← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران پر حملہ بھی تیل کی جنگ ہے: جلبیر الاشقر

By جدوجہد • 2026-03-16 • 30 min read

بشیر ابو منہہ

سیاسی ماہر معاشیات جلبیر اشقر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسلسل جنگوں میں گھرے ہونے کی بنیادی وجہ خطے کی عالمی تیل معیشت میں مرکزی حیثیت اور بڑی طاقتوں کی وہ حکمت عملی ہے جو اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔انہوں نے ’جیکوبن‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویوکے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کی منطق، امریکہ اسرائیل اتحاد کی حدود، موجودہ تنازعے میں ایران کی حکمت عملی، اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سامراجی نظریے کے علاقائی اثرات پر گفتگو کی۔ان کی یہ گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:

جنگ کا ذکر کیے بغیر مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کرنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ شاید یہ وہ خطہ ہے جو 1945 کے بعد سب سے زیادہ جنگوں سے برباد ہوا ہے۔ صرف گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں بہت سی عرب بغاوتیں طویل خانہ جنگیوں میں بدل گئیں۔ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ تو الگ سے جاری ہے۔ آپ کے خیال میں اس خطے میں جنگ اتنی عام کیوں ہے؟

جلبیر اشقر:اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کا خطہ پوری دنیا کے تمام خطوں میں 1945 کے بعد سے سب سے زیادہ مسلح تنازعات کا شکاررہا ہے،چاہے وہ ریاستوں کے درمیان جنگیں ہوں یا بیرونی فوجی مداخلتیں۔اس آخری قسم میں بالخصوص اس وقت بہت تیزی آئی جب سوویت یونین ٹوٹ گیا اور امریکہ نے خود کو خطے میں مداخلت کے لیے پوری طرح آزاد محسوس کیا۔ اس کا آغاز 1991 کی عراق کے خلاف جنگ سے ہوا۔ بعد میں ولادیمیر پوتن کے تحت روس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا اور 2015 میں شام کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے فوجی مداخلت کی۔

خطے میں جنگوں کی یہ کثرت ایک سیدھی سی وجہ رکھتی ہے۔یہ وہ چیزہے جسے اس خطے میں اکثر’’تیل کی لعنت‘‘کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ حقیقت کہ خلیج اور اس سے متصل ممالک کے بارے میں دوسری عالمی جنگ سے ذرا پہلے ہی یہ معلوم ہو چکا تھا کہ یہاں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں،اور وہ بھی ایسے تیل کے ذخائر جو نسبتاً آسانی سے نکالے جانے کے سبب بہت زیادہ منافع بخش ہیں۔

تیل ، یا زیادہ درست طور پر ہائڈرو کاربنز، جن میں قدرتی گیس بھی شامل ہے، عالمی جنگ کے اختتام سے ہی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سیاست کا مرکز رہے ہیں۔ خطے میں امریکی سامراج کی شدید دلچسپی، جسے بڑی امریکی تیل کمپنیوں کا سہارا حاصل تھا، اس مشہور واقعے سے بھی واضح ہوتی ہے کہ فروری 1945 میں فرینکلن ڈیلا نو روزویلٹ نے بحر احمر میں اس وقت ایک مختصر قیام کیا، جب وہ یالٹا کانفرنس سے واپس آ رہے تھے ۔ یہ وہی کانفرنس تھی جہاں اتحادی طاقتیں جنگ کے بعد کی دنیا کی تشکیل پر مذاکرات کر رہی تھیں۔بحر احمر میں یو ایس ایس کوئنسی پر ہونے والی ان کی یہ ملاقات شاہ عبدالعزیز (سعودی ریاست کے بانی) سے ہوئی، جس کے فوراً بعد ظران میں امریکی فضائیہ کا ایک بڑا اڈہ قائم کیا گیا۔ یہ مقام نہ صرف سعودی عرب کے اہم ترین تیل کے میدانوں کے وسط میں تھا ، جنہیں اس وقت امریکی غلبے والی کمپنی آرامکو (اصل نام، عربین امریکن آئل کمپنی) چلاتی تھی ، بلکہ یہ مقام سرد جنگ کے تذویراتی مقاصد کے لیے بھی انتہائی موزوں تھا۔

