← Back to Newsroom OS خبریں

امن کا نوبل انعام تو بنتا ہے: ٹرمپ دوسرے ملکوں پر 529 حملے کر چکے ہیں

By جدوجہد • 2025-07-18 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر چکے ہیں۔ امن کے اس انعام کا حقدار انہیں اس لیے سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے دنیا کا امن تباہ کرنے کے لیے ماضی کی نسبت زیادہ جارحانہ اقدامات کیے ہیں۔

’ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ابتدائی5مہینوں میں سابق صدر جو بائیڈن کے 4سال کے دوران کیے گئے امریکی فضائی حملوں کا ہدف تقریباً برابر کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے ابتدائی 5مہینوں میں امریکہ نے529فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ جوبائیڈن نے اپنی پوری 4سالہ مدت میں 555فضائی حملے کیے۔

اس عرصے میں زیادہ تر حملے یمن میں حوثی باغیوں، سومالیا میں داعش کے جنگجوؤں، شام و عراق میں عسکریت پسند عناصر، اور سب سے حالیہ طور پر ایران کی جوہری سہولتوں پر کیے گئے۔

غیر منافع بخش ادارے ACLED نے کہا ہے کہ’امریکی فوج تیزی سے، زیادہ شدت کے ساتھ اور کم پابندیوں کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔‘

یمن میں مارچ تا مئی میں ہونے والی امریکی بمباریاں 224 شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنی ہیں، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے برابر ہیں۔ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی ’سب جنگوں کو ختم کرنے‘کا وعدہ کیا تھا، مگر زمینی فوج نہ بھیج کر زیادہ خطرناک حملوں کو ’امن کی کوشش‘قرار دیا۔اگر حملوں کی یہ رفتار جاری رہی، تو اگست 2025 تک ٹرمپ بائیڈن کے چار سالہ ہدف سے تجاوز کر جائیں گے۔

دوسری جانب سویڈش جریدے ’انٹرناشنالن‘ میں سویڈن کے معروف تاریخ دان ہوکن بلوم کوست اور ایلکس فیونتس کے ایک مشترکہ مضمون میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1776 میں بطور ریاست اپنے قیام سے اب تک، امریکہ دوسرے ممالک پر 400 مرتبہ حملے، فوجی مداخلت یا یلغار کر چکا ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق، آدھے سے زیادہ حملے دوسری عالمی جنگ کے بعد جبکہ 25 فیصد حملے سوویت یونین کے انہدام کے بعد ہوئے۔ یاد رہے، ان اعداد و شمار میں وہ امریکی مداخلتیں شامل نہیں جو سی آئی اے نے خفیہ طور پر کیں۔امریکہ نے گیارہ مرتبہ سرکاری طور پر اعلان جنگ کیا۔