← Back to Newsroom OS تعلیم

اکتوبر سے پہلے کسان

By جدوجہد • 2025-08-22 • 71 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

تہذیب نے کسانوں کو اپنا باربردار جانور بنایا ہے۔ لمبے عرصے میں بورژوازی نے صرف بار کی شکل ہی تبدیل کی ہے۔ قومی زندگی کی دہلیز پر بمشکل برداشت کیا جانے والا کسان بنیادی طور پر سائنس کی دہلیز سے باہر کھڑا ہوتا ہے۔ تاریخ دان عام طور پر اُس میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی ایک ڈرامائی ناقد اُن نامعلوم لوگوں میں جو [سٹیج کے پیچھے] زمین و آسمان کو اپنی پشتوں پر اٹھا کر منظر تبدیل کرتے ہیں اور اداکاروں کے ڈریسنگ روم صاف کرتے ہیں۔ ماضی کے انقلابات میں کسانوں کا ادا کردہ کردار آج تک بمشکل ہی واضح ہوا ہے۔
کارل مارکس نے 1848ء میں لکھا تھا، ’’فرانسیسی بورژوازی نے کسانوں کو آزاد کرتے ہوئے شروعات کی تھی۔ کسانوں کی مدد سے اُنہوں نے یورپ فتح کیا۔ لیکن پروشیائی بورژوازی کو اُس کے محدود اور فوری مفادات نے اِس قدر اندھا کر رکھا تھا کہ اُس نے اپنا یہ اتحادی بھی گنوا دیا اور اِسے جاگیردارانہ ردِ انقلاب کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار بنا دیا۔‘‘ اِس موازنے میں جو کچھ جرمن بورژوازی کے بارے میں کہا گیا ہے وہ درست ہے؛ لیکن یہ دعویٰ کہ ’’فرانسیسی بورژوازی نے کسانوں کو آزاد کرتے ہوئے شروعات کی تھی‘‘ اُس سرکاری فرانسیسی داستان کی بازگشت ہے جو اپنے وقت میں مارکس تک پر اثرانداز ہوئی۔ درحقیقت بورژوازی نے حقیقی معنوں میں اپنی پوری قوت سے کسان انقلاب کی مخالفت کی تھی۔ حتیٰ کہ 1789ء کی دیہی ہدایات میں سے تھرڈ اسٹیٹ [۱] کے مقامی رہنماؤں نے تدوین کی آڑ میں سب سے تیز دھار اور جرات مندانہ مطالبات کو نکال باہر کیا تھا۔ دیہات میں بھڑکتے شعلوں کے بیچوں بیچ 4 اگست کو قومی اسمبلی کی جانب سے اپنایا گیا مشہور فیصلہ [۲] لمبے عرصے تک کسی مافیہ سے عاری قابل رحم کلیہ رہا۔ اِس فریب کاری سے مصالحت نہ کرنے والے کسانوں کو آئین ساز اسمبلی نے ’’اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف واپسی اور جاگیردارانہ جائیداد کا باقاعدہ احترام کرنے‘‘ کا حکم جاری کیا تھا۔ شہری محافظوں (Civil Guard) نے ایک سے زیادہ بار ملک میں کسانوں کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بغاوت کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہوئے شہری مزدوروں نے بورژوا تعزیری مہمات کا جواب پتھروں اور اینٹوں سے دیا۔
پانچ سال کے دوران انقلاب کے ہر نازک مرحلے پر فرانسیسی کسانوں نے ابھرکر جاگیردار اور بورژوا مالکان کے درمیان معاہدے کا راستہ روکا۔ جمہوریہ کے لئے خون دینے والے پیرس کے نچلے طبقات نے کسان کو اُس کی جاگیردارانہ زنجیروں سے آزاد کروایا۔ 1918ء کی جرمن جمہوریہ اور 1931 ء کی ہسپانوی جمہوریہ، جن کا مطلب صرف بادشاہت کے بغیر پرانا نظام ہی تھا، کے برعکس 1792ء کی فرانسیسی جمہوریہ ایک نئے نظام کی علامت تھی۔ اِس فرق کی تہہ میں زرعی مسئلہ تلاش کرنا مشکل نہیں ہے۔
فرانس کا کسان براہ راست طور پر ایک جمہوریہ کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا؛ وہ زمیندار سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ پیرس کے جمہوریت پسند عام طور پر دیہات کو بالکل فراموش کر دیتے تھے۔ لیکن یہ زمیندار پر کسان کا دباؤ ہی تھا جو جمہوریہ کے راستے میں سے جاگیرداری کی غلاظت صاف کرتے ہوئے اُس کی ضمانت بنا۔ ایک اشرافیہ [۳] کے ساتھ جمہوریہ کوئی جمہوریہ نہیں ہوتی۔ بوڑھا میکاولی [۴]، جس نے ایبرٹ کی صدارت سے 400 سال پہلے اپنی جلا وطنی میں جمہوری انقلابات سے عمومی نتائج اخذ کئے تھے، اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا۔ ’’جو کوئی بھی کسی ایسے ملک میں جمہوریہ قائم کرنا چاہتا ہے جہاں بہت سے شرفا (Nobles) ہوں تو ایسا صرف اُن سب کے خاتمے سے شروعات کرتے ہوئے ہی کر سکتا ہے۔‘‘ روسی کسان بھی بنیادی طور پر یہی موقف رکھتے تھے اور اُنہوں نے کسی ’’میکاولی ازم‘‘ کے بغیر کھلم کھلا اِس کا اظہار بھی کیا۔
جہاں پیٹروگراڈ نے مزدوروں اور سپاہیوں کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہاں کسان تحریک میں اولین درجہ پسماندہ عظیم روسی [۵] زرعی مرکز اور وولگا کے وسطی علاقے کو حاصل تھا۔ یہاں زرعی غلامی کی باقیات کی جڑیں بالخصوص گہری تھیں؛ اشرافیہ کی زمینداری کا کردار سب سے زیادہ طفیلی تھا؛ کسانوں کی تفریق بہت پسماندہ تھی اور یوں دیہات کی غربت زیادہ ننگی تھی۔ مارچ میں ہی اِس علاقے میں پھٹ پڑنے والی تحریک دہشت کی کاروائیوں سے فوراً آراستہ ہو گئی تھی۔ تاہم حاوی پارٹیوں کی کوششوں سے جلد ہی یہ مصالحت پسند سیاست کے راستوں پر گامزن ہو گئی۔
صنعتی طور پر پسماندہ یوکرائن میں برآمد کے لئے کی جانے والی زراعت نے زیادہ ترقی پسند اور نتیجتاً زیادہ سرمایہ دارانہ کردار اختیار کر لیا تھا۔ عظیم روس کی نسبت یہاں کسانوں کی درجہ بندی بہت آگے بڑھ چکی تھی۔ مزید برآں قومی آزادی کی جدوجہد نے ناگزیر طور پر سماجی جدوجہد کی دوسری اشکال کو موخر کر دیا۔ لیکن علاقائی اور قومی حالات میں فرق نے لمبے عرصے میں اپنا اظہار صرف تاریخوں کے فرق میں ہی کیا۔ موسم خزاں تک پورا ملک ہی کسان جدوجہد کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ قدیم روس کے کُل 624 علاقوں میں 482 یا 77 فیصد اِس تحریک میں شامل تھے۔ خصوصی زرعی حالات کی وجہ سے ممتاز سرحدی علاقوں (شمالی علاقے، جنوبی قفقاز، لق و دق میدانوں کے علاقے اور سائبیریا) کو چھوڑ کر 481 علاقوں میں سے 439 یا 91 فیصد ایک کسان بغاوت کی لپیٹ میں تھے۔
زیر کاشت زمین، جنگل، چراہ گاہ، کرائے کی رقم یا اجرتی محنت کے مسائل کی مناسبت سے جدوجہد کے طریقے بھی مختلف تھے۔ انقلاب کے مختلف مراحل میں جدوجہد اپنی اشکال اور طریقے بدلتی رہی۔ لیکن ایک ناگزیر تاخیر سے دیہاتوں کی تحریک بھی بالعموم شہروں والے دو بڑے مراحل سے ہی گزری۔ پہلے مرحلے میں کسان خود کو نئے نظام حکومت سے ہم آہنگ کر رہے تھے اور نئے اداروں کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم یہاں بھی یہ اساس سے زیادہ ظاہریت کا معاملہ تھا۔ انقلاب سے قبل نرودنک رنگ میں رنگے ماسکو کے لبرل اخبار نے کمال صفائی سے 1917ء کے موسم گرما میں زمیندار حلقوں کی ذہنی حالت بیان کی ہے۔ ’’کسان اِرد گرد دیکھ رہا ہے، فی الحال وہ کچھ نہیں کر رہا، لیکن اُس کی آنکھوں میں دیکھو، اُس کی آنکھیں تمہیں بتائیں گی کہ اُس کے اِرد گرد ساری زمین اُسی کی ہے۔‘‘ اپریل میں ٹومبوئے کے ایک دیہات کی جانب سے عبوری حکومت کو بھیجا گیا تار کسانوں کی اِس ’’پرامن‘‘ حکمت عملی کی بہترین کنجی ہے: ’’ہم جیتی گئی آزادی کے مفاد میں امن قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے آئین ساز اسمبلی تک زمیندار کی زمین کی فروخت پر پابندی لگاؤ۔ وگرنہ ہم خون بہا دیں گے لیکن کسی کو زمین کاشت نہیں کرنے دیں گے۔‘‘
مزارعے کے لئے باعزت دھمکی کا لہجہ برقرار رکھنا آسان تھا کیونکہ ملکیت کے تاریخی حقوق کے خلاف دباؤ ڈالتے ہوئے اُسے ریاست سے براہِ راست ٹکر بمشکل ہی لینا پڑتی تھی۔ دیہاتوں میں حکومتی اقتدار کے اداروں کی کمی تھی۔ دیہات کمیٹیاں ہی پولیس کو کنٹرول کرتی تھیں۔ عدالتیں منتشر تھیں اور مقامی کمیسار بے بس تھے۔ کسان اُن پر چلّاتے تھے، ’’ہم نے تمہیں منتخب کیا ہے اور ہم تمہیں لات مار کے نکال باہر کریں گے۔‘‘
پچھلے مہینوں کی جدوجہد آگے بڑھاتے ہوئے موسم گرما کے دوران کسان ایک خانہ جنگی کے قریب آتے گئے اور اُن کے بائیں بازو نے تو اِس کی دہلیز پر قدم بھی رکھ دیا۔ ٹاگنروگ کے علاقے کے زمین مالکان کی ایک رپورٹ کے مطابق کسانوں نے خود سے ہی چارے کی فصل ضبط کر لی، زمین کو قبضہ میں لے لیا، کاشت کاری سے منع کر دیا، من مرضی کے کرائے متعین کر دئیے اور مالکان اور نگرانوں کو ہٹا دیا۔ نزھنی گوروڈ کے کمیسار کی رپورٹ کے مطابق اُس کے صوبے میں پرتشدد سرگرمیاں اور زمین اور جنگل پر قبضے تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ کسانوں کے سامنے بڑے زمینداروں کے محافظ معلوم ہونے سے علاقائی کمیسار ڈرتے تھے۔ دیہی پولیس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ’’ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں پولیس افسران نے ہجوم سے مل کر تشدد میں حصہ لیا۔‘‘ شلیاسل برگ کے علاقے میں ایک مقامی کمیٹی نے زمینداروں کو اُن کے اپنے جنگل کی کٹائی سے روک دیا۔ کسان کی سوچ سادہ تھی: کاٹے جانے والے درختوں کو کوئی آئین ساز اسمبلی دوبارہ کھڑا نہیں کر سکتی۔ دربار کی وزارت کا کمیسار چارے پر قبضے کی شکایت کرتا ہیـ: دربار کے گھوڑوں کے لئے ہمیں چارہ خریدنا پڑ رہا ہے۔ صوبہ کرسک میں ترشچینکو کی زرخیز زمین کسانوں نے آپس میں بانٹ لی۔ اِس زمین کا مالک وزیر خارجہ تھا۔ صوبہ اورلوف میں گھوڑے پالنے والے شنائڈر پر کسانوں نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف اُس کی جاگیر سے چارے کی گھاس کاٹیں گے بلکہ خود اُسے بھی شاید ’’فوج میں بھیج دیں۔‘‘ روڈزیانکو کی جاگیر کے نگران کو دیہات کمیٹی نے چارہ کسانوں کے حوالے کرنے کا حکم دیا: ’’اگر دیہات کمیٹی کی بات نہ سنی تو تمہارے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے گا، تمہیں گرفتار کر لیا جائے گا… ‘‘ دستخط شدہ اور مہربند۔
