ایران کے بارے میں مغرب کا ’بلائنڈ سپاٹ‘ - روزنامہ جدوجہد
نسرین پرواز
مغربی میڈیا زیادہ تر انہی ایرانی آوازوں کو آگے بڑھاتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کی حمایت کرتی ہیں۔ دوسری قسم کی ایرانی آوازیں جنہیں وہ جگہ دیتے ہیں، وہ ہیں جو اسلامی رژیم کے جھنڈے کے گرد جمع ہوتی ہیں۔ تاہم یہ دونوں طرح کی آوازیں ایرانی عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتیں، ایسی اکثریت جس میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ یہ ’بلائنڈ سپاٹ‘کوئی نئی بات نہیں، یہ برسوں پر محیط ہے۔
ہم ایرانیوں کی اکثریت جنگ کے بھی خلاف ہے اور حکومت کے بھی۔ ہم امریکہ، اسرائیل اور ہر اس جارحیت کے خلاف کھڑے ہیں جو بے گناہ شہریوں پر ہوتی ہے، چاہے ایران میں ہو، فلسطین میں یا سوڈان میں۔ لیکن ہمیں غائب کر دیا جاتا ہے، ہماری آواز دبائی جاتی ہے۔ ایرانی اکثریت اور دنیا بھر کے ان افراد کی تکلیف جنہیں اپنی حکومتیں اور غیر ملکی طاقتیں دونوں کچلتی ہیں، اسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔
مغربی میڈیا ہمیں نظرانداز کرتا ہے، جبکہ وہ زیادہ توجہ ان لوگوں کو دیتا ہے جو بادشاہت، موجودہ رژیم یا مغربی سامراجیت کی حمایت کرتے ہیں۔ مغربی رژیمز بموں اور پابندیوں کے ذریعے ان لوگوں کو مزید دباؤ میں ڈالتی ہیں جو پہلے ہی اپنی حکومت کے ظلم کا شکار ہیں۔ اس لحاظ سے مغربی حکومتیں اسلامی حکومت سے مختلف نہیں۔ اگر ان برائیوں کے خلاف لڑائی میں کامیابی حاصل کرنی ہے، تو ہمیں اس غیر مرئی اکثریت کی حمایت کرنا ہوگی جو ان تمام طاقتوں کو مسترد کرتی ہے۔
میں انگلینڈ میں ہونے والے کئی جنگ مخالف مظاہروں میں گئی ہوں، اور میرے لیے یہ دیکھ کر صدمے کی بات تھی کہ انگریز لوگ اسلامی رژیم کا جھنڈا لہرا رہے تھے۔ کیا انہوں نے نہیں سنا کہ یہ رژیم ایران میں اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ وہاں کتنے لوگ صرف اس وجہ سے جیلوں میں ہیں کہ انہوں نے اختلاف رائے کا اظہار کیا یا کوئی یونین بنانے کی کوشش کی؟
انہیں شاید یہ بھی خبر نہیں کہ ایرانی حکومت نے کئی مغربی شہریوں کو گرفتار کر رکھا ہے اور انہیں سودے بازی کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر دکھائی دیتے ہیں کہ ایران فی کس آبادی کے مقابلے میں پھانسیوں میں دنیا میں سرفہرست ہے، یا یہ کہ ایران میں لاکھوں بچے محنت مزدوری پر مجبور ہیں اور بے گھر بچوں کی تعداد بھی بے انتہا ہے۔ حالانکہ تھوڑی سی تحقیق سے کوئی بھی شخص ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
بدقسمتی سے بہت سے لوگ اس پورے معاملے کو بڑی طاقتوں کی ایک بلیک اینڈ وائٹ جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اس طاقت کی حمایت کر بیٹھتے ہیں جسے وہ ”سامراج مخالف“ سمجھتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ سامراجیت کے خلاف ہیں۔ مگر انہیں معلوم نہیں، یا وہ جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں کہ اسلامی رژیم بے رحمی سے سرمایہ دارانہ نظام چلا رہی ہے، اور اس کے کئی رہنما ملک کی دولت لوٹ کر نجی سرمایہ کاری کے ذریعے بے پناہ امیر ہو چکے ہیں۔
مغربی میڈیا ایسے ایرانیوں کی آوازوں میں دلچسپی نہیں رکھتا جو بیک وقت اسلامی رژیم اور مغربی سامراج دونوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ بعض میڈیا ادارے تو غلط اور بہت سادہ بیانیہ پیش کرکے غیر ارادی طور پر اسلامی رژیم کے لیے ہمدردی بھی پیدا کرتے ہیں، جسے کچھ سامراجیت مخالف لوگ نادانی میں قبول کر لیتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے کہتی ہوں کہ جاگ جائیں۔
