← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران میں عوامی بغاوت: لوگ مذہبی آمریت چاہتے ہیں نہ ماضی کی بادشاہت

By جدوجہد • 2026-01-24 • 27 min read

الہام ہومینفر

اتوار 28 دسمبر 2025 کو ایران میں جو عوامی احتجاج شروع ہوا، وہ نہ تو کوئی اچانک پھٹ پڑنے والا واقعہ تھا اور نہ ہی قومی کرنسی کی گراوٹ پر کوئی جزوقتی ردعمل۔ یہ احتجاج بلکہ ان گہرے ساختی (سٹرکچرل)بحرانوں کا ظہور ہے جو عرصہ دراز سے اسلامی جمہوریہ کے سیاسی و معاشی ڈھانچے کے اندر جمع ہوتے رہے ہیں۔

کئی برسوں سے ایران مسلسل سماجی احتجاج کی لہروں کا سامنا کر رہا ہے۔ ہر لہر کسی نہ کسی مختلف چنگاری سے بھڑکی۔ اگرچہ موجودہ احتجاج کی ابتدائی وجہ تہران کے بازار سے ابھری اور شروع میں یہ زیادہ تر پیشہ ورانہ اور معاشی نوعیت کی تھی، مگر مظاہرے تیزی سے ملک کے مضافاتی علاقوں تک پھیل گئے اور جلد ہی ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ اس بار کے احتجاج میں نعرے غیر معمولی حد تک متنوع ہیں،جن میں آمریت کے خلاف، غربت کے خلاف، بدعنوانی کے خلاف اور رینٹئیر(rentier) تعلقات کے خلاف مطالبات شامل ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ نعرے شاہی نظام (پہلوی بادشاہت) کے حق میں بھی سنائی دیے۔ باوجود اس تنوع کے یہ تمام مطالبات اس مشترکہ حتمی مقصد پر ایک نقطے پر آ ملتے ہیں، اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ۔ موجودہ مظاہروں میں سب سے نمایاں عنصر معاشی شکایات کا انسانی وقار اور انفرادی آزادی کے مطالبات کے ساتھ واضح امتزاج ہے۔

حالیہ برسوں میں ایران دنیا کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا کرتا رہا ہے، خاص طور پر بنیادی غذائی اجناس میں، جس نے کم آمدنی والے خاندانوں کا زندہ رہنا مشکل کر دیا ہے۔ 2018 میں جب امریکہ نے JCPOA جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ ڈالنے والی پابندیاں دوبارہ نافذ کیں، تو متوسط طبقہ بھی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو گیا۔ مہنگائی کی مسلسل یلغار نے لوگوں کی جمع پونجی کو کھا ڈالا۔

2015 میں جب JCPOA پر دستخط ہوئے تھے تو ایک امریکی ڈالر تقریباً 32 ہزار ریال کے برابر تھا۔ دسمبر 2025 کے احتجاج سے عین قبل یہ شرح بڑھ کر 14 لاکھ 70 ہزار ریال سے بھی زیادہ ہو گئی،جو معاشی تباہی اور عوامی اعتماد کے انہدام کی انتہائی واضح علامت ہے۔

ان احتجاجوں کو ڈالر کی قیمت یا کسی ایک معاشی فیصلے کا ردعمل قرار دے کر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ 2022 کے بعد ایرانی معاشرے کو گہرے طور پر بدل دینے والی انقلابی تحریک ’’زن، زندگی، آزادی‘‘کے پس منظر میں ابھرنے والی یہ بغاوت اس بات کی علامت ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

’’زن، زندگی، آزادی‘‘ تحریک نے موجودہ نظام حکمرانی کے سیاسی خاتمے اور ایرانی معاشرے میں بڑی ساختی تبدیلی کے مطالبات اٹھائے تھے۔یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ عوامی شعور اور سماجی عمل میں اب بھی زندہ ہے۔ موجودہ احتجاج بھی اسی سیاسی نظام کو درپیش جوازیت کے بحران (legitimacy crisis) کی ہی ایک نئی کڑی ہے۔ اگرچہ اب اس میں شامل سماجی قوتوں کی تشکیل کچھ اور ہے،اس میں مزدور، دکاندار، ریڑھی بان، بازار کے تاجر، اساتذہ، سرکاری ملازمین، پنشنرز اور نوجوان شامل ہے۔ یہ وہ سماجی طبقات ہیں جو اپنے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔

ایران میں معاشی مطالبات بنیادی طور پر سیاسی ہی ہوتے ہیں۔ یہاں معیشت کو سیاست سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ احتجاج بھی،بالکل ’’زن، زندگی، آزادی‘‘تحریک کی طرح،بین الطبقاتی (cross-class) اور کثیرالجہتی (pluralistic) ہیں، جو21ویں صدی کی کئی سماجی تحریکوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔’’Cross-class‘‘ سے مراد طبقے کا عدم وجود نہیں، بلکہ مختلف سماجی گروہوں کا باہمی ملاپ ہے، یعنی وہ لوگ جو یکساں طور پر محروم کیے گئے، جن کی بقا کی ضمانت چھین لی گئی اور جن کے وقار کو مجروح کیا گیا۔ یہ گروہ بنیادی طور پر محنت کش غریب طبقے، مزدوروں اور ان کی اولاد پر مشتمل ہیں۔

اب اس تحریک پر طرح طرح کے امکانات پروجیکٹ کیے جا رہے ہیں۔ نیچے سے عوامی تبدیلی کی امید، یا بیرونی مداخلت کے ذریعے نظام کی نیولبرل خطوط پر نئی تشکیل دینے کا امکان، یا پھر کسی ممکنہ فوجی بغاوت کا خدشہ، یا بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کے درمیان ٹکڑوں میں بٹے احتجاجوں کا دوبارہ ابھرنا۔

اس مضمون کا مقصد کسی انجام کی پیش گوئی کرنا نہیں، بلکہ بعد از ’’زن، زندگی، آزادی‘‘دور میں موجودہ احتجاجوں سے متعلق چند زمینی حقائق کو واضح کرنا اور ان غلط تعبیروں کو درست کرنا ہے جو اس تحریک کے حوالے سے گردش کر رہی ہیں۔

1۔ پابندیاں اور داخلی ساختی بحران: پابندیوں کی سیاسی معیشت اور کرونی کیپیٹلزم

پابندیوں پر مبنی معیشت ناگزیر طور پر ایک جیتنے والے طبقے کو تو پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں پورا سماج ہار جاتا ہے۔ پابندیاں ایک غیرمعمولی معاشی ماحول پیدا کرتی ہیں اور یوں ایک rent-based پر قائم نظام کو جنم دیتی ہیں۔ یہ پابندیاں جہاں اکثریت کو غریب بناتی ہیں، وہیں ایک چھوٹی اقلیت کو غیرمعمولی طور پر مالا مال کرتی ہیں۔ ایران کی پابندیوں کے زیراثر معیشت کی نمایاں خصوصیات میں زرِمبادلہ کے کئی نرخ، رینٹ بیسڈ درآمدات، اور غیر جوابدہ ادارے شامل ہیں۔

کرونی کیپیٹلزم سے مراد وہ معاشی نظام ہے جس میں تجارتی کامیابی آزادانہ مقابلے پر نہیں، بلکہ کاروباری اشرافیہ اور سیاسی حکام کے درمیان قریبی ذاتی تعلقات پر منحصر ہوتی ہے۔ ریاست اپنے حلیفوں کو ترجیحی رسائی، خصوصی لائسنس یا ٹیکس چھوٹ دے کر اجارہ داری فوائد عطا کرتی ہے، جس سے بدعنوانی، عدم مساوات اور عدم شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں اندرونی لوگ فائدے میں رہتے ہیں جبکہ باہر والے نقصان اٹھاتے ہیں۔