ملک کے تمام کونوں سے متاثرین، مقامی حکام اور اشرافیہ کی سوچ رکھنے والے مشاہدین کی شکایات اور دُہائیاں آنے لگیں۔ زمین مالکان کے تار طبقاتی جدوجہد کے خام نظرئیے کی بالکل واضح تردید پر مبنی تھے۔ اِن خطاب یافتہ شرفا، بڑی بڑی جاگیروں کے مالکان اور روحانی و دنیوی حکمرانوں کواب عوامی فلاح و بہبود کی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ اُن کے دشمن کسان نہیں بلکہ بالشویک اور بعض اوقات انارکسٹ ہیں۔ اِن زمینداروں کی اپنی جائیداد میں دلچسپی صرف اور صرف مادرِ وطن کی فلاح کے نقطہ نظر سے ہے۔ صوبہ چرنیگوف میں کیڈٹ پارٹی کے 300 اراکین نے دعویٰ کیا کہ بالشویکوں کی جانب سے بھڑکائے گئے کسان جنگی قیدیوں کو کام سے ہٹا رہے ہیں اور خود آزادانہ طور پر فصل کی کٹائی کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے آہ بھری کہ نتیجتاً وہ ’’ٹیکس ادا نہ کر پانے‘‘ کے خطرے سے دوچار ہیں۔گویا اِن لبرل زمینداروں کے نزدیک زندگی کا واحد مقصد قومی خزانے کی امداد تھا! سٹیٹ بینک کی پوڈولسک شاخ نے دیہات کمیٹی کے من مانے اقدامات کی شکایت کی’’ جس کے صدر اکثر آسٹریائی قیدی ہوتے ہیں۔‘‘ یہاں مجروح حب الوطنی بول رہی تھی۔ صوبہ ولادیمیر میں دستاویزات کے محرر اوڈنسٹوف کی جاگیر میں کسانوں نے تعمیری سامان پر قبضہ کر لیا جو کہ ’’خیراتی اداروں کے لئے تیار کیا گیا تھا۔‘‘ یہ سرکاری حکام صرف انسانیت سے محبت کے لئے زندگی گزارتے ہیں! پوڈولسک سے ایک بشپ ، آرچ بشپ کے خاندان کے جنگل پر قبضے کی اطلاع دیتا ہے۔ سرکاری وکیل، الیگزینڈرو -نیوسکی خانقاہ کی چراہ گاہ پر قبضے کی شکایت کرتا ہے۔ کزلیارسک خانقاہ کی مادرِ کلیسا دعا کرتی ہے کہ مقامی کمیٹی کے اراکین پر عذاب نازل ہو۔ وہ خانقاہ کے امور میں دخل اندازی کر رہے ہیں، کرایہ اپنے استعمال کے لئے ضبط کر رہے ہیں، ’’راہبات کو اُن کے بزرگوں کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔‘‘ اِن واقعات میں کلیسا کی روحانی ضروریات براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ لیو ٹالسٹائی کے بیٹوں میں شامل نواب ٹالسٹائی صوبہ اوفمسک کے کاشتکاروں کی انجمن کی طرف سے اطلاع دیتا ہے کہ ’’آئین ساز اسمبلی کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر زمین کی مقامی کمیٹیوں کو منتقلی کی وجہ سے کسان مالکان میں بے چینی پھیل رہی ہے، جن کی تعداد صوبے میں دو لاکھ سے زیادہ ہے۔‘‘یہ موروثی نواب اپنے کمتر بھائیوں کی وجہ سے پریشان ہے۔ صوبہ ٹویر کا ایک مالک سنیٹر بلگارڈٹ جنگل کی کٹائی برداشت کرنے کو تو تیار ہے، لیکن پریشان ہے کہ کسان ’’بورژوا حکومت کی اطاعت نہیں کریں گے۔‘‘ ٹومبوف کا ایک زمیندار ولیامینوپ دو جاگیروں کو بچانے کا مطالبہ کرتا ہے جو ’’فوج کی ضرورت پوری کر رہی ہیں۔‘‘ اتفاقاً یہ دونوں جاگیریں اُسی کی ملکیت ہیں۔ خیال پرستی کے فلسفے کے لئے 1917ء کے زمینداروں کے یہ تار کسی خزانے سے کم نہیں ہیں۔ اِس کے برعکس ایک مادیت پسند انہیں کلبیت کی مختلف شکلوں کا مظاہرہ قرار دے گا۔ شاید وہ کہے کہ عظیم انقلابات جائیداد مالکان سے باوقار منافقت کی مراعت بھی چھین لیتے ہیں۔
علاقائی اور صوبائی حکام، وزیر داخلہ اور وزرا کی کونسل کے صدر سے متاثرین کی استدعائیں بالعموم بے سود ثابت ہوئیں۔اب ہم کس سے مدد مانگیں؟ ریاستی دوما کے صدر روڈزیانکو سے! جولائی کے دنوں اور کورنیلوف کی سرکشی کے درمیان یہ شاہی کاردار ایک بار پھر خود کو بااختیار محسوس کرنے لگا: اُس کے ٹیلی فون کی ایک گھنٹی پر بہت کچھ کیا جاتا تھا۔
وزارت داخلہ کے حکام نے مجرموں کو سزا دینے کے مراسلے بھیجے۔ سمارا کے منہ پھٹ زمینداروں نے جوابی تار بھیجا: ’’سوشلسٹ وزیر کے بغیر مراسلوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ یوں سوشلزم کا کام بھی آشکار ہو گیا۔ سریتیلی کو اپنی شرم پر قابو پانے پر مجبور کیا گیا۔ 18 جولائی کو اُس نے ’’فوری اور فیصلہ کن اقدامات‘‘ اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔ زمینداروں کی طرح سریتیلی کو بھی صرف فوج اور ریاست کی فکر لاحق تھی۔ تاہم کسانوں کو محسوس ہوا کہ سریتیلی زمینداروں کا دفاع کر رہا تھا۔
کسانوں کو ٹھنڈا کرنے کی حکومتی واردات میں اچانک تبدیلی رونما ہوئی۔جولائی تک مرجہ طریقہ اُنہیں بات چیت کے ذریعے قائل کرنے کا تھا۔ اگر علاقوں میں فوجی دستے بھیجے بھی جاتے تھے تو صرف حکومتی مقرر کی حفاظت کے لئے۔ تاہم پیٹروگراڈ کے مزدوروں اور سپاہیوں پر فتح کے بعد گھڑسوار دستوں نے خود کو براہ راست زمینداروں کے اختیار میں دے دیا۔سب سے زیادہ ہنگامہ خیز صوبوں میں شامل صوبہ کازان میں نوجوان تاریخ دان یوگوف کے مطابق ’’صرف گرفتاریوں، دیہاتوں میں مسلح دستے لانے اور کَوڑے لگانے کی روایت بحال کرنے سے ہی کسانوں کو مطیع کرنے میں کامیابی مل پائی۔‘‘ دوسری جگہوں پر بھی جبر کے اقدامات بے سود نہیں تھے۔ نقصان اٹھانے والی جائیدادوں کی تعداد جولائی میں کچھ کم ہو ئی: 516 سے 503 ۔ اگست میں حکومت کو کچھ مزید کامیابی ملی: غیر تسلی بخش علاقوں کی تعداد 325 سے 11 فیصد کم ہو کر 288 ہو گئی؛ قبضے میں لے لی جانے والی جائیدادوں میں تو 33 فیصد کمی آئی۔
بعض علاقے، جو قبل ازیں سب سے بے چین تھے، اب خاموش ہو گئے یا ثانوی حیثیت اختیارکر لی۔دوسری طرف ایسے علاقے جو کل تک قابل اعتماد تھے اب جدوجہد میں شامل ہو گئے۔ایک مہینہ پہلے تک پینزا کا کمیسار اطمینان بخش تصویر کشی کر رہا تھا: ’’علاقہ فصل کی کٹائی میں مصروف ہے… دیہی مقامی حکومت کے اداروں کے انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ حکومتی بحران کا عرصہ خاموشی سے گزر گیا ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا گیا۔‘‘ اگست میں اِس دلکش دیہاتی گیت کا کچھ باقی نہیں بچا۔ ’’بڑے پیمانے پر باغات میں لوٹ مار اور جنگلوں کی کٹائی… بدنظمی کچلنے کے لئے ہمیں مسلح قوت استعمال کرنا پڑی۔‘‘
اپنے عمومی کردار میں موسم گرما کی یہ تحریک ابھی بھی ’’پرامن‘‘ مرحلے سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم ریڈیکلائزیشن کی مسلمہ، اگرچہ کمزور علامات ابھی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ فروری انقلاب کے بعد پہلے چار مہینوں میں زمینداروں کی جاگیروں پر براہِ راست حملوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی، تاہم جولائی کے بعد سے ان میں اضافہ ہونے لگا۔ تفتیش کاروں نے واقعات کی تعداد کے لحاظ سے ترتیب میں جولائی کے تصادموں کی درجہ بندی کچھ یوں کی ہے: چراہ گاہوں، فصلوں، خوراک اور بھوسے، کاشت شدہ کھیتوں اور اوزاروں پر قبضے؛ حالاتِ روزگار پر تنازعات؛ جاگیروں کی تباہی۔ اگست میں ترتیب کچھ یوں ہے: فصلوں، ذخیرہ شدہ خوراک اور بھوسے، چراہ گاہوں اور چارے، زمینوں اور جنگلات پر قبضے؛ زرعی دہشت۔
ستمبر کے آغاز میں کیرنسکی نے بطور سپہ سالار ایک خصوصی حکم جاری کیا جس میں کسانوں کی جانب سے ’’پرتشدد سرگرمیوں‘‘ کے خلاف اپنے پیشرو کورنیلوف کی دھمکیاں اور دلائل دہرائے۔کچھ دنوں بعد لینن نے لکھا: ’’یا تو ساری زمین فوراً کسانوں کو دی جائے … یا پھر زمیندار اور سرمایہ دار معاملات کو ایک بے انتہا سفاک کسان بغاوت کی نہج تک لے جائیں گے۔‘‘ بعد کے مہینوں میں یہ سچ ثابت ہوا۔
زرعی تصادموں سے متاثرہ مالکان کی تعداد اگست کی نسبت ستمبر میں 30 فیصد بڑھ گئی؛ ستمبر کی نسبت اکتوبر میں 43 فیصد بڑھ گئی۔ مارچ کے بعد سے درج کئے جانے والے تصادموں سے تین گنا زیادہ تصادم ستمبر اور اکتوبر کے پہلے تین ہفتوں میں رونما ہوئے۔ تاہم اُن کی ثابت قدمی اُن کی تعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔ پہلے مہینوں میں مصالحت پسندانہ اداروں کی اعتدا ل پسندی اور آڑ نے براہِ راست قبضوں کو بھی لین دین کی شکل دے دی۔ اب یہ قانونی لبادہ اُتر گیا تھا۔ تحریک کی ہر شاخ نے زیادہ بے باک کردار اختیار کر لیا۔ دباؤکی مختلف شکلوں اور درجات سے گزر کر کسان اب زمیندار کے کاروبار کے مختلف حصوں پر پُر تشدد قبضوں، اشرافیہ کی آماجگاہوں کی تباہی، جاگیروں کو آگ لگانے ، حتیٰ کہ مالکان اور نگرانوں کو قتل کرنے پر اتر آئے تھے۔
کرائے کی شرائط میں تبدیلی کی جدوجہد، جو جون میں شدت اختیار کر گئی تھی، اکتوبر میں 1/40 رہ گئی۔ مزید برآں کرائے کی اِس تحریک نے خود اپنا کردار بھی بدل لیا اور زمیندار کو نکال باہر کرنے کا ہی ایک طریقہ بن گئی۔ زمین اور جنگل کی خریدوفروخت پر پابندی کی جگہ براہِ راست قبضے نے لے لی۔ بڑے پیمانے پر جنگلات اور چراہ گاہوں کی کٹائی نے زمیندار کی اشیا کی دانستہ تباہی کا کردار اختیار کر لیا۔ ستمبر میں املاک کی کھلی تباہی کے 279 واقعات درج کئے گئے؛ یہ اب کُل تصادموں کا 1/8 ہو چکے تھے۔فروری سے اکتوبر تک پولیس کی جانب سے درج کئے گئے تباہی کے تمام واقعات میں سے 42 فیصد صرف اکتوبر میں رونما ہوئے۔
جنگلات کے لئے جدوجہد بالخصوص تلخ تھی۔ اکثر و بیشتر سارے کے سارے دیہاتوں کو جلا کر راکھ کر دیا جاتا تھا۔ ٹمبر کی سختی سے حفاظت کی جاتی تھی اور بلند قیمت پر بکتا تھا؛ کسان ٹمبر کے لئے بھوکوں مر رہا تھا؛ مزید برآں سردیوں کے لئے جلانے کی لکڑی اکٹھی کرنے کا وقت آ چکا تھا۔ ملک کے ہر کونے سے جنگلات کی تباہی اور کٹی ہوئی لکڑی کے ذخائر پر قبضوں کی شکایات موصول ہوئیں۔ ’’کسان اپنی مرضی اور بے رحمی سے جنگل کاٹ رہے ہیں۔ زمیندار کے دو سو ڈسیاٹن جنگلات کو کسانوں نے آگ لگا دی ہے۔‘‘ ’’کلیمووچیوسکی اور چیریکووسکی علاقوں کے کسان جنگلات کو تباہ کر رہے ہیں اور سردیوں کی گندم ضائع کر رہے ہیں… ‘‘ جنگلات کے چوکیدار بھاگ گئے ہیں؛ زمیندار کے جنگلات کراہ رہے ہیں؛ سارے ملک میں لکڑی کے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔اُس سارے موسم خزاں کے دوران کسان کی کلہاڑی کی مسلسل ضربیں انقلاب کا طبل بجا تی رہیں۔
غلہ درآمد کرنے والے علاقوں میں سے دیہاتوں میں خوراک کی صورتحال شہروں کی نسبت تیزی سے بگڑی۔ نہ صرف خوراک بلکہ بیج کی بھی قلت تھی۔ خوراک کے وسائل تیزی سے نکالے جانے کی وجہ سے برآمدی علاقوں میں بھی صورتحال کچھ ہی بہتر تھی۔ اناج کی مقرر کردہ قیمت میں اضافے نے غریبوں کو نشانہ بنایا۔ کئی صوبوں میں بھوکوں کے بلوے، گوداموں میں لوٹ ماراور خوراک انتظامیہ کے اداروں پر حملے ہوئے۔ آبادی نے روٹی کے متبادل اختیار کر لئے۔ سکروی، کالے بخار اور خود کشیوں کی اطلاعات آنے لگیں۔ بھوک اور اُ س کے بڑھتے ہوئے سائے نے امارت اور عیاشی کی ہمسائیگی کو بالخصوص ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ دیہاتوں کی زیادہ مفلس پرتیں لڑائی کی ہراول صفوں میں آ گئیں۔
