← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

’ایرانی رژیم کمزور تو ہوا مگر سیز فائر کے بعد جبر میں زبردست اضافہ ہوا‘

By جدوجہد • 2025-07-02 • 15 min read

فاروق سلہریا

فریدہ آفرے کہتی ہیں کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے رضا پہلوی کی قیادت میں بادشاہت نواز حزب اختلاف فضائی حملوں کے بعد اپنی مقبولیت کا بڑا حصہ کھو بیٹھی ہے۔’’آزادی‘‘کے نام پر حملے کی حمایت عام عوام کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوئی۔ ‘

فریدہ آفرے ایک ایرانی نژاد امریکی سوشلسٹ فیمنسٹ کارکن، مترجم اور مصنفہ ہیں۔ وہ لاس اینجلس میں پبلک لائبریرین ہیں جہاں وہ فلسفہ اور سیاست کی کلاسیں لیتی ہیں ،جن میں بلیک لائیوز میٹر، لاطینی، کوئیر، مزدور کارکنان اور نوجوان خواتین اسکالرز حصہ لیتی ہیں۔ وہ اپنے بلاگ’Iranian Progressives in Translation‘کے ذریعے بھی سرگرم ہیں۔الٹرنیٹو ویوپوائنٹ کے لیے انہوں نے انگریزی زبان میں انٹرویو دیا، جس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

جنگ سے پہلے اور بعد ایران میں عمومی سیاسی منظرنامہ کیسا رہا؟ کیا ایرانی حکومت اسے فتح سمجھ کر جشن منا رہی ہے؟ عوام کا اس جنگ سے متعلق کیا تاثر ہے؟

فریدہ آفرے:13جون کو جب اسرائیل نے بمباری شروع کی، اس سے قبل ایرانی عوام کی اکثریت رژیم سے شدید نالاں ہونے کے باوجود یہ امید رکھتی تھی کہ رژیم ٹرمپ انتظامیہ سے جوہری معاہدے پر کوئی سمجھوتہ کر لے گی، تاکہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم ہو سکیں۔ 2018 میں جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کیا، تب سے یہ پابندیاں ایرانی عوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ رہی ہیں۔

13 جون کو جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اعلان کیا کہ ایران نے اتنی مقدار میں افزودہ یورینیم تیار کر لی ہے جس سے 10 جوہری ہتھیاروں کا ایندھن بن سکتا ہے۔ اس کے بعد جب ایران نے جوہری افزودگی کے لیے ایران سے باہر مشترکہ کنسورشیم کی امریکی پیشکش مسترد کر دی، تو اسرائیل نے ان وجوہات کو بنیاد بنا کر وسیع بمباری شروع کی۔ 13 سے 24 جون تک اسرائیلی بمباری نے انفراسٹرکچر، جوہری تنصیبات، بندرگاہوں، رہائشی علاقوں اور پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنس دانوں کو ان کے گھروں میں قتل بھی کیا۔

22 جون کو امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بنکر بسٹر بم گرائے، جس سے جوہری پروگرام، تیل کی پیداوار، رہائشی علاقوں، پانی اور خوراک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ حکومت کے محتاط اندازے کے مطابق 900 سے زائد ایرانی شہری ہلاک اور 4ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ حتیٰ کہ اسرائیل نے ایون جیل پر بھی بمباری کی، جہاں خواتین سیاسی کارکنان سمیت کئی ترقی پسند کارکنان قید ہیں۔

ایرانی عوام اس بمباری، تباہی، اور پھر جنگ بندی کے بعد حکومت کی جانب سے بڑھائے گئے جبر سے شدید صدمے میں ہیں۔

اس جنگ کے ایرانی رژیم پر کیا اثرات ہوں گے؟ اگرچہ یہ رژیم بظاہر بچ گئی ہے اور بظاہر مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔کیا وہ واقعی مضبوط ہوئی یاشام میں بشار الاسد، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں جیسے اہم اتحادیوں سے محروم ہو کر اثر کھو چکی ہے؟

