← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی قائم رکھنے کی کوشش ہے: توفیق حداد

By جدوجہد • 2025-06-25 • 11 min read

لاہور (جدوجہد رپورٹ) توفیق حداد کہتے ہیں کہ ’’ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی کو قائم رکھنے کی کوشش بھی ہے۔یہ ایک خطرناک اقدام ہے اور الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔عالمی حالات غیر مستحکم ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تنازعہ پورے خطے کی جنگ یا یہاں تک کہ عالمی تصادم میں بدل جائے گا۔ایک بات واضح ہے کہ پرانا بین الاقوامی نظام ٹوٹ رہا ہے،اور اس کی جگہ کیا آئے گا، یہ ابھی طے نہیں ہوا۔۔۔۔۔غزہ میں جاری نسل کشی کوئی الگ تھلگ ہولناکی نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ ایک پکار بھی ہے کہ ہم ایک مختلف دنیا کی تعمیر کریں،جہاں یکجہتی اور مزاحمت، فسطائیت اور سامراج کا متبادل بنیں۔‘‘

توفیق حداد ایک فلسطینی مصنف ہیں۔ وہ اپنی کتاب ’’فلسطین لمیٹڈ: مقبوضہ علاقوں میں نیولبرل ازم اور قوم پرستی‘‘ میں جائزہ لیتے ہیں کہ مغرب کی سربراہی میں چلنے والے نیو لبرل ’امن منصوبوں‘ نے 1993 کے اوسلو معاہدوں کے بعد کس طرح فلسطینی ریاست سازی کے نام پر عدم مساوات کو مزید گہرا کیا۔ ان عوامل کو سمجھنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ آج جاری نسل کشی کی بنیاد بنے۔

سربیا کی ایک ترقی پسند ویب سائٹ ’ماشینا‘ نے توفیق حداد کا فلسطین اور ایران کے تازہ حالات کے بارے میں ایک مختصر انگریزی انٹرویو کیا ہے، جس کا اردو ترجمہ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ جدوجہد کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے:

نیولبرل اداروں نے نام نہاد امن عمل کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا، اور اس کا آج کے حالات سے کیا تعلق ہے؟

توفیق حداد: نیولبرل ادارے اوسلو کے بعد کے’امن عمل‘کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے،لیکن اس کا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں تھا، بلکہ اسے ایسے انداز میں ’چلانا‘تھا جس سے اسرائیلی کنٹرول برقرار رہے۔

یہ عمل کبھی بھی قبضے، خودمختاری، یا پناہ گزینوں جیسے بنیادی سیاسی معاملات کو حل کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کو یہ موقع دینے کے لیے تھا کہ وہ براہ راست قبضے کا بوجھ اتار کر بھی اپنی آبادیاتی و جغرافیائی برتری برقرار رکھے۔

پہلے انتفادہ کے بعد اسرائیل نے تسلیم کیا کہ براہ راست فوجی کنٹرول برقرار رکھنا ناقابل عمل ہے۔ چنانچہ اس نے بالواسطہ حکمرانی کا ماڈل اپنایا۔ ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کو حکومتی ذمہ داری سونپ دی گئی۔مغربی حمایت سے یہ ترتیب جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز کے دور کے’بانتوستانز‘جیسی تھی،یعنی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے، نیم خود مختار زونز جنہیں مقامی اشرافیہ چلاتی تھی، جبکہ زمین، سرحدوں، اور وسائل پر اصل کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہا۔

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں نے اس ماڈل کو معاشی بنیاد فراہم کی۔ مغربی ڈونرز نے تقریباً 50 ارب ڈالر فراہم کیے تاکہ ایسے’ریاستی‘ادارے بنائے جائیں جو صرف ظاہری شکل میں خودمختار ہوں، حقیقی معنوں میں نہیں۔

معاشی منطق نیولبرل تھی، جس میں نج کاری، ضوابط کا خاتمہ، اور فلسطینی، اسرائیلی اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کے درمیان شراکت داری شامل تھی۔اس نظام نے فلسطینی اشرافیہ کو ایک ایسی حیثیت دی جس میں وہ اسرائیل کی جانب سے قبضے کا انتظام چلاتے رہے، اورعوام پر سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سطح پر حکمرانی کرتے رہے۔مزاحمت کو دہشت گردی کا نام دیا گیا، اور دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہ سب ’امن کی طرف پیش رفت‘ہے،جبکہ درحقیقت بستیوں میں توسیع اور فلسطینی عوام کی مزید تقسیم جاری رہی۔