وہ مغربی لوگ جنہیں ایران کے بارے میں کم علم ہے، اسلامی رژیم کو مظلوم سمجھتے ہیں، نہ کہ ایک ایسے سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار جو اپنی بقا کی جنگ میں اپنے ہی شہریوں کو نگل رہی ہے۔ یہ رژیم یہ جنگ ایرانی عوام کے لیے نہیں لڑ رہی۔یہ اپنی جابرانہ ریاستی مشینری کو محفوظ رکھنے کے لیے لڑ رہی ہے، تاکہ چند افراد کے مالی مفادات اور آسائشیں برقرار رہیں۔ اسلامی رژیم نے کبھی ایرانی عوام کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے عوام کا اس قدر استحصال کیا ہے کہ گزشتہ 47 برسوں میں بے شمار بغاوتیں پھوٹ پڑیں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کچھ مغربی لوگ سابق شاہ کی رژیم کو تو ظالمانہ سمجھتے ہیں، مگر اسلامی رژیم کو نہیں۔ امریکہ کی مخالفت کی بنیاد پرکچھ مغربی دانشور امریکی حمایت یافتہ بادشاہت کو تو رد کر دیتے ہیں، مگر ایک ایسی رژیم کی حمایت کر بیٹھتے ہیں جو کھلے عام روس اور چین کے کیمپ میں ہے۔
مجھے تعجب ہے کہ خود کو دانشور کہنے والے لوگ ایک ایسی رژیم کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں جو اپنی ہی قوم پر ظلم کرتی ہے۔ اور یہ بات بھی حیران کرتی ہے کہ حکومت کے منظور شدہ نعرے، ”مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل“،کیسے انہیں ایک ایسی رژیم کی حمایت پر آمادہ کر دیتے ہیں جو یونین بنانے والے مزدوروں کو کوڑے مارتی ہے اور کارکنوں کو پھانسی دیتی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر یہی قوانین خود ان حمایتیوں پر نافذ کیے جائیں، تو کیا ان کا رویہ بھی یہی رہے گا؟
ان کی سوچ اسی مغربی میڈیا کی مانند ہے جس پر وہ اکثر تنقید کرتے ہیں۔ جب امریکہ کھل کر اپنے فوجیوں سے کہتا ہے کہ ایک خود ساختہ مذہبی جنگ میں جا کر مر جاؤ، تو مغربی میڈیا میں کوئی شور نہیں مچتا، لیکن جب کوئی غیر سفید فام اکثریتی مذہب ایسا کہے تو تصویر فوراً بدل دی جاتی ہے۔
اسی طرح یہ مغربی دانشور مغرب میں ہونے والے ظلم کی تو مخالفت کرتے ہیں، مگر انہیں یہ قبول ہے کہ ایران اپنی ہی عوام پر ظلم کرے، وہ بھی صرف اس لیے کہ اسلامی رژیم روس اور چین کی حامی ہے۔ وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کوئی شخص بیک وقت سامراجیت اور اسلامی رژیم، دونوں کی مخالفت کر سکتا ہے۔
وہ یہ حقیقت نظرانداز کر دیتے ہیں کہ 1979 کے عوامی انقلاب کے فوراً بعد کے مختصر عرصے کے سوا، شاہ کے دور کی سنسرشپ پوری طرح اسلامی رژیم میں بھی برقرار رہی۔ شاہ کی تمام جیلیں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد دوبارہ قیدیوں سے بھر گئیں۔ کچھ معاملات میں تو شاہ کے دور میں جو باتیں برداشت کی جاتی تھیں، وہ اسلامی رژیم میں قابل گرفت جرم بن گئیں،جیسے اپنی مرضی کے اظہار کی آزادی، ’نامناسب‘ لباس، یا کسی مرد کے ساتھ بغیر نکاح کے پبلک میں دیکھا جانا آپ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ مغربی دانشور ایرانی عوام کو محض ایسے مظلوموں تک محدود کر دیتے ہیں جو صرف شاہ کے دور میں استحصال کا شکار تھے۔ وہ ان مزدوروں کی آوازیں نہیں سنتے جنہیں صرف یونین بنانے کی خواہش پر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ وہ ان بے شمار سیاسی کارکنوں کی پھانسیوں کو بھی نظرانداز کرتے ہیں جن کی خبریں مغربی میڈیا میں جگہ ہی نہیں پاتیں۔ اسلامی رژیم کے ہاتھوں خواتین پر ہونے والے ظلم کو بھی وہ نظر سے اوجھل کر دیتے ہیں۔
اسی طرح وہ ایرانی خواتین کی 47 سالہ جدوجہد کو بھی بھول جاتے ہیں۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب اسلامی رژیم کے اقتدار سنبھالنے کے صرف ایک ماہ بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے عورتوں کے لیے سر ڈھانپنا لازم قرار دیا۔ میری نسل قید، پھانسی اور شکست سے دوچار ہوئی۔ تاہم ایرانی خواتین آج بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑی ہیں۔ ہم اپنی پسند کا لباس پہننا چاہتی ہیں، وہ کہنا چاہتی ہیں جس پر ہمارا یقین ہے، جس سے چاہیں محبت کریں، آزادی سے زندگی گزاریں اور جبراً شادیاں نہ کی جائیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ مغرب میں ہماری آواز نہیں سنی جاتی؟
