بالشویک اور لینن
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
3 اپریل کو لینن بیرون ملک سے واپس پیٹروگراڈ پہنچا۔ اِس لمحے کے بعد سے ہی بالشویک پارٹی بلند آواز میں بولنے لگی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اپنی آواز میں بولنے لگی۔ بالشویزم کے لئے انقلاب کے پہلے مہینے ایک تذبذب اور اضطراب کا عرصہ تھا۔ سرکشی کی فتح کے فوراً بعد مرتب کئے گئے بالشویک مرکزی کمیٹی کے ’’منشور‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’کارخانوں اور فیکٹریوں کے مزدوروں اور اسی طرح باغی سپاہیوں کو فوراً عبوری انقلابی حکومت کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرنے چاہئیں۔‘‘ یہ منشور سوویت کے سرکاری جریدے میں کسی تبصرے یا اعتراض کے بغیر شائع ہوا تھا، جیسے یہ کوئی خالصتاً علمی سوال تھا۔ لیکن قیادت میں موجود بالشویک بھی اپنے نعروں کو خالصتاً نمائشی گردانتے تھے۔ اُن کا طرز عمل اقتدار کی جدوجہد کی تیاری کرنے والی پرولتاری پارٹی کے نمائندوں کی بجائے جمہوریت کے بائیں بازو جیسا تھا، جس کا ارادہ اپنے اصولوں کا اعلان کر دینے کے بعد غیر معینہ وقت کے لئے وفادار اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا تھا۔
سوخانوف بتاتا ہے کہ یکم مارچ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں مرکزی سوال بس [عبوری حکومت کو] اقتدار کی منتقلی کی شرائط طے کرنے کا تھا۔بورژوا حکومت کی تشکیل کے خلاف ایک آواز بھی بلند نہ ہوئی، اس کے باوجود کہ مجلس عاملہ کے کل 39 ممبران میں سے 11 بالشویک یا اُن کے حمایتی تھے، مزید برآں اِس اجلاس میں بالشویک مرکز کے تین اراکین زالٹسکی، شلیاپنیکوف اور مولوٹوف بھی موجود تھے۔
خود شلیاپنیکوف کی رپورٹ کے مطابق اگلے دن سوویت میں موجود کل 400 نمائندگان میں سے صرف 19 نے بورژوازی کو اقتدار کی منتقلی کے خلاف ووٹ دیا، اس کے باوجود کہ بالشویک دھڑے میں 40 نمائندے تھے۔ رائے شماری بالشویکوں کی جانب سے کسی واضح مخالفانہ موقف کے بغیر، کسی تصادم کے بغیر، بالشویک پرچوں میں کسی ایجی ٹیشن کے بغیر خالصتاً پارلیمانی طریقے سے مکمل ہو گئی ۔
4 مارچ کو بالشویک مرکزی کمیٹی کے بیورو نے عبوری حکومت کے ردِ انقلابی کردار اور پرولتاریہ اور کسانوں کے جمہوری آمریت کی طرف گامزن ہونے کی ضرورت پر مبنی قرار دار منظور کی۔چونکہ یہ قرارداد فوری عمل کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دیتی تھی اس لئے پارٹی کی پیڑوگراڈ کمیٹی نے درست طور پر اِس کو عالمانہ (Academic) قرار دے کر مسئلے کو مخالف زوایے سے لیا ۔کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ ’’عبوری حکومت پر سوویت کی قرارداد کے مطابق عبوری حکومت کے اقتدار کی مخالفت نہیں کرے گی جب تک کہ …‘‘ وغیرہ۔ یہ درحقیقت سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کا موقف تھا جسے تھوڑا نرم کر دیا گیا تھا۔ پیٹروگراڈ کمیٹی کی یہ کھلی موقع پرستانہ قرارداد بس رسمی طور پر ہی مرکزی کمیٹی کی اُس قرارداد سے متضاد تھی جس کا عالمانہ کردار پہلے سے ایک طے شدہ حقیقت کو بیان کرنے کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔
خاموشی یا کچھ تحفظات کے ساتھ بورژوازی کی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کی رضامندی کو کسی طور بھی ساری پارٹی کی ہمدردی حاصل نہیں تھی۔ بالشویک مزدور شروع سے ہی عبوری حکومت کو اپنے راستے میں غیر متوقع طور پر حائل مخالفانہ دیوار سمجھتے تھے۔ وائبورگ علاقے کی کمیٹی نے ہزاروں مزدوروں اور سپاہیوں کے جلسے کئے، جن میں تقریباً متفقہ طور پر اقتدار پر سوویتوں کے قبضے کی قراردادیں منظور کی گئیں۔اِس ایجی ٹیشن کا ایک متحرک شریک ڈنگلسٹٹ گواہی دیتا ہے: ’’کوئی ایک بھی ایسا جلسہ نہیں تھا… کوئی ایک مزدور جلسہ بھی ایسا نہیں تھا جو ہماری طرف سے ایسی کسی قرارداد کے خلاف ووٹ دیتا، بس اگر کوئی اسے پیش کرنے والا ہوتا ۔‘‘ اقتدار کے سوال پر اپنے موقف کی وجہ سے منشویک اور سوشل انقلابی اُن دنوں مزدوروں اور سپاہیوں کے سامنے آنے سے ڈرتے تھے ۔وائبورگ کے مزدوروں کی ایک قرارداد اس کی مقبولیت کے پیش نظر شائع کر کے پلے کارڈوں پر چسپاں کی گئی۔ لیکن پیٹروگراڈ کمیٹی نے اِس قرارداد پر مکمل پابندی لگا دی اور وائبورگ کے مزدوروں کو اطاعت پر مجبور کر دیا گیا۔
انقلاب کے سماجی مواد اور اس کے ارتقا کے امکانات پر بھی بالشویک قیادت کا موقف کچھ کم غبار آلود نہیں تھا۔ شلیاپنیکوف یاد کرتا ہے: ’’ہم منشویکوں کے ساتھ متفق تھے کہ ہم جاگیردارانہ رشتوں کے ٹوٹنے کے مرحلے سے گزر رہے تھے اور اِن رشتوں کی جگہ پر ہر طرح کی ایسی ’آزادیاں‘ نمودار ہونا تھیں جو بورژوا رشتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔‘‘ بالشویک پارٹی کا جریدہ ’پراودا‘ (Pravda) اپنے پہلے شمارے میں کہتا ہے: ’’بنیادی مسئلہ ایک جمہوریہ کا قیام ہے۔‘‘ مزدوروں کے نمائندگان کو ہدایت جاری کرتے ہوئے ماسکو کمیٹی نے اعلان کیا: ’’فی الوقت پرولتاریہ کا مقصد سوشلزم،جو اس کا حتمی مقصد ہے، کے لئے جدوجہد کی آزادی حاصل کرنا ہے ۔‘‘ ’’حتمی مقصد‘‘ کا یہ روایتی حوالہ اِس بات پر حسب ضرورت زور دیتا ہے کہ سوشلزم ابھی تاریخی طور پر دور ہے۔ اِس سے آگے کی جسارت کسی نے نہیں کی۔ایک جمہوری انقلاب کی حدود سے آگے بڑھ جانے کے خوف نے انتظار، برداشت اور مصالحت پسندوں سے حقیقی ہار مان لینے کی حکمت عملی کو جنم دیا۔
یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ پارٹی مرکز کی سیاسی بے کرداری نے کتنا گہرا اثر صوبوں پر ڈالا ہو گا۔ ہم ساراٹوف کی بالشویک تنظیموں میں سے ایک کی گواہی تک ہی خود کو محدود رکھیں گے: ’’سرکشی میں فعال شمولیت کے بعد ہماری پارٹی واضح طور پر عوام پر اپنا اثر و رسوخ کھو چکی تھی اور یہ اثر و رسوخ منشویکوں اور سوشل انقلابیوں نے حاصل کر لیا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ بالشویکوں کے نعرے کیا تھے… بڑا برا حال تھا۔‘‘
بائیں بازو کے بالشویکوں، خاص طور پر مزدوروں نے اِس تنہائی کو توڑنے کی پوری کوشش کی۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ انقلاب کے بورژوا کردار اور پرولتاریہ کی سیاسی تنہائی کے خطرے کے مفروضے کو کیسے غلط ثابت کریں۔ اُنہوں نے دانت پیس کر رہنماؤں کی ہدایات کو تسلیم کر لیا۔ پہلے دن سے ہی بالشویزم میں کئی متضاد دھارے تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے خیالات کو مکمل نہیں کر سکا۔ پارٹی کی اس ابر آلود اور غیر مستحکم کیفیت کا اظہار ’پراودا‘ کرتا تھا، جو اِس میں کوئی اتحاد نہیں پیدا کر سکا۔جلاوطنی سے کامینیف اور سٹالن کی واپسی کے بعد مارچ کے وسط تک صورتحال اِس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو گئی، اُنہوں نے پارٹی کی باضابطہ حکمت عملی کو تیزی سے دائیں جانب موڑ دیا۔
کامینیف اگرچہ بالشویزم کی تقریباً پیدائش کے وقت سے ہی ایک بالشویک تھا، لیکن ہمیشہ پارٹی کے دائیں بازو میں ہوتا تھا۔کامینیف نظریاتی بنیادوں اور سیاسی جبلت سے عاری نہیں تھا، روس میں دھڑا بندی کی جدوجہد کے وسیع تجربے اور مغربی یورپ میں کئے گئے سیاسی مشاہدوں کے زخیرے کی بدولت وہ زیادہ تر بالشویکوں سے بڑھ کر لینن کے نظریات کو سمجھتا تھا، لیکن وہ اِن نظریات کو انتہائی محدود عملی جامہ پہنانے کے لئے ہی سمجھتا تھاْ۔ آپ اُس سے آزادانہ فیصلے یا عمل میں پیش قدمی کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔کامینیف پراپیگنڈا میں مہارت کے لئے مشہور، مقرر اور صحافی تھا۔ بہت ذہین تو نہیں لیکن صاحب فکر ضرور تھا، وہ خاص طور پر دوسری پارٹیوں سے مذاکرات اور دوسرے سماجی حلقوں میں جا کر اُن کا جائزہ لینے کا بڑا ماہر تھا، اگرچہ ایسے ہر سیر سپاٹے کے بعد وہ تھوڑا سا ایسا مزاج اپنے ساتھ لے آتا تھا جو پارٹی کے لئے بیگانہ ہوتا تھا۔ کامینیف کی یہ خاصیتیں اِتنی واضح تھیں کہ تقریباً کوئی بھی بطور سیاسی شخصیت اُس کے بارے غلط اندازہ نہیں لگاتا تھا۔ سوخانوف تبصرہ کرتا ہے کہ اُس میں ’’تیز دھار کونے‘‘ موجود نہیں تھے۔ وہ کہتا ہے، ’’ کھینچنے والے رسّے کے ساتھ اُس کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہمیشہ ہوتی تھی … وہ شاید تھوڑی مزاحمت کرے، لیکن زیادہ مضبوطی سے نہیں۔