ایران میں احتجاج کی نئی لہر، صورتحال کس سمت جا رہی ہے؟
فریدہ آفرے
(امریکہ میں مقیم ایرانی سوشلسٹ فیمن اسٹ رہنما، مصنف و مترجم فریدہ آفرے نے ایران میں جاری احتجاج کے حوالے سے 8جنوری کو یہ مضمون انگریزی زبان میں ’نیو پالیٹکس‘ کے لیے لکھا تھا۔ اس مضمون کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)
ایران میں حالیہ احتجاج کی نئی لہر 28 دسمبر 2025 کو تہران کے تاجروں اور دکان داروں کی ہڑتال سے شروع ہوئی، جو کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ اور ملک گیر معاشی تباہی کے خلاف تھی۔ 8 جنوری تک ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم HARANAکی رپورٹ کے مطابق 31 میں سے 27 صوبوں کے 92 شہروں میں 285 احتجاج ہو چکے ہیں۔ اب تک 36 افراد (جن میں چار بچے بھی شامل ہیں) ہلاک جبکہ 2075 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
حکومتی فورسز کی جانب سے مغربی ایران کے کرد اور لور اکثریتی صوبے ایلام میں مظاہرین پر شدید حملے کے بعد پولیس نے اس ہسپتال پر بھی دھاوا بول دیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا تھا،دیگر ہسپتالوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔ 8 جنوری تک عام عوام کے لیے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر منقطع کر دی گئی تھی۔
اگر 8 جنوری تک کے حالات دیکھے جائیں تو ملک گیر احتجاجوں کی وسعت اور شدت ابھی 2019 اور 2022 کی طرح نہیں پہنچی ۔ یہ وہ تحریکیں تھیں،جنہوں نے بعد میں ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ تحریکوں کی صورت اختیار کی۔ تاہم موجودہ بے چینی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سڑکوں پر احتجاج کے ساتھ ساتھ کرد علاقوں میں عام ہڑتال اور بلوچ اور آذری نسلی اقلیتوں کی شمولیت بھی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے حجم نے 2009 کی گرین موومنٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پہلے آٹھ دنوں کے احتجاجی نعروں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 اور 2022 کی تحریکوں کے برعکس، جن کا نمایاں جمہوری کردار تھا اور جن میں خواتین کے حقوق کے حق میں بھرپور نعرے شامل تھے ،اس بار کے احتجاج میں زیادہ تر منفی نعرے سامنے آئے ہیں جو ایرانی نظام کی قیادت اور علامتی شخصیات جیسے مولویوں اور آیت اللہ خامنہ ای (سپریم لیڈر) کے خلاف ہیں۔بہت کم نعرے ایسے ہیں جو پورے نظام کو بطور سسٹم تنقید کا نشانہ بناتے ہوں۔مزید یہ کہ شاہی نظام کے حامی نعروں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن میں سابق بادشاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دہائی کے مختلف انٹرویوز میں رضا پہلوی نے بالکل واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) اس کا ساتھ دیں تو وہ انہیں عام معافی دے دیں گے۔ یاد رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی سب سے بڑی عسکری قوت اور سرمایہ دار اشرافیہ ہے ۔
رضا پہلوی کو امریکی ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ، یہ وہی حکومتیں ہیں جو جون 2025 میں ایران کی حکومت کے ساتھ تباہ کن 12 روزہ جنگ میں ملوث تھیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ایک اور فوجی مداخلت کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ وینزویلا پر یلغار میں نکولس مادورو کو تو ہٹا دیا گیا، مگر وینزویلا کے جارحانہ اور جابرانہ ریاستی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔اسی طرز پر ممکن ہے کہ وہ ایران میں بھی پاسداران انقلاب کے ساتھ سودے بازی کرے۔
مختلف مزدور تنظیموں، کرد خواتین، ادیبوں، یونیورسٹی طلبہ اور سیاسی قیدیوں کے عوامی بیانات میں اسلامی جمہوریہ ایران اور بادشاہت کی واپسی ، دونوں کی مخالفت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی غیر ملکی فوجی مداخلت کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔
ایرانی فلسفی اور زمانہ میڈیا کے سابق ایڈیٹر محمد رضا نکفر کے مطابق ایران ایک انتہائی خطرناک صورتحال سے گزر رہا ہے جس میں موجودہ جبر کا نظام کسی نئے جبر سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ وہ لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ نفرت اور بے سمجھی کے آگے ہتھیار نہ پھینکیں۔
نکفر زور دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور اثباتی سیاسی تصور ضروری ہے ۔ایسا تصور جواسلامی جمہوریہ کے خلاف ہو،شاہی نظام کے خلاف ہو،کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت اور ہر طرح کی آمریت کی مخالفت کرے۔اسی بنیاد پر وہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے پر مشتمل کم از کم مطالبات کا ایک مثبت پروگرام پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بنیادی مطالبات میں آزادی اظہار، آزادی صحافت اور آزادی اجتماع، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ،سزائے موت کا خاتمہ، جبری حجاب کے قوانین کا خاتمہ، خواتین اور نسلی/مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ، صنفی مساوات، مذہب اور ریاست کی علیحدگی، فوج کی معیشت میں مداخلت کا خاتمہ، غربت کے خاتمے کے لیے پروگرام، تعلیمی نظام کی جمہوری تشکیل نوجیسے مطالبات شامل ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس کی علاقائی و عالمی فوجی مداخلتوں کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایرانی سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان تمام مطالبات کو اپناتی ہیں اور ان کے لیے جدوجہد کرتی ہیں یا نہیں۔
(بشکریہ: ’نیو پالیٹکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)