پابندیاں معیشت کو باقاعدہ اور شفاف ڈھانچے سے نکال کر ایک مسلسل غیر معمولی حالت میں دھکیل دیتی ہیں۔ عوامی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے۔ پابندیوں سے بچنے کی راہ تلاش کرنا رازداری کا جواز بن جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ افراد اور ادارے جنہیں لائسنسوں، معلومات اور مخصوص راستوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے، ان کے لیے massive rents پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ایک فوری نتیجہ زرمبادلہ کی قلت اور متعدد شرح تبادلہ (multiple exchange rates) کا ابھرنا ہے۔ حکومتی ترجیحی نرخ، نیم سرکاری نرخ، اور آزاد منڈی کے نرخ،یہ سب مل کر شدید عدم مساوات پیدا کرتے ہیں، جس سے کچھ درآمد کنندگان مارکیٹ قیمتوں پر اشیا بیچ سکتے ہیں، یا بعض صورتوں میں تو بغیر کچھ درآمد کیے ہی غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کر لیتے ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ نظام دلالی، رشوت اور سرپرستی کے گنجان نیٹ ورک کو فروغ دیتا ہے۔

ایسی صورت حال میں صرف نیم ریاستی سیکورٹی ادارے یا مافیا طرز کے نیٹ ورک ہی معاشی سرگرمی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ زیرِ زمین معیشت پھیلتی جاتی ہے اور ساختی بدعنوانی ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) کی مخصوص نیولبرل پالیسیوں، اس کی وسیع ہولڈنگ کمپنیوں، اور پیداوار، تقسیم، صحت، تعلیم، بلدیاتی خدمات، حتیٰ کہ قدرتی وسائل تک کی مسلسل نجکاری کے ذریعے حکمران اشرافیہ کے کچھ حصے بے حد دولت مند ہو چکے ہیں۔ معاشی طاقت مبہم اور غیر جوابدہ اداروں سے منسلک عناصر کے ہاتھوں میں مرتکز ہو گئی ہے۔

ریاست تیزی سے مبہم دلالوں اور پردے میں کام کرنے والے ایجنٹوں پر انحصار کرتی جا رہی ہے تاکہ تیل بیچا جا سکے، بنیادی اشیا درآمد کی جا سکیں، اور مالی وسائل منتقل کیے جا سکیں۔ ان میں سے بہت سے ادارے عوامی آڈٹ، آزاد میڈیا کی تفتیش، اور عدالتی نگرانی سے محفوظ ہیں۔ طاقت کا یہ ارتکاز شفافیت کو کمزور کرتا ہے، اختیارات کے غلط استعمال میں اضافہ کرتا ہے، سزا سے بچ جانے کی روایت کو مضبوط کرتا ہے، اور عوام پر معاشی دباؤ کو شدید تر کر دیتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ پابندیاں جب جمہوریت، آزاد میڈیا، اور خودمختار عدلیہ کی عدم موجودگی کے ساتھ ملتی ہیں تو بدعنوانی کے عمل کو کئی گنا تیز کر دیتی ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام میں پابندیاں مہنگی ضرور پڑتی ہیں، لیکن لازمی طور پر ساختی بدعنوانی پیدا نہیں کرتیں۔ ایران کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں پابندیوں کو جبر، رازداری، اور نگرانی کے خاتمے کا بہانہ بنا کر استعمال کیا گیا ہے،یوں بدعنوانی کو حکمرانی کے طریقہ کار میں بدل دیا گیا ہے۔

متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران وہ ملک ہے جہاں( ڈالر کے حساب سے ) ارب پتی یا ملٹی ملینیئر افراد کی تعداد میں دنیا میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔صرف 2022 میں اس تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں اندازاً 73 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی دوران تقریباً ہر تین میں سے ایک ایرانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

بین الاقوامی بائیں بازو کے بعض مبصرین اور اسلامی جمہوریہ کے حامیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ احتجاج محض پابندیوں کی وجہ سے ہیں اور پابندیاں ہٹتے ہی یہ ختم ہو جائیں گے۔ یہ دعویٰ اس لیے بنیادی طور پر غلط ہے کہ بحران ساختی اور داخلی ہے۔ پابندیوں نے اسے شدید تر ضرور کیا ہے، پیدا نہیں کیا۔

چند دہائیوں کی آمرانہ مذہبی حکمرانی، تعلیمی نظام کا انہدام، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی بحرانوں کی دائمی بدانتظامی، اور روزمرہ زندگی پر اسلامی اقدار کو جبری مسلط کیے جانے کے عمل نے مجموعی طور پر ایرانی معاشرے کو فیصلہ کن تبدیلی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

