ایران میں رجیم چینج کا انجام اچھا نہیں ہو گا
رچرڈ سلوراسٹین
دوسرا وار ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے ’ہو گا یا نہیں ہو گا‘ والی الجھن کو ختم کر دیا ہے۔ ہمیشہ بڑی اور ڈرامائی حرکت کو ترجیح دینے والے امریکی صدر نے جنگ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ بی2 بمبار طیاروں نے ایران کی تین معروف نیوکلیئر تنصیبات (نطنز، اصفہان، فردو) پر 6 بنکر بسٹر بم گرائے ہیں۔ امریکی افواج نے ایران کے غیر متعین اہداف پر ٹوماہاک میزائل بھی داغے ہیں۔
امریکہ نے ایران کو سفارتی پیغام دیا کہ یہ جارحیت صرف اس کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف ہے اور اس کا مقصد ’رجیم چینج‘نہیں ہے۔تاہم ٹرمپ کے جرم میں شریک وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل کا ہدف یہی ہے۔ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘پر اتوار کو لکھاکہ ’’رجیم چینج کیوں نہیں ہو سکتا؟؟؟‘‘اور امریکی حملہ ایرانی مذہبی حکومت کو شدید کمزور کرتا ہے، جو کہ خود امریکی انکار کے باوجود رجیم چینج کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید دعویٰ کیا کہ حملے کا مقصد ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کرنا تھا۔ یہ صرف جزوی سچ ہے۔ اصل ہدف نہ صرف ایران کی نیوکلیئر صلاحیت بلکہ پورے ایرانی معاشرے کے ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیل نے تیل کے ذخائر، قومی نشریاتی ادارے، ہوائی اڈے، اور صنعتی پلانٹس کو نشانہ بنایا، اور یہ صرف پہلا مرحلہ ہے۔مختصراً نیتن یاہو کا ہدف واضح طور پر رجیم چینج ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک ایرانی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہبی حکومت کو گرا دیں۔
’رجیم چینج‘کی اصطلاح خود گمراہ کن ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک حکومت گرے گی اور اس کی جگہ ایسی حکومت آئے گی جو ہمارے مفادات سے ہم آہنگ ہو، لیکن اسرائیل کسی حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران ایک کمزور، گروہی انتشار کا شکار ملک بن جائے جو فرقہ وارانہ تنازعات میں الجھا ہو اور اسرائیل کے خطے پر غلبے کے مقصد کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکے، جیسا کہ وہ لبنان اور فلسطین میں حاصل کر چکا ہے ۔
اسرائیل نے ایرانی افواج کے اعلیٰ کمانڈروں اور نیوکلیئر سائنسدانوں کو قتل کیا، مگر اس پر اکتفا نہیں کیا۔ اسرائیل نے نیوکلیئر مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کے ایک نمایاں رکن کو بھی قتل کر دیا۔
اسرائیلی حملے کے بعد نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ سپریم لیڈر کا قتل دشمنیوں کو بڑھانے کی بجائے ان کا خاتمہ کرے گا۔ وہ چاہے سوشیوپیتھ ہو، مگر بیوقوف نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ قتل ایرانی قیادت میں مزید انتشار پیدا کرے گا۔ یہی اس کا مقصد ہے۔ ایسا ایران جو داخلی خلفشار اور کمزوری کا شکار ہو، جیسا کہ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف لیڈرشپ کو ختم کر کے کیا، مگر یہ حملے دشمنیوں کا خاتمہ نہیں کریں گے ، بلکہ مشرق وسطیٰ کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیں گے، حتیٰ کہ اسرائیلیوں کے لیے بھی۔
