ایران میں پانی کا بحران: جنگ نے صورتحال مزید سنگین بنا دی
لاہور(جدوجہد رپورٹ)ایران پہلے ہی کئی برسوں سے شدید خشک سالی اور پانی کی کمی کے بحران کا شکار تھا، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ تین ماہ کی جنگ نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران پانی کی اہم تنصیبات، بشمول ڈی سیلینیشن پلانٹس، پائپ لائنز اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک میں پانی کی فراہمی مزید متاثر ہوئی ہے۔
ایران اس وقت ایسے پانی کے بحران سے گزر رہا ہے جو دہائیوں میں سب سے سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ 2025 کے آخر میں صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی تھی کہ تہران کے اہم ڈیموں میں پانی کی سطح صرف 8 فیصد رہ گئی تھی جبکہ ملک بھر کے 19 بڑے ڈیم تقریباً خشک ہو گئے تھے۔ حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر بارش نہ ہوئی تو پانی کی راشننگ یا حتیٰ کہ بڑے شہروں کو خالی کرنے تک کی نوبت آ سکتی ہے۔ اس بحران نے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف عوامی احتجاج کو بھی جنم دیا۔
ماہرین کے مطابق ایران کا پانی کا بحران صرف قدرتی خشک سالی کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی انتظامی غلطیوں کا بھی نتیجہ ہے۔ غیر مناسب زرعی پالیسیاں، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت، زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال اور ڈیموں کی غیر ضروری تعمیر نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں نے بارش کے پیٹرن کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے خشک سالی کے ادوار طویل ہو گئے ہیں۔
جنگ نے اس مسئلے کو اس وقت مزید بڑھا دیا جب توانائی اور پانی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور بعد از جنگ تعمیر نو کے لیے وسائل پانی کی بحالی سے ہٹا کر دیگر ترجیحات پر لگائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والی آلودگی اور کاربن اخراج نے ماحولیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ایرانی حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ، غیر قانونی کنوؤں پر پابندی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے اقدامات شروع کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل حل طویل المدتی اصلاحات اور پانی کے موثر انتظام میں ہے۔