تلخ احساسات کی اِن لہروں نے نیچے بیٹھی ہوئی غلاظت بھی ابھاری۔صوبہ کوستروما میں ’’ یہودی مخالف بلیک ہنڈرڈ ایجی ٹیشن دیکھی جا رہی ہے۔ جرائم بڑھ رہے ہیں… سیاسی زندگی میں کم ہوتی ہوئی دلچسپی واضح ہے۔‘‘ کمیسار کی رپورٹ میں اِس آخری جملے کا مطلب ہے: پڑھے لکھے طبقات اب انقلاب کی طرف پیٹھ پھیر رہے ہیں۔ا چانک صوبہ پوڈولسک سے بلیک ہنڈرڈ شاہ پرستی کی آواز بلند ہوتی ہے:ڈیمی ڈوفکا گاؤں کی کمیٹی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور زار نکولائی الیگزینڈرووچ کو ’’روسی عوام کا سب سے وفادار رہنما‘‘ سمجھتی ہے۔ ’’اگر عبوری حکومت سبکدوش نہ ہوئی تو ہم جرمنوں سے مل جائیں گے۔‘‘ تاہم ایسے بے باک اعترافات کم ہی تھے۔ کسانوں میں موجود شاہ پرستوں نے بھی زمینداروں کی پیروی کرتے ہوئے بہت پہلے ہی رنگ بدل لیا تھا۔اِسی صوبہ پوڈولسک سمیت کئی جگہوں پر فوجی دستوں نے کسانوں کے ساتھ مل کر شراب کے گوداموں پر حملے کئے۔ کمیسار انتشار کی اطلاع دیتا ہے: ’’ دیہات اور عوام برباد ہو رہے ہیں؛ انقلاب برباد ہو رہا ہے۔‘‘ نہیں، انقلاب تو بربادی سے بہت دور ہے۔ یہ اپنے لئے زیادہ گہرا راستہ بنا رہا ہے۔ جوش کھاتے پانی اُن کے منہ کو آ رہے ہیں۔
8 ستمبر کی رات ٹومبوف میں سائچیفکا گاؤں کے کسانوں نے ڈنڈوں اور کھانچوں سے مسلح ہو کر گھر گھر جا کر ہر چھوٹے بڑے کو زمیندار رومانوف پر حملے کے لئے بلایا۔ گاؤں کے اجلاس میں ایک گروہ نے تجویز پیش کی کہ منظم انداز سے جاگیر پر قبضہ کر لیا جائے، جائیداد کو آبادی میں تقسیم کر دیا جائے اور عمارات کو ثقافتی مقاصد کے لئے رکھ چھوڑا جائے۔ غریبوں نے مطالبہ کیا کہ جاگیر کو آگ لگا دی جائے اور اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ غریب اکثریت میں تھے۔ اُسی رات آگ کے دریا نے سارے قصبے کی جاگیروں کو نگل لیا۔ تجرباتی کھیتوں سمیت آگ پکڑنے والی ہر چیز جل کر راکھ ہو گئی۔ مویشی ذبح کر دئیے گئے۔ ’’وہ پاگل پن کی حد تک نشے میں دھت تھے۔‘‘ شعلے ایک کے بعد دوسرے قصبے میں پھیلتے گئے۔ یہ دیہاتی جنگجو اب درانتی اور کھانچے سے مطمئن نہیں تھے۔ صوبائی کمیسار نے تار بھیجا: ’’راننبرگ اور ریازھسکی کے علاقوں میں پستولوں اور گرنیڈوں سے مسلح کسان اور نامعلوم افراد جاگیروں پر حملے کر رہے ہیں۔‘‘ جنگ نے اِس اعلیٰ تکنیک کو کسان بغاوت میں متعارف کر وا دیا تھا۔ زمین مالکان کی انجمن نے اطلاع دی کہ تین دنوں میں 24 جاگیریں جلا دی گئیں۔ ’’نظم و نسق بحال کرنے میں مقامی حکام بالکل بے بس تھے۔‘‘ کچھ وقت کے بعد علاقہ کمانڈر کے بھیجے گئے فوجی دستے پہنچ گئے۔ مارشل لا لگا دیا گیا، جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی، اُکسانے والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ زمیندار کی املاک سے نالے بھرے ہوئے تھے اور زیادہ تر مالِ غنیمت دریا کی نذر ہو چکا تھا۔
پینزا کا ایک کسان بیگیشیف بتاتا ہے: ’’ستمبر میں لوگون پر حملے کے لئے سب چل پڑے (1905ء میں بھی اُس پر حملہ کیا گیا تھا)۔ چھکڑوں اور ریڑھوں کا ایک سیلاب اُس کی جاگیر کی طرف اور واپس بہنے لگا، سینکڑوں عورتیں اور کسان اُس کے مویشی اور غلہ وغیرہ اٹھانے اور لے جانے لگے۔‘‘ زمین انتظامیہ کی جانب سے بلائے گئے ایک فوجی دستے نے لوٹ کا کچھ مال واپس لینے کی کوشش کی، لیکن گاؤں میں 500 کسان اور عورتیں جمع ہو گئیں اور دستہ منتشر ہو گیا۔سپاہی بھی زمیندار کے پامال کردہ حقوق کی بحالی کے آرزو مند نہیں تھے۔ کسان گاپوننکو کی یادداشتوں کے مطابق صوبہ ٹاؤرائڈ میں ستمبر کے آخری سات دنوں سے شروع ہو کر ’’کسانوں نے عمارات پر حملے شروع کر دئیے، نگرانوں کو نکال باہر کرنے لگے اور کام کے جانور،مشینری اور گوداموں سے غلہ لینے لگے… اُنہوں نے کھڑکیوں سے پردے، چوکٹھوں سے دروازے اور کمروں سے فرش اور زِنک کی چھتیں اکھاڑ ڈالیں اور اپنے ساتھ لے گئے… ‘‘ منسک کا ایک کسان گرنکو بتاتا ہے، ’’ پہلے پہل وہ صرف پیدل آتے تھے اور جو کچھ ہو سکتا تھا گھسیٹ کر لے جاتے تھے، لیکن بعد میں وہ چھکڑوں کے چھکڑے بھر کر لے جانے لگے۔دوپہر دو بجے سے شروع ہو کر دو دِن اور دو راتوں تک رُکے بغیر وہ چیزیں اٹھا کر لے جاتے رہے۔ اِن اڑتالیس گھنٹوں میں اُنہوں نے ہر چیز کا صفایا کر دیا۔‘‘ ماسکو کے کسان کزمی چیف کے مطابق املاک پر قبضہ اِس طرح سے جائز تھا: ’’زمیندار ہمارا تھا، ہم اُس کے لئے کام کرتے تھے اور اُس کی جائیداد صرف ہماری ہونی چاہئے تھی۔‘‘ ایک زمانہ تھا جب زرعی غلاموں سے زمیندار کہا کرتے تھے: ’’تم میرے ہو اور جو کچھ بھی تمہارا ہے وہ میرا ہے۔‘‘ اب کسان اپنا جواب دے رہے تھے: ’’وہ ہمارا مالک تھا اور اُس کا سارا مال ہمارا ہے۔‘‘
منسک کا ایک اور کسان نوویکوف یاد کرتا ہے، ’’کئی علاقوں میں وہ زمیندار کا دروازہ رات کو کھٹکھٹانے لگے تھے۔ زمیندار کی جاگیر کو آگ لگانے کے واقعات بڑھتے جا رہے تھے۔‘‘ سابقہ سپہ سالار نواب نکولائی نکولائیوچ کی جاگیر کی باری بھی آئی۔ ’’جو کچھ لے جایا جا سکتا تھا اُسے لے جانے کے بعد اُنہوں نے چولہوں کو توڑنا اور فرشوں اور تختوں کو اکھاڑنا شروع کر دیا اور اِس سب کو گھسیٹ کر گھر لے جانے لگے۔‘‘
اِن تباہ کن سرگرمیوں کے پیچھے صدیوں پرانی کسان جنگوں کی حکمت عملی کارفرما تھی: دشمن کی قلعہ بندجگہ کو خاک میں ملا دینا۔ اُس کے لئے سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ چھوڑو۔ کرسک کا کسان زائیگناکوف یاد کرتا ہے، ’’جو تھوڑے معقول تھے وہ کہتے تھے، ’ہمیں عمارتوں کو جلانا نہیں چاہئے، وہ سکولوں اور ہسپتالوں کے لئے ہمارے کام آئیں گی‘، لیکن اکثریت ایسی تھی کہ چیخ اٹھتی تھی، ’ہمیں سب کچھ تباہ کر دینا چاہئے تاکہ بوقت ضرورت ہمارے دشمن کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہ ہو۔‘‘‘ اورل کا کسان ساوچنکو بتاتا ہے، ’’کسانوں نے زمینداروں کی ساری جائیداد پر قبضہ کر لیا اور اُنہیں جاگیروں سے نکال باہر کیا، زمینداروں کے گھروں کی کھڑکیاں، دروازے، چھتیں اور فرش توڑ دئیے… سپاہیوں نے کہا، ’اگر بھیڑئیے کی کچھار کو تباہ کر رہے ہو تو بھیڑیوں کا گلہ گھونٹنا بھی لازم ہے۔‘ ایسے خطرات کی وجہ سے بڑے اور زیادہ اہم زمیندار چھپ گئے اور اس وجہ سے زمینداروں میں سے کوئی قتل نہیں ہوا۔‘‘
صوبہ وائٹبسک میں زالسئی گاؤں میں فرانسیسی باشندے برنارڈ کی جاگیر میں غلے اور چارے سے بھرے گودام جلا دئیے گئے۔ قومیت کے سوالات پر غور کرنے کی طرف کسان کم ہی مائل تھے، کیونکہ بہت سے زمینداروں نے جلدی میں اپنی زمین مراعت یافتہ غیر ملکیوں کو منتقل کر دی تھی۔ ’’فرانسیسی سفارتخانہ درخواست کرتا ہے کہ اقدامات اٹھائے جائیں… ‘‘ اکتوبر کے وسط میں محاذ کے علاقے میں فرانسیسی سفارتخانے کے کہنے پر بھی ’’اقدامات‘‘ اٹھانا مشکل تھا۔
ریازان کے علاقے میں بڑی جاگیروں کی تباہی چار دنوں تک جاری رہی۔ ’’حتیٰ کہ بچوں نے بھی لوٹ مار میں حصہ لیا۔‘‘زمین مالکان کی انجمن نے وزرا کی توجہ اِس طرف مبذول کروائی کہ اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ’’ہجوم کے ہاتھوں سزائے موت، قحط اور خانہ جنگی پھوٹ پڑے گی۔‘‘ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ خانہ جنگی کا تذکرہ یہ زمیندار ابھی تک مستقبل کے صیغے میں کیوں کر رہے تھے۔ ستمبر کے آغاز میں کوآپریٹو تنظیموں کی ایک کانگریس میں مضبوط تاجر کسانوں کے ایک رہنما برکنہیم نے کہا: ’’میں قائل ہوں کہ سارا روس ایک پاگل خانہ نہیں بنا ہے، ابھی تک زیادہ تر صرف بڑے شہروں کی آبادی ہی پاگل ہوئی ہے۔‘‘ کسانوں کے قدامت پسند اور جامد حصے کی خوداطمینانی کی یہ آواز وقت سے مایوس کن حد تک پیچھے تھی۔ اُسی مہینے میں دیہاتوں نے منطق کے تمام پھندے توڑ ڈالے اور اُن کی جدوجہد کی سفاکی نے شہروں کے ’’پاگل خانے‘‘ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔
اپریل تک بھی لینن یہ ممکن سمجھتا تھا کہ عام کسانوں کو کو آپریٹو اداروں کے حب الوطن منتظمین اور کولاک اپنے پیچھے بورژوازی اور زمیندار سے مصالحت کے راستے پر گھسیٹ لیں گے۔ اِسی وجہ سے اُس نے کھیت مزدوروں کے نمائندوں کی سوویتوں اور غریب ترین کسانوں کی الگ تنظیموں کی تشکیل پر بھرپور اصرار کیا تھا۔تاہم مہینہ در مہینہ یہ واضح ہوتا گیا کہ بالشویک حکمت عملی کا یہ حصہ جڑ نہیں پکڑے گا۔ بالٹک ریاستوں کے علاوہ کھیت مزدوروں کی کہیں کوئی سوویتیں نہیں تھیں۔ اِس کی وضاحت صرف کھیت مزدوروں اور دیہات کی غریب ترین پرتوں کی پسماندگی سے کرنا معاملے کی اساس کو گنوانے کے مترادف ہو گا۔ اِس کی کلیدی وجہ خود تاریخی فریضے، یعنی ایک قومی جمہوری انقلاب کی اساس میں مضمر تھی۔
کرائے اور اجرتی محنت کے دو بنیادی سوالوں سے یہ بالکل واضح ہو گیا کہ کیسے زرعی غلامی کی باقیات کے خلاف جدوجہد کے عمومی مفادات نے نہ صرف غریب کسانوں بلکہ کھیت مزدوروں کے لئے بھی ایک آزادانہ حکمت عملی کا راستہ بند کر دیا تھا۔یورپی روس میں کسانوں نے زمینداروں سے دو کروڑ ستر لاکھ ڈسیاٹن زمین (نجی ملکیت میں موجود زمین کا تقریباً 60 فیصد) کرائے پر لے رکھی تھی اور سالانہ 40 کروڑ روبل کرایہ ادا کرتے تھے۔ کرائے کی غلامانہ شرائط کے خلاف جدوجہد ہی فروری انقلاب کے بعد کسان تحریک کا کلیدی عنصر بن گئی ۔ ایک چھوٹا مگر بہت اہم مقام دیہی اجرتی مزدوروں کی جدوجہد کو حاصل تھا، جو اُنہیں نہ صرف زمیندار بلکہ کسان استحصالیوں کے مدمقابل لا کھڑا کرتی تھی۔ کرایہ دار کی جدوجہد کرائے کی شرائط میں نرمی کے لئے تھی، مزدور کی جدوجہد اپنے حالاتِ کار میں بہتری کے لئے۔ دونوں نے شروعات اپنے اپنے طریقے سے زمیندار کو صاحب جائیداد اور مالک کے طور پر پہنچانتے ہوئے کی۔ لیکن جوں ہی معاملے کو نبٹانے، یعنی زمین پر خود قبضہ کرنے کا امکان پیدا ہوا تو غریب کسانوں کی دلچسپی کرائے کے سوالات میں ختم ہو گئی اور ٹریڈ یونین نے کھیت مزدور کے لئے کشش کھو دی۔ یہی دیہی مزدور اور غریب کرایہ دار تھے جنہوں نے عمومی تحریک میں شامل ہو کر اُسے کسان جنگ کا حتمی عزم عطا کرتے ہوئے ناقابل تنسیخ بنا دیا۔