آمرانہ حکومتوں کے تحت احتجاجی تحریکیں اکثر طویل ہوتی ہیں۔ انہیں اگرچہ وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر وہ ختم نہیں ہوتیں۔ وہ مزید شدت کے ساتھ واپس آتی ہیں۔ جیسا کہ جینا (مہسا امینی) کی بغاوت کے بعد دیکھا گیا، اس کے بعد سامنے آنے والے احتجاج زیادہ ٹکراؤ والے اور وسیع ہوتے گئے، کیونکہ معاشرہ ریاستی جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ حوصلہ اور جرات پیدا کرتا ہے۔

یہ احتجاج خود ایک تعلیمی عمل (pedagogy) کی طرح کام کرتے ہیں۔یہ عوامی شعور کو بدلتے ہیں اور مزاحمت کی حکمت عملیوں کو نئی شکل دیتے ہیں۔ یہ سماجی روابط کو تقویت دیتے ہیں، سرکاری بیانیے کو توڑتے ہیں، اور حکومتی جواز کو فیصلہ کن طور پر کمزور کرتے ہیں۔

تاہم ایران کا بحران صرف حکومت کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ طاقت، دولت، اور انسانی وقار کے درمیان تعلق کو تبدیل کرنے کا سوال ہے۔

موجودہ احتجاج اسی جوازیت کے بحران (legitimacy crisis) کا تسلسل ہیں، جو تمام سماجی طبقات میں حکمران نظام پر گہرا عدم اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ کرمانشاہ صوبے کے ایک چھوٹے شہر ہرسین میں،جہاں زیادہ آبادی شیعہ کردوں پر مشتمل ہے،باپردہ خواتین بھی’’ڈکٹیٹر مردہ باد‘‘کے نعرے لگا رہی ہیں، ظاہر کرتی ہے کہ روٹی کے لیے ہونے والے فسادات بھی بنیادی طور پر سیاسی فعل سمجھے جا رہے ہیں۔

1979 کے انقلاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بادشاہت کے ہاتھوں غصب ہونے والا انصاف واپس لائے گا، لیکن اس دعوے کے باوجود وہ انصاف کو کبھی آفاقی اور سب کے لیے برابر نہیں بنا سکا۔

2۔ بیرونی اثر و رسوخ اور موقع پرستی، اور داخلی ساختی بحران

کوئی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں کہ ایران کے حالیہ احتجاجوں کو بیرونی طاقتوں نے تیار کیا ہو یا انہیں براہ راست منظم کیا ہو،نہ بنیادی محرک کے طور پر اور نہ ہی کسی خفیہ ہدایت کاری کے ذریعے۔ بیک وقت یہ بھی حقیقت ہے کہ چند بیرونی عناصر اس بحران کے حاشیے پر موجود ہیں، جنہیں موقع پرست یا بالواسطہ اثرانداز ہونے والے اداکار کہا جا سکتا ہے۔ تاہم احتجاج کا آغاز بیرونی ایجنڈے کے تحت ہوا،ایسا کوئی تجربی (empirical) ثبوت موجود نہیں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا یہ ٹویٹ کہ موساد کے اہلکار ایرانی عوام کے ساتھ سڑکوں پر کھڑے ہیں، دراصل اسلامی جمہوریہ کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ وہ اس کے ذریعے اپنے بحران کو خارجی بنا کر پیش کرتی ہے اور جبر کے بعد پھانسیاں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اگر بیرونی قوتیں واقعی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوتیں منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوتیں تو وہ یہ کام بہت پہلے اور کہیں زیادہ موثر طریقے سے کر چکی ہوتیں۔ ایرانی عوام خود برسوں سے سڑکوں پر موجود ہیں۔ ریاست نے ہمیشہ احتجاج کرنے والوں کو بدنام کرنے اور،اس سے بھی بڑھ کر،بحران کی داخلی وجوہات پر پردہ ڈالنے کے لیے غیر ملکی مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ یہ طرزعمل ایران تک محدود نہیں، روس اور مصر میں بھی یہی حکمت عملی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں آمرانہ حکومتیں اپنے بحران کا ملبہ کسی بیرونی ’’دشمن‘‘ پر ڈال کر خود کو بری الذمہ بناتی ہیں۔