‘‘ اسی طرح سٹینکیوچ لکھتا ہے: دشمنوں سے کامینیف کا رویہ ’’اتنا نرم ہوتا تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ خود اپنے موقف کے ناقابل مصالحت ہونے پر شرمسار ہے؛ مجلس عاملہ میں وہ یقینا کوئی دشمن نہیں بلکہ صرف حزب اختلاف تھا۔‘‘ مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اپنی نفسیاتی ساخت اور اپنے پارٹی کے کام کے کردار، دونوں حوالوں سے سٹالن ایک بالکل مختلف قسم کا بالشویک تھا:ایک مضبوط لیکن نظریاتی اور سیاسی طور پر پسماندہ منتظم (Organizer) ۔ کامینیف ایک سیاسی صحافی کی حیثیت سے کئی سال تک لینن کے ساتھ بیرون ملک رہا تھا، جہاں پارٹی کی نظریاتی بھٹی قائم تھی۔ لیکن سٹالن ایک نام نہاد ’’عملیت پسند‘‘ کے طور پر نظریاتی نقطہ نظر، وسیع سیاسی دلچسپیوں اور غیرملکی زبانوں کے علم سے عاری اور روس کی مٹی سے ناقابل علیحدگی تھا۔ ایسے سیاسی کارکنان مختصر دوروں پر [پارٹی قیادت سے] ہدایات لینے اور اپنے آگے کے مسائل پر بحث کرنے ہی بیرون ملک جاتے تھے اور پھر واپس روس آ جاتے تھے۔ سٹالن اپنی توانائی، استقامت اور منظر نامے کے پیچھے چالبازیوں کی قوت اختراع کی وجہ سے عملیت پسندوں میں ممتاز تھا۔ کامینیف اپنے کردار کے فطری نتیجے کے پیش نظر بالشویزم کے عملی مضمرات پر ’’شرمندگی‘‘ محسوس کرتا تھا، اس کے برعکس سٹالن اِن عملی مضمرات کا دفاع کرنے پر مائل تھا جنہیں وہ کوئی کمی کئے بغیر، اصرار کو بدتمیزی کے ساتھ ملا کر اپناتا تھا۔
اپنے متضاد کرداروں کے باوجو دیہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ کامینیف اور سٹالن کا موقف انقلاب کے آغاز پر مشترک تھا: وہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ انقلابی عزم کے بغیر انقلابی ادراک، ٹوٹے ہوئے سپرنگ والی گھڑی جیسا ہوتا ہے۔ کامینیف ہمیشہ انقلاب کے وقت سے پیچھے ہوتا تھا، یا پھر یہ کہ اس کے فرائض سے پیچھے رہ جاتا تھا۔ لیکن وسیع اور پیچیدہ واقعات کی موجودگی میں وسیع سیاسی ادراک کی عدم موجوگی انتہائی پرعزم انقلابیوں کو بھی تذبذب میں غرق کر دیتی ہے۔ [نظریاتی ادراک کے بغیر] صرف ظاہری مشاہدے اور تجربے پر انحصار کرنے والا سٹالن عزم کے معاملے میں نہیں بلکہ فہم و فراست کے معاملے میں بیگانے اثر و رسوخ قبول کر لیتا تھا۔ یوں قوت فیصلہ سے عاری اِس سیاسی صحافی اور فہم و فراست کی وسعت سے عاری اِس منتظم نے مارچ 1917ء میں بالشویزم کو منشویزم کی سرحدوں تک پہنچا دیا۔ مجلس عاملہ میں پارٹی کے نمائندے کے طور پر شامل ہونے والا سٹالن وہاں آزادانہ موقف اختیار کرنے میں کامینیف سے بھی کم قابل ثابت ہوا۔ مجلس عاملہ کی رپورٹوں اور پرچوں میں کوئی ایک بھی تجویز، اعلان یا احتجاج نہیں ملتا جس میں سٹالن نے لبرلزم کے سامنے سجدہ ریز ’’جمہوریت‘‘ کے خلاف بالشویک نقطہ نظر کا اظہار کیا ہو۔ اپنی ’انقلاب کی یادداشتوں‘ میں سوخانوف کہتا ہے:اُن دنوں مجلس عاملہ میں کامینیف کے ساتھ بالشویکوں میں سٹالن نمودار ہوا… مجلس عاملہ میں اپنی معمولی سی سرگرمی کے وقت میں اُس نے مجھے اور دوسروں کو بھی ایک سرمئی نقطے کا تاثر دیا، جو کبھی کبھار ایک مدہم اور بے ربط سی روشنی دیتا تھا۔ اُس کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘یہ واضح ہے کہ سوخانوف بحیثیت مجموعی سٹالن کو کم تر خیال کررہا ہے، تاہم وہ مصالحت پسندوں کی مجلس عاملہ میں اُس کی سیاسی بے کرداری کو درست بیان کرتا ہے۔
14 مارچ کو ’’ساری دنیا کے لوگوں کے نام‘‘ اس منشور کو سوویت نے متفقہ طور پر منظور کر لیا جس میں فروری انقلاب کی فتح کی تشریح اتحادی ممالک کے مفادات میں کی گئی تھی اور فرانسیسی طرز کی نئی جمہوریائی سماجی حب الوطنی کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ سٹالن اور کامینیف کی نظر میں ایک اہم کامیابی تھی، لیکن ایسی کامیابی جو واضح طور پر بغیر کسی جدوجہد کے حاصل کی گئی تھی۔ ’پراودا‘ نے اِسے ’’سوویت میں موجود مختلف رجحانات کے درمیان شعوری مصالحت‘‘ قرار دیا۔ یہ اضافہ کرنا ضروری ہے یہ مصالحت لینن کے اُس رجحان سے براہ راست علیحدگی پر مبنی تھی جس کی نمائندگی سوویت میں کی ہی نہیں گئی۔
مرکزی جریدے کے بیرون ملک ادارتی عملے کے رکن کامینیف، مرکزی کمیٹی کے ممبر سٹالن اور سائبیریا سے ہی واپس لوٹنے والے دوما کے ممبر مورانوف نے ’پراودا‘ کے پرانے مدیروں، جنہوں نے بہت ’’بائیں بازو‘‘ کا موقف اختیار کر رکھا تھا، کو ہٹا دیا اور 15 مارچ کو کم و بیش متنازعہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے پرچہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ نئی ادارت کے پروگرام کے اعلان میں واضح کیا گیا کہ بالشویک فیصلہ کن طور پر عبوری حکومت کی حمایت کریں گے ’’جہاں تک کہ یہ رجعت اور ردِ انقلاب کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔‘‘ نئے مدیروں نے جنگ کے سوال پر بھی اپنا موقف اس سے کم قطعی طور پر بیان نہیں کیا: ’’جب تک جرمنی کی فوج اپنے بادشاہ کا حکم مانتی ہے، روسی سپاہی کو لازماً ’’گولی کا جواب گولی اور گولے کا جواب گولے سے دیتے ہوئے اپنے مورچے پر مضبوطی سے جمے رہنا چاہئے۔‘‘ ’’ہمارا نعرہ بے معنی ’جنگ مردہ باد‘ نہیں ہے۔ ہمارا نعرہ عبوری حکومت کو اِس بات پر مجبور کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا ہے کہ … تمام جنگ کرنے والے ممالک کو فوری مذاکرات پر مائل کرے… اور تب تک ہر آدمی اپنے مورچے پر رہے!‘‘ یہ خیال اور اس کی تشکیل، دونوں چیزیں ڈیفنسسٹوں والی ہیں۔اِس مقصد سے ایک سامراجی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا پروگرام کہ اُسے امن سے محبت کی سرگرمیوں پر ’’مائل‘‘ کیا جائے، یہی جرمنی میں کاؤتسکی، فرانس میں جین لونگے اور برطانیہ میں میکڈونلڈ کا پروگرام تھا [۱]۔یہ کسی طور بھی لینن کا پروگرام نہیں تھا، جو سامراجی تسلط کو اکھاڑ پھینکنے کی آواز بلند کر رہا تھا۔ حب الوطنی کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہوئے ’پراودا‘ اِس سے بھی آگے چلا گیا:’’تمام ’ڈیفیٹزم‘(Defeatism)، یا پھر جو کچھ بھی زار کی سنسرشپ کی پابند تمام پریس نے اِس اصطلاح سے وابستہ کیا ہے، اسی وقت مر گیا تھا جب پہلی انقلابی رجمنٹ پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر نمودار ہوئی تھی۔‘‘ یہ لینن کے موقف سے براہ راست دستبرداری تھی۔ڈیفیٹزم کو سنسرشپ کی پابندی کے تحت مخالف پریس نے ایجاد نہیں کیا تھا بلکہ اس کا اعلان لینن نے اس ضابطے میں کیا تھا: ’’روس کی شکست کم تر برائی ہے۔‘‘ پہلی انقلابی رجمنٹ کے نمودار ہونے اور حتیٰ کہ بادشاہت کے خاتمے نے بھی جنگ کا سامراجی کردار تبدیل نہیں کیا تھا۔ شلیاپنیکوف کہتا ہے کہ ’’[مدیروں کی] تبدیلی کے بعد ’پراودا‘ کی پہلی اشاعت کا دن ڈیفنسسٹوں کے لئے جشن منانے کا دن تھا۔ ریاستی دوما کی کمیٹی کے کاروباری لوگوں سے لے کر مجلس عاملہ میں انقلابی جمہوریت کے دل تک، سارا ٹاؤرائڈ محل اِس ایک خبر پر خوشی سے پاگل تھا: اعتدال پسند اور سلجھے ہوئے بالشویکوں کی شدت پسندوں پر فتح۔ خود مجلس عاملہ میں وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ ہم سے ملے… جب ’پراودا‘ کا شمارہ فیکٹریوں میں موصول ہوا تو اِس نے پارٹی کے اراکین اور ہمدردوں میں مکمل اضطراب اور اس کے دشمنوں میں طنز بھرا اطمینان پیدا کر دیا… پارٹی کے مقامی لوگوں میں غم و غصہ بہت زیادہ تھا اور جب مزدوروں کو پتا چلا کہ ’پراودا‘ پر سائبیریا سے آنے والے تین سابقہ مدیروں نے قبضہ کر لیا ہے تو اُنہوں نے اُنہیں پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔‘‘ جلد ہی ’پراودا‘ کو وائبورگ کے علاقے سے ہونے والے شدید احتجاج کو شائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا: ’’اگر مزدوروں کا اعتماد پرچہ کھونا نہیں چاہتا ہے تو اسے انقلابی شعور کی روشنی اجاگر کرنا ہو گی، چاہے یہ بورژوا احمقوں کے لئے کتنی ہی دردناک ہو۔‘‘ نیچے سے ہونے والے اِن احتجاجوں نے مدیروں کو اپنے اظہار میں زیادہ محتاط ہونے پر مجبور کر دیا، لیکن اُن کی حکمت عملی تبدیل نہ کی۔ حتیٰ کہ بیرون ملک سے آنے والے والا لینن کا پہلا مضمون بھی مدیروں کے سروں کے اوپر سے گزر گیا۔ وہ مسلسل دائیں بازو کا موقف اپنا رہے تھے۔ بائیں بازو کا نمائندہ ڈنگلسٹٹ لکھتا ہے، ’’اپنی ایجی ٹیشن میں ہمیں دوہرے اقتدار کا اصول اپنانا ہو گا… اور گول چکر کی ناگزیریت ان مزدور اور سپاہی عوام کو سمجھانی ہو گی جو دو ہفتوں کی شدید سیاسی زندگی میں اپنے فرائض کو بالکل مختلف انداز میں سمجھے ہیں۔‘‘