لیکن زمیندار کے خلاف جدوجہد دیہات کے دوسرے سرے پر اتنی بھرپور نہیں تھی۔ جب تک کھلی بغاوت نہیں ہوئی، کسانوں کے بالائی حلقوں نے تحریک میں ایک اہم اور بعض اوقات رہنما کردار ادا کیا۔ تاہم موسم خزاں کے عرصے میں مالدار کسان مسلسل بڑھتے ہوئے شک سے کسان جنگ کے پھیلاؤ کو دیکھ رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ختم کیسے ہو گی؛ اُن کے پاس کھونے کو کچھ تھا؛ وہ ایک طرف کھڑے رہے۔ لیکن وہ بالکل کنی کترانے میں کامیاب نہیں ہو سکے: دیہات اِس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
کمیون سے باہر موجود چھوٹے زمین مالکان ’’ہمارے اپنے‘‘ کمیون کے کولاکوں سے زیادہ محتاط اور مخالف تھے۔ سارے ملک میں کسانوں کی ایسی چھ لاکھ جھوکیں تھیں جن کے پاس 50 ڈسیاٹن تک کے قطعات تھے۔ کئی علاقوں میں وہ کوآپریٹو تنظیموں کی ریڑھ کی ہڈی تھے اور بالخصوص جنوب میں قدامت پسند کسان یونین کی طرف مائل تھے، جو پہلے ہی کیڈٹوں کی طرف ایک پُل بن چکی تھی۔ منسک کے ایک کسان گُلّس کے مطابق ’’علیحدگی پسند [۶]اور امیر کسان، زمینداروں کی حمایت کرتے تھے اور کسانوں کو دلائل سے خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘ کئی جگہوں پر مقامی حالات کے زیر اثر کسانوں کی آپسی جدوجہد نے اکتوبر انقلاب سے قبل ہی غضبناک کردار اختیار کر لیا۔ اِ س جدوجہد میں علیحدگی پسندوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ نزھنی گوروڈ کا کسان کزمی چیف کہتا ہے، ’’اُن کی تقریباً ساری عمارات کو آگ لگا دی گئی۔ اُن کی جائیداد کا کچھ حصہ تباہ ہو گیا اور کچھ پر کسانوں نے قبضہ کر لیا۔‘‘ علیحدگی پسند ’’زمیندار کا نوکر تھا جس کے سپرد زمیندار نے اپنے جنگل کے کئی قطعات کر رکھے تھے؛ وہ پولیس، فوجی پولیس اور حکمرانوں کا پسندیدہ تھا۔‘‘ موسمِ خزاں میں نزھنی گوروڈ کے کئی دیہاتوں کے امیرترین کسان اور تاجر غائب ہو گئے اور دو یا تین سالوں بعد ہی واپس لوٹے۔
تاہم ملک کے زیادہ تر حصوں میں کسانوں کے آپسی تعلقات اِس تلخی سے بہت دور تھے۔ کولاکوں نے محتاط طرز عمل اپنایا، بریکیں لگائیں اور مزاحمت کی، لیکن کوشش کی کہ ’’میر‘‘ [۷] سے کھلی ٹکر نہ لیں۔ عام دیہاتی نے بھی کولاک پر رقابت بھری نظر رکھی اور اُسے زمینداروں سے متحد نہ ہونے دیا۔ کسانوں اور اشرافیہ کے درمیان کولاک پر اثر انداز ہونے کی جدوجہد مختلف شکلوں میں 1917ء کے پورے سال جاری رہی۔
چھوٹے زمیندار واضح طور پر اشرافیہ سے دور ہٹ رہے تھے مبادا اُن کے ساتھ ہی نہ مارے جائیں۔ سیاست میں اِس عمل کا اظہار اِس حقیقت میں ہوا کہ انقلاب سے قبل انتہائی دائیں بازو کی پارٹی سے وابستہ زمیندار اب خود پر لبرلزم کا رنگ چڑھا رہے تھے جبکہ ماضی میں اکثر کیڈٹوں کی حمایت کرنے والے کسان مالکان اب بائیں طرف منتقل ہو رہے تھے۔
صوبہ پرم میں ستمبر میں منعقد ہونے والی چھوٹے مالکان کی ایک کانگریس نے بڑے اصرار سے خود کو زمینداروں کی اُس ماسکو کانگریس سے مختلف قرار دیا جس کے قائد ’’نواب، امرا اور جاگیردار تھے۔‘‘ 50 ڈسیاٹن کے ایک مالک نے کہا: ’’کیڈٹوں نے کبھی ’ارمیاکی‘ اور ’لاپٹی‘ [۸] نہیں پہنی اور اِس لئے کبھی بھی ہمارے مفادات کا دفاع نہیں کریں گے۔‘‘ لبرلوں سے دور ہٹتا ہوا یہ محنت کش مالک ایسے ’’سوشلسٹ‘‘ تلاش کرتا تھا جو ملکیت کے حقوق کی حمایت کریں۔ ایک مندوب سوشل ڈیموکریسی کی حمایت میں کہنے لگا،’’مزدور؟ اُسے زمین دے دو اور وہ دیہات آ جائے گا اور خون تھوکنا چھوڑ دے گا۔سوشل ڈیموکریسی ہم سے زمین نہیں چھینے گی۔‘‘ ظاہر ہے کہ وہ منشویکوں کی بات کر رہا تھا۔ ’’ہم کسی کو اپنی زمین نہیں دیں گے۔ جنہیں یہ آسانی سے ملی ہے وہ آسانی سے اِس سے دستبردار ہو جائیں گے، مثلاً زمیندار، لیکن کسان کو بڑی مشکلوں سے زمین ملی ہے۔‘‘
خزاں کے عرصے میں دیہات کولاکوں سے نبرد آزما تھے، اُنہیں جھٹک نہیں رہے تھے بلکہ عمومی تحریک سے وابستہ ہونے اور دائیں طرف کی ضربوں سے اِسے بچانے پر مجبور پر کر رہے تھے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں زمیندار پر حملے میں شمولیت سے انکار کرنے والوں کو موت کی سزا دی گئی۔ کولاک جب تک چالبازی کر سکتا تھا کرتا رہا، لیکن آخری لمحے ایک بار پھر اپنا سر کھجاتے ہوئے اپنے پلے ہوئے گھوڑے کو لوہے کے پہیوں والے چھکڑے کے آگے لگایا اور لوٹ کے مال میں اپنے حصے کے لئے نکل پڑا۔ یہ اکثر سب سے بڑا حصہ ہوتا تھا۔ پینزا کا کسان بیگی شیف کہتا ہے، ’’خوشحال لوگ سب سے زیادہ حصہ حاصل کرتے تھے، جن کے پاس گھوڑے اور فارغ آدمی ہوتے تھے۔‘‘اورل کے علاقے سے ساوچنکو بھی کم و بیش انہی الفاظ میں اظہار خیال کرتا ہے: ’’کولاکوں کو عام طور پر بہترین حصہ ملتا تھا، کیونکہ وہ ہٹے کٹے ہوتے تھے اور اُن کے پاس لکڑیاں لے جانے کے لئے کوئی چیز ہوتی تھی۔‘‘
ورمینی چیف کے تخمینے کے مطابق فروری سے اکتوبر تک زمینداروں کے ساتھ ہونے والے 4,954 تصادموں کے مقابلے میں کسان بورژوازی کے ساتھ 324 تصادم ہوئے۔ ایک غیرمعمولی طور پر واضح باہمی تعلق ہے! صرف یہی ثابت کر دیتا ہے کہ 1917ء کی کسان تحریک اپنی سماجی بنیادوں میں سرمایہ داری نہیں بلکہ زرعی غلامی کی باقیات سے متصادم تھی۔ ’کولاک ازم‘ کے خلاف جدوجہد تو 1918ء میں زمیندار کے قطعی خاتمے کے بعد نمودار ہوئی۔
کسان تحریک کے خالصتاً جمہوری کردار، جسے سرکاری جمہوریت کو ناقابل تسخیر قوت عطا کرنی چاہئے تھی، نے درحقیقت اُس کی بوسیدگی کو آشکار کر دیا۔ اگر آپ اوپر سے دیکھیں تو کسان، سوشل انقلابیوں کے زیر قیادت تھے، اُنہی کو منتخب کرتے تھے، اُنہی کی پیروی کرتے تھے، کم و بیش اُنہی میں گھلے ملے ہوئے تھے۔ کسان سوویتوں کی مئی کانگریس میں مجلس عاملہ کے انتخابات میں چرنوف کو 810 اور کیرنسکی کو 804 جبکہ لینن کو صرف 20 ووٹ ملے۔ یہ بے وجہ نہیں تھا کہ چرنوف خود کو ’دیہی وزیر‘ قرار دیتا تھا! لیکن یہ بھی بے وجہ نہیں تھا کہ دیہاتوں کی حکمت عملی نے اپنے راستے بڑے اکھڑ انداز سے چرنوف کی حکمت عملی سے جدا کر لئے۔
سوشل انقلابیوں کے پروگرام میں ہمیشہ بہت کچھ یوٹوپیائی ہوتا تھا۔ وہ معمولی تجارتی معیشت کی بنیاد پر سوشلزم تخلیق کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اُن کے پروگرام کی بنیاد جمہوری انقلابی تھی: زمیندار سے زمین لینا۔ جب اِس پروگرام پر عملدرآمد کی باری آئی تو سوشل انقلابی پارٹی مصالحت کا شکار ہو گئی۔ نہ صرف زمیندار بلکہ بینکار بھی زمین کی ضبطی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بینکوں نے زمینوں کے عوض کم از کم چار ارب روبل کا قرضہ دیا ہوا تھا۔ آئین ساز اسمبلی میں زمینداروں سے قیمتوں پر مول تول کرنے لیکن معاملہ دوستانہ انداز میں نبٹانے کا ارادہ رکھنے والے سوشل انقلابیوں نے کسان کو زمین سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس لئے وہ اپنے سوشلزم کے یوٹوپیائی کردار کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے جمہوری انحراف کی وجہ سے پاش پاش ہوئے۔ اُن کی یوٹوپیائیت کے امتحان کے لئے کئی سال درکار تھے۔ لیکن زرعی جمہوریت سے اُن کی غداری چند مہینوں میں ہی واضح ہو گئی۔یوں سوشل انقلابیوں کی حکومت میں سوشل انقلابی پروگرام پر عملدرآمد کے لئے کسانوں کو سرکشی کا راستہ منتخب کرنا پڑا۔
جولائی میں جب حکومت دیہاتوں میں جبر کے اقدامات کر رہی تھی، کسان اپنے دفاع کے لئے عجلت میں اِنہی سوشل انقلابیوں کی طرف بھاگے۔ وہ شیطان سے برائی کے خلاف مدد مانگ رہے تھے۔ شہروں میں بالشویکوں کی انتہائی کمزوری کا مہینہ دیہاتوں میں سوشل انقلابیوں کے انتہائی پھیلاؤ کا مہینہ تھا۔ جیسا کہ بالخصوص انقلابی عہد میں عام طور پر ہوتا ہے، انتہائی تنظیمی وسعت ہی سیاسی زوال کا نقطہ آغاز تھی۔ سوشل انقلابی حکومت کے حملوں سے سوشل انقلابیوں کے ہی پیچھے چھپتے ہوئے کسانوں کا اعتماد حکومت اور پارٹی، دونوں پر سے اُٹھ گیا۔ یوں دیہاتوں میں سوشل انقلابی تنظیموں کا پھیلاؤ اِس ہمہ گیر پارٹی کے لئے مہلک بن گیا جو نیچے سے بغاوت کر رہی تھی اور اوپر سے نظم و نسق بحال کر رہی تھی۔
ماسکو میں 30 جولائی کو بالشویکوں کی فوجی تنظیم کے ایک اجلاس میں محاذ کے ایک مندوب، جو خود ایک سوشل انقلابی تھا، نے کہا: کسان اگرچہ ابھی تک خود کو سوشل انقلابی سمجھتے ہیں لیکن اُن کے اور اُن کی پارٹی کے درمیان ایک پھوٹ پڑ چکی ہے۔ سپاہیوں نے اِس کی تصدیق کی: سوشل انقلابی ایجی ٹیشن کے زیر اثر کسان ابھی تک بالشویکوں کے مخالف ہیں، لیکن عملی طور پر زمین اور اقتدار کے سوالات کا فیصلہ وہ بالشویک انداز میں کرتے ہیں۔ وولگا کے علاقے میں کام کرنے والا بالشویک پووولزھسکی تصدیق کرتا ہے کہ 1905ء کی تحریک میں حصہ لینے والے انتہائی محترم سوشل انقلابی بھی اب خود کو زیادہ سے زیادہ مسترد شدہ محسوس کر رہے تھے:’’کسان اُنہیں ’بوڑھے لوگ‘ پکارتے تھے، اُن کے ساتھ ظاہری ادب و احترام سے پیش آتے تھے، لیکن ووٹ اپنے انداز سے ہی دیتے تھے۔‘‘ یہ مزدور اور سپاہی تھے جنہوں نے دیہاتوں کو ’’اپنے انداز سے‘‘ ووٹ دینا اور کاروائی کرنا سکھایا تھا۔ کسانوں پر انقلابی مزدوروں کے اثرورسوخ کی پیمائش کرنا ناممکن ہے۔ یہ مسلسل، سالماتی ، ہر جگہ سرایت کرنے والا تھا اور اِسی وجہ سے ناقابل پیمائش تھا۔ باہمی سرایت کو اِس حقیقت نے آسان بنا دیا کہ صنعتی پلانٹوں کی بڑی تعداد دیہی علاقوں میں واقع تھی۔ لیکن پیٹروگراڈ، جو شہروں میں سب سے زیادہ یورپی تھا، کے مزدور بھی اپنے آبائی دیہاتوں سے قریبی رابطے میں تھے۔ موسم گرما کے مہینوں کے دوران بڑھنے والی بیروزگاری اور مالکان کی تالہ بندی نے کئی ہزار مزدوروں کو دیہاتوں میں پھینک دیا تھا۔ اُن کی اکثریت ایجی ٹیٹر اور رہنما بن گئی۔ مئی اور جون کے درمیان پیٹروگراڈ میں مختلف صوبوں، علاقوں اور دیہاتوں کی مطابقت سے کلب تخلیق کئے گئے۔ مزدوروں کے اخبارات کے پورے پورے کالم اِن کلبوں کے اجلاسوں کے لئے مختص ہوتے تھے، جن میں دیہاتوں کے سفروں کی رپورٹیں سنی جاتی تھیں، مندوبین کے لئے ہدایات مرتب ہوتی تھیں اور ایجی ٹیشن کے لئے پیسے اکٹھے کئے جاتے تھے۔ اکتوبر کی سرکشی سے زیادہ پہلے کی بات نہیں ہے کہ یہ کلب ایک خصوصی مرکزی بیورو میں بالشویکوں کے زیرقیادت متحد ہو گئے۔ یہ کلب تحریک جلد ہی ماسکو، ٹویر اور غالباً بہت سے دوسرے صنعتی مراکز تک بھی پھیل گئی۔