یہ حکومت 47برس سے جبر اور استحصال کے ذریعے قائم ہے۔ اگر یہ احتجاج واقعی بیرونی اعلان یا سازش کے تحت ہوتے تو ہر سال ان کی بار بار واپسی کی ضرورت نہ پڑتی۔ بیرونی مداخلت اگر فیصلہ کن ہوتی تو وہ معاملہ بہت پہلے ایک ہی جھٹکے میں ’’حل‘‘ کر چکی ہوتی۔ بچپن سے یاد ہے کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا احتجاج،چاہے وہ پورے ملک میں ہو، کسی شہر میں یا ہمارے محلے میں،ہمیشہ بیرونی قوتوں کے کھاتے میں ڈالا جاتا تھا، جس سے ریاستی اداروں کو جواب دہی سے بچ نکلنے کا موقع ملتا تھا۔
بیرونی مداخلت اس وسیع عوامی تحریک کی وضاحت نہیں کر سکتی جس میں پنشنرز، مزدور، اور چھوٹے شہروں کی خواتین سب شامل ہیں۔ ایسے دلائل اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ احتجاج میں حصہ لینا ذاتی طور پر انتہائی خطرناک اور مہنگا عمل ہے۔ لوگ اپنی جانیں کسی بیرونی منصوبے کے لیے داؤ پر نہیں لگاتے، نہ ہی ہر جبر کی لہر کے بعد ایران بھر میں ایک نئی تحریک کے نام پر بار بار سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

کسی منظم بیرونی ہدایت کاری کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اگرچہ بیرونی قوتوں کی جانب سے احتجاج کے رخ پر اثر انداز ہونے کی محدود کوششوں کے آثار ضرور ملتے ہیں، لیکن ایران کی تحریکوں کی اصل قوت محرکہ داخلی ہے۔ معاشی تباہی، انسانی وقار اور شہری احترام کی پامالی، حکومتی نااہلی، اور سیاسی شرکت سے بہیمانہ محرومی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔

اس کے باوجود یہ امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ انتظامیہ اچانک کوئی فوجی حملہ کر دے، یا پھر حکمران اشرافیہ کے کسی حصے،خصوصاً ہاشمی کیمپ (یعنی وہ نیولبرل دھڑا جو اکبر ہاشمی رفسنجانی کی سیاسی میراث سے وابستہ سمجھا جاتا ہے)کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے ذریعے طاقت کی ایک کم لاگت پر مبنی، اوپر سے نیچے تک منتقلی کا منصوبہ بنایا جائے، جو مغربی مفادات کے حق میں ہو۔ میری نظر میں ایسے تمام منظرنامے موجودہ احتجاجی تحریک کی امیدوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

3۔احتجاج میں ایک رجعتی رخ:’’شاہ زندہ باد‘‘، کون سا شاہ؟

احتجاج کرنے والوں کے ایک محدود حصے کی جانب سے رضا پہلوی،ایران کے سابق آمر کے بیٹے،کے حق میں لگنے والے نعروں نے ترقی پسند حلقوں اور دیگر مظاہرین کے درمیان تشویش پیدا کی ہے۔ یہ حمایت موجود ضرور ہے، مگر محدود ہے۔ یہ کسی سیاسی اتفاق رائے کی بجائے موجودہ حالات کے خلاف شدید غم و غصے، منظم متبادل کی عدم موجودگی، اور ’’پرانے پر امن دور‘ ‘ کی حسین یادوں(Nostalgia)کا اظہار ہے،جسے بیرون ملک میڈیا اور ابتدائی احتجاجی ویڈیوز پر کی گئی بعض آڈیو ایڈیٹنگ نے مزید بڑھاوا دیا ہے۔

