’ایرانیوں کی اکثریت حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے، لیکن اسرائیلی حملہ بھی کسی کو قبول نہیں‘
فاروق سلہریا/حارث قدیر
شعلے ایرانی کہتی ہیں کہ’’اسرائیلی حملے کا بظاہر بنیادی مقصد رجیم چینج ہی لگتا ہے لیکن یہ واحد مقصد نہیں ہے۔ امریکہ کی بطور عالمی طاقت زوال پذیری کے ساتھ اسرائیل خطے کو ’صاف‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی سلامتی اور غلبہ یقینی بنا سکے۔ تاہم یہ سب کچھ خوف کی بنیاد پر ہو رہا ہے اور جب خوف غالب آ جائے تو ریاستیں خطرناک فیصلے کرتی ہیں۔ اسرائیل بھی اسی راہ پر چل رہا ہے۔ایرانی ملا رجیم کے اندر بقا کی جبلت بہت مضبوط ہے۔ہر اقتدار رکھنے والے میں یہ جبلت ہوتی ہے ، لیکن پھر بھی ہم نے کئی حکومتوں کو ایک رات میں گرتے دیکھا ہے۔ اس حکومت کا خاتمہ ایرانی عوام کی اکثریت کی خواہش ہے، جو جمہوریت، آزادی، اور بہتر معیارِ زندگی کے خواہاں ہیں۔ تاہم ساتھ ہی لوگ ایران کی قومی خودمختاری کے بارے میں بھی فکر مند ہیں، اور ان مخلوط جذبات سے فی الحال کسی واضح نتیجے کا اخذ کرنا مشکل ہے۔‘‘
شعلے ایرانی اسٹاک ہولم میں مقیم صحافی، دانشور اور سیاسی کارکن ہیں۔ وہ 80کی دہائی میں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔ جلاوطنی سے قبل وہ ایران کی سوشلسٹ تحریک میں متحرک تھیں۔ وہ فارسی زبان میں شائع ہونے والے عالمی جریدے ’نوائے زن‘ کی مدیر بھی ہیں۔ ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر ’جدوجہد‘ نے ایک کا ایک مختصر انٹرویو کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
آپ کے خیال میں اسرائیل نے ایران پر ابھی حملہ کیوں کیا؟ وہ بھی بغیر کسی فوری اشتعال کے؟
شعلے ایرانی:جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ اچانک نہیں ہوا۔ ایران اور اسرائیل کی حکومتوں کے درمیان تنازع کئی برسوں سے شدت اختیار کر رہا تھا۔ اسرائیلی حکام کا برسوں پرانا منصوبہ ہے کہ ایران میں آیت اللہ حکومت کا خاتمہ کیا جائے، اور وہ اس مقصد کو عشروں سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ غالباً ان کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے ، اور ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی صورتحال بن چکی ہے۔ خاص طور پر جو کچھ انہوں نے غزہ میں کیا اور پھر اس پر عالمی سطح پر انہیں جو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد اور پھر ٹرمپ کی امریکی سیاست میں واپسی کے بعد یہ لمحہ ان کے لیے سب سے موزوں دکھائی دیتا ہے۔ وہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کو بھول کر آیت اللہ حکومت کے خاتمے پر ان کا شکریہ ادا کرے گی۔
تاہم بظاہر حالات ویسے نہیں جا رہے جیسے انہوں نے سوچا تھا۔ انہوں نے شاید یہ سمجھا کہ پہلا بم گرتے ہی عوامی بغاوت شروع ہو جائے گی اور حکومت گر جائے گی۔ ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔ لوگ محفوظ جگہوں کی طرف بھاگ رہے ہیں، اور حکومت جوابی حملے کر رہی ہے، شہروں پر بمباری ہو رہی ہے۔
کیا صرف حکومت کی تبدیلی ہی حملے کی وجہ ہے؟ یا جیسا کہ ولی نصر نے نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے اپنے مضمون میں نشاندہی کی کہ اصل مقصد ایران کو شام جیسی صورتحال میں تبدیل کر کے تقسیم کردینا ہے؟
شعلے ایرانی:رجیم چینج بظاہر بنیادی مقصد لگتا ہے، لیکن صرف یہی ایک مقصد نہیں ہے۔ ایران 9کروڑ کی بڑی آبادی والا ملک ہے، جو اسرائیل کے اس خواب کے لیے بہت بڑا ہے کہ وہ پورے خطے پر غلبہ حاصل کر سکے۔بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ ملا حکومت کو گرا بھی دیں، تو بھی ان کا مقصد ایران کی سرحدوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ہے۔ امریکہ کی بطور عالمی طاقت زوال پذیری کے ساتھ اسرائیل خطے کو ’صاف‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی سلامتی اور غلبہ یقینی بنا سکے۔ تاہم یہ سب کچھ خوف کی بنیاد پر ہو رہا ہے اور جب خوف غالب آ جائے تو ریاستیں خطرناک فیصلے کرتی ہیں۔ اسرائیل بھی اسی راہ پر چل رہا ہے۔
کیا موجودہ ایرانی حکومت ناگزیر ہے؟
شعلے ایرانی:اگر آپ کی مراد ان کی بقا سے ہے، تو میراکہنا ہو گا کہ ان کے اندر بقا کی جبلت بہت مضبوط ہے۔ ہر اقتدار رکھنے والے میں یہ جبلت ہوتی ہے ، لیکن پھر بھی ہم نے کئی حکومتوں کو ایک رات میں گرتے دیکھا ہے۔ کس نے سوچا تھا کہ صدام حسین یا حتیٰ کہ بشار الاسد یوں گرجائیں گے؟