ایک موقع پر میں نے سعودی ریاست کو امریکی اتحاد کی ’’حقیقی 51ویں ریاست‘‘ کہا تھا ۔ یہ ایک ایسا ڈی فیکٹو سٹیٹس ہے، جو اسرائیلی ریاست کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کا ہے۔سعودی عرب اور پورا خلیجی علاقہ ماضی میں ، اور آج تک بھی، امریکہ کی مشرقی نصف کرے میں سامراجی حکمت عملی کا مرکزی محور رہا ہے ، خواہ کتنی ہی بار عام رائے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ ’’یہ تیل کے بارے میں نہیں‘‘ یا ’’صرف تیل کے بارے میں نہیں۔‘‘

2003 میں عراق پر امریکی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق چیئرمین فیڈرل ریزرو ایلن گرین سپین نے اپنی یادداشتوں میں حیرت کا اظہار کیا کہ’’ آخر یہ تسلیم کرنا سیاسی طور پر اتنا مشکل کیوں ہے ، جوبات ہر کوئی جانتا ہے کہ عراق کی جنگ کا بنیادی تعلق تیل ہی سے تھا۔‘‘

یقیناً، خصوصی طو رپر امریکہ کے لیے تیل کے بارے میں ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ امریکہ کو عراق یا خلیجی تیل تک براہ راست رسائی درکار ہے۔ اصل معاملہ ان بے پناہ تیل کی دولت کے ذخائر پر کنٹرول کا ہے جو خلیجی ریاستوں کے پاس ہیں (ان کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈز کے اثاثے 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہیں، جو دنیا کے تمام خودمختار فنڈز میں موجود سرمائے کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں) ۔ ساتھ ہی ان کی زبردست خریداری کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا،بالخصوص امریکی فوجی صنعتی کمپلیکس کی مالی معاونت کے لیے یہ خریداری کی صلاحیت کافی اہم ہے۔اسی کے ساتھ یہ بھی مقصد ہے کہ دیگر ریاستوں کی خلیجی تیل و گیس تک رسائی پر امریکی کنٹرول قائم رہے۔ جیسے کہ ڈیوڈ ہاروی نے نہایت درست کہا تھا کہ ’’جس کے کنٹرول میں مشرق وسطیٰ ہو، وہ عالمی تیل کے نلکے کا مالک ہوتا ہے ، اور جس کے پاس یہ نلکہ ہو، وہ عالمی معیشت کو کنٹرول کر سکتا ہے، کم از کم مستقبل قریب تک۔‘‘

یہ بات بھی اسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ وہ تمام لوگ کس قدر غلط تھے جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ امریکہ میں شیل آئل اور شیل گیس کی پیداوار میں اضافے اور چین کی طاقت میں اضافے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کی واشنگٹن کے لیے اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ اسی غلط فہمی پر مبنی تبصروں کی بہت بڑی مقدار اوباما انتظامیہ کے’’ایشیا کی طرف مڑنے‘‘کے فیصلے کے متعلق سامنے آئی تھی۔تاہم ان تمام تجزیوں نے اس حقیقت کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا کہ خلیجی تیل کے نلکے پر کنٹرول چین کے خلاف امریکی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے ، جب کہ چین کی تقریباً نصف تیل درآمدات خلیج ہی سے آتی ہیں۔

امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑی کمپنیوں اور عرب خلیجی ریاستوں کے درمیان جاری مشترکہ منصوبے خطے کی امریکہ کے لیے مجموعی اہمیت میں ایک بالکل نیا اور بڑا عنصر شامل کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت وہاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تعمیر ہو رہے ہیں جو بہت زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، اور جنہیں خلیجی ریاستوں کی سرمائے کی فراوانی اور سستی توانائی کا فائدہ حاصل ہے ۔

آخرمیں ٹرمپ انتظامیہ کا معاملہ ہے، جو کسی طور پر بھی اہم نہیں ہے۔عرب خلیجی ریاستوں میں ٹرمپ، کشنر اور وٹکوف خاندانوں کے بڑے تجارتی مفادات نے واشنگٹن کی دلچسپی کو پورے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ اور خصوصاً خلیج میں تاریخی طور پر بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ، جس کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے کسی بھی اور خطے کے مقابلے میں خلیج میں زیادہ فوجی مداخلتیں کیں۔

