← Back to Newsroom OS پاکستان

انتفادۂ جموں کشمیر کنونشن: راولاکوٹ میں فلسطین اور جموں کشمیر کی آزادی کے حق میں طلبہ کاررواں

By جدوجہد • 2025-09-21 • 11 min read

راولاکوٹ(نامہ نگار) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(جے کے این ایس ایف) کے 22ویں مرکزی انتفادہ ٔجموں کشمیر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ فلسطین پر سامراجی قبضہ ختم کیا جائے اور فلسطین کی سرزمین پر فلسطینیوں کو حق آزادی دیا جائے، اسرائیلی ریاست کا خاتمہ کیا جائے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت ، فلسطینیوں کی منظم نسل کشی میں مشرق وسطیٰ میں امریکی سامراج کے پولیس مین کا کردار ادا کرنے والی اسرائیلی ریاست اوردنیا بھر کے تمام حکمران طبقات ملوث ہیں۔

جموں کشمیر سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء کرتے ہوئے مسئلہ جموں کشمیر سے منسلک خطوں میں مقامی باشندگان کو حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی دیا جائے۔معاہدہ کراچی اورایکٹ 74ء کا خاتمہ کرکے جموں کشمیر و گلگت بلتستان کے عوام کو آئین ساز حکومتوں کے قیام کا حق دیا جائے، اور ان خطوں میں موجود ہر طرح کے وسائل پر عوامی ملکیت کو تسلیم کیا جائے۔
پاکستان میں جاری ہونے والے حالیہ صدارتی آرڈینینس کو واپس لیتے ہوئے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کی جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں رسائی کے فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ جموں کشمیر میں بیرونی فورسز منگوانے اور رینجرز کے قیام جیسے تمام فیصلے واپس لیے جائیں۔ بیرونی فورسز کے ذریعے شہریوں کو فتح کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

یہ کنونشن صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں منعقد کیا گیا۔ کنونشن سے قبل فلسطین اور جموں کشمیر پر سے سامراجی قبضے کے خاتمے کے حق میں ’سٹوڈنٹس کاررواں‘ کے عنوان سے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں نوجوانوں، طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

کنونشن سے نومنتخب صدر بدر رفیق، انٹرنیشنل سیکرٹری پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین (پی ٹی یو ڈی سی)عمران کامیانہ ، چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان، مرکزی رہنما پی آر ایف پروفیسر (ر) ساجد نعیم شوریدہ، مرکزی آرگنائزر ایل آر ایم و سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان الیاس خان ایڈووکیٹ، سابق ناظم مالاکنڈ خیبرپختونخوا غفران احد ایڈووکیٹ، ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی راشد نعیم، چیئرمین بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جیئند بلوچ، ممبر عوامی ایکشن کمیٹی سدھنوتی سردار شمشیر ایڈووکیٹ، مرکزی آرگنائزر آر ایس ایف اویس قرنی، مرکزی رہنما پی آر ایف و ممبر عوامی ایکشن کمیٹی سدھنوتی ابرار حسین خان، آرگنائزر آر ایس ایف گلگت بلتستان اسلام الدین شفیق، سیکرٹری مالیات پی آر ایف تنویر انور، نومنتخب چیئرپرسن شعبہ نشرواشاعت صائمہ بتول، چیف آرگنائزر احسان ذاکر، چیئرپرسن شعبہ سٹڈی سرکل علیزہ اسلم، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجیب اکبر، مرکزی رہنما پی آر ایف زاہد خان، سٹی صدر این ایس ایف مظفرآباد عدیل مغل، نومنتخب ترجمان مجیب خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

کنونشن کے دوران سابق مرکزی صدر خلیل بابر نے اپنے مختصر خطاب کے بعد نئی کابینہ کا اعلان کیا اور اراکین کابینہ سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔ کنونشن کے دوران لاہور سے آئے گلوکار فرخ امتیاز نے اپنا لکھا اور گایا ہوا انقلابی ترانہ پیش کیا، اس کے علاوہ مریم حارث او اویس احمد رفیق نے بھی انقلابی ترانے پیش کیے۔ کنونشن کے پہلے حصے میں نظامت کے فرائض نومنتخب سینئر نائب صدر ڈاکٹر سعد الحسن نے سرانجام دیے، جبکہ دوسرے حصے میں نظامت کے فرائض نومنتخب سیکرٹری جنرل ارسلان شانی نے سرانجام دیئے۔ کنونشن کے اختتام پر بینش کاظم نے قراردادیں پیش کیں، جنہیں کنونشن کے تمام شرکاء نے متفقہ طو رپر منظور کیا۔

