← Back to Newsroom OS ادارتی

اندھیرے کے حصار میں سویرے کی پکار!

By جدوجہد • 2026-02-03 • 16 min read

اداریہ جدوجہد 

ذیل میں ہم مارکسی جریدے طبقاتی جدوجہد کا تازہ اداریہ شائع کر رہے ہیں۔

 کیلنڈر پہ دنوں، مہینوں اور سالوں کی تبدیلی وقت کے مسلسل بہاؤ کا پتا دیتی ہے۔ ارتقا، تغیر، حرکت کے بغیر مادے کا تصور محال ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ یہ کائنات، زمین اور اس پہ موجود انسان اور انسانی سماج مادے سے ہی ماخوذ ہیں۔ لہٰذا حیاتیاتی اور معاشرتی ارتقا سے انکار مادے اور مادی کائنات کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔ یا عام فہم انداز میں بات کریں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی انسان کشش ثقل، علت و معلول، زندگی اور موت، دن اور رات کے وجود سے انکاری ہو جائے۔ لیکن انسان اور انسانی سماج سے جڑے ارتقائی عوامل چونکہ لمبے عرصوں پر محیط ہوتے ہیں‘ لہٰذا دنیا و کائنات کے دوسرے بے شمار کلیدی مظاہر اور بنیادی ترین حقیقتوں کی طرح فوری مشاہدہ یا نام نہاد ’کامن سینس‘ ان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس معاملے میں انسانوں کے عقائد و نظریات بھی آڑے آ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے گروہی یا طبقاتی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک ناقص یا ادھورے انداز میں ہی سہی لیکن انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو تسلیم کرنے اور سینکڑوں سالوں سے موضوعِ تحقیق بنانے والی بورژوا یا لبرل سائنسی سوچ بھی سماجی ارتقا کے معاملے میں ڈنڈی مار جاتی ہے۔ معاشرتی ارتقا کا عمل، جسے سرمایہ داری نے بین الاقوامی و عالمی سطح پر بڑی حد تک مربوط کر دیا ہے، طویل وقتوں تک ایک غیر محسوس انداز سے جاری رہ سکتا ہے۔ یہ دورانئے انسانوں کی انفرادی زندگیوں سے کہیں طویل ہو سکتے ہیں۔ بظاہر کچھ تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یا جیسا کہ تشکیک پرستوں کا عام شکوہ ہوتا ہے کہ بہت کچھ تبدیل ہونے کے باوجود سب کچھ پہلے جیسا ہی تو ہے! اگرچہ عمیق تجزئیے سے نہ صرف غیر محسوس یا معمولی تبدیلیوں بلکہ آنے والے دنوں میں ان کے واضح اور غیر معمولی مضمرات کا ادراک بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مارکسزم بنیادی طور پر تبدیلی کے اسی عمل کو جانچنے، سمجھنے اور نسل انسان کی وسیع اکثریت کے مفادات میں ڈھالنے کی سائنس ہے۔

لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ کسی مادی حقیقت کا انکار چاہے ساری دنیا کر دے‘ وہ تبدیل نہیں ہوتی۔ میڈیکل سائنس ایسے انسان کے لئے بھی کام کرتی ہے جو سائنس کی بنیادی سمجھ بوجھ سے عاری یا انکاری ہوتا ہے۔ معروضی دنیا کے وجود کے منکر موضوعی عینیت پرستوں کو بھی سڑک پار کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنا پڑتا ہے۔ بالکل جیسے چرچ کے عتاب کے شکار گلیلیو گلیلی سے منسوب مشہور زمانہ الفاظ ہیں کہ میں اپنے موقف سے دستبردار ہو جاتا ہوں‘ لیکن پھر بھی زمین گھومتی تو ہے۔ تاریخ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسانی سماج کی رگ و پے میں جاری تاریخی عوامل ایک مخصوص نہج پہ پہنچ کے اپنا اظہار کر کے ہی رہتے ہیں۔ اور لمبے عرصے سے چلی آ رہی مقداری تبدیلیوں کا معیاری اظہار بعض اوقات اس قدر ’اچانک‘ اور دھماکہ خیز ہوتا ہے کہ (میکانکی) منطق پر چلنے والے بڑے بڑے معاشی، سماجی و سیاسی ماہرین کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، اعصاب شل ہو جاتے ہیں اور کوئی معقول ردِ عمل دینے کی صلاحیت مفتود ہو جاتی ہے۔ لیون ٹراٹسکی کے الفاظ میں حالات و واقعات لوگوں کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایسے میں پھر سماجی تضادات پر مبنی تاریخ کے طویل مدتی عمل کو نہ سمجھ پانے والے دماغ ہر قسم کے سازشی نظریات، قومی و لسانی تعصبات، ’’حادثات‘‘ یا بڑی شخصیات کے سیاق و سباق سے ماورا فیصلوں یا حرکتوں وغیرہ کے ذریعے واقعات کی روش کو بیان کرنے کی بیہودہ کوششیں کرتے ہیں۔ دنیا کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو ہم 2026ء میں ایسی ہی کیفیت کیساتھ داخل ہو رہے ہیں۔

