ایران: بائیں بازو کا سرگرم کارکن چھٹی مرتبہ گرفتار - روزنامہ جدوجہد
سیاوش شہابی
ایران میں ناقدین، مخالفین، اور خصوصاً بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کے خلاف بڑھتا ہوا جبر ایک واضح سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ہر اس آواز کو خاموش کرنا ہے،جو سماجی شعور، انصاف، یونیورسٹی، مزدوروں اور تنظیم سازی کو آپس میں جوڑ سکتی ہو۔
یاشارر دارالشفا ایک بائیں بازو کے کارکن، مزدور امور کے محقق اور سابق سیاسی قیدی ہیں، انہیں سکیورٹی فورسز نے چھٹی مرتبہ گرفتار کر لیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے گھر پر پرتشدد چھاپہ مارا اور انہیں ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
یہ گرفتاری اس سلسلہ وار جبر کا حصہ ہے جو گزشتہ 17 برسوں سے بار بار ان پر مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ انہیں 2009 کے احتجاج کے بعد گرفتاری، بار بار طلبی اور قید، ایوین جیل میں چار سال سے زائد اسیری، نومبر 2019 کی عوامی بغاوت کے دوران اغوا، رجائی شہر جیل منتقلی، جون 2025 میں تشدد اور شدید مارپیٹ کا سامنے کرنے کے بعد اب ایک اور گرفتاری کا سامنا ہے۔
یاشار کا ”جرم“ کیا رہا ہے؟ مزدوروں پر تحقیق کرنا، مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا، لکھنا، سوچنا، اور یونیورسٹی اور سماج کے درمیان ربط کو زندہ رکھنا۔ وہ سماجی بہبود اور صحت کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے محقق ہیں، اور قید کے دوران بھی انہیں رجائی شہر جیل کے سکیورٹی ماحول میں اپنا ڈاکٹریٹ مقالہ پیش کر کے اس کا دفاع کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ان کی اہم تصانیف میں سے ایک ”An Analytical Chronology of Strikes, Protests, and Workers’ Organizing in Iran“ ہے۔ یہ کام اقتدار کے لیے اس لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے کہ یہ جدوجہد کی تاریخ کو منتشر اور بکھرے ہوئے واقعات سے نکال کر ایک اجتماعی یادداشت میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یاشار کی گرفتاری اس وقت اور بھی زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے جب اسے جامعات کے خلاف بڑھتی ہوئی سخت کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جائے۔ حالیہ مہینوں میں ایران کی یونیورسٹیوں کو تادیبی مقدمات، فون پر طلبی، معطلی، اخراج اور تعلیمی حقوق سے محرومی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران سے لے کر شہیدبہشتی یونیورسٹی اور ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک، مختلف رپورٹس ایک ایسے عمل کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں طلبہ کو شفاف سماعتوں، واضح شواہد اور قانونی طریقہ کار کے بغیر معطل یا یونیورسٹی سے خارج کیا جا رہا ہے۔ بعض اوقات صرف سوشل میڈیا پر سرگرمی ہی ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
شریف یونیورسٹی میں اطلاعات کے مطابق درجنوں طلبہ کے خلاف تادیبی مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد طلبہ کے اخراج اور 20سے زیادہ معطلی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ شہید بہشتی یونیورسٹی میں بعض طلبہ کے تعلیمی نظام تک رسائی کو بند کر دینا عملاً انہیں تعلیمی عمل سے خارج کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
یونیورسٹی آف تہران میں درجنوں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق سینکڑوں تادیبی مقدمات کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی نوعیت کا عمل ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی جاری ہے۔ اس پالیسی کے تحت یونیورسٹی کو آزاد علمی سرگرمی کے مرکز کی بجائے سکیورٹی نگرانی اور کنٹرول کے میدان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران اساتذہ پر دباؤ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ فرہنگیان یونیورسٹی سے برطرف کیے گئے اساتذہ کا وزارت تعلیم کے سامنے احتجاجی اجتماع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیمی نظام میں جبر اور دباؤ صرف طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی زد میں اساتذہ بھی آ رہے ہیں۔
جب 300 سے زیادہ اساتذہ برطرفیوں، تنخواہوں میں کٹوتیوں، اور اپنے حق میں آنے والی قانونی آراء پر عمل درآمد سے انکار کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو یہ معاملہ محض ایک انتظامی تنازع نہیں رہتا۔ یہ آزاد فکر، تنقیدی تعلیم اور پیشہ ورانہ وقار کے امکانات پر ایک حملہ بن جاتا ہے۔
یاشار نے حال ہی میں ایک اہم مضمون شائع کیا تھا جس میں انہوں نے تاریخی مطالعے کے ذریعے یہ دکھایا کہ ایران میں بائیں بازو کے سیاسی تصور کو وقت کے ساتھ کس طرح مسخ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بائیں بازو کے بعض حلقے اس سوچ تک پہنچ گئے کہ امریکہ کی مخالفت خود بخود ایک آزادی بخش اور انقلابی عمل ہے، جبکہ حقیقت میں ایران کی معیشت ایک متحد اور جابرانہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے، نہ کہ ایک ایسی جنگ گاہ جہاں ایک طرف ”اچھا قومی شعبہ“اور دوسری طرف ”برا شعبہ“ موجود ہو۔
اسی مضمون میں یہ بات بھی یاد دلائی گئی کہ حتیٰ کہ چین جیسی طاقت بھی امریکہ کا کوئی آزادی بخش متبادل نہیں ہے، بلکہ وہ بھی اسی عالمی نظام کی ایک مختلف شکل کی نمائندگی کرتی ہے۔