پورے ملک میں پارٹی کی حکمت عملی فطری طور پر ’پراودا‘ کی پیروی کرتی تھی۔ کئی سوویتوں میں بنیادی مسائل کے بارے میں قراردادیں اب متفقہ طور پر منظور ہونے لگیں: بالشویک بڑی آسانی سے سوویت کی اکثریت کے سامنے جھک گئے۔ ماسکو کے علاقے کی سوویتوں کے اجلاس میں جنگ پر سوشل حب الوطنوں کی قرارداد میں بالشویک بھی شامل ہو گئے۔ اور آخر کار مارچ کے آخر اور اپریل کے آغاز میں 82 سوویتوں کے نمائندگان کے ’کُل روس اجلاس‘میں بالشویکوں نے اقتدار کے سوال پر اُس سرکاری قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس کا دفاع ڈین کر رہا تھا۔ منشویکوں کے ساتھ اِس غیر معمولی سیاسی مصالحت نے بڑے پیمانے پر دونوں رجحانات کو یکجا (Unification) کرنے کا رجحان پیدا کیا۔ صوبوں میں بالشویک اور منشویک متحدہ تنظیموں میں شامل ہو گئے۔کامینیف-سٹالن دھڑا رفتہ رفتہ خود کو نام نہاد انقلابی جمہوریت کے بائیں بازو میں تبدیل کر رہا تھا اور بورژوازی پر پا
رلیمانی ’’دباؤ‘‘ ڈالنے کے عمل میں حصہ لے رہا تھا اور ساتھ میں ایسا ہی دباؤ جمہوریت پر بھی ڈال رہا تھا۔
*****
ملک سے باہر رہنے والا مرکزی کمیٹی کا حصہ اور مرکزی جریدہ ’دی سوشل ڈیموکریٹ‘(The Social Democrat) پارٹی کا روحانی مرکز رہا تھا۔ زینوویف کی معاونت سے لینن قیادت کا سارا کام سرانجام دیتا تھا۔ سب سے اہم دفتری فرائض لینن کی بیوی کرپسکایا (Krupskaia) ادا کرتی تھی۔ عملی کام کے لئے یہ چھوٹا سا مرکز کچھ بالشویک تارکین وطن پر انحصار کرتا تھا۔ جنگ کے دوران روس سے ان کی تنہائی زیادہ ناقابل برداشت ہو گئی، کیونکہ اتحادی ممالک کی فوجی پولیس اپنا گھیرا تنگ سے تنگ تر کرنے لگی۔ جس انقلابی دھماکے کا انتظار وہ لمبے عرصے سے اور شدت کے ساتھ کر رہے تھے، اُس نے انہیں بے خبری میں آ لیا۔ برطانیہ نے انٹرنیشنلسٹ تارکین وطن ، جن کی مکمل فہرست اُس نے مرتب کر رکھی تھی، کو روس جانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ لینن اپنے زیورک (Zurich) کے پنجرے میں سے باہر نکلنے کے لئے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ جن بے شمار منصوبوں پر غور کیا گیا اُن میں ایک گونگے بہرے اسکینڈی نیویائی باشندے کے پاسپورٹ پر سفر کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ ساتھ ہی لینن نے سوئٹزرلینڈ سے اپنی آواز بلند کرنے کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ 6 مارچ کو اس نے سٹاک ہوم کے راستے پیٹروگراڈ تار بھیجا: ’’ہمارا لائحہ عمل: مکمل عدم اعتماد؛ نئی حکومت کی کوئی حمایت نہیں؛ کیرنسکی پر خصوصی شک و شبہ ؛پرولتاریہ کو مسلح کرنا واحد ضمانت؛ پیٹروگراڈ کی دوما کے فوری انتخابات؛ دوسری پارٹیوں کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں۔‘‘ اِس ہدایت میں صرف سوویت کی بجائے دوما کے انتخابات کی تجویز کا کردار ضمنی تھا اور جلد ہی یہ تجویز دم توڑ گئی۔ ٹیلی گراف کی کاٹ سے بیان کئے گئے باقی نکات حکمت عملی کو مکمل طور پر بیان کرتے ہیں۔ عین اسی وقت لینن نے ’پراودا‘ کو اپنے ’دور کے خطوط‘(Letters from Afar) بھیجنے شروع کئے، جو اگرچہ بیرون ملک ٹکڑوں میں ملنے والی معلومات کی بنیاد پر، لیکن انقلابی صورتحال کا مکمل جائزہ پیش کرتے ہیں۔ اخباروں میں ملنے والی خبروں نے جلد ہی اُسے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے قابل بنا دیا کہ نہ صرف کیرنسکی بلکہ شکائدز کی بھی براہ راست معاونت سے عبوری حکومت ایک سامراجی جنگ کو دفاعی جنگ کے طور پر پیش کر کے مزدوروں کو دھوکہ دے رہی تھی۔ 17 مارچ کو سٹاک ہوم میں موجود دوستوں کے ذریعے اُس نے تشویش بھرا خط لکھا۔ ’’ہماری پارٹی اگر اِس دھوکہ دہی میں شریک ہوتی ہے تو خود کو ہمیشہ کے لئے رسوا کر لے گی، سیاسی طور پر خود کشی کر لے گی … میں سوشل حب الوطنی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے پارٹی کے اندر کسی سے بھی علیحدگی (Split) اختیار کرنے کو ترجیح دوں گا…‘‘ اس بظاہر غیر شخصی دھمکی، جو ذہن میں مخصوص لوگوں کو رکھ کر دی گئی تھی کے بعد لینن استدعا کرتا ہے: ’’کامینیف کو سمجھنا چاہئے کہ ایک عالمی تاریخی ذمہ داری اُس پر عائد ہوتی ہے۔‘‘ کامینیف کا نام یہاں اس لئے لیا گیا کہ یہ ایک سیاسی اصول کا معاملہ ہے۔ اگر لینن کے دماغ میں کوئی عملی جنگجوانہ مسئلہ ہو تا تو قوی امکان ہے کہ وہ سٹالن کا نام لیتا۔ لیکن عین ان لمحات میں جب لینن اپنے موقف کی شدت کو شعلوں میں لپٹے یورپ کے پار پیٹروگراڈ پہچانے کی کوشش کر رہا تھا، سٹالن کی معاونت سے کامینیف تیزی سے حب الوطنی کی طرف جھک رہا تھا۔
[لینن کو روس پہنچانے کے لئے] مختلف بہروپ، جعلی مونچھیں، غیر ملکی یا جعلی پاسپورٹ، غرضیکہ ایک کے بعد ایک کئی منصوبے ناممکن قرار دے کر مسترد کر دئیے گئے۔ اسی دوران جرمنی کے راستے سفر کا خیال زیادہ سے زیادہ ٹھوس ہوتا گیا۔ اس منصوبے نے تارکین وطن کی اکثریت کو خوفزدہ کر دیا اور صرف اُنہی کو ہی نہیں جو حب الوطن تھے [۲]۔ لینن جیسے جرات مندانہ عمل کو اپنانے کا فیصلہ مارٹوف اور دوسرے منشویک نہیں کر سکے اور اتحادی ممالک کے دروازوں پر ناکام دستک دیتے رہے۔ بعد ازاں ایجی ٹیشن میں ’’بند ٹرین‘‘ (Sealed Train) سے پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر بہت سے بالشویک بھی جرمنی کے راستے اپنے سفر پر پچھتاتے رہے۔ شروع سے ہی لینن مستقبل کی اِن مشکلات سے آگاہ تھا۔ کرپسکایا نے زیورک سے روانہ ہونے سے بالکل پہلے لکھا: ’’ظاہر ہے کہ روس میں حب الوطن شوروغوغا مچائیں گے، لیکن اس کے لئے ہمیں تیار ہونا چاہئے۔‘‘ سوال کچھ یوں تھا: یا تو سوئٹزرلینڈ میں ہی رہو یا پھر جرمنی کے راستے سفر کرو۔ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ کیا لینن ایک لمحے کے لئے بھی ہچکچا سکتا تھا؟ صرف ایک مہینے بعد مارٹوف، ایگزلروڈ (Axelrod) اور کئی دوسرے اسی کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔
جنگ کے دوران ایک دشمن ملک کی حدود میں اِس انوکھے سفر کے انتظام میں ایک ماہر سیاست کار کے طور پر لینن کی بنیادی خاصیتوں کا اظہار ہوا، جو اپنے ادراک میں جرات مند اور اس کی تعمیل میں بے حد محتا ط تھا۔ اِس عظیم انقلابی میں ایک ایسے سرکاری محرر جیسی باریک بینی اور گہری احتیاط تھی جو اپنا کام بخوبی جانتا تھا، لیکن اپنے کاغذات عین اس وقت نکالتا تھا جب وہ سارے محرری نظام کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر سکیں۔ ایک انقلابی پرچے کے ادارتی عملے اور جرمن بادشاہ کی سلطنت کے درمیان جرمنی میں سے سفر کے اس انوکھے بین الاقوامی معاہدے کی شرائط غیرمعمولی احتیاط سے مرتب کی گئی تھیں۔ لینن نے سفر کے دوران جرمنی کے قوانین سے مکمل استثنا کا مطالبہ کیا: مسافروں اور ان کے پاسپورٹوں اور سامان کی کوئی نگرانی یا تلاشی نہیں ہو گی۔ تمام تر سفر کے دوران کسی کو بھی ٹرین میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ (اسی لئے یہ ’’بند‘‘ ٹرین کے نام سے مشہور ہوئی۔)اپنی طرف سے تارکین کے اِس گروہ نے اتنی ہی تعداد میں جرمن اور آسٹریا ہنگری کے سول قیدیوں کی روس سے رہائی پر زور دینے کی حامی بھری۔
اس کے ساتھ ہی کئی غیر ملکی انقلابیوں کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ مرتب کیا گیا۔ ’’روسی انٹرنیشنلسٹ جو کہ اب روس جا رہے ہیں تا کہ انقلاب کے نصب العین کے لئے کام کر سکیں، وہ دوسرے ممالک اور بالخصوص جرمنی اور آسٹریا کے پرولتاریہ کو ان کی حکومتوں کے خلاف ابھارنے میں ہماری مدد کریں گے۔‘‘ فرانس سے لوریوٹ اور گلبیکس، جرمنی سے پال لیوی، سوئٹزرلینڈ سے پلیٹن، سویڈن کے بائیں بازو کے اراکین پارلیمنٹ اور دوسروں کے دستخط شدہ سیاسی معاہدے میں یہی درج تھا۔ اِن شرائط اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ تیس روسی تارکین وطن مارچ کے آخر میں سوئٹزرلینڈ سے نکلے۔ یہ ٹرین اُن دنوں کے جنگی سامان سے بھی زیادہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھی!