واقعی، ٹرمپ ان امریکی صدور کی طویل قطار میں شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کو امریکی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنائے رکھتے ہیں۔ ایران پر امریکی حملے کے فوری محرکات اور طویل المدتی پالیسی مقاصد کیا ہیں؟ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کی منطق کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

جلبیر اشقر:1979 کے ایرانی انقلاب نے جب شاہ کے اقتدار کو ختم کیا، جو خطے میں امریکہ کا ایک بڑا اتحادی تھا ، تو تہران امریکہ کے لیے ایک مسلسل چبھنے والا کانٹا بن گیا۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مختلف اور بعض اوقات حیران کن مراحل سے گزرے ہیں۔ عجیب لگے گا، مگر 1979 کے بعد بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعاون کے ادوار آئے۔

1980 کی دہائی میں ایران کانٹرا اسکینڈل کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے عراق کے خلاف ایران کی جنگی کوششوں کو سہارا دیا، کیونکہ اس وقت ان کے مفاد میں یہی تھا کہ وہ جنگ زیادہ سے زیادہ طویل ہو، جسے وہ اپنے مفادات کے لیے خطرناک دو سرکش ریاستوں کے درمیان لڑائی سمجھتے تھے ۔بعد ازاں، 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران ایران نے اپنی عراقی پراکسیوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیا۔

المیہ یہ ہے کہ امریکی فوج اپنے ساتھ انہی پراکسیوں کو بھی لے آئی اور بعد میں انہیں عراق کی حکومت میں بٹھا دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایران اس حملے کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا، یہاں تک کہ اس نے عراق پر وہ اثر و رسوخ حاصل کر لیا جو امریکہ کے پاس بھی نہیں تھا۔اسی وجہ سے عراق پر حملہ امریکی سامراج کی تاریخ کا ایک بہت بڑا ناکام تجربہ سمجھا جاتا ہے، جو ویتنام کی شکست کے برابر رکھا جاتا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے 2015 میں تہران کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا، اس نے ایران کو خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے مزید پھیلاؤ سے نہیں روکا۔ خاص طور پر جب 2013 سے ایران نے بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مل کر شام میں مداخلت کی اور 2014 میں حوثیوں نے شمالی یمن پر قبضہ کر لیا، تو ایران کا خطے میں اثر مزید بڑھا۔اپنے اس پھیلاؤ میں تہران نے اسرائیل مخالف اور امریکہ مخالف جذبات کے ساتھ ساتھ شیعہ فرقہ وارانہ وابستگی کو بھی بھرپور استعمال کیا۔

یہی وہ بنیادی اعتراض ہے جو ٹرمپ، بنیامین نیتن یاہو اور خلیج کی اہم بادشاہتیں اوباما پر کرتی ہیں ۔ وہ سب اس بات پر ناخوش ہیں کہ اوباما نے اس وقت معاہدہ کیا جب ایران کا علاقائی اثر اپنے عروج پر تھا، اور انہوں نے اس پھیلاؤ کو روکنے کی مناسب کوشش نہیں کی۔الٹا معاہدے سے ایران کی معاشی حالت بہتر ہوئی، جس نے اس کی علاقائی حکمت عملی کو مزید آسان بنا دیا۔

ان تمام عوامل کو ذہن میں رکھ کر ٹرمپ کی ایران پالیسی کی مضبوط منطق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس موجودہ جارحانہ کارروائی کے ذریعے ٹرمپ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ایران پر غلبہ حاصل کر لیں گے، ایک ایسا غلبہ جو امریکہ کی خلیج ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر برتری کو بے حد مضبوط اور مکمل کر دے گا۔

یہ جنگ تو گویا نیتن یاہو کے خوابوں کی تعبیر لگتی ہے۔ کیا امریکی جنگی مقاصد اسرائیل کے مقاصد ہی کے برابر ہیں، یا ان میں نمایاں فرق موجود ہیں؟

جلبیر اشقر:اس میں بیک وقت ہم آہنگی بھی ہے اور اختلاف بھی۔ہم آہنگی تو واضح ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران کا جوہری پروگرام ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں صرف نیتن یاہو کی حکومت نہیں بلکہ پوری صہیونی طاقت کا ڈھانچہ یہی چاہتا ہے۔