رضا پہلوی کے زیادہ تر حامی شہری متوسط طبقے کے ان حصوں میں ملتے ہیں جو مسلسل بحرانوں سے تھک چکے ہیں، بیرون ملک مقیم ایرانیوں میں، اور اس نسل میں جو اسلامی جمہوریہ کے جبر سے تو واقف ہے مگر شاہی دور کے تجربے سے ناواقف ہے۔ سنگین بحران کے لمحات میں معاشرہ جب کسی پہچانی ہوئی، بظاہر لوکاسٹ شخصیت کی تلاش کرتا ہے، تو ایسی حمایت زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ رضا پہلوی کا نام پہچانا ہوا ہے، اس پر کوئی تنظیمی ذمہ داری نہیں، اور نہ ہی وہ آج کے جبر،بلکہ اپنے والد کے دور کے جبر،کے لیے براہ راست ذمہ دار ہے۔ پھر بھی یہ حمایت علامتی، محدود اور وقتی ہے۔ محض علامتی قیادت جس کے پاس تنظیمی صلاحیت نہ ہو، شاذ و نادر ہی کسی سیاسی انتقال اقتدار کا باعث بنتی ہے۔

خواہ بیرونی پشت پناہی اور میڈیا کے پروجیکشن کے ذریعے اسے طاقت کے عہدے تک کیوں نہ پہنچایا جائے، وہ عملی طور پر حکمرانی کرنے سے قاصر ہو گا، اور معاشرہ فوراً انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے معاشرے میں بادشاہت کا باب بند ہو چکا ہے۔ محمد رضا شاہ کے دور کی سیاسی جبر، ساواک کا کردار، معاشی عدم مساوات اور طاقت کا شدید ارتکاز نہ صرف ایرانیوں کے لیے ناپسندیدہ ہیں بلکہ بڑھتی ہوئی سیاسی آگہی،خصوصاً عورتوں میں،اور ملک کی بڑی دانشورانہ، مزدور اور نسلی و لسانی برادریوں، جیسے کرد، بلوچ، عرب اور بہت سے ایرانی ترکوں کے لیے آمرانہ اور پدرانہ ڈھانچے اب قابل قبول نہیں رہے۔

مزید یہ کہ رضا پہلوی کے پاس نہ کوئی واضح سیاسی جماعت ہے، نہ اندرونی سماجی نیٹ ورک، نہ کوئی مربوط سماجی و معاشی پروگرام۔ حالیہ عرصے میں چند موقع پرست افراد نے ان کے گرد چھوٹے چھوٹے گروہ ضرور کھڑے کیے ہیں، مگر چونکہ ان کے پاس نہ کوئی داخلی سیاسی عمل ہے، نہ پروگرام، اس لیے یہ مکمل طور پر ان مخصوص بیرونی اداروں پر انحصار کرتے ہیں جو کھلے عام بیرونی مداخلت اور پابندیوں کی وکالت کرتے ہیں۔ ان گروہوں کی ایران کے سیاسی اور ثقافتی حلقوں میں کوئی حقیقی ساکھ نہیں ہے۔رضا پہلوی اپنے والد کے دور کے منظم شاہ پرستوں میں بھی یکجہتی برقرار نہیں رکھ سکے۔ ان میں سے اکثر سینئر شخصیات ان سے فاصلے پر کھڑی ہیں۔

تاہم ایران کے بعض حصوں میں، خاص طور جہاں ’لور ‘قوم کی اکثریت ہے، جہاں پہلوی دور میں سخت جبر ہوا تھا،’’شاہ زندہ باد‘‘اور’’یہ آخری لڑائی ہے، پہلوی واپس آئے گا‘‘جیسے رجعتی نعرے سننے میں آتے ہیں، جن کی سماجیاتی تشریح ضروری ہے۔ یہ ظہور تاریخی فراموشی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی بحران کی حالت میں اجتماعی یادداشت کے کام کرنے کے طریقے سے جڑا ہوا ہے، خاص طور پر جب جبر اور نظام کے زوال کی وجہ سے مستقبل کے انتخاب کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ مظاہرین ناکامی، ذلت اور مستقبل کے بغیر موجودہ حالات سے فرار کی تلاش میں ہیں۔ پہلوی کا ذکر لازماً پہلوی نظام کی تائید نہیں کرتا۔ یہ ایک سیاسی علامت کے طور پر کام کرتا ہے، تاریخی فیصلہ کن رائے کے طور پر نہیں۔ پہلوی کی حمایت کا مطلب ہے’’اسلامی جمہوریہ نہیں چاہئے‘‘اور’’موجودہ سٹیٹس کو قبول نہیں‘‘ ۔ یہاں پہلوی ایک نفی کی علامت کے طور پر کام کرتا ہے، نہ کہ کسی مطلوبہ نمونے کے طور پر۔