سوئٹزرلینڈ کے مزدوروں کے نام الوداعی خط میں لینن نے اُنہیں 1915ء کی خزاں کے مرکزی بالشویک جریدے کا اعلامیہ یاد دلایا: اگر روس میں انقلاب ایک ایسی جمہوری حکومت کو اقتدار میں لے آتا ہے جو سامراجی جنگ کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو بالشویک جمہوری مادرِ وطن کے دفاع کے خلاف ہوں گے۔ایسی صورتحال اب پیدا ہو چکی تھی۔ ’’ہمارا نعرہ ہے کہ گچکوف کی حکومت کے لئے کوئی حمایت نہیں۔‘‘ ان الفاظ کے ساتھ لینن اب انقلاب کی سرزمین میں داخل ہو رہا تھا۔
تاہم عبوری حکومت کے اراکین کی نظر میں تشویش کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ نابوکوف لکھتا ہے: ’’عبوری حکومت کے مارچ کے ایک اجلاس کے وقفے میں بالشویکوں کے بڑھتے ہوئے پراپیگنڈے پر طویل بحث کے دوران کیرنسکی نے اپنے روایتی احمقانہ انداز میں ہنستے ہوئے چیخ کر کہا: ’بس تھوڑا انتظار کرو، لینن خود آ رہا ہے، اصل کام تب شروع ہو گا!‘‘‘ کیرنسکی ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اصل کام تب ہی شروع ہونا تھا۔ تاہم نابوکوف کے مطابق وزرا زیادہ پریشان نہیں ہوئے۔ ’’لینن کی جرمنی سے استدعا ہی اُس کی ساکھ کو اتنا مجروح کر دے گی کہ ہمیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘جیسا کہ توقع کی جا سکتی تھی، وزرا بڑے تیز فہم تھے۔
ہمدرد پیروکار فن لینڈ میں لینن کو ملنے گئے۔ ایک نوجوان بحری افسر اور بالشویک راشکولنیکوف لکھتا ہے، ’’ہم بڑی مشکل سے ڈبے میں داخل ہوئے اور بیٹھ گئے، جب کامینیف پر ولادیمیر الیچ [۳] چلّارہا تھا: ’یہ تم ’پراودا‘ میں کیا لکھ رہے ہو؟ہم نے کئی شمارے دیکھے اور تمہیں کوستے رہے۔ کئی سالوں کی دوری کے بعد یہ اِن کی پہلی ملاقات تھی۔ تاہم پھر بھی یہ ایک دوستانہ ملاقات تھی۔
پیٹروگراڈ کمیٹی نے بالشویکوں کی فوجی تنظیم کی معاونت سے کئی ہزار سپاہیوں اور مزدوروں کو لینن کے فاتحانہ استقبال کے لئے متحرک کیا۔ایک ہمدرد بکتربند گاڑیوں کا ڈویژن اپنی ساری گاڑیاں لینن کے استقبال کے لئے لے آیا۔ کمیٹی نے سٹیشن تک بکتر بند گاڑیوں پر جانے کا فیصلہ کیا۔ انقلاب نے پہلے ہی اِس دیو کی حمایت حاصل کر لی تھی جو شہر کی سڑکوں پر آپ کے ساتھ ہو تو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
سوخانوف کی کئی جلدوں پر مبنی اور کافی پھیکی یادداشتوں میں فن لینڈ سٹیشن پر نام نہاد ’’زار کے کمرے‘‘ میں ہونے والی سرکاری ملاقات کا تذکرہ بڑے پرجوش انداز میں ایک صفحے پر موجود ہے۔ ’’لینن ایک گول ٹوپی میں چل کر، بلکہ بھاگ کر زار کے کمرے میں گیا، اُس کے چہرے پر سردمہری اور ہاتھ میں نفیس گلدستہ تھا۔ کمرے کے وسط کی طرف تیزی سے جاتے ہوئے وہ شکائدز کے سامنے ایسے رک گیا جیسے کسی بالکل غیر متوقع رکاوٹ سے ٹکرا گیا ہو۔اور یہاں شکائدز نے اپنی پرانی افسردہ شکل و صورت کو ترک کئے بغیر محتاط انداز میں ایک اخلاقی استاد کے مزاج اور آواز کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ’خیرمقدمی تقریر‘ کی: ’کامریڈ لینن، پیٹروگراڈ سوویت اور سارے انقلاب کی طرف سے ہم آپ کو روس میں خوش آمدید کہتے ہیں… لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انقلابی جمہوریت کا بنیادی فریضہ فی الوقت باہر اور اندر سے ہونے والے ہر طرح کے حملوں کے خلاف ہمارے انقلاب کا دفاع کرنا ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے آپ ہمارے ساتھ شامل ہو ں گے۔‘ شکائدز خاموش ہو گیا۔ میں اس برجستگی سے ڈر گیا۔ لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لینن اس سب سے نبردآزما ہونا اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ ایسے کھڑا تھا جیسے کہ جو کچھ ہو رہا تھا اُسے اس سے ذرا بھی سروکار نہیں تھا، ایک سے دوسری طرف ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں کو دیکھا، حتیٰ کہ گلدستے (جو لینن کی شخصیت سے بالکل بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا) کو دوبارہ ترتیب دیتے ہوئے ’زار کے کمرے‘ کی چھت کا معائنہ کیا اور آخر کار مجلس عاملہ کے مندوبین سے بالکل الگ ہو کر اس طرح ’جواب‘ دیا: ’پیارے کامریڈز، سپاہیو، جہازیو اور مزدورو، مجھے تمہارے وجود میں انقلابِ روس کی فتح مندی اور بین الاقوامی پرولتاری فوج کے ہراول دستے کے طور پر تم سے مل کر خوشی ہوئی ہے…وہ وقت دور نہیں جب ہمارے کامریڈ کارل لائبنیخت کی آواز پر عوام اپنے ہتھیاروں کا رخ اپنے سرمایہ دار استحصالیوں کی طرف موڑ دیں گے… تمہارے برپا کئے گئے انقلابِ روس نے نئے عہد کا آغاز کر دیا ہے… عالمگیر سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!‘‘
سوخانوف درست کہتا ہے کہ گلدستہ لینن کی شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا اور واقعات کے تلخ پس منظر سے اس کی عدم مطابقت اُسے بلاشبہ پریشان کر رہی تھی۔ ویسے بھی لینن گلدستے میں پھولوں کو پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بلاشبہ اس سے کہیں زیادہ خائف وہ ایک سٹیشن کے پریڈ کے کمرے میں منافقانہ سرکاری استقبال سے ہوا تھا۔ شکائدز اپنی استقبالی تقریر سے زیادہ بہتر تھا۔ وہ لینن سے تھوڑا ڈرتا تھا۔ لیکن بلاشبہ اُسے بتایا گیا تھا کہ اِس ’’فرقہ پرست‘‘ کو بالکل شروع سے ہی قابو کرنا ضروری تھا۔ شکائدز کی تقریر، جس نے قیادت کے قابل رحم معیار کا اظہار کیا تھا، کی رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے جہازیوں کی نمائندگی کرنے والا ایک نوجوان بحری کمانڈر اتنا شوخ تھا کہ اُس نے لینن کے عبوری حکومت میں شامل ہونے کی امیدکا اظہار کر ڈالا۔ یوں فروری انقلاب، جس کا کردار باتونی اور نرم اور ابھی تک کافی احمق تھا، نے اُس آدمی کا استقبال کیا جو اپنی سوچ اور امنگ میں اسے ٹھیک کرنے کا پختہ عزم لے کر آیا تھا۔ اِن ابتدائی تاثرات نے لینن کی تشویش کو دس گنا کرتے ہوئے اُس میں احتجاج کا ایسا احساس پیدا کر دیا جسے ضبط کرنا مشکل تھا۔ لینن کی تسلی اب فوراً کام میں لگ جانے میں تھی۔ شکائدز سے لے کر مزدوروں اور سپاہیوں، مادرِ وطن کے دفاع سے لے کر بین الاقوامی انقلاب اور عبوری حکومت سے لے کر لائبنیخت تک استدعا کرتے ہوئے لینن نے اُس سٹیشن پر اپنی مستقبل کی ساری حکمت عملی کی مشق کر ڈالی۔
تاہم اس بے ڈھنگے انقلاب نے فوراً اور دل و جان سے اپنے رہنما کو اپنی گود میں لے لیا۔ سپاہیوں نے لینن سے ایک بکتر بند گاڑی پر سوار ہو جانے کا مطالبہ کیا، جو اُسے ماننا پڑا۔ ڈھلتی ہوئی رات نے جلوس کو خاص طور پر جذبات انگیز بنا دیا۔ باقی بکتر بند گاڑیوں کی روشنیاں مدہم تھیں، جس گاڑی پر لینن سوار تھا اس کی تیز روشی رات کا سینہ چیر رہی تھی۔ یہ تاریک سڑکوں پر جوش بھرے مزدوروں، سپاہیوں اور جہازیوں کے بیچ میں سے گزر رہی تھی، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے عظیم انقلاب برپا کیا تھا اور پھر اپنے ہاتھوں میں سے اقتدار سرکنے دیا تھا۔ بینڈ والے اب بار بار باجے نہیں بجا رہے تھے، تاکہ لینن نئے سامعین کے سامنے اپنی تقریر دہرا سکے یا اس میں رد و بدل کر سکے۔سوخانوف کہتا ہے، ’’وہ فاتحانہ مارچ بڑا شاندار اور کم و بیش علامتی تھا۔‘‘
کشیسنسکایا (Kshesinskaia)، جو ایک درباری رقاصہ تھی، کے ریشمی گھونسلے جیسے محل کو بالشویکوں نے انقلاب کے بعد اپنا صدر دفتر بنا لیا تھا۔ یہ امتزاج لینن کی ہمیشہ خوش مزاج حس مزاح کو یقینا بھایا ہو گا۔ محل پہنچ کر استقبال پھر سے شروع ہو گیا۔ لینن نے تحسین و توصیف کی تقاریر کو یوں برداشت کیا جیسے باہر جانے کے لئے دروازے پر کھڑا پیدل آدمی بارش رکنے کا انتظار کرتا ہے۔ اس نے اپنی آمد پرخلوص بھری شادمانی کو یقینامحسوس کیا،لیکن طویل تقاریر نے اُس کے ناک میں دم کر دیا۔ دفتری مبارکبادوں کا لہجہ ہی اُسے مصنوعی اور متاثرہ لگ رہا تھا، پیٹی بورژوا جمہوریت سے مستعار لئے گئے الفاظ میں یہ جذباتی اور جھوٹا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اپنے مسائل اور فرائض کا تعین کرنے سے بھی پہلے انقلاب نے اپنے تھکا دینے والے آدابِ مجلس تخلیق کر لئے تھے۔ وہ خوش طبع سرزنش کے ساتھ مسکراتا رہا، اپنی گھڑی دیکھتا رہا اور وقتاً فوقتاً بے قابو ہو کر جمائی لیتا رہا۔ آخری تقریر کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہو ئی تھی کہ اِس غیر معمولی مہمان نے سامعین پر تندوتیز خیالات کی ایسی بارش کر دی جو بعض اوقات تقریباً کَوڑے لگانے جیسی معلوم ہوتی تھی۔ اس وقت مختصر نویسی کا فن بالشویکوں نے نہیں سیکھا تھا۔ کسی نے اُس کے الفاظ قلم بند نہیں کئے۔ جو کچھ ہو رہا تھا سب اُس میں پوری طرح کھو چکے تھے۔ یہ تقاریرمحفوظ نہیں کی گئی ہیں۔ سامعین کی یادداشتوں میں عمومی تاثرات ہی باقی بچے ہیں۔ اور وقت کی بھُول نے اِن میں بھی کانٹ چھانٹ کر دی ہے؛ اِن میں وجد شامل کر دیا گیا ہے اور خوف نکال دیا گیا ہے۔ لینن کی تقریرکا تاثر اُس کے قریب ترین لوگوں پر بھی خوف کا تھا۔ تمام تسلیم شدہ کلیے، جو ایک مہینے کی مسلسل تکرار کے بعد غیرمتزلزل دائمی حقیقت معلوم ہونے لگے تھے، سامعین کی نظروں کے سامنے ایک ایک کر کے تباہ و برباد ہو گئے۔سٹیشن پر سہمے ہوئے شکائدز کے سر پر سے پھینکا گیا مختصر لینن اسٹ جواب یہاں دو گھنٹے کی تقریر میں تبدیل ہو گیا، جس میں بالشویزم کے پیٹروگراڈ کے کیڈروں کو براہ راست مخاطب کیا گیا تھا۔
کسی پارٹی سے غیروابستہ سوشلسٹ سوخانوف اِس جلسے میں ایک مہمان کی حیثیت سے حادثاتی طور پر موجود تھا۔ خوش طبع کامینیف نے اُسے آنے کی اجازت دی تھی، اگرچہ لینن ایسی ناز برداریوں کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ تاہم اُس کی بدولت ہمارے پاس پیٹرزبرگ کے بالشویکوں سے لینن کی پہلی ملاقات کے بارے میں ایک باہر کے ایسے بندے کا بیان بھی موجود ہے جو نیم مخالف اور نیم بے خود تھا۔
’’میں بجلی کی کڑک جیسی وہ تقریر نہیں بھول سکتا جو صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ وفاداروں کے لئے، اُن سب کے لئے بھی چونکا دینے والی اور حیرت انگیز تھی … میں وثوق سے کہتا ہوں کہ وہاں کسی کو بھی ایسی کسی چیز کی توقع نہیں تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اپنے کچھاروں سے نکلے ہوئے عالمگیر تباہی کے سارے عناصر اور روحیں ، رکاوٹوں اور شبہات اور ذاتی مشکلات اور ذاتی سوچ بچار کی رکاوٹوں کو توڑ کر کشیسنسکایا کے اس ضیافتی محل میں سحر زدہ شاگردوں کے سروں پر منڈلانے آ گئے تھے۔‘‘
ذاتی مشکلات اور سوچ بچار، سوخانوف کے لئے اس کا زیادہ تر مطلب میکسم گورکی کے ساتھ چائے پینے والے ’نووایا زن‘ (Novaya Zhizn) [۴] حلقے کا ادارتی تذبذب تھا۔ لینن کی سوچ زیادہ گہری تھی۔ اُس ضیافتی ہال میں عناصر نہیں بلکہ انسانی سوچیں منڈلا رہی تھیں اور وہ عناصر سے پریشان نہیں تھیں بلکہ اُنہیں قابو کرنے کے لئے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن پھر بھی تاثر واضح طور پر بیان ہو گیا ہے۔
سوخانوف کے بیان کے مطابق لینن نے کہا، ’’اپنے کامریڈوں کے ساتھ یہاں تک کے سفر کے دوران میں توقع کر رہا تھا کہ ہمیں سیدھا پیٹر اور پال [کے قید خانے] لے جایا جائے گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس سے ابھی کافی دور ہیں۔ لیکن ہمیں امید ترک نہیں کرنی چاہئے کہ ایسا ہو گا، کہ ہم اس سے بچیں گے نہیں۔ ‘‘
اس وقت باقیوں کے لئے انقلاب کے آگے بڑھنے کا مطلب جمہوریت کی مضبوطی تھا؛ لینن کی نظر میں قریب ترین امکان سیدھا پیٹر اور پال کے قیدخانے جانے کا تھا۔ یہ ایک منحوس مذاق معلوم ہوتا ہے۔ لیکن لینن مذاق نہیں کر رہا تھا، نہ ہی انقلاب مذاق کر رہا تھا۔
سوخانوف شکایت کرتا ہے، ’’اُس نے سوویت کی باقی پالیسیوں کے ساتھ قانونی زرعی اصلاحات کو بھی دھتکار دیا۔ اُس نے کسی حکومتی طاقت کی پیش بندی کئے بغیر زمین پر کسانوں کے منظم قبضوں کی بات کی ۔‘‘
’’ہمیں کوئی پارلیمانی جمہوریہ نہیں چاہئے۔ ہمیں کوئی بورژوا جمہوریت نہیں چاہئے۔ ہمیں مزدوروں، سپاہیوں اور دہقانوں کی سوویت کے سوا کوئی حکومت نہیں چاہئے۔‘‘
عین اسی وقت لینن نے سوویت کی اکثریت کو دشمن قرار دیتے ہوئے خود کو واضح طور پر اس سے الگ کر لیا۔ ’’اُن دنوں اُس کے سامعین کو چکرا دینے کے لئے اتنا ہی کافی تھا! ‘‘
سوخانوف غصے سے لینن کے خیالات بیان کرتا ہے، ’’صرف زمروالڈ والا بایاں بازو ہی پرولتاری مفادات اور عالمی انقلاب کا نگہبان ہے۔ باقی سارے پرانے مفاد پرست ہیں جو خوبصورت الفاظ بولتے ہیں لیکن حقیقت میں محنت کش عوام اور سوشلزم کے نصب العین سے غداری کر رہے ہیں۔‘‘
راشکولنیکوف بھی سوخانوف کی تصدیق کرتا ہے: ’’وہ اپنی آمد سے قبل پارٹی کی قیادت کرنے والے گروہوں اور انفرادی کامریڈوں کی حکمت عملی پر فیصلہ کن انداز میں چڑھ دوڑا۔ سب سے زیادہ ذمہ دار کارکنان یہاں موجود تھے۔ لیکن اُن کے لئے بھی الیچ کے الفاظ کھرے انکشاف جیسے تھے۔ اُنہوں نے گزرے ہوئے کل اور آج کے لائحہ عمل کے درمیان گہری لکیر کھینچ دی۔ ‘‘ یہ لکیر،جیسا کہ ہم دیکھیں گے، یک دم نہیں کھینچی گئی۔
لینن کی تقریر پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا تھا اور ہر کسی کو ہوش میں آنے کا وقت درکار تھا۔ سوخانوف بات ختم کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’میں یہ محسوس کرتے ہوئے باہر سڑک پر آگیا جیسے اس رات کسی نے میرے سر پر ہتھوڑے برسائے ہوں۔ بس ایک چیز واضح تھی: کسی پارٹی سے غیر وابستہ میرے جیسے آدمی کے لئے لینن کے پہلو میں کوئی جگہ نہیں تھی۔‘‘ واقعی نہیں تھی!