اسرائیل اس معاملے کو اپنی وجودی سلامتی کا مسئلہ سمجھتا ہے، کیونکہ وہ خطے میں واحد ایٹمی ریاست ہے اور ایران کا ممکنہ ایٹمی ہتھیار اس مقام کو چیلنج کرے گا۔

واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اگر ایران نے مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیے، تو یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ بن جائے گی ، کیونکہ تہران عرب تیل کے علاقوں پر جوہری دھمکی دے سکتا ہے، جو امریکی مفادات اور عالمی معیشت دونوں کے لیے شدید تباہ کن ہوگا۔ یقینا امریکہ اور اسرائیل دونوں کا مفاد اس میں ہے کہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو پیچھے دھکیلیں۔

اب اختلافات بھی موجود ہیں، اگرچہ وہ ہم آہنگیوں کے مقابلے میں اتنے نمایاں نہیں۔عمومی طور پر تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ اسرائیل کے مقاصد اور امریکہ کے اہداف پوری طرح یکجا ہو گئے ہوں۔مثال کے طور پر امریکہ کے مفادات کے لیے ہونے والی پہلی بڑی اسرائیلی جنگ ،یعنی جون 1967 کی 6روزہ جنگ کو لیجیے۔اس جنگ میں اسرائیل نے ان دو عرب ریاستوں کو شدید نقصان پہنچایا جو اس وقت امریکی سامراج کی سخت مخالف تھیں۔ ان میں جمال عبدالناصر کی قیادت میں مصراور عرب قوم پرست بعث پارٹی کی بائیں بازو کی قیادت میں شام کی ریاست شامل تھی۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا اور پورے برطانوی مینڈیٹ فلسطین ،یعنی دریائے اردن سے بحیرہ روم تک، پر قبضہ مکمل کر لیا ۔ یہ سب اردنی بادشاہت کے خرچے پر ہوا، جو امریکہ کی مضبوط اتحادی تھی اور 1949 سے مغربی کنارے پر حکمرانی کر رہی تھی۔یہ اقدام یقیناوہ چیز نہیں تھی جو واشنگٹن چاہتا تھا۔

ایران پر جاری جارحیت میں اختلاف اس وقت مزید واضح ہو جاتا ہے جب بھی نیتن یاہو‘‘رژیم چینج’’کی بات کرتے ہیں اور 1979 میں ہٹائے گئے شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے تحت بادشاہت کی بحالی کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ جبکہ انہیں اسی طرح نظرانداز کر دیتے ہیں، جیسے انہوں نے وینزویلا کی دائیں بازو کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو نظرانداز کر دیا تھا، جب نکولس مادورو کو اغوا کیا تھا۔

نیتن یاہو کی پوزیشن کا موازنہ ٹرمپ کے 6 مارچ کو فاکس نیوز میں دیے گئے صاف گو بیان سے کیا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے ڈیلسی روڈریگز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بہت آسانی سے کام کرے گا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہو گا جیسا وینزویلا میں ہوا۔ وہاں ہمارے پاس ایک زبردست لیڈر ہے۔ وہ شاندار کام کر رہی ہے اور یہ بھی وینزویلا کی طرح کام کرے گا۔‘‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں کسی مذہبی رہنما کے برسراقتدار آنے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ہاں، ہو سکتا ہے۔ یہ اس شخص پر منحصر ہے۔ مجھے مذہبی رہنماؤں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں بہت سے مذہبی رہنماؤں سے ڈیل کرتا ہوں اور وہ بہت بہترین ہوتے ہیں۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران میں جمہوری ریاست پر اصرار کر رہے ہیں، تو ٹرمپ نے سی این این کو بتایا کہ ’’نہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ ایسا لیڈر ہونا چاہیے جو منصفانہ اور عادل ہو۔ بہترین کام کرے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک، جو سب ہمارے شراکت دار ہیں ، ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔‘‘

