← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایک ارب بھارتیوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے کوئی پیسہ نہیں

By جدوجہد • 2025-02-27 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ) وینچر کیپیٹل فرم بلوم وینچر کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی 1.4ارب آبادی میں سے تقریباً ایک ارب آبادی ایسی ہے، جس کے پاس کسی صوابدیدی سامان یا خدمات پر خرچ کرنے کے لیے رقم کی کمی ہے۔

’بی بی سی‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایشیا کی تیسری بڑی معیشت میں خریداری کرنے والا طبقہ اتنا وسیع نہیں ہو رہا، جتنا کہ گہرا ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی دولت مند آبادی واقعی تعداد میں نہیں بڑھ رہی، بلکہ جو لوگ پہلے سے امیر ہیں وہ اور بھی زیادہ امیر ہو رہے ہیں۔

یہ سب الٹرا لگژری گیٹڈ ہاؤسنگ اور پریمیم فونز کی زومنگ سیلز میں واضح ہے۔ سستے گھر اب بھارت کی مجموعی مارکیٹ کا محض18فیصد بنتے ہیں، جبکہ 5سال پہلے تک سستے گھروں کا مارکیٹ میں حصہ40فیصد تھا۔ برانڈڈ اشیا بھی مارکیٹ کا بڑاحصہ حاصل کر رہی ہیں، کولڈ پلے اورایڈشیران جیسے بین الاقوامی فنکاروں کے کنسرٹ کے مہنگے ٹکٹ ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وبائی امراض کے بعد بھارت میں امیر امیر تر ہوتے گئے ہیں، جبکہ غریب قوت خرید کھو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ طویل مدتی ساختی رجحان ہے، جو وبائی مرض سے پہلے ہی شروع ہوا تھا۔ بھارت تیزی سے غیر مساوی ہوتا جا رہا ہے۔ امیر ترین10فیصد بھارتی اب قومی آمدن کا57.7فیصد رکھتے ہیں، جبکہ1990میں ان کے پاس 34فیصد حصہ تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا متوسط طبقہ ماضی میں صارفین کی مانگ کا بڑا انجن رہا ہے، لیکن اب اس کو بری طرح سے نچوڑا جا رہا ہے اور متوسط طبقے کی اجرت کافی حد تک ٹھہراؤ کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ٹیکس ادا کرنے والی آبادی کے درمیانی50فیصد نے گزشتہ دہائی کے دوران اپنی آمدنی کو قطعی طور پر جمود کا شکار دیکھا ہے۔

اس معاشی حملے نے متوسط طبقے کی بچت کو ختم کر دیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق بھارتی گھرانوں کی خالص مالی بچت50سال کی کم ترین سطح پر پہنچ رہی ہے۔