اگلے دن لینن نے پارٹی کے سامنے اپنے خیالات کی ترجمانی کرنے والی مختصر تحریر پیش کی، جو کہ ’4 اپریل کے تھیسس‘ (Theses of April 4) کے نام سے انقلاب کی سب سے اہم دستاویز بن چکی ہے۔یہ تھیسس سادہ خیالات کو ایسے سادہ الفاظ میں بیان کرتے تھے جنہیں سب سمجھ سکتے تھے: فروری انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی جمہوریہ (Republic) ہماری جمہوریہ نہیں ہے اور یہ غضب ناک جنگ بھی ہماری جنگ نہیں ہے۔ بالشویکوں کا فریضہ سامراجی حکومت کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ لیکن یہ حکومت سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کی حمایت کے سہارے قائم ہے، جنہیں آگے سے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ ہم اقلیت میں ہیں۔ ان حالات میں ہم اپنی طرف سے تشدد کی بات نہیں کر سکتے۔ ہمیں عوام کو سمجھانا ہو گا کہ وہ مصالحت پسندوں اور ڈیفنسسٹوں پر اعتماد نہ کریں۔’’ہمیں صبر سے وضاحت کرنا ہو گی۔‘‘ اس حکمت عملی کی کامیابی یقینی ہے جس کا تقاضا ساری موجودہ صورتحال کر رہی ہے، یہ ہمیں پرولتاریہ کی آمریت تک اور یوں بورژوا حکومت کی حدود سے آگے لے جائے گی۔ ہم سرمائے سے بالکل الگ ہو جائیں گے، اس کے خفیہ معاہدوں کو شائع کریں گے اور ساری دنیا کے مزدوروں کو آواز دیں گے کہ بورژوازی سے آزادی حاصل کریں اور جنگ کا خاتمہ کریں۔ ہم بین الاقوامی انقلاب کی شروعات کر رہے ہیں۔ صرف اس کی کامیابی ہی ہماری کامیابی کو یقینی بنائے گی اور سوشلسٹ نظام حکومت تک تبدیلی کی ضامن بنے گی۔
لینن کے یہ تھیسس اُس کے اپنے نام سے اور صرف اُسی کے نام سے شائع ہوئے۔ پارٹی کے مرکزی اداروں نے اِن کی مخالفت کی، جو صرف گھبراہٹ کی وجہ سے نرم تھی۔ کسی نے بھی، کسی ایک تنظیم، گروہ یا فرد نے بھی ان پر دستخط نہیں کئے۔ حتیٰ کہ لینن کے ساتھ بیرون ملک سے آنے والا زینوویف بھی، جس کے نظریات دس سال تک لینن کے فوری اور روزانہ اثر کے تحت تشکیل پاتے رہے تھے، خاموشی سے ایک طرف ہو گیا۔ یہ فرار اس کے استاد کے لئے بھی حیران کن نہیں تھا، جو اپنے شاگرد کو اچھی طرح جانتا تھا۔
کامینیف اگر پراپیگنڈاکا ماہر تھا تو زینوویف ایک ایجی ٹیٹر تھا اور لینن کے الفاظ میں درحقیقت ’’ایک ایجی ٹیٹر کے سوا کچھ نہیں تھا۔‘‘اُس میں ویسے ہی ایک رہنما بننے کے لئے درکار احساس ذمہ داری نہیں تھا۔ لیکن صرف یہی نہیں۔ نظم و ضبط کی کمی سے دو چار اُس کا دماغ نظریاتی کام کرنے سے بالکل عاری تھا اور اُس کی سوچ ایک ایجی ٹیٹر کے بے شکل الہاموں میں زائل ہو جاتی تھی۔ غیرمعمولی حد تک تیز سونگھنے کی حس کی وجہ سے وہ ہوا میں سے اپنے لئے ضروری نسخے پکڑ لیتا تھا، ایسے نسخے جو عوام پر سب سے زیادہ کارگر اثر و رسوخ ڈالتے تھے۔ صحافی اور مقرر، دونوں لحاظ سے وہ ایک ایجی ٹیٹر رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اُس کے مضامین میں اُس کا کمزور پہلو نظر آتا تھا، جبکہ تقاریر میں اُس کا مضبوط پہلو ظاہر ہوتا تھا۔ اگرچہ ایجی ٹیشن میں زینوویف کسی دوسرے بالشویک سے زیادہ جرات مند اور بے لگام تھا لیکن انقلابی پیش قدمی میں کامینیف سے بھی کم اہل تھا۔ تمام متذبذب لوگوں کی طرح وہ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ دھڑا بندی کی بحثوں کے میدان سے براہ راست عوامی لڑائی میں آکر زینوویف تقریباً غیر ارادی طور پر اپنے رہنما سے الگ ہو گیا۔
*****
یہ ثابت کرنے کی بہت کوششیں ہوئی ہیں کہ پارٹی میں اپریل کا بحران ایک وقتی اور حادثاتی بوکھلاہٹ تھی۔ حقائق کے سامنے یہ سب پارہ پارہ ہو جاتی ہیں۔
ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ مارچ میں پارٹی کی سرگرمی، لینن اور پیٹرزبرگ کی قیادت کے درمیان ہر ممکنہ حد تک گہرے تضاد کی غمازی کرتی ہے۔ عین لینن کی آمد کے وقت یہ تضاد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ 82 سوویتوں کے نمائندگان کے ’کل روس اجلاس‘ میں کامینیف اور سٹالن نے حاکمیت کے سوال پر سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔اسی وقت پیٹروگراڈ میں سارے روس سے آنے والے بالشویکوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ جنگ کے نتیجے میں پارٹی اور اس کی بالائی پرتوں میں پیدا ہونے والے مزاج اور آرا کا تعین کرنے کے خواہش مند کسی بھی شخص کے لئے یہ اجلاس بڑی دلچسپی کا حامل ہے جس کے بالکل اختتام پر لینن پہنچا تھا۔اِس کی رپورٹیں، جو آج تک شائع نہیں کی گئیں، پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے: کیا یہ ممکن ہے کہ یہ مندوبین جس پارٹی کی نمائندگی کر رہے تھے وہ سات مہینوں بعد آہنی ہاتھ سے اقتدار پر قبضہ کر لے گی؟ شورش کے بعد ایک مہینہ پہلے ہی گزر چکا تھا، جو ایک انقلاب اور ایک جنگ میں بھی بہت ہی طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی انقلاب کے انتہائی بنیادی سوالوں پر پارٹی میں آرا ابھی تک واضح نہیں ہوئی تھیں۔ ووئٹنسکی اور ایلیاوا جیسے انتہائی حب الوطنوں نے خود کو انٹرنیشنلسٹ قرار دینے والوں کے ساتھ ہی اجلاس میں شرکت کی۔ کھرے حب الوطنوں کی شرح اگرچہ منشویکوں کی نسبت کم تھی، تاہم پھر بھی کافی زیادہ تھی۔ مجموعی طور پر اجلاس میں یہ ہی طے نہیں ہوا کہ اپنے حب الوطنوں سے الگ ہوا جائے یا منشویزم کے حب الوطنوں کے ساتھ یکجا ہوا جائے۔ بالشویک اجلاس کے ایک درمیانی وقفے میں سوویت اجلاس کے مندوبین بالشویکوں اور منشویکوں کا مشترکہ اجلاس بھی جنگ کے سوال پر ہوا۔ سب سے غضب ناک منشویک حب الوطن لائبر نے اس اجلاس میں اعلان کیا: ’’ہمیں بالشویک اور منشویک کی پرانی تقسیم اب ختم کر دینی چاہئے اور جنگ کی طرف اپنے رویے پر ہی بات کرنی چاہئے۔‘‘ بالشویک ووئٹنسکی نے فوراً لائبر کے ہر لفظ کے ساتھ آمادگی کا اظہار کیا۔ بالشویک اور منشویک، حب الوطن اور انٹرنیشنلسٹ، سب کے سب اکٹھے ہو کر جنگ کی طرف اپنے رویے کا مشترکہ ضابطہ تلاش کر رہے تھے۔
اس بالشویک اجلاس کے نظریات نے بلاشبہ اپنا سب سے واضح اظہار عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات پر سٹالن کی رپورٹ میں کیا۔ اس تقریر کے مرکزی خیال کا تعارف یہاں ضروری ہے، جو باقی ساری رپورٹوں کی طرح ابھی تک شائع نہیں کی گئی ہے۔ ’’اقتدار دو اداروں میں بٹ چکا ہے جن میں سے کسی کے پاس بھی پورا اقتدار نہیں ہے۔ ان کے درمیان بحث اور جدوجہد جاری ہے، ایسا ہونا بھی چاہئے۔فرائض تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ سوویت نے درحقیقت انقلابی تبدیلی میں پیش قدمی کی ہے؛ سوویت سرکش عوام کی انقلابی رہنما ہے؛ عبوری حکومت کو قابو کرنے کا ایک ادارہ ہے؛ اور عبوری حکومت نے درحقیقت انقلابی عوام کی فتوحات کو مستحکم کرنے کا کردار حاصل کر لیا ہے۔ سوویت قوتوں کو متحرک اور قابو کرتی ہے۔ تذبذب اور ہچکچاہٹ کا شکار عبوری حکومت عوام کی ان فتوحات کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرتی ہے جو عوام درحقیقت پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ اس صورتحال کے نقصان دہ اور فائدہ مند پہلو ہیں۔ یہ ہمارے فائدے میں نہیں ہے کہ اس وقت واقعات کو دھکا لگا کر بورژوا پرتوں کو دور کرنے کا عمل تیز کریں، جو مستقبل میں ناگزیر طور پر ہم سے الگ ہو جائیں گی۔‘‘
طبقاتی تفریقوں سے ماورا ہو کر یہ مقرر بورژوازی اور پرولتاریہ کے تعلق کو محض محنت کی تقسیم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مزدوروں اور سپاہیوں نے انقلاب برپا کیا ہے، گچکوف اور ملیوکوف اسے ’’مستحکم‘‘کریں گے۔ یہاں ہم منشویکوں کے روایتی تصور کو پہچان سکتے ہیں جو 1789ء کے [انقلابِ فرانس کے] واقعات کے مطابق غلط طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ تاریخی عمل کے بارے میں ایک نگران کار (Superintendent) والا یہ نقطہ نظر منشویزم کے رہنماؤں کا خاصہ تھا، یعنی مختلف طبقات کو ہدایات جاری کرنا اور پھر ایک سرپرست کی طرح اُن کی تکمیل پر تنقید کرنا۔ یہ خیال کہ انقلاب سے بورژوازی کی علیحدگی کا عمل تیز کرنا نقصان دہ ہے، ہمیشہ منشویکوں کی ساری حکمت عملی کا رہنما اصول رہا ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب عوام کی تحریک کو اس لئے کند اور کمزور کرنا ہے کہ لبرل اتحادی کہیں ڈر کے مارے بھاگ نہ جائیں۔ اور آخر میں عبوری حکومت کے بارے میں سٹالن کا اخذ کردہ نتیجہ مصالحت پسندوں کے ذومعنی کلیے کے عین مطابق ہے: ’’جس حد تک عبوری حکومت انقلاب کے اقدامات کو مستحکم کرتی ہے، اس حد تک ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہئے، لیکن جہاں پر یہ ردِ انقلابی ہے، وہاں عبوری حکومت کی حمایت جائز نہیں ہے۔‘‘