فریدہ آفرے: ایرانی رژیم بلاشبہ کمزور ہوئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے اعلیٰ حکام،پاسداران کے رہنماؤں اور سائنس دانوں کو قتل کرنا ایرانی سکیورٹی نظام میں اسرائیلی رسوخ کا مظہر ہے۔ تاہم ایران اب بھی عراق، لبنان، یمن، افغانستان میں اپنی پراکسیاں رکھتا ہے اور آبنائے ہورمز کو بند یا مائن کر کے عالمی تیل و گیس کی رسد متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائل، ڈرون اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

روس اور چین ایران کی کئی سالوں سے عسکری اور معاشی مدد کر رہے ہیں۔ ایران روس کو ڈرون اور میزائل فراہم کرتا ہے جنہیں روس یوکرین پر بمباری میں استعمال کرتا ہے، اور بدلے میں روس ایران کو اسلحہ اور جوہری توانائی فراہم کرتا ہے۔

ملک کے اندر موجود اور جلاوطنی کا شکار ایرانی عوام موجودہ رژیم کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملوں کے بعد آیت اللہ رژیم کو کچھ عوامی حمایت ملی؟

فریدہ آفرے: ایرانی عوام کی کم از کم 80 فیصد اکثریت اس رژیم کی مخالف ہے۔ وہ اسے کرپٹ، استحصالی، عسکریت پسند اور غریب عوام سے بے پروا سمجھتے ہیں۔ بیشتر ایرانی اب مذہب اور ریاست کی علیحدگی پر یقین رکھتے ہیں اور مذہبی بنیاد پرست حکومت نہیں چاہتے۔ جلاوطنی میں رہنے والے ایرانیوں کی بڑی اکثریت بھی برسوں سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف ہے۔

حکومت نے بڑے سوگ کے اجتماعات منعقد کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسے عوامی حمایت حاصل ہے، لیکن اس کے حامی عوام کا صرف 20 فیصد ہیں۔ جس حکومت نے لبنان میں سینکڑوں میل طویل زیرزمین سرنگیں بنائی ہوئی ہیں ، وہ حالیہ اسرائیلی اور امریکی بمباری کے دوران اپنی عوام کو کوئی پناہ گاہ یا سکیورٹی فراہم نہ کر سکی۔ پہلے ہی کرایوں اور خوراک کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، جو جنگ کے بعد مزید بڑھ گئی ہیں۔ پانی کی قلت پہلے بھی تباہ کن تھی، اب مزید سنگین ہو گئی ہے۔

اختلاف رائے رکھنے والوں اور جمہوریت کے لیے جدوجہد پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

فریدہ آفرے: جنگ بندی کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے 700 سے زائد افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے، حالانکہ ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں۔ گرفتار شدگان میں اکثریت کرد، افغان، بہائی افراد کی ہے اور اکثریت میں نوجوان ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو 2022-23 کی ’زن، زندگی، آزادی‘ تحریک میں سرگرم تھے۔ انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد 900 سے زائد ہے۔

کئی سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی گئی ہے۔ایرانی نژاد سویڈش سائنسدان ڈاکٹر احمد رضا جلالی کوکئی برسوں سے جھوٹے الزامات پر سزائے موت کا سامنا ہے، اب ان سمیت دیگر کئی افراد فوری پھانسی کے خطرے میں ہیں۔

ایون جیل پر اسرائیلی بمباری نے اس کا بڑا حصہ تباہ کر دیا، جس میں 71 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں قیدی، جیل عملہ، رشتہ دار اور آس پاس کے رہائشی شامل تھے۔ باقی سیاسی قیدیوں کو قرچک جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جو بدترین حالات اور آلودہ نمکین پانی کے لیے بدنام ہے۔

