← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران: حجاب کی پابندی کی خلاف ورزی پر میراتھن کے 2منتظمین گرفتار

By جدوجہد • 2025-12-07 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران کے ساحلی جزیرے کیش میں منعقدہ میراتھن کے بعد حکام نے اس کے دو اہم منتظمین کو اس وقت گرفتار کر لیا،جب آن لائن گردش کرنے والی تصاویر میں خواتین کو بغیر حجاب کے دوڑ میں شریک دکھایا گیا۔ عدلیہ کی ویب سائٹ ’میزان آن لائن‘ کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک کیش فری زون کا سرکاری عہدیدار ہے، جبکہ دوسرا اس نجی کمپنی کا ملازم ہے جس نے یہ مقابلہ منعقد کیا تھا۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت گیر حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ لازمی حجاب قانون پر عملدرآمد میں نرمی دکھائی جا رہی ہے، جس سے مغربی اثرات کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایران میں خواتین گزشتہ چند برسوں سے حجاب کے لازمی قوانین کو زیادہ کھل کر نظرانداز کر رہی ہیں، خاص طور پر 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ملک گیر احتجاجوں کے بعدخواتین نے حوصلہ حاصل کیا ہے۔

جمعے کے روز ہونے والی میراتھن کی تصاویر میں کئی خواتین کو اسلامی جمہوریہ کے سخت ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں قانون میں شامل کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق تقریباً 5 ہزار افراد نے دوڑ میں حصہ لیا۔ عدلیہ نے اعلان کیا کہ منتظمین کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا ہے، کیونکہ ”پہلے سے دی گئی وارننگز“ کے باوجود ایونٹ کو ایسے انداز میں منعقد کیا گیا جو ”عوامی شائستگی“ کے منافی تھا۔

مقامی پراسیکیوٹر کے مطابق منتظمین کو بارہا یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ ملک کے موجودہ قوانین، سماجی و مذہبی اقدار اور پیشہ ورانہ اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، مگر خلاف ورزیاں برقرار رہیں۔ اسی بنا پر حکام نے قوانین کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ادھر قدامت پسند میڈیا بالخصوص تسنیم اور فارس نیوز ایجنسی نے میراتھن کو ”اسلامی قوانین کے منافی“ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد نافذ کیے گئے ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قابل قبول نہیں۔

قانون کے مطابق ایران میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر بال ڈھانپنا اور ڈھیلا ڈھالا لباس پہننا لازمی ہے، مگر 2022 کے احتجاجوں کے بعد اس قانون پر عملدرآمد پہلے کی نسبت مزید کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ رواں ہفتے ایران کی پارلیمان کے اکثریتی ارکان نے عدلیہ پر الزام لگایا کہ وہ حجاب قانون پر سختی سے عمل نہیں کرا رہی۔ چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے بعد ازاں اس قانون کے سخت نفاذ پر زور دیا۔

دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے اس پارلیمانی بل کی توثیق سے انکار کر دیا ہے، جس میں حجاب نہ پہننے والی خواتین کے لیے سخت سزاؤں کی سفارش کی گئی تھی۔ مئی 2023 میں ایران کی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سربراہ نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا، جب شیراز میں ایک کھیلوں کے ایونٹ میں خواتین بغیر حجاب شریک ہوئیں تھیں۔یہ تازہ ترین گرفتاری اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جس میں ایران میں خواتین کے لباس، مذہبی پابندیوں اور شخصی آزادیوں کے درمیان جاری کشمکش پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