قراردادوں میں کہا گیا کہ یہ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ غزہ پر بمباری بندی کی جائے اور غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر انسانی امداد پہنچانے کے لیے دنیا بھر کے انقلابی ساتھیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو بغیر کسی رکاوٹ کے غزہ پہنچنے دیا جائے۔ کسی بھی جارحیت اور رکاوٹ کی صورت یہ کنونشن دنیا بھر میں اعلان کردہ احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ تعلیم کے کاروبار پر پابندی عائد کی جائے، تمام نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے یکساں نظام تعلیم اور جدید سائنسی نصاب تعلیم رائج کر کے ہر سطح پر تعلیم کی مفت فراہمی یقینی بنائی جائے۔ طلبہ یونین پر عائد پابندی کو فی الفور ختم کرتے ہوئے طلبہ یونین کے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے۔تمام محنت کشوں کو ہر سطح پر یونین سازی کا حق دیا جائے۔

تعلیمی اداروں میں سرکاری ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ سمیت تمام بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں۔ سمسٹر سسٹم کا خاتمہ کیا جائے، اورطلباء و طالبات کی نمائندگی پر مشتمل اینٹی ہراسانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ علی وزیر، ماہ رنگ بلوچ، یاسین ملک سمیت جموں کشمیر، گلگت بلتستان ، بلوچستان، پختونخوا ، سندھ اور پنجاب کی جیلوں میں قید تمام سیاسی کارکنان کو رہا کیا جائے اور تحریکوں کے نتیجے میں قائم کیے گئے بے بنیاد سیاسی مقدمات کا خاتمہ کیا جائے۔ سیز فائر لائن پر جنگ و امن کا کھیل بند کرتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ کی بنیاد پر آر پار سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔

تمام بیروزگار افراد کو رجسٹر کرکے ریاستی سطح پر روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے بصورت دیگر بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت75ہزار روپے مقرر کی جائے، عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے اور چائلڈ لیبر پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ملازم دشمن پالیسیاں ترک کر کے ہر ادارے میں ٹریڈ یونین کا حق دیا جائے۔ صنفی تفریق کا خاتمہ کرتے ہوئے خواتین کو ہر سطح پر آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔ صحت کے کاروبار پر پابندی عائد کرتے ہوئے ریاستی سطح پر جدید سائنسی علاج کو مفت فراہم کیا جائے۔ جنگلات کی کٹائی پر پابندی سمیت دیگرماحولیاتی بحران کا موجب بننے والے تمام نجی و سامراجی منصوبہ جات پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ماحول دوست اقدامات اٹھائے جائیں۔

روڈ انفراسٹرکچر سمیت دیگر سہولیات فراہم کرتے ہوئے مقامی آبادیوں اور حکومتی اشتراک سے سیاحتی انڈسٹری کو تعمیر کیا جائے۔ یہ کنونشن اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ طلبہ، نوجوانوں و محنت کشوں کو انقلابی سوشلزم کے نظریات سے لیس کرتے ہوئے متبادل سیاسی اور انقلابی قیادت کی تعمیر کا فریضہ سرانجام دیا جائے گا۔مسئلہ جموں کشمیر سے جڑی تمام محکوم قومیتوں کے غیر مشروط حق خود ارادیت کے حصول اور رضاکارانہ خودمختارسوشلسٹ فیڈریشن آف جموں کشمیر کے قیام کے لیے جدوجہد حتمی فتح تک جاری رکھی جائے گی۔ دنیا بھر کے انقلابی نوجوانوں و محنت کشوں کے ساتھ ملکر عالمی امن اور سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کو تیزکیا جائے گا۔