← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

انقلاب روس میں خواتین کا کردار اور 8 مارچ کے تقاضے

By جدوجہد • 2025-03-08 • 8 min read

لبیبہ ذاکر

ہر سال 8مارچ کو محنت کش خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ انسانی سماج کی ترقی میں عورت کے کردار کو ہمیشہ پست کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا بھر کے بڑے انقلابات سمیت عورت کی نجات اور حقوق کی جدوجہد میں خواتین کی جدوجہد کی ایک درخشاں تاریخ ہے۔ یہ سماج کی وہ پرت ہے جس نے ہر سطح پر سامنے آنے اور خود کو منوانے کی سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔ گھر سے شہر، شہر سے دیس اور دیس در دیس یہ کوشش اور مشقت چلتی رہی،یہاں تک کہ اس نے عالمی سطح پر گردانے جانے تک کی منزل کو بھی سر کر لیا۔

انقلاب روس جدید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب ہے۔اس کے نتیجے میں سوویت یونین کا وجود عمل میں آیا اور روس کی مونارکی سے آلودہ گلیوں نے سوشلزم کا سورج چڑھتے دیکھا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس کے زار نکلوس دوم جیسے جابر اور خود سر حکمرانوں کے سر نیچے ہوئے اور تاریخ نے ایک ایسی مثال قائم کی جس کی روشنی میں سوشلزم آج بھی زندہ ہے۔ یہ انقلاب روس کے محنت کش طبقے کی سامراج کے خلاف ایک بہت بڑی، منظم اور پرعزم تحریک تھی جس میں خواتین کا کردار انتہائی اہم تھا۔

خواتین کے کردار کو متعدد مصنفین نے قلمبند کیا بالخصوص James Mc Dermid اورAnna Hilyaکی لکھی گئی کتاب”Midwives of the Revolution“میں خواتین کی بے لوث جدوجہد اور انقلاب کے لیے خدمات کو تفصیلاً تحریر کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کردارکی کڑی 1905 کے انقلاب سے بھی جا ملتی ہے،جب روس میں باظابطہ طور پر حقوق نسواں کی تحریک (فیمن اسٹ موومنٹ)کا آغاز ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران جرمنی کی کلارا زیٹکن نے محنت کش عورتوں کے حقوق کی ناصرف بات کی بلکہ مختلف جلسہ گاہوں میں اس حقیقت کو سرعام اپنی تقریروں میں دہرایا بھی۔ اسی پیغام کو روس میں موجود خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے منظم انداز میں ملک کے مختلف حصوں میں اور جہاں بھی لوگ سامراج کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت رکھتے تھے وہاں پہنچایا۔اسی پیغام کے نتیجے میں فیکٹریوں میں کام کرنے والی بے شمار محنت کش خواتین نے نا صرف پہلی عالمی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ انقلاب روس کے قائدولادی میر لینن کی بہنوں کے ساتھ مل کر اس کی مخالفت میں اقدامات بھی کیے۔ اس کے برعکس بورژوا خواتین نمائندگان کی بڑی تعداد اس جنگ کے حق میں تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپریل 1917 میں جنگی سپاہیوں کی بیویاں احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئیں، جن کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں ’ریڈ سسٹرز‘کے نام سے جنگ کے دوران طبی امداد کی کارروائیاں بھی اپنے ذمے لیتے ہوئے بھرپور طور پر نبھائیں۔

امریکہ، روس، یورپ سمیت دنیا بھر میں محنت کش خواتین کی لہو رنگ جدوجہد کی تجدید اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے ہر سال 8مارچ کو محنت کش خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ممالک میں اس دن کو منانے کی اپنی تاریخ رہی ہے۔ خواتین کو بنیادی حقوق فراہم کرنے اور معاشرے میں ان کو برابری کے ایک انسان کی حیثیت دلانے کے لیے جدوجہد کا یہ سفر دہائیوں سے جاری ہے۔ تاہم حکمران طبقات کی جانب سے بھی اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کے نتیجے میں محنت کش خواتین کے عالمی دن پر لبرل فیمن ازم کی قلعی چڑھتی جا رہی ہے۔ حقوق نسواں کی جدوجہد کو سوشلسٹ نظریات سے ہم آہنگ کرنے اور پدرشاہی سماج کی غلاظتوں کے خلاف حقوق نسواں کی تحریک کو اس نظام کے خاتمے کی جدوجہد کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے کاوشوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 8 مارچ کا دن خواتین کی بے باک کوششوں، ہمتوں، ارادوں اور بے لوث قربانیوں کو ناصرف یاد کرنے کا دن ہے،بلکہ اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے حقیقی کوششوں کا تقاضہ بھی کرتا ہے کہ محنت کش خواتین محنت کش مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہدکرتے ہوئے ایک حقیقی انسانی سماج کے قیام کی بنیادرکھ سکیں۔

Labeebah Zaker