اس جنگ کا فوری اثر یہ رہا ہے کہ محنت کشوں، خواتین، اقلیتوں اور طلبہ کی انسانی حقوق و جمہوریت کی جدوجہد پر جبر میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ کئی اہم ترقی پسند رہنماؤں کے قتل یا لاپتہ ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کی قیادت میں شاہ پرست حزب اختلاف ٹرمپ و نیتن یاہو کی حمایت کرتی ہے۔ یہ حزب اختلاف فضائی حملوں کے بعد اپنی مقبولیت کا بڑا حصہ کھو چکی ہے۔ عوام کے لیے ’حملے کے ذریعے آزادی‘ کی حمایت حزب اختلاف کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئی۔ رضا پہلوی نے اسرائیلی و امریکی بمباری کی مذمت کرنے کی بجائے ان کی تعریف کی اور خود ایران کا اگلا رہنما بننے کی پیشکش بھی کی۔

تودہ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی تنظیموں کا آج کیا کردار ہے؟ بائیں بازو کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

فریدہ آفرے:تودہ پارٹی نے 1979 کے انقلاب کے بعد خمینی اور اسلامی جمہوریہ کی ’سامراج مخالف‘قراردے کر حمایت کی، جس کی وجہ سے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ اس نے یہ حمایت 1983 میں اپنے رہنماؤں کی گرفتاری تک جاری رکھی۔ 1984 اور اس کے بعد کچھ تودہ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی۔

ایران میں دیگر چھوٹی بائیں بازو کی تنظیمیں اب بھی محنت کشوں اور خواتین کی تحریکوں، خاص طور پر ’زن، زندگی، آزادی‘ تحریک کی حمایت کرتی ہیں۔ بائیں بازو کے خیالات کچھ نوجوانوں اور یونیورسٹی طلبہ میں زیر بحث رہتے ہیں، جو مارکس اور مارکس وادیوں کے ترجمہ شدہ مضامین پڑھتے ہیں۔

ایران کے اندر اور باہر کئی ترقی پسند گروہوں نے اس جنگ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کی مذمت کی ہے۔ نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی، شیرین عبادی اور کئی فلم سازوں نے مشترکہ بیان میں جنگ، جوہری توانائی، اور اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ محنت کشوں اور ادیبوں کے گروپوں نے بھی تمام فریقین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں ملک کے اندر اور باہر رہنے والے ایرانی دانشوروں نے بھی اسی طرح کا اصولی موقف اپنایا اور ایرانی ترقی پسندوں پر تنقید کی کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کے جوہری عزائم پر بین الاقوامی تشویش کے آغاز کے وقت سے اب تک جوہری توانائی اور ہتھیاروں کے خلاف کوئی مضبوط موقف نہیں اپنا سکے۔(اس بیان کا ترجمہ IranianProgressives.orgپر موجود ہے)

ٹرمپ ایسے صدر سمجھے جاتے ہیں، جن کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، لیکن کیا آپ کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کا کوئی امکان ہے؟ آنے والے دنوں میں اسرائیل کیا حکمت عملی اپنائے گا؟

فریدہ آفرے:ایران اور امریکہ میں مفاہمت ممکن ہے، لیکن یہ مشکل ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل دونوں سے طویل مدتی معاہدہ کرے۔ امریکی و اسرائیلی مخالفت تو 1979سے اسلامی جمہوریہ کے وجود کی بنیاد ہے۔ ایران اب روس اور چین کے ساتھ برکس اتحاد کا بھی حصہ ہے۔

آئی اے ای اے کے رافائل گروسی کے مطابق ایران کے جوہری عزائم صرف چند ماہ کے لیے موخر ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ خود جوہری طاقتیں ہیں، جبکہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن بھی نہیں۔ وہ فلسطین میں قتل عام کر رہے ہیں اور اخلاقی برتری کے دعویدار نہیں ہو سکتے۔

دنیا بھر کے ترقی پسندوں کے لیے اس جنگ پر اصولی موقف یہی ہونا چاہیے کہ تمام قوتوں کے ملٹری ازم، سامراجیت، آمریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کی جائے۔

(بشکریہ: ’الٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