اس کا انجام یہ ہوا کہ فلسطینی علاقے 155 غیر مربوط انکلیوزمیں تقسیم ہوگئے،جن میں غزہ سب سے نمایاں ہے، جو ایک گنجان آباد، تباہ حال علاقہ بن گیا۔

جب سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے تو غزہ اس ناکام بندوبست کی انتہا بن گیا۔ ایک ایسی ’کھلی جیل، جسے اسرائیل نے دور سے کنٹرول کیا، معاشی طور پر مفلوج کیا، اور بار بار حملوں کا نشانہ بنایا،جن کا اختتام آج کی نسل کشی پر ہوا۔

ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال فلسطین میں ہونے والے واقعات سے کیسے جڑی ہوئی ہے؟

توفیق حداد:اسرائیل خطے میں، خاص طور پر ایران کے خلاف تصادم کی پالیسی اختیار کر رہا ہے تاکہ اپنی طاقت کو مزید مضبوط کر سکے۔غزہ اس کا فوری ہدف ہے، مگر اسرائیل اس وقت امریکی حمایت، عرب دنیا کی تقسیم، اور خطے میں عدم استحکام جیسے عالمی حالات کا فائدہ اٹھا کر ایران پر بھی وار کرنا چاہتا ہے۔یہ تصادم جزوی طور پر غزہ میں اسرائیلی ناکامی کا ردعمل ہے۔وسیع تباہی کے باوجود اسرائیل فلسطینی مزاحمت کو کچلنے یا عالمی رائے عامہ کو مکمل طور پر اپنے حق میں کرنے میں ناکام رہا ہے۔فوجی طور پر اس نے صرف طاقت پر انحصار کیا، لیکن سیاسی و اخلاقی جواز کھو دیا۔ اب وہ جنگ کا میدان وسیع کر کے علاقائی تبدیلی کا خواہاں ہے۔

تاہم ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی کو قائم رکھنے کی کوشش بھی ہے۔یہ ایک خطرناک اقدام ہے اور الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔عالمی حالات غیر مستحکم ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تنازعہ پورے خطے کی جنگ یا یہاں تک کہ عالمی تصادم میں بدل جائے گا۔ایک بات واضح ہے کہ پرانا بین الاقوامی نظام ٹوٹ رہا ہے،اور اس کی جگہ کیا آئے گا، یہ ابھی طے نہیں ہوا۔

فلسطینی آزادی کی طرف راستہ کیا ہے؟

توفیق حداد: کوئی ایک سیدھا راستہ نہیں ہے، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فلسطینی جدوجہد صرف مظلومیت نہیں بلکہ ایک سیاسی تحریک ہے جس کی عالمی معنویت ہے۔فلسطینیوں کی استقامت اور تنظیمی قوت دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ان کی جدوجہد نسل پرستی، قبضے، اور سیٹلر کلونیل ازم کے خلاف ہے،اور یہ دیگر جگہوں پر چلنے والی جدوجہدوں (خود ارادیت، انصاف، وقار) سے جڑی ہوئی ہے۔

فلسطین سے یکجہتی محض انسانی ہمدردی نہیں، بلکہ مشترکہ حالات کو پہچاننے کا تقاضا ہے۔اسرائیل جو نگرانی کی ٹیکنالوجی فلسطینیوں پر آزماتا ہے، وہ یورپی حکومتوں سمیت دنیا بھر کو برآمد کی جا رہی ہیں۔مثلاً سربیا میں اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف استعمال ہوا ہے۔فلسطینیوں پر جو جبر ہوتا ہے، وہ اب دنیا بھر میں معمول بنتا جا رہا ہے۔دنیا بھر میں دائیں بازو کی شدت پسندی اور فسطائیت، اسرائیل کی حمایت سے جڑی ہوئی ہے۔اسی لیے فلسطینی کاز کو بین الاقوامی، اینٹی فاشسٹ، اور غیر آمرانہ تحریکوں کا حصہ بننا چاہیے۔ہمیں صرف ’وہاں کیا ہو رہا ہے‘ کے خلاف نہیں، بلکہ ’یہاں‘جو کچھ اس کی اجازت دیتا ہے، اس کے خلاف بھی منظم ہونا ہوگا۔غزہ میں جاری نسل کشی کوئی الگ تھلگ ہولناکی نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ ایک پکار بھی ہے کہ ہم ایک مختلف دنیا کی تعمیر کریں،جہاں یکجہتی اور مزاحمت، فسطائیت اور سامراج کا متبادل بنیں۔

(بشکریہ: ’ماشینا‘، ترجمہ: حارث قدیر)