سٹالن نے اپنی رپورٹ 29 مارچ کو دی تھی۔ اگلے دن سوویت اجلاس کے باضابطہ ترجمان، کسی پارٹی سے غیر وابستہ سوشل ڈیموکریٹ سٹیکلوف نے عبوری حکومت کی اسی مشروط حمایت کا دفاع کرتے ہوئے جوش خطابت میں انقلاب کو ’’مستحکم کرنے والوں‘‘ کی جانب سے سماجی اصلاحات کی مخالفت، بادشاہت کی طرف جھکاؤ، ردِ انقلابی قوتوں کے تحفظ اور جنگی قبضوں کی بھوک پر مبنی سرگرمیوں کی ایسی تصویر کشی کی کہ بالشویک اجلاس حمایت کے کلیے پر تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ دائیں بازو کے بالشویک نوگن نے اعلان کیا: ’’سٹیکلوف کی تقریر نے ایک نئی سوچ متعارف کروا دی ہے: یہ واضح ہے کہ ہمیں حمایت کی بجائے مزاحمت کی بات کرنی چاہئے۔‘‘سکرائپنک بھی اِسی نتیجے پر پہنچا کہ سٹیکلوف کی تقریر کے بعد ’’بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں، حکومت کی حمایت کے بارے میں مزید بات نہیں ہو سکتی۔ عوام اور انقلاب کے خلاف عبوری حکومت سازش کر رہی ہے۔‘‘ سٹالن، جو ایک دن پہلے تک حکومت اور سوویت کے درمیان ’’محنت کی تقسیم‘‘ کی مثالی منظر کشی کر رہا تھا، کو بھی حکومت کی حمایت کا خیال ترک کرنا پڑا۔اس مختصر اور سطحی بحث نے عبوری حکومت کی ’’مشروط‘‘ حمایت یا عبوری حکومت کی صرف انقلابی سرگرمیوں کی حمایت کا سوال ہی پلٹ دیا۔ ساراٹوف کے مندوب ویسیلیف نے درست طور پر واضح کیا: ’’ہم سب کا عبوری حکومت کی طرف رویہ ایک ہی ہے۔‘‘کریٹنسکی نے اس سے بھی زیادہ واضح انداز میں صورتحال بیان کی: ’’جہاں تک عملی کام کا تعلق ہے تو سٹالن اور ووئٹنسکی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘اس کے باوجود کہ اجلاس کے فوراً بعد ووئٹنسکی منشویکوں سے مل گیا، کریٹنسکی زیادہ غلط نہیں تھا۔ اگرچہ سٹالن نے عبوری حکومت کی حمایت کی بات کھلے عام کرنا بند کر دی، لیکن حمایت ختم نہیں کی۔کراسیکوف واحد آدمی تھا جس نے سوال کو اصولی طور پر وضع کرنے کی کوشش کی۔ وہ اُن پرانے بالشویکوں میں سے تھا جو کئی سالوں کے لئے پارٹی سے الگ ہو گئے تھے، لیکن اب زندگی کے تلخ تجربے سے گزر کر پارٹی کی صفوں میں واپس آنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کراسیکوف بیل کو اُس کے سینگوں سے پکڑنے سے نہیں ہچکچایا۔ ’’پھر آپ کیا پرولتاریہ کی آمریت کا آغاز کرنے والے ہیں؟‘‘ اُس نے طنزیہ انداز میں پو چھا۔ لیکن اجلاس نے اس طنز اور ساتھ ہی اس سوال کو بھی نظر انداز کر دیا، گویا یہ توجہ کے لائق نہیں تھا۔ اجلاس کی قرارداد نے انقلابی جمہوریت سے استدعا کی کہ عبوری حکومت پر ’’پرانی حکومت کے مکمل خاتمے کی انتہائی طاقتور جدوجہد‘‘ کے لئے دباؤ ڈالا جائے، دوسرے الفاظ میں پرولتاری پارٹی کو بورژوازی کی استانی کا کردار دے دیا گیا۔
اگلے دن اُنہوں کے بالشویکوں اور منشویکوں کے اتحاد کے بارے میں سریتیلی کی تجویز پر غور کیا۔ سٹالن اِس تجویز کے مکمل حق میں تھا: ’’ہمیں لازماً یہ کرنا چاہئے۔اتحاد کی بنیادوں کے بارے میں ہماری تجویز کو واضح کرنے کی ضرورت ہے: زمروالڈ-کینتھل [۵] کی بنیادوں پر اتحاد ممکن ہے۔‘‘ مولوٹوف، جسے سٹالن اور کامینیف نے ’پراودا‘ کی ادارت سے پرچے کے بہت زیادہ جارحانہ موقف کی وجہ سے ہٹا دیا تھا، مخالفت میں بولا: سریتیلی مختلف قسم کے عناصر کو متحد کرنا چاہتا ہے، وہ خود ہی خود کو زمروالڈ والا کہتا ہے، ان بنیادوں پر اتحاد غلط ہے۔لیکن سٹالن اپنی بندوقوں کے ساتھ چمٹا رہا: ’’آگے بھاگنے اور اختلافات کو پیشگی روکنے کی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اختلافات کے بغیر پارٹی بے جان ہوتی ہے۔چھوٹے موٹے اختلافات ہم پارٹی کے اندر سلجھا لیں گے۔‘‘ یوں جنگ کے سالوں میں سوشل حب الوطنی اور اس کے امن پسند لبادے کے خلاف لینن کی ساری جدوجہد کو بڑے آرام سے ایک طرف پھینک دیا گیا۔ ستمبر 1916ء میں لینن نے شلیاپنیکوف کے ذریعے پیٹروگراڈ کو خصوصی تاکید کرتے ہوئے لکھا تھا: مفاہمت پسندی اور [مصالحت پسندوں میں] انضمام روس میں محنت کشوں کی پارٹی کے لئے بدترین چیز ہے، یہ نہ صرف حماقت ہے بلکہ پارٹی کے لئے تباہی ہے… ہم صرف اُن پر انحصار کر سکتے ہیں جو اتحاد کے خیال میں موجود سارے فریب اور روس میں اس برادری (شکائدز کا گروہ) سے علیحدگی کی ساری ضرورت کو سمجھ چکے ہیں۔‘‘ اس انتباہ کو سمجھا نہیں گیا۔ سوویت کے حکمران دھڑے کے رہنما سریتیلی سے اختلافات سٹالن کی نظر میں ’چھوٹے موٹے اختلافات‘ تھے جنہیں ایک مشترکہ پارٹی میں ’’سلجھایا‘‘ جا سکتا تھا۔ یہ سٹالن کے اُس وقت کے نظریات کو پرکھنے کی بہترین کسوٹی ہے۔
4 اپریل کو لینن پارٹی اجلاس میں نمودار ہوا۔ اس کے ’’تھیسس‘‘ کو آگے بڑھانے والی اس کی تقریر نے کانفرنس کے سارے کام کو ایسے نظر انداز کر دیا جیسے ایک استاد کا گیلا اسفنج بلیک بورڈ پر ایک متذبذب شاگرد کا لکھا سب کچھ مٹا دیتا ہے۔
’’تم نے اقتدار پر قبضہ کیوں نہ کیا؟‘‘ لینن نے پوچھا۔زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب سوویت اجلاس میں سٹیکلوف نے متذبذب انداز میں اقتدار سے اجتناب کی وجوہات بیان کی تھیں: انقلاب بورژوا ہے، یہ اس کا پہلا مرحلہ ہے،جنگ ہو رہی ہے، وغیرہ۔ لینن نے کہا، ’’یہ سب بکواس ہے… وجہ یہ ہے کہ پرولتاریہ مناسب طور پر باشعور اور منظم نہیں تھا۔ یہ ہمیں ماننا پڑے گا۔ مادی قوت پرولتاریہ کے پاس تھی لیکن بورژوازی باشعور اور تیار تھی۔ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ اسے بے تکلفی سے تسلیم کیا جائے اور عوام سے صاف صاف کہا جائے کہ ہم نے اس لئے اقتدار پر قبضہ نہیں کیا کیونکہ ہم غیرمنظم تھے اور باشعور نہیں تھے۔‘‘
لینن نے سارے سوال کو جعلی معروضیت (Objectivism) ، جس کے پیچھے سیاسی شکست قبول کرنے والے چھپ رہے تھے، سے موضوعی سطح پر منتقل کر دیا۔ پرولتاریہ نے اس لئے فروری میں اقتدار پر قبضہ نہیں کیا کیونکہ بالشویک پارٹی اپنے معروضی فریضے سے ہم آہنگ نہیں تھی اور بورژوازی کے مفاد میں وسیع تر عوام کو بے دخل کرنے سے مصالحت پسندوں کو روک نہیں سکی۔
اس سے ایک دن پہلے وکیل کراسیکوف نے للکارتے ہوئے کہا تھا: ’’اگر ہم سمجھتے ہیں کہ پرولتاریہ کی آمریت کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ چکا ہے تو ہمیں سوال کو اسی طرح سے اٹھانا چاہئے۔ ہمارے پاس اقتدار پر قبضے کی مادی طاقت بلاشبہ موجود ہے۔‘‘ چیئرمین نے اس بنیاد پر کراسیکوف کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی کہ عملی مسائل پر بحث ہو رہی تھی اور آمریت کا سوال غیرمتعلقہ تھا۔ لیکن لینن کے خیال میں واحد عملی سوال کے طور پر پرولتاریہ کی آمریت کی تیاری کا سوال بالکل متعلقہ تھا۔ اُس نے اپنے تھیسس میں کہا تھا، ’’روس میں موجودہ صورتحال کی خصوصیت انقلاب کے پہلے مرحلے، جس نے پرولتاریہ کے ناکافی شعور اور تنظیم کی وجہ سے بورژوازی کو اقتدار دے دیا ہے، سے اس کے دوسرے مرحلے میں تبدیلی پر مشتمل ہے جسے اقتدار پرولتاریہ اور کسانوں کی غریب پرتوں کے حوالے کرناہے۔‘‘’پراودا‘ کے نکتہ نظر کی پیروی کرتے ہوئے اس اجلاس نے انقلاب کے فریضے کو جمہوری تبدیلی تک محدود کر دیا تھا جسے آئین ساز اسمبلی کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جانا تھا۔ اس کے برخلاف لینن نے واضح کیا ، ’’ آئین ساز اسمبلی کو زندگی اور انقلاب پس منظر میں دھکیل دیں گے۔ پرولتاریہ کی آمریت موجود ہے، لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کا کرنا کیا ہے۔‘‘
مندوبین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے سرگوشی کی کہ الیچ بہت زیادہ عرصہ بیرون ملک رہا ہے، اسے ابھی تک مقامی حالات جاننے کا مناسب وقت نہیں ملا۔ لیکن حکومت اور سوویت کے درمیان محنت کی اختراعی تقسیم پر سٹالن کی تقریر ہمیشہ کے لئے غائب ہو گئی۔ خود سٹالن بھی خاموش رہا۔ اب کے بعد سے اُسے لمبے عرصے تک خاموش رہنا تھا۔ اکیلے کامینیف کو ہی دفاعی مورچے سنبھالنا تھے۔