کونسی انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر اور ایران امور کے ماہر، تریتا پارسی خبردار کرتے ہیں کہ اگر اسرائیل امریکہ اتحاد واقعی ایرانی حکومت کو گرا دیتا ہے، تو اس کے نتیجے میں کوئی مغرب نواز مطیع حکومت نہیں آئے گی، بلکہ ایک انتہائی سخت گیر، انتقامی حکومت برسر اقتدار آ سکتی ہے، جو آیت اللہ خامنہ ای سے بھی زیادہ سخت گیر ہو گی۔ اگر اسرائیل سپریم لیڈر کو قتل کرتا ہے ، جو نیتن یاہو کا خواب ہے، تو اس سے پیدا ہونے والا انتشار ایران کو مزید کمزور کر دے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ’مٹا دیا‘ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ اگرچہ ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، مگر ایران جانتا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے، اور اس نے اپنے 400 کلوگرام بلند افزودہ یورینیم (جس میں سے کچھ 60 فیصد ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے) کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ ممکن ہے کہ ایران کے پاس دیگر خفیہ نیوکلیئر تنصیبات بھی ہوں جن کا عالمی ادارہ توانائی یا مغربی انٹیلی جنس کو علم نہ ہو۔
اب جیسا کہ پارسی نے مہدی حسن کو بتایا، ایران بلا شبہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے عمل کو شروع کرے گا۔ وہ آئی اے ای اے سے نکل جائے گا، جس کے بعد کسی بھی نگرانی کا امکان ختم ہو جائے گا۔ نیوکلیئر پروگرام زیر زمین چلا جائے گا۔ چنانچہ جس مقصد کے لیے یہ حملہ کیا گیا تھا وہ حاصل نہیں ہو گا، بلکہ ایک ایرانی ایٹم بم (اور میزائل سسٹم ) تقریباً یقینی ہو جائے گا۔ یہ بالکل اُس کے الٹ ہو گا جو امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے۔ پارسی کی پیش گوئی ہے کہ ایران اگلے 5 سے 10 سالوں میں ایٹم بم بنا لے گا، برخلاف موساد کے دعوے کے کہ ایران 15 دن میں ہتھیار بنا سکتا ہے، یا وائٹ ہاؤس کے مطابق جو کہتا ہے کہ ایران ’ہفتوں‘کی دوری پر تھا۔
امریکی میڈیا میں کم ہی یہ بحث ہوتی ہے کہ یہ جنگ یہاں کے یہودیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ دنیا کی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کرتی ہے۔ اس کے خلاف ایک عوامی مزاحمتی تحریک ابھرے گی، اور غصہ بڑھتا جائے گا، جو بعض اوقات پرتشدد بھی ہو سکتا ہے۔ خواہ یہودی اس جنگ کی حمایت کریں یا مخالفت، انہیں موردِ الزام ٹھہرایا جائے گا کیونکہ انہیں اسرائیل اور صہیونیت کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے یہودیوں کو نشانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
کچھ مظاہرین اسرائیل اور صہیونیت کو یہودیت کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سفید فام بالادستی پسند افراد نے یہودیوں اور ان کے اداروں پر پرتشدد حملے کیے ہیں۔ اب اس جنگ نے انہیں ایک اور بہانہ فراہم کر دیا ہے۔
میڈیا ایران کے اسرائیلی حملے کے جواب میں کیے گئے اقدامات (اور ٹرمپ کے حملے کے ردعمل) کو ’دہشت گردی‘قرار دے رہا ہے۔ نیشنل ٹیرر ازم ایڈوائزری سینٹر نے ایران کے ممکنہ سائبر حملوں کے خطرے پر وارننگ جاری کی ہے۔ سی این این نے کہاکہ ’’ایران ممکنہ طور پر دہشت گردی جیسے’غیر متوازن‘اقدامات کر سکتا ہے۔‘‘ تاہم یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ اپنے وطن کا دفاع کرنا دراصل دفاع ہی کہلاتا ہے۔ اصل دہشت گرد تو حملہ آور ہیں، یعنی اسرائیل اور امریکہ ، جنہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال جنگ چھیڑ دی۔ یہی دہشت گردی ہے۔
