← Back to Newsroom OS خبریں

اپنی جنگ رہے گی

By جدوجہد • 2024-10-31 • 6 min read

حبیب جالب

جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
مغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہے
لیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہے
مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
ظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گے
محلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گے
کٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی
جان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کی
دست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کی
ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیں
اپنی جنگ رہے گی