← Back to Newsroom OS خبریں

اے آئی کے رجحان سے الیکٹرانکس مہنگی ہونے کا خدشہ، مائیکرون کا صارفین کیلئے چپس پیداوار بند کرنے کا فیصلہ

By جدوجہد • 2025-12-23 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ نے گھریلو الیکٹرانکس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرون (Micron) نے اربوں ڈالر کی سرکاری سبسڈیز حاصل کرنے کے بعد عام صارفین کے لیے میموری چپس کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاکہ وہ صرف بڑی کارپوریٹ اے آئی کمپنیوں کو خدمات فراہم کر سکے۔

’جیکوبن‘ کے مطابق مائیکرون نے رواں ماہ اعلان کیا کہ وہ اپنی کروشل پروڈکٹ لائن بند کر رہے ہیں، جس میں کمپیوٹرز اور گیمنگ کنسولز میں استعمال ہونے والی اہم میموری مصنوعات جیسے ڈی ریم (DRAM) اور سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز (SSD) شامل تھیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مائیکرون ان چند عالمی کمپنیوں میں شامل تھی جو ڈی ریم اور ایس ایس ڈی کی عالمی پیداوار پر حاوی تھیں۔

ماہرین کے مطابق مائیکرون کے اس فیصلے کے بعد یہ مارکیٹ عملی طور پر صرف دو جنوبی کوریائی کمپنیوں، سام سنگ اور ایس کے ہائنکس، کے درمیان محدود ہو جائے گی، جس سے مسابقت کم اور صارفین کے لیے قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈی ریم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی 170 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔

کمپنی کا موقف ہے کہ ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں میموری اور اسٹوریج کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اسے اپنے وسائل بڑے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کارپوریٹ صارفین کی طرف منتقل کرنا پڑے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مائیکرون زیادہ منافع بخش اے آئی کمپنیوں کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ عام صارفین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

گیمرز نیکسس کے ماہر اسٹیفن برک کے مطابق اے آئی چپس کی منافع بخش مارکیٹ نے محدود عالمی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے تمام وسائل اپنی طرف کھینچ لیے ہیں، جس کا خمیازہ عام صارفین کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مائیکرون کے حصص کی قیمت رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 180 فیصد بڑھ چکی ہے، جبکہ کمپنی کو امریکی چپس ایکٹ کے تحت 6.1 ارب ڈالر کی وفاقی سبسڈی بھی دی جا چکی ہے۔ نیویارک ریاست میں مائیکرون کو مزید 22.6 ارب ڈالر سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔

تاہم اس تمام حکومتی معاونت کے باوجود کمپنی کے فیصلے نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں عام صارفین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا نہیں۔