عالمی سرمایہ داری یوں تو طویل عرصے سے ایک عمومی زوال سے دوچار ہے‘ جس میں پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائی خاصے گہرے بحران پر مبنی رہی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کے بعد جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہے وہ بیشتر حوالوں سے اس نظام کی تاریخ میں بے نظیر و بے مثال ہے۔ اِس شمارے میں عالمی حالات اور اہم واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ لیکن یہاں کچھ غور طلب نکات کا تذکرہ ضروری ہے۔

یہ دراصل کسی ایک فرد یا چند افراد کا معاملہ نہیں بلکہ سامراجی سرمایہ داری کے سنجیدہ ’بریک ڈاؤن‘ کا غماز مظہر ہے۔ جس کا اظہار فی الوقت ٹرمپ کی شخصیت میں ہو رہا ہے۔ لیکن یہ ایک طویل مدتی سماجی و معاشی عمل کا منطقی نتیجہ ہے۔ ایک ایسا عمل جو امریکہ کے اندر ہی نہیں باہر بھی جاری ہے۔ ٹرمپ اور اس کے ٹولے کو سیاسی یا جسمانی طور پر ٹھکانے لگا دینے کی کسی انتہائی صورت میں بھی یہ عمل وقتی تعطل کا شکار ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر ایسی کوئی (کامیاب یا ناکام) کوشش مزید غیر متوقع اور دھماکہ خیز مضمرات کی حامل بھی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ ٹرمپ ہر صورت اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا ہے۔ چاہے اس کے لئے اسے امریکی جمہوریت کی طویل روایات اور آئین و قانون کو کتنے ہی برے طریقے سے روندنا پڑے۔ اس کے ان آمرانہ عزائم کا ادراک وقت کے ساتھ امریکی آبادی کے زیادہ سے زیادہ حصے کو ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اندر اور باہر اس کے جارحانہ اقدامات میں بھی شدت آ رہی ہے۔ بیرونی سیاست یا سفارتکاری آخر کار داخلی پالیسیوں کاہی تسلسل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ امریکی سامراج کی اجارہ دارانہ سامراجی حیثیت کی بحالی، چین اور روس کے ساتھ امریکی مفادات میں دنیا کی بندر بانٹ اور نجی طور پر اپنے بدعنوان مالیاتی مقاصد کے حوالے سے وہ شاید زیادہ ابہام کا شکار نہ ہو۔ لیکن ان مقاصد کے حصول کے حوالے سے اس کے پاس کوئی ٹھوس، دوررس اور واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔ بلکہ اگر غور کریں تو ٹرمپ نے اپنی بدتمیزی، ڈھٹائی اور بدعنوانی کو ساتھ جوڑ کے اس ابہام کو ہی ایک باقاعدہ پالیسی کا درجہ دے دیا ہے۔ جس کے کلیدی ستونوں میں مسلسل اشتعال انگیزی، یوٹرن، بدمعاشی اور ایک تنازعے کو سامنے لا کے کسی دوسری واردات کو پس پردہ لے جانا شامل ہیں۔ یہ عالمی سطح پر ایک مکمل انتشار، افراتفری، سفارتی تعطل، ماحولیاتی تباہی، مزید جنگوں اور تنازعات اور اسلحے کی ایک نئی دوڑ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ تباہ کن حالات ہماری نظروں کے سامنے جنم لیتے جا رہے ہیں۔ جن کی نزاکت کا اندازہ ہر انقلابی کو ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد پچھلے ایک سال کے دوران عالمی منظر نامے میں جو انتہائی رجعتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں یا منفی مثالیں قائم ہوئی ہیں‘ امریکہ کے اندر اور باہر کسی بڑے انقلابی یا مزاحمتی تحرک کے بغیر ان میں سے بیشتر مستقل یا ناقابل واپسی نوعیت کی ہیں۔