یہ سوال کہ’’شاہ زندہ باد‘‘کا نعرہ ایرانی عوامی شعور میں کیسے آیا، محض بیرون ملک فارسی زبان کے میڈیا کی ذمہ داری تک محدود نہیں کیا جا سکتا، جو مخصوص بیرونی حکومتوں کی مالی معاونت سے اسے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان لور جو یہ نعرہ لگا رہے ہیں، انہیں رضا شاہ کے لور قوم پر ہونے والے جبر کی یادداشت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے والدین کو بھی اس کی براہ راست یاد یں کم ہیں۔ جو چیز ان کے لیے حقیقت ہے، وہ ایک ایسی زمین میں زندگی ہے جو تیل اور پانی سے مالا مال ہے مگر ایران کے سب سے زیادہ محروم علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں بے روزگاری اور غربت بہت زیادہ ہے۔ وہ واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ پانی کے ترقیاتی منصوبے ان کی زمین اور پانی کو ضبط کر لیتے ہیں، جس سے بے روزگاری اور محرومی پیدا ہوتی ہے۔ یہ دشمن بہت قریب اور محسوس شدہ ہے، اس شاہ سے کہیں زیادہ جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور جسے اسلامی جمہوریہ نے ایک مخالف کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگرچہ پہلوی ریاست نے تیل پر قبضہ کیا، اجتماعی یادداشت اب بھی زرعی آبپاشی، چرواہی، اور زندگی کے لیے پانی کو یاد رکھتی ہے۔ آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب)کے ترقیاتی منصوبوں اور نیولبرل پالیسیوں کے تحت پانی لوٹا گیا ہے، زمینیں خشک ہو گئی ہیں، اور بے روزگاری، بیماری، اور غربت عام ہو گئی ہے۔

ایسے نعرے ایران کے دیگر حصوں میں بھی سنے گئے ہیں۔ ایسی حالتوں میں جہاں آزاد سیاسی تنظیمیں موجود نہیں، سماجی انجمنیں اور سیاسی جماعتیں دبی ہوئی ہوں، اور مستقبل غیر واضح یا بند نظر آئے، احتجاج سادہ، پہچان میں آنے والی علامتوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ پہلوی دور کی یادیں، جو کہ بیرونی مالی معاونت یافتہ میڈیا کے ذریعے جان بوجھ کر بنائی اور بڑھائی جاتی ہے، اس سے آگے وہی’’دفاعی ناستلجیا‘‘ہے جس کا سماجی ماہرین ذکر کرتے ہیں۔ جب مستقبل تاریک ہو جائے، تو ماضی، چاہے وہ تشدد بھرا ہی کیوں نہ ہو، دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ یہ رجعتی نعرے، ساتھ ہی ساتھ’’نہ غزہ نہ لبنان، میری جان برائے ایران‘‘جیسے نعرے واضح طور پر اس ردعمل کے طور پر ابھرتے ہیں جو اسلامی جمہوریہ کی حمایت یا اس کی نمائندگی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس نظام کے تشدد نے ماضی کی آمریت کو گزرے وقت میں معصوم بنا دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے جبر کی شدت نے لوگوں کو اس قدر مایوس کر دیا ہے کہ ماضی، چاہے کتنا ہی ناجائز کیوں نہ ہو، ایک مثالی متبادل کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ تشدد اور غلبے کی سطح اتنی بلند ہو چکی ہے کہ جس چیز سے بھی یہ نظام خود کو جوڑتا ہے، بشمول فلسطینی مسئلہ، احتجاجی بیانیے میں اسے مسترد کیا جانے والا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔

تاہم، احتجاجی منظرنامے کا یہ پوراخاکہ نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں سب سے عام نعروں میں سے ایک ’’ظالم مردہ باد، چاہے وہ شاہ ہو یا رہبراعلیٰ‘‘ رہا ہے۔