اصل نکتہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اور پوری صہیونی طاقت کا ڈھانچہ ایرانی ریاست کے ٹوٹنے کو اپنے دیرینہ منصوبے ، یعنی خطے کی تقسیم اور اسے کمزور کرنے کے لیے نہایت موزوں سمجھے گا۔تاہم ایران کی ریاست کا ٹوٹ جانا اور ٹکڑوں میں بٹ جانا ، امریکی مفادات کے لیے تباہ کن ہوگا،کیونکہ اس کی تقریباً نصف آبادی نسلی اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ایسا اس لیے ہے کہ اس ٹوٹ پھوٹ سے پورے خطے میں شدید عدم استحکام پیدا ہو گا، اور اس کا آغاز واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں سے ہو گا۔یہ اتحادی یقینا ایران کے خلاف امریکی اہداف کی حمایت کرتے ہیں، مگر اسی قدر یقین سے وہ اسرائیلی مقصد کو مسترد بھی کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ وہ سب آمرانہ حکومتیں ہیں، اس لیے وہ نیتن یاہو کی ایران میں’’جمہوریت‘‘کی منافقانہ وکالت سے خائف ہی سکتے ہیں۔

میری جس بات کو میں نے ٹرمپ کی’’اولڈ نیو امپیریل ڈاکٹرائن‘‘کہا تھا، اسے سمجھنے کے لیے عراق کے تجربے کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔ یہ ایک ایسا ہے تجربہ جسے ٹرمپ نے بہت قریب سے دیکھا۔2003 میں عراق پر قبضے کے بعد واشنگٹن نے عراقی ریاست کو مکمل طور پر تحلیل کر دیا، جس کے نتیجے میں ایسا انتشار پیدا ہوا جس نے ایران کو عرب شیعہ اکثریت پر اپنا اثر بڑھانے کا موقع دیا، اور عرب سنی آبادی میں امریکہ مخالف بغاوت کو بھی جنم دیا، جو بعد میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا(داعش) میں تبدیل ہو گئی۔اس پورے تجربے سے نتیجہ یہ نکلا کہ‘’’رژیم چینج‘‘ غلط راستہ تھا، جس کی وکالت وہ نیوکان کرتے تھے جو جارج ڈبلیو بش کے پہلے دور میں محکمہ دفاع پر حاوی تھے اور جنہیں ڈونلڈ رمزفیلڈ اور ڈک چینی کی حمایت حاصل تھی ۔اس کی بجائے امریکہ کو یہ کرنا چاہیے کہ موجودہ حکومتوں کو جیسے ہیں ویسے ہی رکھتے ہوئے، ان پر اپنی مرضی نافذ کرے ، خواہ ان حکومتوں کی نوعیت کچھ بھی ہو۔

ایک طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں امریکہ نے 19ویں صدی کی’’گن بوٹ ڈپلومیسی‘‘کا جدید ورژن اپنا لیا ہے، یعنی بڑی طاقتیں کمزور ممالک پر بمباری کی دھمکی دے کر اپنی مرضی مسلط کریں، یا اگر وہ بات نہ مانیں تو واقعی بمباری کر دیں۔اس زمانے میں بھی حکومتوں کے سیاسی کردار یا نوعیت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اہم صرف یہ تھا کہ سامراجی مفادات طاقت کے زور پر نافذ کر دیے جائیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مشترکہ جارحیت کے بائیں بازو، دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو سب میں بہت سے مخالفین اسے بلاجواز سمجھتے ہیں، کیونکہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ اکثر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔یہ جنگ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا واقعی اسرائیل اور اس کا لابی نیٹ ورک امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کو طے کرتا اور بگاڑتا ہے؟تاریخی اور موجودہ حالات میں امریکہ اسرائیل اتحاد کی نوعیت اور بنیاد کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

جلبیر اشقر: میں نے واشنگٹن اور اسرائیل کے درمیان جو اختلافات بیان کیے، ان سے واضح ہو جانا چاہیے کہ اسرائیل جیسی دم امریکہ جیسے بے لگام سانڈ کو نہیں ہلا رہی۔دونوں ممالک کے مفادات اس وقت ایران پر حملے میں ہم آہنگ ہیں، لیکن ان کے مقاصد ایک جیسے نہیں۔جہاں تک مارکو روبیو کے اس بیان کا تعلق ہے جس پر بہت بحث ہوئی:

