← Back to Newsroom OS ٹیکنالوجی

انٹرنیٹ بندش کا 15 واں دن، ہڑتال کا دوسرا ہفتہ، خواتین کی شمولیت، گرفتاریاں

By جدوجہد • 2026-06-19 • 10 min read

مجیب اکبر

جموں کشمیر میں جاری شٹر ڈاون اور عام ہڑتال دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ تحریک کے مرکز راولا کوٹ کی جانب جانے والے چاروں رستوں پر پر امن دھرنے جاری ہیں۔ اسی طرح، 5 جون سے پوری ریاست جموں کشمیر میں نہ صرف انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے بلکہ موبائل فون کی سروس بھی بہت محدود ہے۔

سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ سکولوں اور دفتروں میں حاضری مفقود ہے۔ گو انتظامیہ نے مختلف شہروں اور قصبوں میں زبردستی بازار کھلوانے کی کوششیں کی ہیں مگر دارلحکومت مظفر آباد سمیت بازار بند ہیں۔ معمول کی زندگی بالکل مفلوج ہے۔

موجودہ کشیدگی کا آغاز راولا کوٹ سے ہوا جہاں لانگ مارچ سے تین دن قبل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما عمر نزیر پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ زخمی ہو گئے البتہ ان کے ساتھی شاہزیب جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعی کے خلاف راولا کوٹ میں دھرنا دیا گیا ۔اس دھرنے پر سیکیورٹی فورسز نے حملہ کر دیا اور مزید ،کم از کم، 13 جانیں چلی گئیں۔

9 جون کو بھمبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کوٹلی پہنچا تو وہاں اس لانگ مارچ پر سیکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ دریں اثنا ء، راولا کوٹ میں کرفیو نافذ ہے۔ لانگ مارچ نے راولا کوٹ پہنچ کر دھرنے کا آغاز کر دیا۔ اس دھرنے پر بھی سیکیورٹی فورسز نے حملہ کیا جس میں کم از کم تین افراد جاں بحق ہوئے۔ یوں کم از کم بیس کے لگ بھگ افراد ان مظاہروں کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق، ہلاک شدگان کی تعداد تیس کے لگ بھگ ہے مگر انٹرنیٹ کی بندش اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے تصدیق مشکل ہو رہی ہے۔

جموں کشمیر کی راشن بندی،محاصرے ، ناکہ بندی

گذشتہ کم از کم چار دن سے پاکستان کے راستے آنے والے خوراک و ادوایات کے ٹرکوں کو پولیس کی جانب سے روکا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں خوراک بلکہ ادویات کا بحران بھی پیدا ہو رہا ہے۔گذشتہ روز ،سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے میں آئیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آزاد پتن کے راستے آنے والی ایسی نجی گاڑیوں کو بھی روکا گیا جن میں کسی قسم کی خوراک کا سامان تھا۔ اس ناکہ بندی اور محاصرے کی وجہ سے ریاست بھر میں،اشیائے خورد و نوش اور ادوایات کی قیمتوں کے علاوہ پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے۔ اسی طرح، کارکنوں اور رضا کاروں کو راولا کوٹ دھرنے کے لئے کھانا فراہم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

خواتین کی شمولیت و گرفتاریاں

تحریک نے گذشتہ چند دنوں سے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ایک طرف تو ریاست کے مختلف حصوں میں دھرنے شروع ہو گئے ہیں ،دوسرے جانب، خواتین بھی تحریک میں شامل ہو گئی ہیں۔ ریاست کے مختلف قصبوں اور شہروں میں خواتین نے بچوں سمیت جلوس نکالے ۔ اس عمل کا آغاز راولا کوٹ دھرنے میں خواتین کی شمولیت سے ہوا۔ اسی دوران، خواتین کی گرفتاریوں کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔

15 جون کو دارلحکومت مظفر آباد سے کم از کم دو درجن خواتین کو بچوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق،ان خواتین پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف نعرے بلند کئے۔

سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی آئیں کہ راولا کوٹ سے مظاہرے کرنے کے الزام میں بائیں بازو کی جماعت، جے کے پی این پی کی آٹھ خواتین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم آزادانہ زرائع سے اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یورپ ،امریکہ میں یکجہتی مظاہرے

جموں کشمیر میں جاری لانگ مارچ سے یکجہتی ور ریاست میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف گزشتہ اتوار کو برطانیہ میں مقیم ریاستی باشندوں نے مظاہرہ کیا جس میں کم از کم 10 ہزار افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف سے تعلق رکھنے والے ، برطانیہ میں مقیم ، جموں کشمیر کے باشندوں نے شرکت کی ۔ برطانیہ میں مقیم ریاستی باشندوں کی جانب سے یہ تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت پورے برطانیہ سے لوگوں نے شرکت کی۔یہ مظاہرہ ٹریفلگر اسکوائر سے شروع ہو کر برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے ختم ہوا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی صورتحال متعدد بار زیر بحث آ چکی ہے۔ ساٹھ سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ جموں کشمیر کی عوامی تحریک سے اظہار یکجہتی اور وہاں ریاستی جبر کی مذمت کر چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے روز، برطانیہ کے ہی دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں بھی ایک بڑا مظاہرہ ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔اس سے قبل، لندن میں قائم پاکستانی سفارت خانے کے باہر بھی جموں کشمیر میں جاری ریاستی جبر اور لانگ مارچ سے پہلے اور لانگ مارچ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف ،برطانیہ میں مقیم جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی نے مظاہرہ منعقد کیا۔برطانیہ کے دیگر شہروں میں پاکستانی قونصل خانوں کے باہر بھی اسی نوعیت کے مظاہرے منعقد ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے علاوہ، بلجئیم، اٹلی،سپین، امریکہ کے مختلف شہروں، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت بعض دیگر ممالک میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن مظاہرے کر چکے ہیں۔

Mujeeb Akbar