← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران: 2 دنوں میں 2 ہزار ہلاکتیں، جمعرات سے انٹرنیٹ بند

By جدوجہد • 2026-01-13 • 11 min read

فاروق سلہریا

ایران میں جاری بغاوت کو کچلنے کے لئے ایرانی رژیم نے جبر میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ نرگس محمدی فاونڈیشن کے مطابق اتوار تک دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھے۔گذشتہ بدھ تک ہلاکتوں کی تعداد درجنوں میں تھی۔ تشدد میں یہ زبردست اضافہ جمعرات کے بعد دیکھنے میں آیا۔ یاد رہے، جمعرات سے ایران بھر میں انٹرنیٹ بند ہے۔نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی ایرانی کارکن نرگس محمدی کے نام سے کام کرنے والی نرگس محمدی فاونڈیشن پیرس میں قائم ہے۔ نرگس محمدی خود عرصہ دراز سے ایرانی جیل میں،یا نظر بندی میں زندگی گزار رہی ہیں۔

نرگس محمدی فاونڈیشن کے علاوہ معروف عالمی میڈیا ہاوسز اور انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے بھی سینکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی رژیم نے بھی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو تسلیم کیا ہے مگر رژیم کی طرف سے یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے”دہشت گردوں“ کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایرانی شہری ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں لاشیں ہسپتال کے مردہ خانوں میں پڑی ہیں۔

یہ بغاوت دسمبر کے آخری ہفتے میں شروع ہوئی۔ اس کی فوری وجہ ایرانی کرنسی میں زبردست گراوٹ بنی مگر اصل وجہ سالہا سال کا جبر، معاشی بد حالی، خونخوار ایرانی رژیم کی عدم مقبولیت اور جمہوریت کی خواہش ہے۔ادہر، ایرانی رژیم کے حامی اور کیمپ ازم کا شکار بعض نام نہاد ترقی پسند اس ساری بغاوت کو امریکی صیہونی سازش بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

کیمپ ازم کا اندھا پن،ایرانی رژیم اور امریکہ اسرائیل

اس میں شک نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ تہران میں ایک ایسا رژیم چاہتے ہیں جو اسی طرح ان کے ساتھ تعاون کرے جس طرح سعودی رژیم یا مشرق وسطیٰ کے دیگر سلطان کرتے ہیں۔یہ ایک سچ ہے مگر یہ واحد سچائی نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اہل ِایران کی اکثریت ملک میں جمہوریت چاہتی ہے اور ان کی اکثریت بھی فلسطینی کاز کی حمایت کر تی ہے۔ اس کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو بارہ دن تک جاری رہنے والی جنگ میں ایک بھی اسرائیل نواز یا حکومت مخالف مظاہرہ نہیں ہوا۔ ایران کا عام شہری ملاوں کی آمریت کا مخالف تھامگر اسرائیل کے ساتھ نہیں تھا۔ نہ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ سامراج تیسری دنیا میں مداخلت کرتا ہے مگر یہ سامراج کے بس کی بات نہیں کہ ایک ایسی عوامی بغاوت کو جنم دے جس کے نتیجے میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں، پانچ سو سے زائد شہروں میں،موت کا خوف اتار کر سڑکوں پر نکل آئیں۔ڈالر لے کر سبو تاژ کرنے والے،بے رحم پولیس کی گولیوں کا سامنا کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ایرانی شہریوں کو ”پٹھو“ ثابت کرنے والے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اہل ایران سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

یاد رہے،ایران میں ہی جب مصدق حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو گڑ بڑ شاہ پرست اور مولوی حضرات کے ساتھ مل کر کرائی گئی۔برطانیہ اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے ملاوں کو خریدا۔ کوئی بڑی عوامی تحریک نہیں چلی۔ایران کے علاوہ بھی، سامراج نے جہاں ایسی مداخلتیں کرائیں، وہاں سبوتاژ نظر آیا، عوامی بغاوت نہیں۔ایران میں اس وقت ایک عوامی بغاوت جاری ہے جو ملاوں کی آمریت کا خاتمہ کر کے ایک سیاسی انقلاب کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اگر ہم تیسری دنیا میں سامراج کے خلاف بند باندھنا چاہتے ہیں تو اس جدوجہد کا ایک اہم فریضہ مذہبی جنونیت اور اسلامی بنیاد پرستی کی شکست ہے۔

ایک ایسا رژیم جو محنت کشوں کا قتل عام کرے، ان کا بد ترین استحصال کرے، خواتین پر بد ترین تشدد کرے، قومی جبر کی بد ترین مثالیں قائم کرے، ٹریڈ یونینز،بائیں بازو اور اظہار رائے پر لوگوں کو پھانسیوں پر لٹکائے۔۔۔اسے سامراج دشمن کا سرٹیفیکیٹ دینے والے احمقلابی توہو سکتے ہیں، انقلابی نہیں۔

ایرانی بغاوت اور سوشلسٹ موقف

ایران کی آزاد ٹریڈ یونینز، وہاں کا بایاں بازو بشمول حزب تودہ، تارکین وطن میں موجود ترقی پسند گروہ۔۔۔سب کے سب اس بغاوت کی اسی طرح حمایت کر رہے ہیں جس طرح ”زن،زندگی،آزادی“ والی تحریک کی حمایت کی گئی تھی۔ اس وقت بھی ایرانی رژیم اور اس کے حامی یہ پراپیگنڈہ کر رہے تھے کہ تحریک کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے حالانکہ اس وقت بھی تحریک خود رو تھی، اس بار بھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1979 میں امریکہ کے پروردہ شاہ ایران نے بھی گلہ کیا تھا کہ امریکہ اس کا تختہ الٹانے میں خمینی کی مدد کر رہا ہے۔ مصر کے حسنی مبارک کو بھی گلہ تھا کہ عرب بہار امریکہ کی سازش ہے حالانکہ اس نے تیس سال تک مصر میں امریکی آشیر باد سے ہی حکومت کی تھی۔

احمقلابیوں کی یاد دہانی کے لئے یہ بات دہرانا زیادہ نا مناسب نہ ہو گا کہ اپریل 1917 میں روس کے احمقلابی اس ہیجان خیز سازشی تھیوری کو پھیلانے میں مصروف تھے کہ لینن جرمنی کا ایجنٹ ہے۔

بطور ترقی پسند اور مارکس وادی،ہمارا موقف ہونا چاہئے کہ ہم ایران میں سامراج کی مداخلت کے بھی خلاف ہیں (سامراجی مداخلت کی ایک شکل شاہ ایران کے بیٹے کو مسلط کرنے کی سامراجی حمایت ہے) اور ہم اسلامی بنیاد پرست آمریت کے بھی خلاف ہیں۔ ہم ایران میں وہاں کے شہریوں کی مرضی سے بننے والی حکومت کے حامی ہیں، ہم ایران سمیت دنیا بھر میں جمہوری اور سوشلسٹ قوتوں کی کامیابی چاہتے ہیں جو انسانی حقوق کا احترام کرے۔ ایران میں ملائیت کا خاتمہ پورے خطے میں بنیاد پرستی اور سامراجی مداخلت کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