← Back to Newsroom OS خبریں

این ایس ایف جامعہ پونچھ کا کنونشن 20 دسمبرکو راولاکوٹ میں منعقد ہوگا

By جدوجہد • 2025-12-17 • 9 min read

راولاکوٹ(پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام جامعہ پونچھ کا نمائندہ اجلاس مرکزی سیکریٹریٹ این ایس ایف میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ پونچھ کے تمام کمپیسز کے نمائندگان سمیت این ایس ایف راولاکوٹ تعلیمی اداروں کے راہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔

میڈیا کو جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 20 دسمبر کو این ایس ایف جامعہ پونچھ کا مرکزی ”آزادی کنونشن“، بعنوان”نوجوان اور انقلاب“ منعقد ہو گا۔ جس میں آمدہ دو برس کے لیے نئی کابینہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ کنونشن کے انعقاد سے قبل طلبہ حقوق کی بازیابی کے لیے راولاکوٹ شہر میں احتجاجی ریلی بعنوان”اسٹوڈنٹس کارواں“ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرمین اسٹڈی سرکل جامعہ پونچھ امن حبیب نے تمام کیمپسز سے شرکت کرنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہا اور موجودہ تعلیمی نظام کے بحران، بالخصوص جامعہ پونچھ کے مسائل اور طلبہ سیاست کے کردار پر بریفنگ دی۔

اجلاس سے جامعہ پونچھ کے راہنماؤں سمیت مرکزی ترجمان این ایس ایف مجیب خان، مرکزی چیئرپرسن اسٹڈی سرکل علیزہ اسلم، جنرل سیکرٹری پونچھ دانش فدا، آرگنائزر ڈگری کالج سالک رشید، چیئرمین سٹی یونٹ حنان بابر، آرگنائزر داتوٹ ڈگری کالج عبدالقدوس، راہنما شعبہ قانون جامعہ پونچھ ثمر فیضی و مہک زاہد، راہنما جامعہ پونچھ شعبہ نفسیات مہرین نساء، آرگنائزر پولی ٹیکنیک کالج راولاکوٹ علی رشید، عبداللہ،، انوش اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مروجہ بحرانی عہد میں ہر شعبہ ہائے زندگی جہاں انتہائی زوال کی کیفیت سے دوچار ہے وہاں نظام تعلیم بے انتہا بربادی سے دوچار ہے۔ مقررین نے کہا کہ جموں کشمیر کے وسائل پر قبضے اور حکمران طبقے کی نااہلی مسائل کے تدارک کے حوالیسے کسی بھی طور پر کبھی سنجیدہ نہیں رہے بلکہ حکمرانوں کی نااہلی اور لوٹ مار نے مزید مسائل کو جنم دیا ہے۔ تعلیم کی نجکاری، تعلیمی اداروں کی شعوری خستہ حالی و بربادی، طلبہ یونین و طلبہ سیاست پر عائد پابندی، مہنگی تعلیم، فیسوں میں اضافے، بوسیدہ انفراسٹرکچر، ناکافی سہولیات، ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی، کمپیسز کی ملٹرائزیشن، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، دور جدید کے تقاضوں کے برعکس بوسیدہ نصاب، طلباء و طالبات کی ہر قسم کی ہراسگی سمیت بے شمار مسائل نے معیاری تعلیم کے حصول کو اس خطے کے باسیوں کے لیے نا ممکن بنا دیا ہے۔

گزشتہ سمسٹر کے اختتام پر فیسوں میں ظالمانہ اضافہ کیا گیا جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مقامی حکمران طبقہ سستی اور معیاری تعلیم مفت فراہم کرنا تو درکنا بلکہ وہ مسلسل مہنگائی اور فیسوں میں اضافے سے تعلیم کے حصول کو عوام کے لییناممکن بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ حالیہ فیسوں میں اضافے کے خلاف ریاست گیر طلبہ کی کامیاب احتجاجی تحریک جہاں مبارکباد کی مستحق ہے وہیں طلبہ حقوق کی مکمل بازیابی کے لیے مسلسل جدوجہد کا تقاضہ بھی کرتی ہے۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی لہورنگ انقلابی جدوجہد اور مزاحمتی روایت آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ جو نا صرف طلبہ حقوق کے حصول بلکہ غاصب شدہ طلبہ حقوق کی بازیابی کے حوالے سے ایک درخشاں روایت کے طور پر موجود ہے۔ این ایس ایف اس خطے کی واحد سیاسی طلبہ تنظیم ہے جو جدید انقلابی نظریات سے لیس حکمرانوں کے بدترین مظالم کے خلاف جدوجہد کا استعارہ ہے۔ انہی نظریات کے پرچار اور نوجوانوں و طلبہ کی کثیر تعداد کو اس سرخ انقلابی جدوجہد کا حصہ بنانے اور طلبہ حقوق کی بازیابی کے لیے طلبہ جدوجہد کو منظم کرنے میں ”آزادی کنونشن“ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

مقررین نے کہا کہ حکمرانوں کے جبر اور سرمایہ دارانہ وحشت کی حتمی شکست کے لیے طلبہ سیاست اور جدوجہد ناگزیر ہے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ جموں کشمیر پر جاری سامراجی قبضے، نوآبادیاتی جبر، طلبہ حقوق کی بازیابی اورسب سے بڑھ کر غاصب شدہ حق آزادی کے حصول اور طبقات سے پاک ایک حقیقی انسانی سماج کے قیام تک این ایس ایف اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی۔