’’ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیل کوئی کارروائی کرے گا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس سے امریکہ کے خلاف حملہ شروع ہو جائیں گے، اور ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہم نے یہ حملے شروع ہونے سے پہلے انہیں پیشگی نشانہ نہ بنایا، تو ہمارے جانی نقصان بہت زیادہ ہوں گے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ اس بیان کو بڑی حد تک غلط سمجھا گیا ہے۔اس بیان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ٹرمپ کی نئی سامراجی حکمت عملی کے ایک مرکزی عنصر کو ذہن میں رکھیں، یعنی’’رژیم چینج‘‘کی بجائے’’رژیم کے رویے کی تبدیلی‘‘۔ جیسا کہ امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے وینزویلا میں امریکہ کی بحری لوٹ مار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔اس نئی حکمت عملی میں وہ رہنما ختم کر دیے جاتے ہیں جنہیں کسی ریاست کے رویے کی تبدیلی میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔چونکہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اغوا کرنا نہ تو ممکن تھا اور نہ ہی مفید، اس لیے واحد راستہ انہیں قتل کرنا بچتا تھا ۔ یہ ایک ایسا فن تھا،جس میں اسرائیل اور اس کی سی آئی اے کی ہم منصب خفیہ ایجنسی موساد شہرت یافتہ ماہر ہیں۔چنانچہ واشنگٹن نے یہ کام سرانجام دینے کے لیے اپنے جونیئر پارٹنر (اسرائیل) پر انحصار کیا۔

فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیق سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کے روز ایک خاص طور پر موزوں موقع تلاش کیا:

امریکی چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ڈین کین کے مطابق’’جب سی آئی اے اور اسرائیل نے یہ تعین کیا کہ خامنہ ای ہفتے کی صبح پاستور اسٹریٹ کے قریب اپنے دفتر میں اجلاس کی صدارت کریں گے، تو انہیں لگا کہ نہ صرف خود خامنہ ای بلکہ ایران کی اعلی قیادت کے بڑے حصے کو ختم کرنے کا موقع بہت زیادہ سازگار ہے۔۔۔اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر بمباری کا راستہ صاف کرنے کے لیے امریکی فوج نے سائبر حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی دیکھنے، بات چیت کرنے اور ردعمل دینے کی صلاحیت کو درہم برہم، کمزور اور مفلوج کرناتھا۔‘‘

اب جب جان میئرشائمر، اسٹیفن والٹ، اور ٹکر کارلسن جیسے میگا دھڑے کے قدامت پسند افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیلی دم امریکی سانڈکو ہلا رہی ہے، تو وہ دراصل امریکی سامراجیت کی حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، اور امریکی ناکامیوں کا ذمہ دار اگر براہ راست ’یہودیوں‘ کو نہ بھی کہیں، لیکن اسرائیلی لابی کو ضرور ذمہ دارٹھہراتے ہیں، جیسا کہ کارلسن اکثر کرتے ہیں۔

میئرشائمر اور والٹ کی 2007 کی مشہور کتاب میں بھی یہی موقف اختیار کیا گیا کہ عراق پر امریکی حملہ خراب منصوبہ بندی تھا، گویا تیل کی بو سونگھتی جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کونائن الیون کے حملوں کے بعد عراق پر حملے کا فیصلہ کرنے کے لیے اسرائیلی لابی کی ضرورت تھی،جس میں’پروجیکٹ فار دا نیو امریکن سنچری‘کے وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے برسوں کلنٹن حکومت پر عراق پر حملے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

حالانکہ اس وقت عراق ایران کے ساتھ 8 سال کی جنگ کے بعد تھکا ہارا تھا،اور 12 سالہ امریکی پابندیوں کے باعث انتہائی کمزور ہو چکا تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل چاہتا تھا کہ امریکہ اس وقت ایران پر حملہ کرے، نہ کہ عراق پر۔ اسرائیل اس بات پر یقینی طور پر ناخوش بھی تھا کہ واشنگٹن نے عراق پر قبضے کے بعد ایرانی اتحادیوں کو امریکی ٹینکوں پر بٹھا کر بغداد میں اقتدار دے دیا۔

