← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران جنگ پر اب تک 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر کا انکشاف

By جدوجہد • 2026-03-17 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاشی مشیر کیون ہیسیٹ نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک 12 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے جاری ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق ہیسیٹ نے یہ اعداد و شمار امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کے دوران پیش کیے۔ انہیں انٹرویو کے دوران وضاحت بھی کرنی پڑی، کیونکہ ابتدا میں ان کے بیان کا تاثر یہ تھا کہ 12 ارب ڈالر جنگ کی مجموعی متوقع لاگت ہے۔ پروگرام کی میزبان نے نشاندہی کی کہ صرف پہلے ہفتے میں 5 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

مشیر کے مطابق مالیاتی منڈیاں توانائی کی قیمتوں میں جلد کمی اور جنگ کے جلد اختتام کی توقع کر رہی ہیں، حالانکہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی تشویش برقرار ہے۔ ایرانی دھمکیوں کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

ہیسیٹ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی تیل کی ممکنہ رکاوٹ سے امریکہ کے مقابلے میں دیگر ممالک زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ امریکہ اب خود ایک بڑی تیل پیدا کرنے والی طاقت ہے۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری نمایاں حد تک بڑھنے والی ہے، جس سے جنگی اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

امریکی کانگریس میں بھی جنگ کے مقاصد پر شدید ابہام پایا جاتا ہے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے حالیہ بریفنگ کوانتہائی غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت روزانہ مختلف وضاحتیں پیش کر رہی ہے کہ حملے کیوں کیے گئے۔

گزشتہ ہفتے سینیٹر کرس وین ہولن نے کہا تھا کہ امریکہ نے”پنڈورا کا بکس کھول دیا ہے، یہ جانے بغیر کہ معاملہ کہاں جا کر رکے گا۔“

دوسری طرف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں 1444 سے زائدافراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے 13 فوجی مارے گئے جبکہ 140 سے زائد زخمی ہوئے۔ لڑائی لبنان تک پھیل چکی ہے، اور خلیجی ممالک ایرانی ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔
بھارت سمیت کئی ملک آبنائے ہرمز سے اپنے تیل بردار جہازوں کی محفوظ گزر گاہ کے لیے براہ راست تہران سے مذاکرات کر رہے ہیں۔