← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ایک ایرانی جلاوطن کی خود کلامی - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-03 • 3 min read

سیاوش شہابی

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ جلاوطنی کی سیاست ایک ایسی زندگی ہے، جو کسی خلا میں معلق ہو۔ ایک خلا جو یہاں اور وہاں کے بیچ، خبر اور خاموشی کے بیچ، غصے اور بے بسی کے درمیان، سچ سے وابستگی اور اکیلے رہ جانے کے خوف کے درمیان پایا جاتا ہے۔

جلاوطنی کے دوران سیاست محض مضامین، انٹرویوز، یا فیس بک پوسٹ کی شکل میں نہیں ہوتی۔ یہ تعلقات کو بھی متاثرکرتی ہے۔ یہ دوستیوں کو بھی لے ڈوبتی ہے۔ وہ لوگ جو سالہا سال شانہ بشانہ کھڑے رہے، جلاوطنی کی سیاست ان کے مابین بھی دراڑیں ڈال دیتی ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا ہوتا ہے کہ ایک سیاسی موقف، جنگ کے بارے میں ایک جملہ، دائیں بازو پر محض ایک تنقید، بائیں بازو پر محض ایک تنقید، مغرب میں مزاحمت کی مثلث کہلانے والے لیفٹ، یعنی کیمپ اسٹ بائیں بازو پر ایک تنقید، یا بموں اور جیلوں کے خلاف ایران کے لوگوں کے دفاع میں محض ایک جملہ گفتگو کو تلخ بنا دیتا ہے۔

گویا ہر کوئی زخمی ہے اور ہر زخم اپنی ہی زبان میں بات کرتا ہے، کچھ لوگ ایرانی رژیم سے نفرت میں اندھے ہو کر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ کچھ ہیں جو سامراج اور جنگ سے نفرت میں اندھے ہو کر بندی خانوں، پھانسیوں، غربت اور جبر کے بارے بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ آپ اس بربادی کے درمیان کھڑے کہتے رہ جاتے ہیں: عوام، زندگی، روٹی، آزادی، تنظیم، تکریم۔

یوں کھڑے رہنا آسان نہیں۔ ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس یقین کے باوجود کہ آپ حق پر ہیں، انسان ہمت ہارنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی، رات گئے میں بالکونی میں بیٹھا ایتھنز کے اس پار جزیروں کو دیکھتا ہوں تو خود سے سوال پوچھتا ہوں: انسان زیادہ سے زیادہ کتنی بری خبریں اپنے ہمراہ لا سکتا ہے؟ آپ اپنے دکھوں اور سیاسی تجزیے کے درمیان کتنی بڑی سرحد کھینچ سکتے ہیں؟ آپ دوسرے لوگوں کے بارے میں کیسے لکھ سکتے ہو کہ جب آپ خود ٹروما، پریشانی، بے خوابی، شکستگی، جلاوطنی، بے گھری، غصے اور اس خلش کا شکار ہیں کہ آپ بچ کر جلاوطنی میں چلے آئے؟

اچانک، اسی دوران، ایران سے ایک کامریڈ انٹرنیٹ پر رابطہ کرتا ہے۔ یہ رابطہ کسی بھی لمحے منقطع ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک سے باہر رابطہ کرنے کے لیے جو پیکیج خریدا جاتا ہے، وہ مہنگا ہوتا ہے۔ تھکی ہاری آواز سنائی دیتی ہے، جو بہرحال زندہ ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ہم ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں حالات اچھے نہیں۔ وہ کہتے ہیں نوکری نہیں ہے، پیسے بھی ختم ہیں، جان کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں، مگر کچھ نہ کچھ بہرحال کیا جا سکتا ہے۔