بعض مغربی لوگ ایران میں ہونے والی ہر بغاوت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ امریکہ نواز ہے یا کسی طرح مغربی طاقتوں کی منظم کردہ ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر ہمیں اتنا سادہ لوح کیوں سمجھا جاتا ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں کسی دوسری طاقت کو اپنے اوپر مسلط کرنے کی حمایت کریں گے۔
سچ تو یہ ہے کہ بیرونی مداخلت ان لوگوں کی آواز کو نظرانداز کرنے کا بہانہ نہیں بن سکتی جو ظلم سے آزادی چاہتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے سچے مطالبے کو ختم نہیں کر دیتی جو روٹی اور آزادی چاہتے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجودیہ لوگ رژیم کے حامی رہتے ہیں، چاہے کتنے ہی لوگ مارے جائیں یا اذیت کا شکار ہوں، جیسا کہ میں خود ہوئی۔
جنوری میں ایران میں ہونے والی بغاوتوں کے دوران بیرونی مداخلت موجود تھی۔ سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی، حالانکہ لوگ پہلے ہی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مظاہرین کے ساتھ اسرائیلی ایجنٹ ”میدان میں موجود“ ہیں۔
یہ مداخلت حکومت کے لیے وہ عذر بن گئی جس کی اسے ضرورت تھی،کہ مظاہرین کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے کر قتل عام شروع کر دیا جائے۔ پہلوی اور ان کے امریکی سرپرست یہ سب جانتے تھے، مگر پھر بھی انہوں نے طاقتور دکھائی دینے کے لیے بے شمار جانوں کی قربانی دے ڈالی۔ یہ حکومتیں ایک دوسرے کے گلے پڑنے کا ڈراما کرتی ہیں، لیکن دراصل ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔
مجھے یہ بھی حیرت ہے کہ وہ مغربی لوگ جو روس کے حامی نہیں ہیں، وہ ایران کے بارے میں بھی خاموش کیوں رہتے ہیں؟ شاید ایسے لوگوں کی نظر میں صرف طاقت کے نظام اہم ہوتے ہیں، نہ کہ وہ انسان جو ان نظاموں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ ان کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ اساتذہ کرایہ ادا نہیں کر سکتے، یا نرسوں کو بچے پالنے کے لیے اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے۔ انہیں ان عورتوں کا بھی علم نہیں جو ’نامناسب‘ لباس پہننے پر گرفتار ہو جاتی ہیں، یا ان صحافیوں کا جو ’غلط‘ بات کہنے کی وجہ سے نفسیاتی ہسپتالوں میں ڈال دیے جاتے ہیں۔
اس جنگ نے ایران میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر ہے، لوگ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں، اور بہت سے افراد بمباری کے اثرات سے شدید طور پر متاثر ہیں۔ گھروں، روزگار اور جانوں کا نقصان اس کڑے وقت میں خوراک کی کمی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس جنگ کے خلاف مارچ کریں، لیکن ایران کے لوگوں کے لیے، نہ کہ رژیم کے لیے۔
آئیے!دنیا بھر میں عوام پر مسلط تمام جنگوں کا خاتمہ کریں۔ آئیے!دنیا بھر کے عوام کے عالمی اور بنیادی حقوق کے لیے لڑیں۔ پرامن زندگی کا حق تب ہی ممکن ہے جب ہر جنگ ختم ہو۔ ایران پر مسلط جنگ واضح طور پر غیر قانونی ہے۔ ہمیں جنگ کے ذمہ داروں کی گرفتاری، انہیں بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرانے اور بالآخر ان کی قید کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
ساتھ ہی ہمیں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان کا نقصان رژیم نہیں بلکہ عوام اٹھاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہمیں اسلامی رژیم سے یہ بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ پھانسیاں روک دے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور عوام کو انٹرنیٹ رسائی فراہم کرے۔ انسانی حقوق کو جنگ بندی کے مذاکرات میں پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔ ایرانی عوام نے رژیم کے ہاتھوں اور حالیہ بمباریوں میں بہت کچھ کھویا ہے، انہیں بھی ان مذاکرات سے کچھ حاصل ہونا چاہیے۔
(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)