تاہم دیہاتوں پر براہِ راست اثرورسوخ کے معاملے میں سپاہی زیادہ اہم تھے۔ یہ محاذ یا شہر کی بیرک کے مصنوعی حالات ہی تھے جن میں کسی حد تک اپنی تنہائی پر قابو پاتے ہوئے نوجوان کسان قومی سطح کے مسائل کے مدمقابل آتے تھے۔ تاہم یہاں بھی اُن کی سیاسی محتاجی اپنا اظہار کرتی تھی۔ مسلسل حب الوطن اور قدامت پسند دانشوروں کے زیرقیادت رہتے ہوئے اور پھر اُن سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے کسانوں نے فوج میں دوسرے سماجی گروہوں سے علیحدہ منظم ہونے کی کوشش کی۔ حکام ایسے رجحانات کو مخالفانہ انداز سے دیکھتے تھے، وزارت جنگ ان کی مخالفت کرتی تھی، سوشل انقلابی ان کا خیرمقدم نہیں کرتے تھے: فوج میں کسان نمائندگان کی سوویتوں کی جڑیں کمزور تھیں۔ حتیٰ کہ انتہائی موافق حالات میں بھی کسان اپنی بے انتہا مقدار کو سیاسی معیار میں تبدیل کرنے سے قاصر ہے! صرف بڑے انقلابی مراکز میں مزدوروں کے براہِ راست اثرورسوخ کے تحت ہی کسان سپاہیوں کی سوویتیں کچھ اہم کام تعمیر کرنے میں کامیاب رہیں۔ یوں اپریل 1917ء سے یکم جنوری 1918ء تک پیٹروگراڈ کی کسان سوویت نے دیہاتوں میں 1395 ایجی ٹیٹر خصوصی اختیارات اور تقریباً اتنی ہی تعداد بغیر اختیارات کے بھیجی۔ اِ ن مندوبین نے 65 صوبوں کا احاطہ کیا۔ مزدوروں کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے کرونسٹٹ میں سپاہیوں اور جہازیوں کے درمیان آبادئی علاقوں کے کلب تشکیل دئیے گئے اور اِن کلبوں نے اپنے مندوبین کو ریلوے اور بحری جہازوں میں مفت سفر کا ’’اختیار‘‘ دینے والی اسناد مہیا کیں۔ نجی ٹرانسپورٹ نے کسی چوں چراں کے بغیر اِن دستاویزات کو قبول کر لیا۔ حکومتی ٹرانسپورٹ میں تنازعات پیدا ہوئے۔
اِن تنظیموں کے باضابطہ مندوبین بہرحال کسان سمندر میں چند قطرے تھے۔ اِس سے کہیں بڑا کام اُن دسیوں لاکھ سپاہیوں نے کیا جو اپنے کانوں میں عوامی جلسوں کی تقاریر کی گونج لے کر محاذ یا عقب کے گیریزنوں سے اپنے دیہاتوں کو گئے۔ محاذ پر خاموش بیٹھے رہنے والے اپنے آبائی دیہاتوں میں باتونی بن گئے۔ اُنہیں تجسس سے سننے والے سامعین کی کمی نہ تھی۔ ماسکو کا ایک بالشویک مورالوف کہتا ہے، ’’ماسکو کے گردونواح کے کسانوں میں بائیں طرف بہت گہرا جھکاؤ تھا… محاذ سے بھاگ کر آنے والوں سے صوبہ ماسکو کے دیہات اور قصبات اَٹے ہوئے تھے۔ وہاں ایسے شہری پرولتاری بھی آتے تھے جنہوں نے دیہات سے اپنے روابط ابھی منقطع نہیں کئے تھے۔‘‘ کسان ناؤم چینکوف کے مطابق صوبہ کالوگا کے خوابیدہ اور پسماندہ دیہاتوں کو ’’جون اور جولائی کے دوران مختلف وجوہات سے محاذ سے گھر واپس آنے والے سپاہیوں نے بیدار کر دیا۔‘‘ نزھنی گوروڈ کا کمیسار اطلاع دیتا ہے کہ ’’بگھوڑوں، چھٹی پر آئے سپاہیوں اور رجمنٹ کمیٹیوں کے مندوبین کے صوبے کی حدود میں نظر آنے سے ہی تمام لاقانونیت اور قانون شکنی جڑی ہوئی ہے۔‘‘ زولوٹونوشزکی کے علاقے کی شہزادی باریاٹنسکی کی جائیدادوں کا نگران اگست میں زمین کمیٹی، جس کا صدر کرونسٹٹ کا جہازی گاٹران ہے، کے من مانے اقدامات کی شکایت کرتا ہے ۔ بگلمنسک کے علاقے کا کمیسار اطلاع دیتا ہے، ’’چھٹی پر آئے سپاہی اور جہازی انتشار اور بلوے کی نفسیات پیدا کرنے کے لئے ایجی ٹیشن کر رہے ہیں۔‘‘ ’’مگلنسک کے علاقے میں بیگولوش کے گاؤں آنے والے ایک جہازی نے اپنی عملداری کی بنیاد پر جنگل سے جلانے اور پیٹریاں جوڑنے کی لکڑی کاٹنے اور برآمد کرنے سے منع کر دیا۔‘‘ سپاہیوں نے جدوجہد شروع نہیں کی تھی، وہ تو اِسے انجام تک پہنچا رہے تھے۔ نزھنی گوروڈ کے علاقے میں کسانوں نے ایک خانقاہ پر حملہ کر دیا، چراہ گاہ کی گھاس کاٹ لی، جنگلے اکھاڑ دئیے اور راہبات کے ناک میں دم کر دیا۔ مادرِ کلیسا نے ہار ماننے سے انکار کر دیا، مزارعوں کو پولیس اٹھا لے گئی اور سزا دی۔ کسان آربیکوف لکھتا ہے، ’’ اُنہوں نے ہی بیل کو سینگوں سے قابو کیا اور خانقاہ کو خالی کروایا۔‘‘ کسان بوبکوف کے مطابق ’’صوبہ موغیلیف میں کمیٹی کے پہلے رہنما محاذ سے آنے والے سپاہی تھے اور اُنہوں نے زمینداروں کو نکال باہر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔‘‘
محاذ سے آنے والے سپاہیوں نے اِس کاروائی میں دشمن سے رائفل اور سنگین سے نبٹنے کا بھاری عزم متعارف کروا دیا تھا۔ حتیٰ کہ سپاہیوں کا لڑاکا مزاج اُن کی بیویوں میں بھی سرایت کر گیا۔ پینزا کا کسان بیگی شیف کہتا ہے: ’’ستمبر میں سپاہیوں کی بیویوں کی طاقتور تحریک چلی، جو جلسوں میں حملوں کے حق میں بولتی تھیں۔‘‘ دوسرے صوبوں میں بھی یہی چیز دیکھی گئی۔ شہروں میں بھی اکثر سپاہیوں کی بیویاں ہی جوش دلانے کا کام کرتی تھیں۔
ورمینی چیف کے تخمینے کے مطابق کسان دنگوں میں سپاہیوں کے سبقت لے جانے کے واقعات مارچ میں 1 فیصد، اپریل میں 8 فیصد، ستمبر میں 12 فیصد اور اکتوبر میں 17 فیصد تھے۔ اِن اعداد و شمار کے بالکل درست ہونے کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن وہ عمومی رجحان کی نشاندہی بلا مغالطہ کرتے ہیں۔ سوشل انقلابی استادوں، قصباتی کلرکوں اور اہلکاروں کی مرتی ہوئی قیادت کی جگہ اب اُن سپاہیوں کی قیادت لے رہی تھی جو کسی رُکاوٹ کو نہیں جانتے تھے۔
اپنے وقت کا نمایاں جرمن مارکسی لکھاری پاروس (Parvus) ، جو جنگ کے دوران دولت کمانے اور اپنے اصول اور فراست کھو دینے میں کامیاب رہا، نے روسی سپاہیوں کا موازنہ کرائے کے قاتلوں، ڈکیتوں اور قرونِ وسطیٰ کے رہزنوں سے کیا ہے۔ ایسے موازنے کے لئے اِس حقیقت سے قطع نظر ضروری ہے کہ اِس تمام تر لاقانونیت کے ذریعے روسی سپاہی تاریخ کے عظیم ترین زرعی انقلاب کے عملی اوزار کا کردار ادا کر رہے تھے۔
جب تک تحریک نے قانونیت سے یکسر ناطہ نہیں توڑا تھا، دیہاتوں میں فوجی دستے بھیجنے کا کردار علامتی تھا۔ عملی طور پر صرف کاسک ہی تھے جنہیں تعزیزی دستوں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ 11 اکتوبر کو لبرل پرچہ ’رسکوئی سیلو‘ کہتا ہے، ’’سرڈوبسکی کے علاقے میں چار سو کاسک بھیجے گئے… اِس اقدام سے انتشار دب گیا؛ کسانوں نے اعلان کر دیا کہ وہ آئین ساز اسمبلی کا انتظار کریں گے۔‘‘ چار سو کاسک یقینا آئین ساز اسمبلی کے حق میں ایک دلیل تھے۔ لیکن کاسکوں کی کمی تھی، مزید برآں وہ بھی مشکوک تھے۔ اِسی دوران ’’فیصلہ کن اقدامات‘‘ اٹھانے پر حکومت زیادہ سے زیادہ مجبور ہو تی چلی جا رہی تھی۔ ورمینی چیف نے انقلاب کے پہلے چار ماہ کے دوران کسانوں کے خلاف فوجی دستے بھیجنے کے 17 واقعات شمار کئے ہیں؛ جولائی اور اگست میں 39 واقعات؛ ستمبر اور اکتوبر میں 105 واقعات۔
مسلح قوت کے ذریعے کسانوں کو کچلنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف تھا۔ اکثریتی واقعات میں سپاہی بھی کسانوں کے ساتھ مل گئے۔ پوڈولسک کا کمیسار اطلاع دیتا ہے: ’’فوجی تنظیمیں اور انفرادی یونٹ بھی سماجی و معاشی سوالات کے فیصلے کر رہے ہیں، کسانوں کو قبضے کرنے اور جنگل کاٹنے پر مجبور (؟) کر رہے ہیں اور بعض اوقات کچھ علاقوں میں وہ خود لوٹ مار میں شریک ہیں… تشدد کے اقدامات کو کچلنے سے مقامی فوجی یونٹ انکاری ہیں… ‘‘ یوں دیہی بغاوت نے فوج کے آخری نٹ بولٹ بھی ڈھیلے کر دئیے۔ معمولی سا امکان بھی موجود نہیں تھا کہ مزدوروں کی قیادت میں جاری کسان جنگ کے حالات میں فوج خود کو شہروں میں سرکشی کے خلاف استعمال کئے جانے کی اجازت دے گی۔
کسانوں نے مزدوروں اور سپاہیوں سے پہلی بار بالشویکوں کے بارے میں کچھ نیا سیکھا، کچھ ایسا جو اُس سے مختلف تھا جو سوشل انقلابیوں نے انہیں بتایا تھا۔ لینن کا نام اور اُس کے نعرے دیہات میں سرایت کر گئے۔ تاہم بالشویکوں کے خلاف بتدریج بڑھتی ہوئی شکایات جعلی تھیں یا مبالغہ آرائی پر مبنی تھیں۔ زمینداروں کو اِس طریقے سے مدد کے زیادہ یقینی ہو جانے کی امید تھی۔ ’’ اوسٹروئسکی کے علاقے میں بالشویک پراپیگنڈے کے نتیجے میں انتشار کا مکمل راج ہے۔‘‘ صوبہ یفا سے خبر آتی ہے: ’’دیہات کمیٹی کا ایک رکن ویسیلیف بالشویکوں کا پروگرام تقسیم کر رہا ہے اور زمیندار کو پھانسی دینے کی بات کھلے عام کر رہا ہے۔‘‘ ’’ڈاکہ زنی سے حفاظت‘‘کی خواہش میں نووگوروڈ کا زمیندار پولونک یہ اضافہ کرنا نہیں بھولتا: ’’مجالس عاملہ بالشویکوں سے لبریز ہیں۔‘‘ اِس کا مطلب ہے کہ وہ زمینداروں کے لئے ناموافق ہیں۔ سمبرسک کا کسان زمورن یاد کرتا ہے، ’’اگست میں مزدوروں نے دیہاتوں کے دورے شروع کر دئیے۔ وہ بالشویک پارٹی کے لئے ایجی ٹیشن اور اِس کا پروگرام بیان کرنے لگے۔‘‘ سیبزھ کے علاقے سے ایک تفتیش کار پیٹروگراڈ سے ایک 26 سالہ جولاہے ٹاٹیانا میخالووا کی آمد کے بارے میں بتاتا ہے، جو ’’لوگوں کو عبوری حکومت کو اکھاڑ پھینکے کو کہتا تھا اور لینن کی حکمت عملی کی تعریف کرتا تھا۔‘‘ اگست کے آخر میں صوبہ سمالنسک میں کسان کوٹوف کے مطابق ’’ہم لینن میں دلچسپی لینے لگے، لینن کی آواز سننے لگے… ‘‘ تاہم دیہی مقامی حکومت کے اداروں میں ابھی تک سوشل انقلابیوں کی وسیع اکثریت منتخب کی جا رہی تھی۔
بالشویک پارٹی کسان کے قریب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 10 ستمبر کو نیوسکی نے مطالبہ کیا کہ پیٹروگراڈ کمیٹی ایک کسان پرچے کی اشاعت کا آغاز کرے: ’’ہمیں چیزوں کو ٹھیک کرنا ہو گا تاکہ فرانسیسی کمیون کے تجربے سے نہ گزرنا پڑے، جہاں پیرس کو کسان نہیں سمجھتے تھے اور کسانوں کو پیرس نہیں سمجھتا تھا۔‘‘ جلد ہی اخبار بئیڈنوٹا(Byednot-E1) شائع ہونے لگا۔ تاہم پھر بھی کسانوں میں خالصتاً پارٹی کام غیر اہم رہا۔ بالشویک پارٹی کی قوت اُس کے تکینکی وسائل یا مشینری میں نہیں بلکہ درست حکمت عملی میں مضمر تھی۔ جیسے ہوا کے جھونکے بیجوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر دیتے ہیں، انقلاب کے گرد باد لینن کے نظریات کو بکھیر رہے تھے۔
