← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران جنگ کے اخراجات 25 ارب نہیں، بلکہ 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-12 • 3 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ’ آپریشن ایپک فیوری‘ پر اب تک صرف 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں،تاہم معاشی ماہرین کے نزدیک یہ تخمینہ بہت کم بتایا جا رہاہے۔ معروف معاشی تجزیہ کار جسٹن وولفرز نے نیویارک ٹائمز میں لکھا ہے کہ اصل اخراجات 3 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس بھاری بھرکم جنگی مشین کا مطلب ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں ہر امریکی گھرانے پر تقریباً 4000 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

مارکسی معاشی ماہر مائیکل رابرٹس کے مطابق سامراجی جنگوں کے سرکاری اعداد و شمار ہمیشہ حقیقی بوجھ کو چھپاتے ہیں، کیونکہ اصل مالی نقصان مستقبل کے فوجی اخراجات، قرضوں کے سود، اور معیشت میں ہونے والی وسیع تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے ، اور یہی تصویر اس وقت ایران جنگ کے حوالے سے بھی ابھر رہی ہے۔

پینٹاگون کے 25 ارب ڈالر کے سرکاری تخمینے میں صرف وہ محدود اخراجات شامل ہیں جو اب تک ہو چکے ہیں۔یہ دو ہزار سے زائد ٹام ہاک اور پیٹریاٹ میزائلوں کی فائرنگ، جنگی طیاروں کی پروازیں اور نقصان، اور استعمال شدہ فوجی سازوسامان کی فوری لاگت ہے۔تاہم جنگ کی اصل قیمت ، خاص طور پر انسانی جانوں اور تباہ شدہ معیشت کی قیمت، اس میں شامل نہیں۔

معاشی ماہرین داریو کالدارا اور ماتیو یا کووئیلو کی تحقیق بتاتی ہے کہ بڑھتا ہوا جیو پولیٹیکل تناؤ سرمایہ کاری اور روزگار میں کمی لاتا ہے اور معاشی بحران کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق صرف معاشی غیر یقینی کی وجہ سے 200 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا اور ایک سال کے اندر اندر 10 لاکھ امریکی اپنی نوکریاں کھو سکتے ہیں۔

یہ فوری اخراجات اپنی جگہ، لیکن اصل بڑا بوجھ مستقبل کے دفاعی مصارف کی صورت میں آئے گا۔ ماہرین کے مطابق جیسے جیسے ایران اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے، خطے کے دیگر ممالک بھی یہی کریں گے، اور امریکہ اگر اپنی فوجی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے مزید سرمایہ جھونکنا پڑے گا۔ اس پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مانگا ہے، جو موجودہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ اور تقریباً 600 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔

معروف معاشی ماہرین لنڈا بلمز اور جوزف اسٹگلٹز نے ماضی میں عراق جنگ کے اخراجات کا تجزیہ کرتے ہوئے ظاہر کیا تھا کہ اگر مستقبل میں ادا کیے جانے والے تمام جنگی اخراجات کو اسی وقت حساب میں شامل کیا جائے، تو جنگوں کا مالی بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق عراق جنگ نے امریکی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا، جس کا بڑا حصہ جنگ ختم ہونے کے بعد پیدا ہوا، جو سابق فوجیوں کی زندگی بھر کی طبی نگہداشت، معذوری کے وظائف، اور خونریز جنگوں کے بعد بھرتی و تنخواہوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی صورت میں تھا۔ پھر ان سب کے اوپر سود کا بڑھتا ہوا بوجھ مزید اضافہ کرتا ہے۔

مائیکل رابرٹس لکھتے ہیں کہامریکی حکمران طبقہ ہمیشہ جنگ کی اصل قیمت عوام سے چھپاتا ہے، لیکن آخرکار یہی اخراجات ملک کے بجٹ، معاشی استحکام اور عام گھرانوں کی زندگیوں پر بھاری پڑتے ہیں۔ موجودہ ایران جنگ بھی اسی راستے پر بڑھ رہی ہے۔