واشنگٹن کا’’خصوصی تعلق‘‘اسرائیل کے ساتھ دراصل اس لیے ہے کہ امریکہ اسرائیل کو اپنے علاقائی مفادات کا واچ ڈاگ سمجھتا ہے۔ ایک ایسا فوجی اتحادی جوامریکی مداخلت کو داخلی سیاسی رکاوٹوں کے وقت پورا کر سکتا ہے،یا اس کی تکمیل کر سکتا ہے، جیسا کہ ایران کے خلاف مشترکہ حملے میں نظر آ رہا ہے،اور گزشتہ جون کے حملے میں بھی نظر آیا تھا۔امریکہ جو بھی فوجی امداد اسرائیل کو دیتا ہے، وہ امریکی دفاعی بجٹ کے مقابلے میں معمولی سی رقم ہے، اور یہی رقم اگر پینٹاگون کے اخراجات میں شامل ہو جائے تو اس کا فائدہ بہت کم ہوتا۔اسرائیل پر خرچ کیا گیا سرمایہ واشنگٹن کے لیے انتہائی منافع بخش سرمایہ کاری ہے۔بعض اوقات نظریاتی وابستگی بھی اس حمایت کو بڑھا دیتی ہے ، جیسے جو بائیڈن کے معاملے میں، جو تمام امریکی صدور میں سے سب سے زیادہ کھلے عام صہیونی تھے، اور اسے فخر سے تسلیم بھی کرتے تھے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں ایران وہی کچھ کر رہا ہے جس کا وہ ہمیشہ اعلان کرتا آیا ہے، یعنی خطے میں امریکی مفادات ، بشمول خلیجی ممالک،پر حملہ۔ اس جنگ میں ایران کے مقاصد کیا ہیں، اور کیا ایران کی داخلی طور پر غیر مقبول حکومت بچ پائے گی؟

جلبیر اشقر:اس جنگ کو پورے خطے میں پھیلانے کے حوالے سے ایران کے مقاصد بالکل واضح ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ ایران نے یہ دھمکی بہت پہلے سے دے رکھی تھی۔ موجودہ جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے ایران کے پاس یہی واحد فوجی کارڈ ہے۔ اسرائیل اور اس کی پہنچ میں موجود امریکی فورسز پر بمباری کے علاوہ وہ خلیجی ریاستوں اور ان کی تیل برآمدات میں ایسی شدید خلل پیدا کرنا چاہتا ہے کہ عالمی معیشت اور خود ان ریاستوں پر بڑا دباؤ پڑے۔ یہ صورت حال پھر ان ممالک کو مجبور کرے گی کہ وہ واشنگٹن پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ جنگ جلد از جلد روکی جائے۔

جہاں تک ایران کی حکومت کے بچنے کا سوال ہے، فی الحال مجھے اس کے گرنے کا کوئی قابل اعتبار امکان نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ جنگ کے بعد حکومت کے خلاف عوامی بغاوت دوبارہ ابھر آئے، لیکن یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ تہران میں لوگ بمباری کے دوران سڑکوں پر نکل آئیں۔ اگر وہ ایسا کر بھی لیں تو ایران میں کوئی منظم اپوزیشن موجود نہیں جو اسلامی جمہوریہ کو گرا سکے۔ گزشتہ سال کے آخری ایام میں شروع ہونے والی وہ بغاوت جو 1979میں شاہ کے خاتمے کے بعد سب سے وسیع تھی، اس کے مقابلے میں بھی اس مذہبی حکومت نے ثابت کیا کہ وہ اپنی بقا کے لیے ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار شہریوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

واحد ممکنہ متبادل منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کی مسلح افواج میں تقسیم ہو جائیں،مثلاً باقاعدہ آرمی اور پاسداران انقلاب آپس میں ٹکرائیں،جو حکومت کا حقیقی عسکری ستون ہیں،اور ملک شام جیسی خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ جائے۔ تاہم یہی وہ خوفناک منظر ہے جو واشنگٹن کے لیے ڈراؤنا خواب جبکہ اسرائیل کے لیے میٹھا خواب ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ مسلسل ریاست کے اندر سے تبدیلی کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، حتیٰ کہ ایسے ’’مذہبی رہنماؤں‘‘ سے تعاون پر بھی آمادہ ہیں جو امریکی مفادات کے لیے موزوں ہوں۔ فی الحال ایرانی حکومت نے محاذ آرائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔ آخرکار ٹرمپ کی خواہش پوری ہو گی یا ایرانی حکومت اپنی جگہ ڈٹی رہے گی،یہ اس وقت کہنا ممکن نہیں۔ البتہ ابتدائی اشارے یہی بتاتے ہیں کہ حکومت اپنے موقف پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آپ کا اپنے ملک لبنان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسرائیل نے 7 اکتوبر سے اب تک اس پر بمباری بند نہیں کی، اور حزب اللہ فوجی اور سیاسی دونوں لحاظ سے شدید کمزور ہو چکی ہے۔ اسے وہ عوامی حمایت بھی حاصل نہیں رہی جو 2006 میں اسرائیل سے لڑتے وقت تھی، خاص طور پر اس کے بعد جب وہ سفاک بشار الاسد رژیم کی حمایت میں مداخلت کر بیٹھے۔ حزب اللہ کس سمت جا رہی ہے؟