ٹویر کا ایک کسان وروبیف یاد کرتا ہے، ’’ستمبر تک نہ صرف سپاہی بلکہ خود غریب کسان بھی جلسوں میں اکثر اور زیادہ بے باکی سے بالشویکوں کی حمایت کرنے لگے تھے۔‘‘ سمبرسک کا کسان زمورن بھی تصدیق کرتا ہے: ’’غریبوں اور کچھ درمیانے طبقے کے کسانوں میں بھی لینن کا نام ہر کسی کی زبان پر ہوتا تھا؛ وہ صرف لینن کی بات کرتے تھے۔‘‘ نووگوروڈ کا ایک کسان گریگوریف بتاتا ہے کہ کیسے سوشل انقلابی گاؤں میں بالشویکوں کو ’’غدار‘‘ اور ’’غاصب‘‘ قرار دیتے تھے اور کیسے کسان گرجتے تھے: ’’ بھاڑ میں جاؤ! ہمیں اب جھوٹی کہانیاں سنانا بند کرو۔ زمین کہاں ہے؟ بس بہت ہو گیا! ہمیں بالشویک ہی چاہئیں!‘‘ ویسے ممکن ہے کہ یہ اور اِس جیسے دوسرے بہت سے واقعات کا تعلق اکتوبر کے بعد کے عرصے سے ہو۔ کسان کی یادداشت میں حقائق تو جم جاتے ہیں لیکن تاریخی ترتیب میں وہ کمزور ہوتا ہے۔
سپاہی چینی نوف، جو بالشویک لٹریچر کا صندوق بھر کے صوبہ اورل میں اپنے گھر واپس آیا تھا، کو اُس کے آبائی دیہات نے خوش آمدید نہیں کہا تھا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ صندوق میں شاید جرمن پیسہ ہے۔ لیکن اکتوبر تک ’’دیہاتی مرکزے میں 700 اراکین اور بہت سی رائفلیں تھی اور یہ ہمیشہ سوویت اقتدار کے دفاع کے لئے آتا تھا۔‘‘ بالشویک وراچیف بتاتا ہے کہ کیسے خالصتاً زرعی صوبے وورونزھ کے کسان ’’سوشل انقلابی خمار سے بیدار ہوئے اور ہماری پارٹی میں دلچسپی لینے لگے۔ جس وجہ سے گاؤں اور قصبے میں ہمارے پرچے کے بہت سے خریدار تھے اور ہماری کمیٹی کے چھوٹے سے صدر دفتر میں بہت سے ہمدرد آنے لگے۔‘‘ایوانوف کی یادداشتوں کے مطابق صوبہ سمولنسک میں ’’دیہاتوں میں بالشویک شاذونادر ہی ملتے تھے۔ کوئی بالشویک پرچے نہیں تھے۔ لیف لیٹ بھی کبھی کبھار ہی تقسیم کئے جاتے تھے… پھر بھی جوں جوں اکتوبر قریب آتا گیا، دیہاتوں کا بالشویکوں کی طرف جھکاؤ اُسی قدر بڑھتا گیا۔‘‘
ایونوف ہی لکھتا ہے، ’’اُن علاقوں میں جہاں اکتوبر سے قبل سوویت میں بالشویکوں کا اثرورسوخ تھا، زمینداروں کی جاگیروں پر حملوں کا عنصر یا تو نمودار ہی نہیں ہوا، یا پھر معمولی حد تک ہی نمودار ہوا۔‘‘ تاہم ہر جگہ یہی معاملہ نہیں تھا۔ مثلاً ٹاڈیوش کہتا ہے، ’’زمین کی کسانوں کو منتقلی کے مطالبے کو موغیلیف کے علاقے کے کسان عوام نے غیرمعمولی تیزی سے اپنایا۔ اُنہوں نے جاگیریں اجاڑ دیں، کچھ واقعات میں اُنہیں آگ لگا دی، فصلوں اور جنگلات پر قبضہ کر لیا۔‘‘ دونوں بیانات کے درمیان بنیادی طور پر کوئی تضاد نہیں ہے۔ بالشویکوں کی عمومی ایجی ٹیشن نے بلاشبہ ملک میں خانہ جنگی کو فروغ دیا۔ لیکن جہاں کہیں بالشویک اپنی مضبوط جڑیں بنانے میں کامیاب رہے، اُنہوں نے کسانوں کے حملے کو کمزور کئے بغیر اُس کی شکلوں کو باقاعدہ اور تباہی کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی۔‘‘
زمین کا سوال تنہا نہیں تھا۔ کسان نے جنگ کے آخری عرصے میں خریدار اور فروخت کار، دونوں کی حیثیت سے نقصان اٹھایا تھا۔ اُس سے مقرر شدہ قیمت پر غلہ لے لیا جاتا تھا اور صنعتی مصنوعات زیادہ سے زیادہ ناقابل حصول ہوتی جا رہی تھیں۔ دیہات اور شہر کے باہمی معاشی تعلق کا یہ مسئلہ، جسے بعد ازاں ’’قینچی‘‘ [۹] کے نام سے سوویت معیشت کا مرکزی مسئلہ بننا تھا، ابھی سے اپنا خوفناک چہرہ ظاہر کررہا تھا۔ کسانوں سے بالشویک کہہ رہے تھے: سوویتوں کو اقتدار پر قبضہ کرنا ہوگا، تمہیں زمین دینا ہوگی، جنگ ختم کرنا ہو گی، صنعت میں حالت جنگ کی کیفیت کا خاتمہ کرنا ہوگا، پیداوار پر مزدوروں کا کنٹرول قائم کرنا ہوگا اور صنعت و زراعت کے درمیان قیمتوں کے تعلق کو باقاعدہ کرنا ہوگا۔ یہ حل کافی مختصر تھا، لیکن راستے کی نشاندہی نہیں کرتا تھا۔ 10 اکتوبر کو فیکٹری کمیٹیوں کے ایک اجلاس میں ٹراٹسکی نے کہا، ’’ایوکسنٹیف کے چھوٹے مشیر ہی ہمارے اور کسانوں کے درمیان حائل ہیں۔ ہمیں اِس دیوار کو گرانا ہوگا۔ ہمیں دیہات کے سامنے وضاحت کرنا ہو گی کہ مزدوروں کی جانب سے دیہات کو زرعی اوزار فراہم کر کے کسانوں کی مدد کرنے کی تمام کوششیں اُس وقت تک بے سود رہیں گی جب تک پیداوار پر مزدوروں کا کنٹرول قائم نہیں ہو جاتا۔‘‘ اجلاس نے کسانوں کے نام اِس رائے پر مبنی ایک اعلانِ عام جاری کیا۔
اُن دنوں پیٹروگراڈ کے مزدوروں نے فیکٹریوں میں خصوصی کمیشن قائم کئے، جو ’’مزدور کی طرف سے کسان کے لئے‘‘ کے نام سے پکارے جانے والے ایک خصوصی مرکز کے لئے دھاتیں، خراب پرزے اور ٹکڑے جوڑتے تھے۔ اِس سکریپ لوہے کا استعمال سادہ زرعی اوزار اور پرزے بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یوں پیداوار کے عمل میں یہ مزدوروں کی پہلی منصوبہ بند مداخلت تھی، جو وسعت میں تو چھوٹی تھی اور معاشیات پر ابھی ایجی ٹیشن کے مقاصد غالب تھے، تاہم اِس نے مستقبل قریب کے لئے ایک امکان کھول دیا۔ دیہات کے ممنوعہ شعبے میں بالشویکوں کے اِس داخلے سے خوفزدہ ہو کر کسان مجلس عاملہ نے اِس نئی پیش قدمی کو اپنے اختیار میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن یہ ناکارہ مصالحت پسند اب شہر کے میدان میں بالشویکوں کا مقابلہ کرنے کی حالت میں نہیں تھے، جبکہ دیہاتوں میں زمین اُن کے پیروں کے نیچے سے پہلے ہی سرک رہی تھی۔
ٹویر کا ایک کسان وروبیف لکھتا ہے کہ بالشویک ایجی ٹیشن نے ’’غریب کسانوں کو اِس قدر بیدار کر دیا کہ ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں: اگر اکتوبر انقلاب اکتوبر میں نہ ہوتا تو نومبر میں ہو ہی جاتا۔‘‘بالشویکوں کی سیاسی قوت کا یہ رنگین تذکرہ اُس کی تنظیمی کمزوری کی نفی نہیں کرتا۔ ایسے غیرمعمولی عدمِ توازن سے ہی انقلاب آگے بڑھتا ہے۔ اِسی وجہ سے اِس کی حرکت کو رسمی جمہوریت کے ڈھانچے میں ٹھونسا نہیں جا سکتا۔ اکتوبر یا پھر نومبر میں زرعی انقلاب کو مکمل کرنے کے لئے کسانوں کے پاس سوشل انقلابی پارٹی ہی کے بکھرتے ہوئے تانے بانے کو استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ کسان بغاوت کے دباؤ کے تحت بالشویکوں کی پیروی اور اُن کا مقابلہ کرتے ہوئے سوشل انقلابی پارٹی کے بائیں بازو کے عناصر ایک جلد اور بے قاعدہ انداز میں ایک گروہ تشکیل دے رہے تھے۔ آنے والے مہینوں میں کسانوں کی سیاسی تبدیلی کو بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں کے چمکدار پرچم تلے رونما ہونا تھا۔ یہی عارضی پارٹی دیہی بالشویزم کی ایک منعکس شدہ اور غیرمستحکم شکل اور کسان جنگ سے پرولتاری انقلاب تک کا عارضی پُل بن جائے گی۔
زرعی انقلاب کو اپنے مقامی ادارے تخلیق کرنا تھے۔ وہ کیسے دِکھتے تھے؟ دیہات میں کئی طرح کی تنظیمیں موجود تھیں: قصبے کی عاملہ کمیٹی اور زمین و خوراک کمیٹیوں جیسے ریاستی ادارے؛ سوویتوں جیسے سماجی ادارے؛ پارٹیوں جیسے خالصتاً سیاسی ادارے؛ مقامی حکومت کے ادارے (Zemstvos)۔ کسان سوویتیں ابھی تک صرف صوبائی یاکسی حد تک علاقائی سطح پر قائم ہوئی تھیں۔ قصبے کی سطح پر تھوڑی سی سوویتیں تھیں۔ مقامی حکومت کے ادارے جڑیں پکڑنے میں سست تھے۔ دوسری طرف شاید پہلی نظر میں بہت عجیب لگے، لیکن اپنی ساخت میں ریاستی ادارے ہونے کے باوجود زمین اور عاملہ کمیٹیاں کسان انقلاب کے ادارے بن گئیں۔
حکومتی اہلکاروں، زمینداروں، پروفیسروں، سائنسی ماہرین زراعت، سوشل انقلابی سیاستدانوں اور مشکوک کسانوں کی ایک آمیزش پر مشتمل مرکزی زمین کمیٹی درحقیقت زرعی انقلاب کی کلیدی بریک بن گئی۔ صوبائی کمیٹیوں نے بھی حکومتی پالیسی کی موصل تاروں کا کردار ترک نہیں کیا۔ علاقائی کمیٹیاں کسانوں اور اوپر کے لوگوں کے درمیان جھولتی رہیں۔ تاہم کسانوں کی جانب سے منتخب شدہ اور دیہات کی نظروں کے بالکل سامنے کام کرنے والی قصبہ کمیٹیاں زرعی تحریک کے اوزار بن گئیں۔ اِس کیفیت سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ اِن کمیٹیوں کے اراکین عام طور پر سوشل انقلابیوں کے طور پر درج ہوتے تھے۔ وہ مالک کی جاگیر کی بجائے کسان کی کٹیا سے ہم آہنگ تھیں۔ کسان اپنی زمین کمیٹیوں کے ریاستی کردار کو بالخصوص عزیز جانتے تھے اور اِسے خانہ جنگی کا استحقاق گردانتے تھے۔
مئی میں ہی سارانسکی کے علاقے میں پولیس کا ایک اہلکار شکایت کرتا ہے، ’’کسان کہتے ہیں کہ وہ قصبہ کمیٹی کے سوا کسی کو نہیں جانتے۔وہ کہتے ہیں کہ علاقائی اور شہری کمیٹیاں زمینداروں کے لئے کام کرتی ہیں۔‘‘ نزھنی گوروڈ کے کمیسار کے مطابق ’’کچھ قصبہ کمیٹیوں کی جانب سے کسانوں کے آزادانہ عمل کی مخالفت کی کوششیں تقریباً ہمیشہ ناکام ہوتی ہیں اور کمیٹی کی رکنیت کی تبدیلی پر منتج ہوتی ہیں۔‘‘ پسکوف سے تعلق رکھنے والے ایک کسان ڈینیسوف کے مطابق ’’کمیٹیاں ہمیشہ زمیندار کے خلاف کسان تحریک کا ساتھ دیتی تھیں کیونکہ کسانوں اور سپاہیوں کا سب سے انقلابی حصہ اُن میں منتخب ہوتا تھا۔‘‘
علاقائی اور بالخصوص صوبائی کمیٹیوں کی قیادت عہدیدار ’’دانشوران‘‘ کرتے تھے، جو ہمیشہ زمینداروں کے ساتھ پرامن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ماسکو کا کسان یرکوف لکھتا ہے، ’’کسان دیکھ رہے تھے کہ وہی کوٹ تھا جسے صرف اُلٹا دیا گیا تھا، وہی طاقت تھی جس کا نام مختلف تھا۔‘‘ کرسک کا کمیسار اطلاع دیتا ہے، ’’علاقائی کمیٹیوں ، جو ہمیشہ عبوری حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتی ہیں، کے نئے انتخابات کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ تاہم کسانوں کے لئے علاقائی کمیٹیوں پر اثر انداز ہونا بہت مشکل تھا۔ سوشل انقلابیوں نے دیہاتوں اور قصبوں کے سیاسی تعلقات پر تسلط برقرار رکھا، یوں کسان ایک ایسی پارٹی کے ذریعے عمل پر مجبور تھے جس کا کلیدی مقصد پرانے کوٹ کو ہی اُلٹنا تھا۔