اس حکومت کا خاتمہ ایرانی عوام کی اکثریت کی خواہش ہے، جو جمہوریت، آزادی، اور بہتر معیارِ زندگی کے خواہاں ہیں۔ تاہم ساتھ ہی لوگ ایران کی قومی خودمختاری کے بارے میں بھی فکر مند ہیں، اور ان مخلوط جذبات سے فی الحال کسی واضح نتیجے کا اخذ کرنا مشکل ہے۔
رضا پہلوی، جنہیں مستقبل کا رہنما کہا جا رہا ہے، ان کی سماجی بنیاد اور عوامی حمایت کے بارے میں کیا خیال ہے؟
شعلے ایرانی:کوئی واضح یا حقیقت پر مبنی ثبوت موجود نہیں کہ رضا پہلوی کو ایرانی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، یا وہ واقعی ایران کے اگلے رہنما بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک بوڑھا جلا وطن شہزادہ ہے، جس نے اپنی زندگی میں کچھ خاص حاصل نہیں کیا ۔ وہ اپنی والدہ کی دولت پر پلنے والے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آج وہ اسرائیل کے کٹھ پتلی کے طور پر ظاہر ہو رہے ہیں اور اسرائیلی میزائلوں اور نیتن یاہو سے چمٹ کر اقتدار کے حصول کی امید کر رہے ہیں۔ ان کے اسرائیل سے بے شرط اتحاد کی وجہ سے اب بہت سے ایرانی انہیں غدار سمجھنے لگے ہیں۔
ان کے والد کو ایران سے ایک سے زائد مرتبہ بے دخل کیا گیا۔ اگرچہ کچھ لوگ 1979کے انقلاب کے بعد کے واقعات پر پچھتاوا ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم رضا اپنے والد کی طرح نہیں ہیں ، بلکہ ان سے بھی زیادہ کمزور اور کم محب وطن سمجھے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے نرم حامی اب ان سے منہ موڑتے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پہلوی خاندان کے حامی دیگر اپوزیشن گروپوں اور عام لوگوں کے ساتھ جارحانہ اور متشدد رویہ اختیار کرتے ہیں ،جو شاہی نظام کی واپسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وہ کھلے عام لکھتے ہیں کہ جیسے ہی وہ اقتدار میں آئیں گے، وہ تمام بائیں بازو، فیمن اسٹ اور لبرل عناصر کو ختم کر دیں گے ،جو آیت اللہ حکومت سے بچ نکلے تھے۔
کرد، بلوچ، عرب اور دیگر گروہوں نے اسرائیلی حملے پر کیا ردعمل دیا؟
شعلے ایرانی: بلوچ اور کرد خواتین تنظیموں اور کارکنان نے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہے، اور کئی کرد خواتین سیاسی قیدیوں نے بھی اس کی مخالفت میں بیانات دیے ہیں۔تاہم بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چند چھوٹے کرد سیاسی گروہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ رابطے میں ہیں،جس پر خود ایران کے اندر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
ایران میں لوگ سوشل میڈیا پر کس قسم کا ردعمل دے رہے ہیں؟ عوامی رائے کیا ہے؟
شعلے ایرانی: ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ عوامی ردعمل مزید شدید ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ صدمے میں ہیں ،خاص طور پر اس لیے کہ حکومت مذاکرات میں مصروف تھی، اور پرامن حل کی امید پیدا ہو چکی تھی۔ کسی کو ایسے مکمل فوجی حملے کی توقع نہیں تھی۔
بہت سے لوگ بمباری، ہلاکتوں اور دھمکیوں کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے ایرانی حامیوں پر غصہ نکال رہے ہیں۔تاہم ساتھ ہی لوگ حکومت پر بھی شدید تنقید کر رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کو اس بحران کی طرف دھکیلا اور عوام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
سوشلسٹ، فیمن اسٹ اور ترقی پسند گروہ ایرانی حکومت اور عالمی یکجہتی کی تحریک کے حوالے سے کیا مطالبات کر رہے ہیں؟
شعلے ایرانی: زیادہ تر سوشلسٹ اور فیمن اسٹ جنگ اور ایران پر حملے کے خلاف ہیں۔ اسی وقت وہ ایرانی حکومت سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملک کی خودمختاری اور عوام کی جانیں بچانے کے لیے وہ اقتدار چھوڑے ۔زیادہ آوازیں نوجوانوں، سیکولرز، خواتین اور بائیں بازو کی طرف سے آ رہی ہیں، جو جمہوری قوتوں کو اقتدار میں لانے اور تھیوکریسی، آمریت اور عوامی مصائب کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی ماننا چاہیے کہ آزاد، جمہوری اپوزیشن گروہ نہایت کمزور ہیں ، کیونکہ وہ برسوں سے ریاستی جبر کا شکار رہے ہیں اور اندرونی اختلافات میں بھی الجھے ہوئے ہیں۔ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایسی قوتوں کو متحد ہونے نہ دیا جائے۔