جنیوا سے بھیجے گئے خطوط میں لینن نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ وہ ہر ایسے شخص سے الگ ہونے کو تیار ہے جس نے جنگ کے سوال، وطن پرستی اور بورژوازی سے مصالحت پر رعایت برتی ہے۔ اب پارٹی کے رہنما حلقوں کے آمنے سامنے آ کر اُس نے ان سب پر ہلہ بول دیا۔ لیکن شروع میں اس نے کسی بھی بالشویک کا نام نہیں لیا۔ اگر اُسے لفظی ہیرا پھیری یا ادھورے پن کی کسی زندہ مثال کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ کسی پارٹی سے غیر وابستہ کسی آدمی یا سٹیکلوف اور شکائدز کی طرف انگلی اٹھاتا تھا۔ یہ لینن کا روایتی طریقہ تھا: کسی کو بہت جلد زیر نہ کرنا،سیانے آدمی کو اچھے وقت میں ہی لڑائی سے بھاگ جانے کا موقع دینا اور اس طرح اپنے کھلے دشمنوں کی مستقبل کی صفوں کو فوراً کمزور کر دینا۔ کامینیف اور سٹالن سمجھے تھے کہ فروری کے بعد بھی جنگ میں شامل رہ کر سپاہی اور مزدور انقلاب کا دفاع کر رہے تھے۔ پہلے کی طرح اب بھی لینن کا خیال تھا کہ سپاہی اور مزدور جنگ میں سرمائے کے بھرتی شدہ غلاموں کے طور پر حصہ لے رہے تھے۔ اُس نے اپنے مخالفوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے کہا، ’’حتیٰ کہ ہمارے بالشویک بھی حکومت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ صرف انقلاب کا جوش ہی اس کی وضاحت کر سکتا ہے۔یہ سوشلزم کی موت ہے… اگر یہ تمہارا موقف ہے تو ہمارے راستے جدا ہیں۔ میں اقلیت میں رہنے کو ترجیح دوں گا۔‘‘لیکن یہ صرف زبانی کلامی دھمکی نہیں تھی؛ یہ مکمل طور پر سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
اگرچہ لینن نے سٹالن یا کامینیف کا نام نہیں لیا لیکن پرچے کا نام لینے کی ضرورت محسوس کی: ’’’پراودا‘ حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ جنگی قبضے ترک کر دے۔ سرمایہ داروں کی حکومت سے قبضے ترک کرنے کا مطالبہ بکواس اور کھلا مذاق ہے۔‘‘ دبا ہوا غصہ یہاں اونچی آواز کے ساتھ پھٹ پڑا۔ لیکن مقرر نے جلد ہی خود کو قابو کیا: وہ ضرورت سے کم بولنا نہیں چاہتا تھا، لیکن اس سے زیادہ بھی نہیں۔اس کے ساتھ ہی لینن نے انقلابی سیاست کاری کے بے مثال اصول بھی بیان کئے: ’’جب عوام کہتے ہیں کہ انہیں فتوحات نہیں چاہئیں تو میں ان کا اعتبار کرتا ہوں۔ جب گچکوف اور لووف کہتے ہیں کہ انہیں فتوحات نہیں چاہئیں تو وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ جب ایک مزدور کہتا ہے کہ وہ ملک کا دفاع چاہتا ہے تو اُس کے اندر محکوموں کی جبلت بولتی ہے۔‘‘ہر چیز کو اس کی اصلیت سے بیان کرنا بظاہر تو بہت ساد ہ سا اصول معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی چیز کو درست وقت پر درست انداز میں بیان کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔
’’ساری دنیا کے لوگوں سے‘‘ سوویت کی استدعا کے رد عمل میں لبرل پرچے ’ریخ‘ نے کہا تھا کہ ہمارے درمیان امن پسندی کی بحث اتحادی ممالک کے ساتھ مشترک نظرئیے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ لینن نے اس پر اپنا موقف زیادہ واضح اور جامع انداز میں پیش کیا: ’’روس کی خاص بات وحشی تشدد سے انتہائی نفیس عیاری میں بہت بڑی اور تیز تبدیلی ہے۔‘‘
سٹالن نے سوویت کے اعلانِ عام کے بارے میں لکھا تھا، ’’یہ استدعا اگر (مغرب کے) وسیع تر عوام تک پہنچتی ہے تو بلاشبہ ہزاروں لاکھوں مزدوروں کو یہ بھولا ہوا نعرہ یاد دلائے گی کہ ’دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!‘‘‘
لینن نے تردید کی، ’’سوویت کی استدعا میں طبقاتی شعور پر مبنی کوئی ایک لفظ بھی نہیں ہے۔اس میں سوائے لفاظی کے کچھ نہیں ہے۔‘‘ دیسی زمروالڈ والوں کی یہ فخریہ دستاویز لینن کی نظر میں ’’انتہائی نفیس عیاری‘‘ کا محض ایک ہتھیار تھی۔
لینن کی آمد تک ’پراودا‘ نے ایک بار بھی زمروالڈ کے بائیں بازو کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ وہ انٹرنیشنل کی بات کرتے ہوئے یہ نشاندہی نہیں کرتا تھا کہ کون سی انٹرنیشنل۔ لینن نے اسے ’’پراودا‘ کا ’کاؤتسکی ازم‘‘قرار دیا۔اُس نے پارٹی اجلاس میں واضح کیا، ’’زمروالڈ اور کینتھل میں اعتدال پسند (Centrists) غالب تھے… ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے بایاں بازو تخلیق کیا اور اعتدال پسندوں سے علیحدہ ہوئے… زمروالڈ کا یہ رجحان دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہے۔ عوام کو جان لینا چاہئے کہ سوشلزم پوری دنیا میں [مصالحت پسندوں اور انقلابیوں میں] تقسیم ہو چکا ہے۔‘‘
تین دن پہلے سٹالن نے اسی اجلاس میں زمروالڈ- کینتھل کی بنیادوں، یعنی کاؤتسکی ازم کی بنیادوں پر سریتیلی کے ساتھ اختلافات سلجھانے پر اپنی آمادگی کا اعلان کیا تھا۔ لینن نے کہا ،’’میں سن رہا ہوں کہ روس میں [بالشویکوں کے منشویکوں میں] انضمام کا رجحان پایا جا رہا ہے… ڈیفنسسٹوں میں انضمام سوشلزم سے غداری ہے۔ میرے خیال میں لائبنیخت کی طرح ایک سو دس کے مقابلے میں ایک کا تنہا کھڑے رہنا زیادہ بہتر ہو گا ۔‘‘ یہاں سوشلزم سے غداری کا الزام، جو ابھی تک نام لئے بغیر لگایا گیا تھا، صرف ایک سخت لفظ نہیں تھا؛ یہ اُن بالشویکوں کی طرف لینن کے رویے کی مکمل غمازی کرتا تھا جو سوشل حب الوطنوں کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھا رہے تھے۔ سٹالن سمجھ رہا تھا کہ منشویکوں سے اتحاد ممکن تھا، اُس کے برخلاف لینن کا خیال تھا کہ اُن کے ساتھ ’سوشل ڈیموکریٹ‘کہلایا جانا بھی اب ممنوع ہو چکا ہے۔ اُس نے کہا، ’’ذاتی طور پر اور صرف اپنی طرف سے ہی میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم پارٹی کا نام تبدیل کر لیں، کہ ہم اِس کا نام ’کمیونسٹ پارٹی‘ رکھ لیں۔‘‘ ’’ذاتی طور پر اور صرف اپنی طرف سے ہی‘‘ کا مطلب ہے کہ اجلاس کا کوئی ایک رکن بھی دوسری انٹرنیشنل سے حتمی علیحدگی کے اس اعلانیہ اقدام سے متفق نہیں تھا۔
حیران، پریشان اور نیم برہم مندوبین سے لینن نے کہا، ’’پرانی یادوں کو چھوڑنے سے آپ ڈرتے ہیں؟‘‘لیکن وقت آ گیا ہے کہ ’’ہم اپنے کپڑے تبدیل کریں؛ ہمیں گندی قمیض اتارنی ہے اور صاف پہننی ہے۔‘‘اور وہ پھر سے اصرار کرتا ہے: ’’اس پرانی بات سے چمٹے نہ رہو جو اندر تک گل سڑ چکی ہے۔ایک نئی پارٹی تعمیر کرنے کا حوصلہ پیدا کرو… اور سارے محکوم تمہاری طرف آ جائیں گے۔‘‘
واجب الادا فریضے کی سنگینی اور اُس کی اپنی صفوں میں ذہنی تذبذب، جلسوں میں بیوقوفی سے ضائع کئے گئے قیمتی وقت کی چبھتی ہوئی سوچ، مبارکبادوں اور رسمی قراردادوں کے سامنے مقرر چیخ اٹھا: ’’مبارکبادیں اور قراردادیں بہت ہو گئیں!اب کام کا وقت ہے۔ ہمیں سنجیدہ عملی کام شروع کرنا چاہئے۔‘‘
ایک گھنٹے بعد بالشویکوں اور منشویکوں کے پہلے سے طے شدہ مشترکہ اجلاس میں لینن کو اپنی تقریر مجبوراً دہرانی پڑی، جہاں اکثریتی سامعین کو یہ مذاق اور پاگل پن کی کوئی درمیانی چیز لگ رہی تھی۔ زیادہ خوش اخلاق لوگوں نے اپنے کندھے اچکائے: لگتا ہے یہ آدمی چاند سے نیچے اترا ہے؛ دس سال کی غیرموجودگی کے بعد ابھی فن لینڈ سٹیشن سے یہاں پہنچا نہیں ہے اور اقتدار پر پرولتاریہ کے قبضے کی تبلیغ شروع کر دی ہے۔ حب الوطنوں میں سے جو کم خوش اخلاق تھے وہ بند ٹرین کا حوالہ دینے لگے۔سٹینکیوچ تصدیق کرتا ہے کہ لینن کی تقریر سے اُس کے دشمن بڑے خوش ہوئے: ’’اِس طرح کی حماقت بکنے والا آدمی خطرناک نہیں ہو سکتا۔اچھی بات ہے کہ وہ آ گیا ہے۔ اب وہ نظر کے بالکل سامنے ہے… اب وہ جھوٹا پڑے گا۔‘‘
تاہم انقلاب کے ساتھ نہ چل سکنے کی صورت میں پرانے ساتھیوں اور کامریڈوں سے بھی علیحدگی کے غیرلچکدار عزم اور انقلابی امنگ کی تمام تر جرات پر مبنی لینن کی تقریر، جو بالکل متوازن تھی، گہری حقیقت پسندی اور عوام کے یقینی احساس سے بھرپور تھی۔ بالکل اسی وجہ سے یہ جمہوریت پسندوں کو سطحی اور عجیب و غریب لگ رہی تھی۔
سوویت میں بالشویک ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں اور لینن اقتدار پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے… کیا یہ خالص مہم جوئی نہیں ہے؟ لیکن مسئلے سے متعلق لینن کے بیان میں مہم جوئی کی معمولی سی جھلک بھی نہیں تھی۔ اُس نے ایک لمحے کے لئے بھی وسیع تر عوام میں ’’دیانتدارانہ‘‘ ڈیفنسسٹ ذہنی کیفیات کو نظر انداز نہیں کیا۔ نہ ہی اُس کا ارادہ عوام میں کھو جانے یا اُن کے پیچھے چلنے کا تھا۔وہ مستقبل کے اِن اعتراضات اور الزامات کا جواب دیتا ہے، ’’ہم عطائی نہیں ہیں، ہمیں صرف عوام کے شعور کو اپنی بنیاد بنانا ہوگا۔ اگر اقلیت میں رہنا بھی ضروری ہے تو ایسا ہی سہی۔وقتی طور پر قیادت کا منصب چھوڑ دینا ایک اچھی چیز ہے؛ ہمیں اقلیت میں رہنے سے بالکل بھی ڈرنا نہیں چاہئے۔‘‘ اقلیت میں رہنے سے نہ ڈرو، چاہے ایک بندے کی اقلیت ہو، لائبنیخت کی طرح ایک سو دس کے مقابلے میں ایک، یہی اُس کی تقریر کا مرکزی خیال تھا۔