ان حالات کا جائزہ پاکستان کے تناظر میں بھی لینے کی ضرورت ہے۔ مغربی سامراجی اتحاد میں دراڑیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ گرین لینڈ اور کینیڈا پر قبضہ کرنے کی ٹرمپ کی دھمکیوں اور مسلسل پیسے مانگنے اور طعنے دینے کے عمومی رویے کو لے کر یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا وغیرہ جیسے نیٹو اراکین اور روایتی امریکی اتحادی شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور عسکری حوالے سے اپنی بقا کی جدوجہد میں الجھتے جا رہے ہیں (بلکہ اب تو چین کی طرف جھکاؤ کے اشارے دے کر ٹرمپ کو جوابی بلیک میل کی کوشش بھی کر رہے ہیں)۔ اسی طرح ماضی کے برعکس بھارت کی طرف ٹرمپ کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز اور ترش رہا ہے۔ 8 مئی 2025ء کے بعد کم از کم درجن بار وہ بالواسطہ طور پر بھارت کو کئی قیمتی جنگی جہاز پاکستان کے ہاتھوں گنوانے کا طعنہ دے چکا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی طرف اس کا رویہ انتہائی ’دوستانہ‘ ہے اور وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا۔ اس دلچسپ صورتحال کے کئی سفارتی و مالیاتی پہلو ہیں۔ جن میں بھارت کی جانب سے روس کے تیل کی خریداری، ایران میں سرمایہ کاری، 8 مئی کی جنگ کو رکوانے میں ٹرمپ کے کردار سے انکار اور پھر پاکستانی ریاست کی جانب سے ٹرمپ کو قیمتی معدنیات اور کرپٹو کرنسی کے ’’معاملات‘‘ کا لالچ، افغانستان کی طرف پالیسی شفٹ اور موصوف کو مدح سرائی کی انتہاؤں پہ جا کے امن کے نوبل انعام تک کے لئے نامزد کر دینا وغیرہ شامل ہیں۔ ٹرمپ جس قبیل کے حکمرانوں سے تعلق رکھتا ہے ان کے لئے سفارتی معاملات میں ذاتی پسند‘ ناپسند اور نجی دولت کا لالچ بھی فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کی ’گڈ بکس‘ میں پاکستان کی شمولیت کو 8-10 مئی کے تصادم کے نتائج کے ساتھ جوڑ کے دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ گزشتہ عرصے میں عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور اثر و رسوخ میں خاصی بہتری آئی ہے۔ اسی تناظر میں ایک کے بعد دوسرے ملک کے ساتھ جے ایف 17 جنگی طیاروں اور دوسرے قیمتی عسکری ساز و سامان کے معاہدوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ درحقیقت پاکستانی ریاست سنجیدگی سے اسلحے کی فروخت کو زرِ مبادلہ کا شگاف (Gap) بھرنے کے مستقل ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ داخلی سطح پر بھی طویل عرصے کی غیر یقینی کے بعد کم از کم سرکاری معیارات کے مطابق معاشی و سیاسی طور پر کچھ استحکام کا تاثر موجود ہے۔ اس حوالے سے ریاست کے لئے ایک وجودی خطرہ بن جانے والے عمران خان پراجیکٹ کو رول بیک کرنے اور اس سے جڑے دیگر عوامل و مضمرات (بے لگام عدلیہ، ڈیپ سٹیٹ میں موجود خود سر عناصر، ٹی ایل پی جیسے رجحانات، ٹی ٹی پی کی طرف نرم پالیسی، دھرنے، لانگ مارچ اور مسلسل سیاسی افراتفری، آئی ایم ایف اور اہم ممالک کے ساتھ مسائل وغیرہ) پر قابو پانے میں مکمل نہیں تو خاطر خواہ کامیابی ایک اہم عنصر ہے (یہ الگ سوال ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کا مکمل خاتمہ مقصود ہے یا نہیں)۔ نتیجتاً سیاسی افراتفری کچھ کم ہوئی ہے، میکرواکنامک اشاریوں میں جزوی بہتری آئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی قدر بحال ہوا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک بڑی گراوٹ کے اندر وقتی ٹھہراؤ ہے جس سے استحکام کا تاثر ملتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ معیشت کا گروتھ ریٹ اب بھی عملاً منفی میں ہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب وجودی خطرات کو ٹالنے اور مسلسل بگڑتے ہوئے حالات کو قابو میں لانے کے لئے کسی (نئے) حکومتی سیٹ اپ کو سخت یا بعض صورتوں میں کچھ غیر معمولی اقدامات کرنے پڑے۔ تاہم پچھلے عرصے کے اقدامات کو فیلڈ مارشل کے عہدے کے اجرا اور معیاد سے ملا کے دیکھیں تو موجودہ سیٹ اپ کو طویل عرصے تک چلانے کی منصوبہ بندی کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک مطلق العنان ہائبرڈ نظام حکومت کو ہی ایک نئے انداز سے چلانے کی پالیسی ہے۔ اس ملک کے سنجیدہ پالیسی ساز شاید یہ حتمی نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ اس نظام کو اسی طرح سے چلایا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستانی سرمایہ داری کے تضادات جتنے گہرے اور شدید ہیں‘ اس کے پیش نظر استحکام کے ایسے وقتوں یا وقفوں کا توازن بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ بالخصوص عالمی سطح پر سرمایہ داری کی ٹوٹ پھوٹ اور بنتے بگڑتے بین الاقوامی اتحادوں کے ایسے غیر معمولی حالات میں جن کا مختصر جائزہ ہم نے اوپر لیا ہے۔ مزید برآں نسبتاً بلند معاشی نمو کے عرصے سماجی تضادات کو پھاڑ کے محنت کشوں کی تحریکوں کو بھی ابھار سکتے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج منڈی کی معیشت اپنے تاریخی مراکز میں بھی ناکام و نامراد ہے اور سیاسی، سفارتی و سماجی بھونچال معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں اس نظام کے پاکستان جیسے تاریخی طور پر پسماندہ اور تاخیر زدہ نوآبادیاتی ’’آف شوٹس‘‘ (ذیلی شاخوں) میں مصنوعی طور پر جتنا بھی سیاسی و میکر و اکنامک ’استحکام‘پیدا کر لیا جائے‘ کوئی دوررس، دیرپا، ٹھوس اور گہری ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ یہ تاخیرزدہ سرمایہ داری اپنے بہترین ادوار میں بھی یہاں نہ کوئی سیکولر‘ جمہوری معاشرہ تعمیر کر سکتی ہے‘ نہ قومی سوال کو حل کر سکتی ہے۔ نہ ہی اس کے پاس اتنے وسائل ہیں جن سے ایک طویل مدتی معاشی نمو کے لئے درکار سماجی و مادی انفراسٹرکچر تعمیر ہو سکے اور کروڑوں محنت کشوں کی زندگی میں واقعی کوئی قابل ذکر اور واضح سہولت آ سکے۔ یہ نظام اپنی ہر شکل میں ظلمت ہے۔ جس نے مشرق سے مغرب تک نسل انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ لیکن اسی تاریکی میں ایک کے بعد دوسرے ملک میں محنت کشوں اور طلبہ کی بغاوتوں کی شکل میں امید کی کرنیں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔ یہیں شورشیں‘ یہی احتجاج اور یہی انکار ایک انقلابی قیادت کے تحت مجتمع اور مربوط ہو کے اندھیرے کے اس حصار میں سویرے کی پکار بنیں گے۔