مارچ کی سوویتوں کی طرف پہلی نظر میں حیرت انگیز معلوم ہونے والی کسانوں کی سردمہری کی وجوہات بہت گہری تھیں۔ زمین کمیٹی کی طرح سوویت کوئی خصوصی تنظیم نہیں بلکہ انقلاب کا ایک ہمہ گیر ادارہ تھی۔عمومی سیاست کے میدان میں قیادت کے بغیر کسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ سوال صرف یہ تھا کہ یہ قیادت کہاں سے آئے گی۔ صوبائی اور علاقائی کسان سوویتوں کی تخلیق کوآپریٹو تنظیموں کی جانب سے اور بڑی حد تک اُن کی قیمت پر کسان انقلاب کے اداروں کے طور پر نہیں بلکہ کسانوں پر قدامت پسند محافظت کے اداروں کے طور پر کی گئی تھی۔ دیہاتیوں نے اِن دائیں بازو کی سوشل انقلابی سوویتوں کو حکام کے خلاف ڈھال کے طور پر برداشت کیا۔ لیکن اپنے علاقوں میں اُنہوں نے زمین کمیٹیوں کو ہی ترجیح دی۔
دیہات کو خود کو ’’خالصتاً کسان مفادات‘‘ کے حلقے میں بند کرنے سے روکنے کے لئے حکومت نے جلدی سے مقامی حکومت کے جمہوری ادارے قائم کئے۔کسان کو چوکّنا کرنے کو یہی کافی تھا۔ اکثر زبردستی انتخابات کروانے پڑتے تھے۔ پینزا کا کمیسار بتاتا ہے، ’’لاقانونیت کے واقعات انتخابات میں گڑبڑ پر منتج ہوتے تھے۔‘‘ صوبہ منسک میں کسانوں نے قصبے کے انتخابی کمیشن کے صدر شہزادہ ڈرٹسکوئی لیوبٹسکوئی کو فہرستوں میں ردوبدل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ کسانوں کے لئے اپنی قدیم لڑائی کے جمہوری حل کے بارے میں اُس سے مفاہمت آسان نہیں تھی۔ بگلمنسک کا کمیسار اطلاع دیتا ہے: ’’ملک میں مقامی حکومت کے اداروں کے انتخابات منصوبے کے مطابق نہیں ہو پائے ہیں… سارے کے سارے انتخاب کنندگان کسان ہیں۔ مقامی پڑھے لکھے طبقے، بالخصوص زمینداروں سے واضح کشیدگی موجود ہے۔‘‘ مقامی حکومت کا ادارہ اِس شکل میں کمیٹی سے تھوڑا ہی مختلف تھا۔ موغیلیف کے 23 ستمبر کے اخبار میں ہم پڑھتے ہیں: ’’جب تک کہ کسانوں کو زمین کی فوری منتقلی میں معاونت کا وعدہ نہ کیا جائے، دیہات میں فکری کام میں خطرہ موجود ہے۔‘‘ جب آبادی کے بنیادی طبقات کے درمیان مفاہمت یا راہ رسم تک بھی ناممکن ہو جائے تو جمہوری اداروں کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔ مقامی حکومت کے اداروں کی مردہ پیدائش نے بغیر کسی شک و شبہ کے آئین ساز اسمبلی کے انہدام کی پیش بینی کر دی۔
نزھنی گوروڈ کا کمیسار اطلاع دیتا ہے، ’’مقامی کسانوں کی اٹل رائے ہے کہ تمام دیوانی قوانین اپنی قوت کھو چکے ہیں اور تمام قانونی رشتوں کی ضابطہ کاری اب کسان تنظیموں کی جانب سے کی جانی چاہئے۔‘‘ کئی علاقوں میں پولیس کا اختیار حاصل کرتے ہوئے قصبہ کمیٹیاں مقامی قوانین جاری کرتی تھیں، کرایوں کا تعین کرتی تھیں، اجرتوں کو باقاعدہ بناتی تھیں، جاگیروں پر اپنے نگران مقرر کرتی تھیں، زمین، فصلوں، جنگلات، لکڑیوں، اوزاروں کو اپنے قبضے میں لیتی تھیں،زمینداروں سے مشینری چھین لیتی تھیں اور تلاشیاں اور گرفتاریاں کرتی تھیں۔ صدیوں کی آواز اور انقلاب کے تازہ تجربے نے کسان سے کہا کہ زمین کا سوال ہی اقتدار کا سوال ہے۔ زرعی انقلاب کو کسان آمریت کے ادارے درکار تھے۔ زمیندار، لبرل کمیسار اور مصالحت پسند سیاستدان جس ’’انتشار‘‘ کی شکایت کرتے تھے وہ درحقیقت دیہات میں انقلابی آمریت کا پہلا مرحلہ تھا۔ علاقوں میں زرعی انقلاب کے خصوصی اور خالصتاً کسان اداروں کی تشکیل کی ضرورت کا دفاع لینن نے 1905-6 ء کے واقعات کے دوران کیا تھا۔ اُس نے سٹاک ہوم میں پارٹی کانگریس میں اصرار کیا تھا، ’’کسان انقلابی کمیٹیاں ہی وہ واحد راستہ ہیں جس پر کسان تحریک آگے بڑھ سکتی ہے۔‘‘ مزارعوں نے لینن کو تو نہیں پڑھا تھا لیکن لینن مزارعوں کی سوچ کو پڑھنا بخوبی جانتا تھا۔
دیہاتوں نے سوویتوں کی طرف اپنا رویہ موسم خزاں میں ہی جا کر بدلا، جب خود سوویتوں نے بھی اپنی سیاسی روش تبدیل کر لی تھی۔ علاقوں یا صوبائی شہروں میں بالشویک یا بائیں بازو کی سوشل انقلابی سوویتوں نے اب کسانوں کو روک نہیں رکھا تھا، بلکہ اِس کے برعکس اُنہیں آگے دھکیل رہی تھیں۔ پہلے مہینوں کے دوران مصالحت پسند سوویتوں کی طرف دیہات ایک قانونی آڑ کے لئے دیکھتے تھے، لیکن اب اُنہیں انقلابی سوویتوں میں ایک حقیقی قیادت ملنے لگی تھی۔ ساراٹوف کے کسانوں نے ستمبر میں لکھا: ’’سارے روس میں مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کے نمائندگان کی سوویتوں کو اقتدار سنبھال لینا چاہئے۔ یہی زیادہ محفوظ ہو گا۔‘‘ موسم خزاں میں جا کر ہی کسانوں نے اپنے زمین کے پروگرام کو ’اقتدار سوویتوں کے پاس‘ کے نعرے سے جوڑا۔ لیکن یہاں بھی اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ اِن سوویتوں کی قیادت کس نے اور کیسے کرنا تھی۔
روس میں زرعی انتشاروں کی عظیم روایات، سادہ مگر واضح پروگرام اور مقامی شہید اور سورما تھے۔ 1905 ء کا دیوہیکل تجربہ دیہاتوں میں اپنے نشان چھوڑے بغیر نہیں گزرا تھا۔ اِس میں ہمیں فرقہ پرور نظریات کا بھی اضافہ کرنا ہو گا، جنہوں نے دسیوں لاکھ کسانوں کو اپنے گرفت میں لے رکھا تھا۔ ایک باخبر مصنف لکھتا ہے، ’’میں بہت سے کسانوں کو جانتا تھا جنہوں نے … اکتوبرانقلاب کو اپنی مذہبی امیدوں کی براہ راست تکمیل کے طور پر قبول کیا۔‘‘ تاریخ کی تمام کسان بغاوتوں میں سے 1917ء کی روسی کسانوں کی تحریک بلاشبہ سیاسی نظریات کے لئے سب سے زیادہ زرخیز تھی۔تاہم پھر بھی اگر یہ ایک آزادانہ قیادت تخلیق کرنے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے قابل نہیں تھی تو اِس کی وجوہات ایک الگ تھلگ، قلیل اور معمول کی حرفت کی فطرت میں مل سکتی ہیں۔ کسان کے معاشی مقام نے اُس کا سارا خون نچوڑنے کے باوجود بدلے میں اُسے عمو می سطح پر سوچنے کی صلاحیت نہیں دی تھی۔
ایک کسان کی سیاسی آزادی کا عملی مطلب مختلف شہری پارٹیوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔لیکن یہ انتخاب بھی پہلے سے نہیں کیا جاتا ہے۔ کسانوں نے اپنی بغاوت کے ذریعے بالشویکوں کو اقتدار کی طرف دھکیلا۔ لیکن اقتدار پر قبضے کے بعد کسانوں کے زرعی انقلاب کو ایک مزدور ریاست کے قوانین میں تبدیل کر کے ہی بالشویک اُنہیں جیت سکتے تھے۔
یاکوولیف کی رہنمائی میں محققین کے ایک گروہ نے فروری سے اکتوبر تک زرعی تحریک کے ارتقا کی خصلت نگاری کرتے ہوئے مواد کی انتہائی قابل قدر درجہ بندی کی ہے۔ ہر مہینے غیرمنظم کاروائیوں کو 100 مقرر کرتے ہوئے اِن محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ اپریل میں 33 منظم تصادم ہوئے؛ جون میں 86؛ جولائی میں 120۔ جولائی دیہات میں سوشل انقلابی تنظیموں کی سب سے زیادہ کامیابی کا وقت تھا۔ اگست میں ہر سو غیرمنظم تصادموں کے مقابلے میں صرف 62 منظم تھے، اکتوبر میں صرف 14۔ اِن انتہائی معلوماتی اعدادوشمار سے یاکوولیف بالکل غیرمتوقع نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ ’’اگست تک تحریک بتدریج منظم ہوتی چلی گئی؛ تاہم موسم خزاں میں اِس نے زیادہ سے زیادہ ’خودرو‘ [۱۰] کردار حاصل کر لیا۔‘‘ایک اور محقق ورمینی چیفبھی اِسی نتیجے پر پہنچتا ہے: ’’اکتوبر سے پہلے کے عرصے میں منظم تحریکوں کی تعداد میں کمی اُن مہینوں میں تحریکوں کی خودروی کی گواہی دیتی ہے۔‘‘ اگر یہاں ’خودروی‘ کا موازنہ ’شعوری‘ سے ایسے کیا گیا ہے جیسے بینائی کا اندھے پن سے کیا جاتا ہے (اور یہی واحد سائنسی موازنہ ہے) تو ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا ہو گا کہ کسان تحریک کا شعور اگست تک بڑھتا گیا اور پھر تیزی سے گرتے ہوئے اکتوبر کی سرکشی کے وقت بالکل ختم ہو گیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہمارے محققین یہ نہیں کہنا چاہتے۔ سوال پر تھوڑا غور کیا جائے تو سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ آئین ساز سمبلی کے لئے کسان انتخابات اپنے بظاہر ’’منظم‘‘ کردار کے باوجود زمینداروں کے خلاف اُن ’’غیرمنظم‘‘ مہمات سے کہیں زیادہ ’’خودرو‘‘ تھے جن میں ہر کسان کو پتا ہوتا تھا کہ اُسے کیا چاہئے۔
موسم خزاں کے بحران میں کسانوں نے خودروی کے لئے شعوری عمل کو نہیں بلکہ خانہ جنگی کے لئے مصالحت پسندانہ قیادت کو ترک کیا۔ تنظیم میں گراوٹ بالکل سطحی خاصیت تھی؛ مصالحت پسندانہ تنظیم تباہ ہو گئی، لیکن جو کچھ بچا وہ خالی جگہ بالکل نہیں تھی۔ زیادہ انقلابی عناصر، یعنی سپاہیوں، جہازیوں اور مزدوروں کی براہِ راست قیادت میں کسان ایک نئے راستے پر گامزن ہو گیا۔ فیصلہ کن سرگرمیاں کرتے وقت کسان اکثر ایک عوامی جلسہ بلاتے تھے اور حتیٰ کہ یہ زحمت بھی اٹھاتے تھے منظور ہونے والی قرارداد پر گاؤں کے تمام لوگ دستخط کریں۔ ایک تیسرا محقق شیستاکوف لکھتا ہے: ’’کسان تحریک کے موسمِ خزاں کے عرصے میں حملوں کے ساتھ جو چیز سب سے زیادہ منظر پر نمودار ہوتی تھی وہ ’پرانا کسان اکٹھ‘ تھا… اِسی اکٹھ کے ذریعے کسان قبضے میں لیا گیا سامان تقسیم کرتے تھے اور زمینداروں، نگرانوں، علاقائی کمیساروں اور ہر طرح کی تعزیزی مہمات سے مذاکرات کرتے تھے۔‘‘
اِن موادوں میں اِس سوال کا کوئی براہِ راست جواب نہیں ملتا کہ ایک خانہ جنگی کی طرف کسانوں کی رہنمائی کرنے والی قصبہ کمیٹیاں اب منظر سے غائب کیوں ہو گئیں۔ لیکن وضاحت خود ہی مل جاتی ہے۔ ایک انقلاب اپنے اداروں اور اوزاروں کو تیزی سے گھسا دیتا ہے۔ اِس حقیقت کے پیش نظر کہ زمین کمیٹیاں نیم پرامن کاروائیاں کر رہی تھیں، وہ براہِ راست حملوں کے لئے زیادہ کارآمد نہیں تھیں۔ اِس عمومی وجہ کے ساتھ ایک خصوصی وجہ بھی تھی، جو کچھ کم بھاری نہ تھی۔ زمیندار سے براہِ راست جنگ کا راستہ اپناتے ہوئے کسانوں کو اچھی طرح پتا تھا کہ شکست کی صورت میں اُن کا کیا حشر ہو گا۔ ذمہ داری کو منتشر کرنا ایک تدبیری ضرورت بن گیا۔ اِس کی سب سے موزوں صورت ’’میر‘‘ تھا۔ کسانوں کی روایتی آپسی بے اعتباری بھی بلاشبہ اِسی سمت میں سرگرم عمل تھی۔ اب یہ زمیندار کے مال پر براہِ راست قبضے اور تقسیم کا سوال تھا؛ ہر کوئی اِس میں حصہ لینا چاہتا تھا اور اپنا حق کسی کو دینا نہیں چاہتا تھا۔ یوں جدوجہد کا بلند ترین تناؤ اکٹھ کی شکل میں قدیم کسان جمہوریت کے حق میں نمائندہ اداروں کی عارضی معزولی پر منتج ہوا۔