’’مزدور نمائندگان کی سوویت ہی حقیقی حکومت ہے… سوویت میں ہماری پارٹی اقلیت میں ہے… ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم صرف صبر، اصرار اور نظم و ضبط کے ساتھ اُن کے لائحہ عمل کی غلطی کو واضح کر سکتے ہیں۔ جب تک ہم اقلیت میں ہیں، تنقید کا کام جاری رکھیں گے، تاکہ عوام کو اِس فریب سے آزاد کرا سکیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ عوام ہمارے کہنے پر ہمارا یقین کر لیں؛ ہم عطائی نہیں ہیں؛ ہم چاہتے ہیں کہ عوام اپنی غلطیوں سے حاصل کئے گئے تجربے کے ذریعے آزادی حاصل کریں۔‘‘ اقلیت میں رہنے سے نہ ڈرو! ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ وقتی طور پر۔ بالشویزم کا وقت آئے گا۔ ’’ہماری حکمت عملی درست ثابت ہو گی… سارے محکوم ہماری طرف آئیں گے، کیونکہ جنگ اُنہیں ہماری طرف لے کر آئے گی۔ اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘
سوخانوف بتاتا ہے، ’’مشترکہ اجلاس میں لینن پھوٹ کی مجسم شکل تھا… مجھے یاد ہے کہ بوگڈانوف (ایک نمایاں منشویک) مقررکے چبوترے سے دو قدم کے فاصلے پر بیٹھا تھا۔ ’ یہ تو بڑھک بازی ہے‘، اُس نے لینن کو ٹوکتے ہوئے کہا، ’یہ ایک پاگل انسان کی بڑھک بازی ہے… تمہیں یہ بک بک کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے‘، وہ سامعین کی طرف دیکھتے ہوئے چلایا، اُس کا چہرہ غصے اور نفرت سے سفید ہو گیا تھا۔ ’ تم مارکسسٹ اپنی تضحیک خود کرتے ہو !‘‘‘
بالشویک مرکزی کمیٹی کے ایک سابقہ رکن گولڈن برگ، جو اس وقت کسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا، نے لینن کے تھیسس کو اِن نفرت انگیز الفاظ میں بیان کیا: ’’کئی سالوں تک انقلابِ روس میں باکونن [۶] کی جگہ خالی تھی، آج وہ لینن نے بھر دی ہے۔‘‘
سوشل انقلابی زینزینوف کہتا ہے، ’’اُس وقت اُس کے پروگرام کو غصے سے زیادہ تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ہر کسی کویہ انتہائی بے تکا اور غیرحقیقت پسندانہ لگ رہا تھا۔‘‘
اُسی دن کی شام رابطہ کمیشن میں ملیوکوف کے ساتھ دو سوشلسٹ گفتگو کر رہے تھے اور لینن کی بات ہونے لگی۔ سکوبیلیف نے اُس کے بارے میں رائے دی کہ ’’تھکا ہوا انسان ہے، تحریک سے الگ کھڑا ہوا ہے۔‘‘ سوخانوف کا بھی یہی خیال تھا، اُس نے مزید کہا کہ ’’لینن ہر کسی کے لئے اتنا ناقابل قبول ہے کہ یہاں موجود میرے ساتھی ملیوکوف کے لئے اب وہ خطرناک نہیں رہا ہے۔‘‘
تاہم اس گفتگو میں کرداروں کی تقسیم لینن کے کلیے کے بالکل مطابق تھی: سوشلسٹ اُس مشکل سے ایک لبرل کے ذہنی سکون کی حفاظت کر رہے تھے جو بالشویک پیدا کر سکتے تھے۔
برطانوی سفیر کے کانوں تک بھی افواہیں پہنچیں کہ لینن کو ایک برا مارکسسٹ قرار دے دیا گیا ہے۔ بچانن لکھتا ہے، ’’نئے آنے والے انارکسٹوں میں لینن بھی شامل تھا، جو جرمنی سے ایک بند ٹرین کے ذریعے پہنچا تھا۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار عوام کے سامنے آیا اور اُس کا استقبال برے انداز سے کیا گیا۔‘‘
اُن دنوں لینن کے طرف سب سے زیادہ انکسار کا مظاہرہ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ کیرنسکی تھا، جس نے عبوری حکومت کے اراکین کے ایک حلقے میں غیرمتوقع طور پر کہا کہ اُسے لازماً لینن سے ملنے جانا چاہئے اور اُن کے حیرت زدہ سوالوں کے جواب میں وضاحت کی: ’’دیکھیں، وہ بالکل تنہائی کے ماحول میں رہ رہا ہے،اُسے کچھ نہیں پتا، ہر چیز کو اپنے جنون کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اُس کے آس پاس ایسا کوئی نہیں ہے جو موجودہ حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں اُس کی مدد کر سکے۔‘‘لیکن افسوس کہ حالات سے لینن کی ہم آہنگی کروانے کا وقت کیرنسکی کو نہیں مل سکا!
لینن کے اپریل تھیسس نے صرف مخالفین اور دشمنوں کی حیرت زدہ برہمی کو ہی جنم نہیں دیا۔ اُنہوں نے کئی پرانے بالشویکوں کو بھی منشویک کیمپ یا پھر ایک درمیانی گروہ، جسے گورکی کے پرچے کی پناہ ملی ہوئی تھی، کی طرف دھکیل دیا۔ اِس اخراج کی کوئی سنجیدہ سیاسی اہمیت نہیں تھی۔ اِس سے کہیں زیادہ اہم وہ اثر تھا جو لینن کے موقف نے پارٹی کے سارے رہنما گروہ پر ڈالا۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’اُس کی آمد کے بعد والے دنوں میں پارٹی کے تمام باشعور ساتھیوں سے اس کی تنہائی پر بالکل بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔‘‘سوشل انقلابی زینزینوف تصدیق کرتا ہے، ’’حتیٰ کہ اُس کی پارٹی کے ساتھی، بالشویک، شرم کے مارے اُس سے پیچھے ہٹ گئے۔‘‘ رہنما بالشویکوں سے اِن تبصروں کے لکھاری ہر روز مجلس عاملہ میں ملتے تھے اور اُن باتوں کے براہ راست گواہ تھے جو وہ کیا کرتے تھے۔
بالشویکوں کی صفوں میں سے بھی اس طرح کی گواہیوں کی کمی نہیں ہے۔ ٹسیخون (Tsikhon) بات کو ہر ممکنہ حد تک نرم کرتے ہوئے، جیسا کہ فروری انقلاب سے ٹھوکر لگنے کی صورت میں پرانے بالشویکوں کی اکثریت کرتی ہے، لکھتا ہے، ’’ہماری پارٹی میں مخصوص پس و پیش محسوس کیا گیا۔ کئی کامریڈ بحث کر رہے تھے کہ لینن نے کسبی اشتراکی [۷] انحراف کا مظاہرہ کیا تھا، کہ وہ روس سے بے خبر تھا، کہ وہ موجودہ حالات پر غور نہیں کر رہا تھا، ‘‘ وغیرہ۔ صوبوں کے ممتاز بالشویک رہنماؤں میں شامل لیبیڈیف لکھتا ہے: ’’ لینن کی روس آمد پر اُس کی ایجی ٹیشن، جو پہلے پہل ہم بالشویکوں کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آئی بلکہ ہم نے اسے یوٹوپیائی سمجھا اور روسی زندگی سے اُس کی طویل علیحدگی کو وجہ قرار دیا، رفتہ رفتہ ہماری سمجھ میں آنے لگی اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔‘‘
زالیزھکی، پیٹروگراڈ کمیٹی کا ایک رکن اور لینن کے استقبال کے منتظمین میں سے ایک، زیادہ بے تکلفی سے اِس کا اظہار کرتا ہے، ’’لینن کے تھیسس نے پھٹتے ہوئے بم والا اثر ڈالا۔‘‘ زالیزھکی بڑے گرمجوش اور متاثر کن استقبال کے بعد لینن کی مکمل تنہائی کی پوری طرح تصدیق کرتا ہے۔’’اس دن (4 اپریل) کامریڈ لینن کو ہماری اپنی صفوں سے بھی کوئی کھلا ہمدرد نہ مل سکا۔‘‘
تاہم اِس سے بھی زیادہ اہم ’پراودا‘ کی گواہی ہے۔ 8 اپریل کو تھیسس کی اشاعت کے بعد، جب وضاحتیں کرنے اور اتفاق رائے تک پہنچے کا وقت گزر چکا تھا، ’پراودا‘ کے مدیروں نے لکھا: ’’جہاں تک کامریڈ لینن کے عمومی منصوبے کا تعلق ہے تو یہ ہمیں اس لئے ناقابل قبول معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفروضے سے شروع ہوتا ہے کہ بورژوا جمہوری انقلاب ختم ہو چکا ہے۔ یہ انقلاب کی سوشلسٹ انقلاب میں فوری تبدیلی پر انحصار کرتا ہے۔‘‘ یوں پارٹی کے مرکزی جریدے نے پارٹی کے بالعموم تسلیم شدہ رہنما سے علیحدگی کا اعلان محنت کش طبقے اور اُس کے دشمنوں کے سامنے اُسی انقلاب کے مرکزی سوال پر کر دیا جس کی تیاری بالشویک صفیں سالہا سال سے کر رہی تھیں۔ سوچ اور عمل کی دو ناقابل مصالحت لکیروں کے ٹکراؤ سے پارٹی میں پیدا ہونے والے اپریل کے بحران کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ اس بحران پر غالب آئے بغیر انقلاب آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
*****
[۱] یہ سارے سوشل ڈیموکریسی کے اصلاح پسند اور بورژوازی کے کاسہ لیس رہنما تھے۔
[۲] جرمنی کے راستے روس آنے کا خیال بہت سے لوگوں کے لئے اس لئے متنازعہ یا ناقابل قبول تھا کہ جرمنی سے جنگ چل رہی تھی اور ایک دشمن ملک کے راستے آنے سے اس کا ’ایجنٹ‘ ہونے کا تاثر قائم ہو تا تھا۔ یہ الزام بعد میں لینن پر لگایا بھی گیا۔ مارٹوف وغیرہ جرمنی کی بجائے اتحادی ممالک کے راستے روس آنا چاہتے تھے۔تاہم آخر کار وہ بھی کچھ ہفتوں بعد جرمنی کے راستے سے ہی آ پائے۔
[۳]لینن کا اصل نام ’ولادیمیر الیچ اُولیانوف‘ (Vladimir Ilyich Ulyanov) تھا۔
[۴] منشویکوں کا ایک روزنامہ ۔
[۵]کینتھل کانفرنس ، زمروالڈ کانفرنس کا ہی تسلسل تھی اور زمروالڈ کانفرنس کے ایک سال بعد 1916ء میں سوئٹزرلینڈ کے ایک گاؤں میں منعقد ہوئی۔
[۶] باکونن روس کا مشہور انارکسٹ رہنما تھا۔وہ مارکس کا ہم عصر تھا اور اشتراکی انارکزم کا بانی شمار ہوتا ہے۔
[۷] ’’Syndicalism‘‘ یا کسبی اشتراکیت سے مراد ریاست کے خاتمے اور سوشلزم کا ایک انارکسٹ نظریہ۔