل ہو رہا ہے۔‘‘

2026 میں اب تک اوسطاً صرف 68 ہزار نوکریاں ماہانہ پیدا ہوئیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ صحت، ٹرانسپورٹ اور ریٹیل میں کچھ بہتری ضرور آئی، لیکن مالیاتی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے سفید پوش شعبوں میں ہزاروں آسامیاں ختم ہو گئیں۔

پبلک ہیلتھ کے شعبے کو اضافی جھٹکا اس وقت لگا جب وفاقی حکومت نے تحقیقاتی فنڈنگ میں اربوں ڈالر کی کٹوتی کی، جس سے کئی یونیورسٹیوں میں بھرتیاں منجمد ہوگئیں، جیسے ہارورڈ یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی میں ہوا۔ اس کے نتیجے میں ریسرچ اسسٹنٹ اور ابتدائی سطح کی نوکریاں تقریباً غائب ہو چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ’’نہ بھرتی،نہ برطرفی‘‘ والا ماحول حالیہ گریجویٹس کے لیے بے حد چیلنجنگ ہے، کیونکہ تجربہ کار کارکن بھی ملازمتوں کے لیے سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