کسان تحریک کے تعین میں بالشویک محققین کے قلم سے ہونے والی فاش غلطی شاید بالخصوص حیران کن لگے۔ لیکن ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ نئی قسم کے بالشویک ہیں۔ سوچ کی بیوروکریٹائزیشن ناگزیر طور پر کسانوں پر اوپر سے مسلط کئے جانے والے اداروں کی قدر کو بڑھانے اور کسانوں کے اپنے تخلیق کئے گئے اداروں کی قدر کو گھٹانے پر منتج ہوئی ہے۔ لبرل پروفیسر کی طرح پڑھا لکھا اہلکار بھی سماجی عوامل کو انتظامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ [سوویت یونین میں] ’ زراعت کے پیپلز کمیسار‘ کے طور پر بعد ازاں یاکوولیف نے بھی ’’مکمل اجتماعیت کاری‘‘ [۱۱] متعارف کرواتے ہوئے ایک زیادہ وسیع اور ذمہ دار شعبے میں کسانوں کی طرف اُسی افسرشاہانہ طرز فکر کا مظاہرہ کیا۔
لیکن ابھی ہم مکمل اجتماعیت کاری کی اِس غلطی سے پورے تیرہ سال پیچھے ہیں۔ یہ ابھی صرف جاگیروں کی ضبطی کا سوال ہے۔ 134,000 زمیندار ابھی تک اپنی 1 کروڑ 80 لاکھ ڈسیاٹن زمین کے لئے لرزاں ہیں۔ سب سے بری حالت چوٹی والوں کی ہے، قدیم روس کے وہ 30 ہزار نواب جو 7 کروڑ ڈسیاٹن (فی کس اوسطاً 2 ہزار ڈسیاٹن) کے مالک ہیں۔ شاہی کاردار روڈزیانکو کو ایک نواب بوبوریکن لکھتا ہے: ’’میں ایک زمیندار ہوں اور میری عقل تسلیم نہیں کر سکتی کہ مجھے میری زمین سے محروم کیا جانا چاہئے، وہ بھی سوشلسٹ تعلیمات کاتجربہ کرنے کے ایک خلافِ عقل مقصد کے لئے۔‘‘لیکن یہی تو ایک انقلاب کا فریضہ ہوتا ہے کہ اُن کاموں کو انجام تک پہنچایا جائے جنہیں حکمران طبقات کی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔
تاہم زیادہ دور اندیش سمجھ چکے تھے کہ وہ اپنی جاگیریں رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ وہ کوشش بھی نہیں کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے جتنا جلدی اپنی زمینوں سے جان چھڑا لیں اتنا ہی اچھا ہے۔ اُن کے لئے آئین ساز اسمبلی سب سے بڑھ کر ایک ایسا حساب گھر تھی جہاں ریاست اُنہیں نہ صرف زمین بلکہ اُن کی ساری پریشانیوں کا بھی معاوضہ ادا کر دے گی۔
دوسری طرف کسان زمیندار، طفیلی اشرافیہ کے خاتمے پر تو راضی تھے، لیکن زمین کی ملکیت کا تصور اتھل پتھل ہو جانے سے خوفزدہ تھے۔ اپنے اجلاسو ں میں اُن کا دعویٰ تھا کہ ریاست اِتنی امیر ہے کہ زمینداروں کو [ زمین کے معاوضے کے طور پر] 12 ارب روبل ادا کر سکتی ہے۔ بطور ’’کسان‘‘ وہ اِس آس پر بیٹھے تھے کہ ایک بار جب عوام اِن جاگیروں کی قیمت ادا کر دیں تو موافق شرائط پر وہ اُنہیں استعمال میں لے آئیں۔
مالکان کو پتا تھا کہ معاوضے کی گنجائش ایک ایسی سیاسی مقدار تھی جس کا تعین ادائیگی کے وقت طاقتوں کا توازن ہی کر سکتا تھا۔ اگست کے آخر تک امید تھی کہ کورنیلوف کی طرز پر بلائی گئی آئین ساز اسمبلی، زرعی اصلاحات کے لئے ملیوکوف اور روڈزیانکو کے درمیان کا راستہ منتخب کرے گی۔ کورنیلوف کی ناکامی کا مطلب تھا کہ ملکیتی طبقات کھیل ہار چکے تھے۔
ستمبر اور اکتوبر میں ملکیتی طبقات ایسے ہی اپنے انجام کا انتظار کر رہے تھے جیسے کوئی مایوس کن حد تک بیمار آدمی موت کا انتظار کرتا ہے۔ کسانوں کے لئے موسمِ خزاں سیاست کا وقت تھا۔ فصلیں کٹ چکی ہیں، خوش فہمیاں بکھر چکی ہیں، صبر جواب دے رہا ہے۔ کام ختم کرنے کا وقت ہے۔ تحریک اپنے کناروں سے اُبل آتی ہے، تمام علاقوں پر حملہ آور ہوتی ہے، مقامی خصوصیات کا صفایا کر دیتی ہے، دیہاتوں کی تمام پرتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، قانون اور اعتدال کے ملاحظوں کا صفایا کر دیتی ہے، جارحانہ اور آتش مزاج ہو جاتی ہے، خود کو فولاد ، آگ، پستولوں اور بموں سے مسلح کر لیتی ہے، جاگیردارانہ محلات جلا دیتی ہے، زمینداروں کو نکال باہر کرتی ہے، زمین کو پاک کرتی ہے اور کچھ جگہوں پر خون سے اِس کی آبیاری کرتی ہے۔
اشرافیہ کی وہ آماجگاہیں اب قصہ ماضی ہوئیں جن کی مداح سرائی پُشکن، ٹرگینیف اور ٹالسٹائی کیا کرتے تھے۔ قدیم روس دھواں بن کے اُڑ چکا ہے۔ انگریزی باغات، مصوری، آبائی کتب خانوں، ٹومبوف شہر کے عظیم معبدوں، شہسواری کے گھوڑوں ، قدیم کندہ کاریوں اور افزائش نسل کے بیلوں کی بربادی پر لبرل پریس چیخ و پکار کر رہی ہے۔ اپنے آقاؤں کی ’’تہذیب‘‘ سے حساب چکتا کرنے کے کسان طریقہ کار کی ’’غارت گری‘‘ کی ذمہ داری بورژوا تاریخ دانوں نے بالشویکوں پر عائد کرنے کی کوشش کی ہے۔ درحقیقت روسی کسان دنیا میں بالشویکوں کے نمودار ہونے سے بھی کئی صدیوں پہلے کا کام مکمل کر رہا تھا۔ وہ اپنا ترقی پسند تاریخی فریضہ اُنہی ذرائع سے انجام دے رہا تھا جو اُسے دستیاب تھے۔ قرونِ وسطیٰ کی بربریت کا خاتمہ وہ انقلابی بربریت سے کر رہا تھا۔ مزید برآں نہ تو خود اُس نے، نہ اُس کے دادا نے، نہ ہی اُس کے پردادا نے کبھی کوئی رحم یا معافی دیکھی تھی!
جب فرانسیسی کسانوں کی آزادی سے ساڑھے چار صدیاں قبل جیکوری بغاوت [۱۲] کو جاگیرداروں نے کچلا تھا تو ایک پارسا راہب نے اپنی سرگزشت میں لکھا تھا: ’’اُنہوں نے ملک کے ساتھ اتنا برا کیا کہ سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے انگریزوں کے آنے کی ضرورت نہیں تھی؛ فرانس کی اشرافیہ نے جو کیا وہ انگریز کبھی بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ مئی 1871ء میں صرف بورژوازی ہی فرانسیسی اشرافیہ کی اِس وحشت سے آگے نکل جانے کے قابل ثابت ہوئی۔ مزدوروں کی رہنمائی کی بدولت روسی کسان اور کسانوں کی حمایت کی بدولت روسی مزدور، تہذیب اور انسانیت کے اِن محافظوں سے دوہرا سبق سیکھنے سے بچ گئے۔
بڑے پیمانے پر روس کے بنیادی طبقات کا باہمی تعلق ہی دیہات میں بھی نقل ہوا تھا۔جیسے مزدوروں اور سپاہیوں نے بورژوازی کے منصوبوں کے خلاف جا کر بادشاہت سے لڑائی لڑی تھی، ویسے ہی غریب کسانوں نے کولاکوں کی تنبیہوں پر دھیان نے دے کر جاگیروں کے خلاف بغاوت کی۔ جیسے مصالحت پسندوں کا خیال تھا کہ ملیوکوف درست تسلیم کرے گا تو ہی انقلاب مضبوطی سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو گا، ویسے ہی درمیانے کسانوں نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے سوچا کہ کولاک کے دستخط ہی قبضوں کو جائز بنائیں گے۔ اور بالآخر جیسے انقلاب مخالف ہونے کے باوجود بورژوازی نے اقتدار حاصل کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، ویسے ہی کولاکوں نے حملوں کی مخالفت کرنے کے باوجود اُن کے ثمرات سے فیضیاب ہونے سے انکار نہیں کیا۔ نہ تو اقتدار زیادہ دیر تک بورژوازی کے ہاتھوں میں رہ پایا، نہ ہی زمیندار کی منقولہ جائیداد زیادہ دیر تک کولاکوں کے ہاتھوں میں رہ پائی، وجوہات ایک سی تھیں۔
زرعی جمہوری اور بنیادی طور پر بورژوا انقلاب کی طاقت نے اپنا اظہار اِس حقیقت میں کیا کہ اِس نے کچھ وقت کے لئے دیہات کے طبقاتی تضادات کو دبا دیا: زمیندار پر حملے میں دہقان نے کولاک کی مدد کی۔ 20 ویں صدی کے کندھوں پر روسی تاریخ کی 17ویں، 18ویں اور 19ویں صدیاں چڑھ گئیں اور اُسے زمین پر جھکا دیا۔ تاہم اِس بورژوا نقلاب کی تاخیرزدگی کا اظہار اِس حقیقت میں ہوا کہ کسان جنگ نے بورژوا انقلابیوں کو آگے نہیں دھکیلا، بلکہ اُنہیں فیصلہ کن طور پر پیچھے رجعت کے کیمپ میں پھینک دیا۔ کل سخت مشقت کی سزا کاٹنے والا سریتیلی آج انتشار کے خلاف زمینداروں کی جاگیروں کا دفاع کر رہا تھا! یوں بورژوازی کے مسترد کردہ کسان انقلاب نے صنعتی پرولتاریہ سے ہاتھ ملا لئے۔ یوں 20ویں صدی نہ صرف خود پر منڈلانے والی پچھلی صدیوں سے آزاد ہوئی بلکہ اُن کے کندھوں پر چڑھ کر ایک نئی تاریخی سطح تک بلند ہو گئی۔ کسان اپنی زمین خالی کروا کے احاطہ بندی کر سکے، اِس کے لئے مزدور کا ریاست کی قیادت میں آنا ضروری تھا: یہی اکتوبر انقلاب کا سب سے سادہ کلیہ ہے۔

*****

[۱] پہلی جلد کے پہلے باب کا پہلا حاشیہ دیکھیں۔
[۲] 4 اگست 1789ء کو قومی آئین ساز اسمبلی نے اعلان کیا تھا کہ ’’جاگیردارانہ نظام کا یکسر خاتمہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یوں کم از کم اعلان کی حد تک کلیسا (پہلی اسٹیٹ) اور اشرافیہ (دوسری اسٹیٹ) کو حاصل خصوصی اختیارات اور حقوق کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔
[۳] یہاں اشرافیہ کی اصطلاح یورپ کی کلاسیکی جاگیرداری کے مخصوص معنوں میں استعمال ہوئی ہے، جو وسیع زمینوں پر اختیار رکھنے والی ایک مراعت یافتہ سماجی پرت تھی۔
[۴] نشاۃ ثانیہ کا تاریخ دان، لکھاری اور فلسفی، جسے جدید سیاسی سائنس کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔
[۵] ’عظیم روس‘ کی اصطلاح اصل روس یا وسطی روس کے اُن علاقوں کے لئے استعمال ہوتی ہے جہاں آبائی روسی لوگ آباد تھے۔
[۶] وہ کسان جو کمیون چھوڑ کر 1906ء کے سٹولیپن کے قانون کے تحت نجی زمین حاصل کر چکے تھے۔ اِس باب کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لئے جلد اول کے تیسرے اور بیسویں باب کو پڑھنا اور سمجھنا لازم ہے۔ اِس باب میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی وضاحت بھی اُن ابواب کے حاشیوں میں کی گئی ہے۔
[۷] ’میر‘ (Mir) سے مراد دیہی کمیون،پنچایت، کسان اکٹھ ۔
[۸] مخصوص دیہاتی قمیض اور جوتا۔
[۹] انقلاب کے بعد یہ سوویت معیشت کے کلیدی مسائل میں سے ایک تھا۔ صنعتی مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بلند ہو رہی تھیں اور زرعی اجناس کی قیمتیں کم ہو رہی تھیں۔ جب اِن دونوں قیمتوں کا گراف بنایا جاتا تھا تو قینچی بن جاتی تھی۔ اِسی لئے اسے ’’سوویت قینچی بحران‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
[۱۰] ’’خودرو‘‘ کے لئے روسی زبان میں جو لفظ استعمال ہوتا ہے اُسے انقلابی لٹریچر میں عام پر طور پر طبقاتی شعور، نظرئیے، قیادت اور پروگرام پر مبنی تحریکوں کے متضاد کے طور پر لیا جاتا ہے۔
[۱۱] ’’Complete Collectivisation‘‘ یا ’’مکمل اجتماعیت کاری‘‘ سے مراد 1928 ء میں سٹالن کے پانچ سالہ منصوبوں کے آغاز پر اپنائی جانے والی زرعی پالیسی، جس میں افسر شاہانہ طریقے سے بزور طاقت تمام دیہی زمینوں، مویشیوں، جانوروں اور املاک کو نیشنلائز کر لیا گیا۔ اِس پالیسی کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے۔
[۱۲] 1358ء میں شمالی فرانس میں کسانوں کی وسیع بغاوت، جسے کچل دیا گیا تھا۔