جلبیر اشقر:اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر تہران کی ایک پراکسی سمجھتا ہے۔ تاہم حزب اللہ ایک عوامی بنیاد رکھنے والی جماعت بھی ہے جو وہی نظریاتی مجموعہ رکھتی ہے جو تہران کا ہے،یعنی صہیونیت مخالفت، امریکی غلبے کی مخالفت، شیعہ فرقہ واریت، اور اسلامی بنیاد پرستی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کی کوشش کے دوران کیا، ویسے ہی وہ حزب اللہ کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے لیے وہ دو راستے اپنا رہا ہے۔ ایک براہ راست قیادت کو نشانہ بنانا،جس کا مظاہرہ 2024 کے موسم خزاں میں حزب اللہ کی قیادت کے خاتمے سے ہوا،اور دوسرا وہ آزمودہ کاؤنٹر انسرجنسی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔اسکو ’’سمندر کو خشک کرنا‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی دشمن کو عوامی حمایت سے محروم کرنے کے لیے اس عوام پر ہی حملے کرنا تاکہ وہ آخرکار دشمن سے خود کو الگ کر لیں اور اس کے خلاف ہو جائیں۔

اس حکمت عملی کے اسرائیلی نسخے کو ضاحیہ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے،یعنی بیروت کے جنوبی مضافات کے نام پرحملے (عربی میں ضاحیہ مضافات کو کہا جاتا ہے)، جو شیعہ اکثریتی اور حزب اللہ کے مضبوط علاقوں میں شامل ہیں۔ 2006 میں اسرائیل نے حزب اللہ پر حملے کے دوران ان علاقوں پر شدید بمباری کی اور انہیں بڑی حد تک تباہ کر دیا۔ ایسے ہی دیگر شیعہ اکثریتی اور حزب اللہ نواز علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہی کچھ اسرائیل آج دوبارہ 2006 یا 2024 سے بھی زیادہ بربریت کے ساتھ لبنان پر مسلط کر رہا ہے۔ایسا اس نیت سے کیا جا رہا ہے کہ وہ لبنانی ریاستی اداروں کو حزب اللہ کو مجبور کرنے پر آمادہ کرے کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔یہ سب کیسے ختم ہو گا، اس کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس کا انحصار بہت زیادہ اس بات پر ہے کہ ایران پر جاری موجودہ جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

اس بارے میں ایک آخری بات کہنا چاہتا ہوں کہ غزہ پر اپنی نسل کش جنگ، جسے اسرائیل حماس کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے،اور لبنان پر اپنی خونریز یلغار، جس میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،کے ذریعے اسرائیل ایک ایسی روش اختیار کر رہا ہے جو اس کی تاریخ کا تلخ ترین طعنہ ہے۔ یہ رویہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا’’سمندر کو خشک کرنے‘‘کی حکمت عملی کی سب سے قدیم مثالوں میں دیکھا جاتا ہے۔ جیسے دوسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت نے جس بے رحمی کے ساتھ شمعون بارکوخبا کی قیادت میں اپنی سلطنت کے خلاف ہونے والی یہودی بغاوت کو کچلا تھا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست شاید شعوری طور پر یہ چاہتی ہے کہ وہ تمام تاریخی جابروں کی پیروی کرے جنہوں نے قدیم زمانے سے لے کر 20ویں صدی تک یہودیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا تھا،اور بالکل ویسا ہی سلوک مشرق وسطیٰ کی اقوام کے ساتھ کرے۔یہ وہ’’ڈارونین نقالی‘‘ہے جس کا انتباہ سیاسی صہیونیت کے بانی تھیوڈور ہرزل نے بہت پہلے کیا تھا،اور آج وہ مکمل طور پر حقیقت بن چکی ہے۔

(بشکریہ: ’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)