اسرائیل کے جغرافیائی عزائم اور ٹرمپ کی شہرت کی خواہش
مشرقی وسطیٰ کی ’ہمیشہ کی جنگوں‘ کی مخالفت کے نعرے پر آنے والے صدر ٹرمپ خود انہی جنگوں میں کود پڑے ہیں، اور وہ بھی اسرائیل کے دباؤ پر۔ یہ تقریباً یقینی ہے کہ امریکہ کو اس غرور کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔
تاریخ ایسے سامراجی منصوبوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے عظمت کی کوشش میں عوامی بغاوتوں، نوآبادیاتی نفرت، اور بالآخر زوال کا سامنا کیا۔ اسرائیل کی بالادستی کی مہم بھی اسی انجام سے دوچار ہو گی، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کی نفرت اس حد تک بڑھے کہ متاثرہ اقوام، مخالف ریاستیں یا عالمی ادارے اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔
امریکی حملے سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کا پارلیمانی گروپ غائب تھا۔ پارٹی کے سرکردہ افراد یا تو اس جنگ کی پرجوش حمایت میں تھے یا خاموش۔ درحقیقت انہوں نے میڈیا کا میدان MAGAکے حامی جنگ بازوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ چک شومر اور حکیم جیفریز جیسے رہنما رسمی باتیں دہرا کر نکل گئے۔
اس خاموشی کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی لابی ہے۔ ’امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی‘(AIPAC) اس جنگ کی حمایت میں سب سے آگے ہے۔ اس نے تو اراکین کانگریس کے لیے تیار شدہ بیانات تک فراہم کیے ہیں تاکہ وہ اسرائیلی جارحیت کا دفاع کر سکیں۔ یہ لابی ڈیموکریٹ امیدواروں کو کروڑوں ڈالر فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اسرائیل کے جنگی ایجنڈے کو تحفظ دیں۔
ڈیموکریٹس میں جنہوں نے تنقید کی، وہی پرانے ترقی پسند رہنما ہیں، جن میں راشدہ طلیب، الیگزینڈریا اوکاسیوکورتیز، اور سینیٹر برنی سینڈرزشامل ہیں۔ دو اراکین کانگریس نے تجاویز پیش کی ہیں کہ صدر کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے وارپاورز ایکٹ کے تحت اجازت لینی چاہیے تھی۔ بس یہی ہے جو ڈیموکریٹس کی طرف سے آیا۔
اگرچہ عوام کی سطح پر اس جنگ کی تقریباً مکمل مخالفت ہے، مگر یورپی ممالک نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی۔ الٹا جرمنی کے دائیں بازو کے چانسلر نے اسرائیل کی تعریف کی کہ وہ’ہماری طرف سے گندے کام‘کر رہا ہے۔ اسرائیل کو کسی جوابدہی کا سامنا نہیں ہے،وہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور اب ایران میں بھی یہی دہرانا چاہتا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر اجتماعی قتل عام کا شریک ہے۔ اگر ٹرمپ کو موقع ملا، تو وہ صرف شریک نہیں بلکہ ساتھی مجرم بنے گا۔
ٹرمپ کی جنگ امریکہ کی 250 سالہ سفارت کاری کی روایت سے مکمل انحراف ہے۔ اگرچہ اس دوران چند سنگین غلطیاں ہوئیں، مگر عمومی طور پر امریکہ نے دشمنوں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے تنازعات کا حل نکالا، جیسے 2015 کا جوہری معاہدہ (جے سی پی او اے)، یا سویت یونین کے ساتھ جوہری خطرے کو کم کرنے والے معاہدے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کا قیام بھی اسی مقصد کے لیے ہوا تھا کہ تنازعات سفارت کاری سے حل ہوں۔ ٹرمپ نے ایران پر جنگ مسلط کر کے اس پوری میراث کو روند ڈالا ہے۔
(بشکریہ: ’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)