وہ بے روزگاری، سکیورٹی کے دباؤ، خاندان، خوف، ہمت ہارنے مگر ساتھ ہی کسی نئے منصوبے کی بابت بات کرتے ہیں۔
جب یہ آواز ختم ہو جاتی ہے تو امید سنائی دینے لگتی ہے، جسے جبر کی کوئی بھی شکل ختم نہیں کر سکی۔ ایسی امید نہیں جسے ہم احمقانہ رجائیت کہہ سکیں، بلکہ ایسی امید جسے ہم زندہ رہنے کا ضدی پن قرار دے سکتے ہیں۔ ایک ایسی امید جو اندر کی شکستگی سے جنم لیتے ہے، یہ کہیں باہر سے نہیں ملتی۔ ان لمحوں کی بدولت انسان پھر سے کمر بستہ ہو جاتا ہے، کیونکہ درد کے معنی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ آپ سمجھ جاتے ہیں کہ جب سیاست زندگی سے علیحدہ ہو جائے تو سیاست محض ایک پرفارمنس (کارکردگی)بن جاتی ہے۔

زندگی میں اگر جدوجہد نہ رہے تو پھر زندگی کو محض برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایران میں موجود کامریڈ مجھے یاد دلاتے ہیں کہ جدوجہد ہمیشہ بڑے اور تاریخی لمحوں کے دوران نہیں ہوتی۔ اگر انٹرنیٹ پر رابطہ ممکن نہیں رہا تو یہ تسلیم نہیں کرنا ہوتا کہ تعلق بھی منقطع ہو گیا ہے۔ اس سادہ سی مثال کا مطلب یہ ہے کہ جبر ہمیں خاموش جزیروں میں نہ بدل دے۔

ان دنوں، بہت سے کامریڈز نے مختلف ملکوں سے وقتاً فوقتاً رابطہ کیا۔ بعض اوقات محض چند منٹ ہی بات ہوئی، دیگر موقعوں پر ہم خوب ہنسے، اختلاف رائے ہوا، غصے میں آئے، لمبی خاموشی آئی مگر ہر فون کال اہم تھی۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو یہ چاہتی ہے کہ ہم اکیلے رہ جائیں، کسی پر بھروسہ نہ کریں، تھک جائیں، تاکہ ہمیں باآسانی ہانکا جا سکے۔ ان حالات میں یہ چھوٹے چھوٹے رابطے ایک سیاسی عمل بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کا حال احوال دریافت کرے۔۔۔۔ اگر دوسرے ملک سے فون پر آپ کسی کامریڈ سے ایران، فلسطین، یوکرین، مزدور، جنگ، جلاوطنی، غربت اور مستقبل بارے بات کر سکیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ ہے جو ہنوز زندہ ہے۔

میں اس کوشش میں نہیں ہوں کہ جدوجہد کو رومانوی رنگ دوں یا اسے ہیروآئز کروں۔بسا اوقات جدوجہد بہت خوفناک ہوتی ہے، تھکا دینے والی، غلط فہمیوں سے بھرپور، یہ آپ کو تنہا کر سکتی ہے، دوستیوں کو کھا جاتی ہے اورآپ کو ادھ موا کر دیتی ہے۔

مگر جدوجہد کے سوا اور ہے بھی کیا؟ سست رو موت سے سمجھوتہ؟ تماشائی بن جاؤ؟ ریڈی میٹ نفرت کے کسی جھونپڑے میں پناہ لے لو؟ مستقبل جنگجو جنونیوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دو؟ لوگوں کو جیلر کے حوالے کر دو؟

میری نظر میں جدوجہد محض ایک سیاسی انتخاب نہیں۔ آج میں نے مادر گوہر عشقی بارے لکھا۔۔۔میرے نزدیک، جیسا کہ مادر گوہر عشقی نے لکھا، جدوجہد زندہ رہنے کی ایک شکل ہے۔ بربادیوں میں کھڑے رہ کر، جدوجہد میرے لیے انسانیت سے رشتہ قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔

کامریڈ کے ساتھ، بے روزگار مزدور کے ساتھ، جبر کا شکار عورت کے ساتھ، استاد کے ساتھ، قیدی کے ساتھ، مہاجر کے ساتھ، اس بچے کے ساتھ جس کے پاس انٹرنیٹ ہے نہ تحفظ، نہ مستقبل مگر اسے یہ حق حاصل ہے کہ اس کے پاس یہ سب کچھ ہو۔