یہ نعرہ دونوں آمرانہ ماڈلز ( بادشاہت اور ولایت فقیہہ) کو مسترد کرتا ہے اور ایک ایسے نظام کی خواہش ظاہر کرتا ہے جو پدرانہ حکمرانوں سے ماورا ہو۔ مذہب اور بادشاہت، جو تاریخی طور پر ایرانی سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں، ملک کے ترقی پسند طبقات کے درمیان تنقید اور ردعمل کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔

سابق آمر کے بیٹے کی شہرت زیادہ تر جلاوطنی میں موجود میڈیا کا نتیجہ ہے۔ میڈیا میں زیادہ دکھائی دینے کو سماجی بالا دستی سمجھنے کی غلطی نہیں کی جانی چاہیے۔ ایرانی معاشرے کے اندر رضا پہلوی کی حمایت مایوسی کا اظہار ہے، اتفاق رائے کا نہیں۔ جلاوطنی میں یہ آواز بلند ہے، میڈیا میں نمایاں ہے، مگر عملی طور پر غیر یکساں اور محدود ہے۔ ایران کے احتجاج کسی خاص رہنما کی طرف کم، بلکہ آمرانہ حکومتوں،گزشتہ اور موجودہ،کی گہری مستردگی کی علامت ہیں۔

مختصراً، انقلابی سیاق و سباق میں پہلوی اتحاد کی بجائے تقسیم کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ ایک پل نہیں، بلکہ ایک رکاوٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے حامی جو بیرون ملک ہیں اور سخت دائیں بازو سے منسلک ہیں، متعدد ویڈیوز کے مطابق دوسرے مظاہرین اور نظریات پر فسطائی حملوں میں ملوث رہے ہیں، جو اسلامی جمہوریہ کی اپنی نیم فوجی فورسز کی یاد دلاتے ہیں، یہ ایک بہت پریشان کن رویہ ہے۔

انقلابی غصے سے عمل سازی تک

ایران کے موجودہ احتجاج انقلابی غصے اور انقلابی حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ احتجاج نمایاں تنوع اور کثرتیت کے حامل بھی ہیں۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ کی اب کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔ وہ اپنے ہی شہریوں کو قتل کر رہے ہیں اور اگر احتجاج ختم بھی ہو گئے تو غالب امکان ہے کہ قیدیوں کو پھانسی دی جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں اگر حکومت دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو بدلہ لینے کی کوشش کرے گی۔ تحریر کے وقت حکومت نے تقریباً چار دنوں کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور لینڈ لائن کی خدمات بند کر رکھی ہیں۔ تصاویر اور ہلاکتوں کی تعداد دل دہلا دینے والی ہے۔

بہت سے لوگ ایک بنیادی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں۔ تاہم ایک ابتدائی قدم کے طور پر احتجاجی عمل کو ایسے نیٹ ورکس بنانے پر مرکوز کیا جا سکتا ہے جو اس تحریک اور گزشتہ احتجاجی لہروں سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنا سکیں۔ اگر جیسا کہ آمرانہ ریاست کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا (حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنا ٹویٹ حذف کر دیا)، احتجاجی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں، تو یہ قیدیوں کی جان بچانے کی ایک ابتدائی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ایک ریفرنڈم کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے۔

1906-1911 کے آئینی انقلاب کے دوران ایران میں متعدد رہنما مختلف سماجی اور قومی مطالبات کی نمائندگی کرتے تھے۔ آج سیاسی اور انسانی حقوق کے قیدی، محنت کش کارکن، اساتذہ کی کونسلز، اور طلبہ و کارکنان کے منتظمین ایسے ہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چاہے یہ بڑا قدم اس ہفتے اٹھایا جائے یا آنے والے مہینوں میں، ایران کو تاریخی آمریت سے آگے بڑھنے کے لیے مستقل نیٹ ورک سازی اور شمولیت کی ضرورت ہے، ایک ایسی حالت جو اسلامی جمہوریہ سے پہلے بھی موجود تھی مگر اس میں سب سے مکمل اظہار پایا ہے۔

(بشکریہ: ایران ڈرافٹ۔ترجمہ: حارث قدیر، فاروق سلہریا۔الہام ہومینفر امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں )