← Back to Newsroom OS خبریں

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟

By جدوجہد • 2025-09-21 • 47 min read

ایرک توساں

(ایرک توساں کی برکس ممالک کے حوالے سے سوال و جواب پر مبنی یہ سیریز گزشتہ ہفتے کے دوران قسط وار ’جدوجہد‘ نے شائع کی ہے۔ آج تمام اقساط کو مجتمع کر کے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے)

برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ)، جنہوں نے پانچ مزید ریاستوں (مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران) کو رکنیت دی ہے، 6 اور 7 جولائی 2025 کو ریو ڈی جنیرو میں جمع ہوئے۔ سعودی عرب موجود تو تھا لیکن باضابطہ طور پر رکن ملک کے طور پر شامل نہیں ہوا۔ شراکت دار سمجھی جانے والی 20 دیگر ریاستوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔

دوسری طرف امریکی صدر فوجی اور تجارتی دونوں محاذوں پر یکطرفہ اقدامات کو تیز کر ر ہے ہیں، برکس ممالک کثیرالجہتی اور اقوامِ متحدہ کے نظام کا دفاع کر رہے ہیں، جو اس وقت بحران کا شکار ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ، پیداوار پر مبنی اور وسائل لوٹنے والے پیداواری ماڈل کا بھی دفاع کر رہے ہیں جو انسانی محنت کا استحصال کرتا ہے اور فطرت کو تباہ کرتا ہے۔

برکس ممالک دنیا کی نصف آبادی، 40 فیصد فوسل توانائی کے وسائل، 30 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 50 فیصد ترقی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے برآمدات پر مبنی سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل کو بدل سکیں، مگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔

برکس پر تنقیدی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے۔ یہ موقف ہرگز ہمیں اس بات سے نہیں روکتا کہ ہم سب سے پہلے اور پوری سختی کے ساتھ امریکہ کی حکومت، نیز اس کے یورپی اور انڈوپیسفک اتحادیوں (جاپان، آسٹریلیا وغیرہ) کی سامراجی پالیسیوں کی مذمت کریں۔

یہ پالیسی سب سے زیادہ واضح طور پر اسرائیل کی حمایت کے ذریعے نظر آتی ہے، جو غزہ میں جاری نسل کشی اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کا ذمہ دار ہے۔ اسرائیل خطے میں امریکہ کا مسلح ونگ ہے۔ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت اور مغربی یورپ کی شراکت کے بغیر اسرائیل کی نیو فاشسٹ حکومت نسل کشی جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔

اپنی جانب سے برکس ممالک اجتماعی طور پر کوئی ایسا ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے جو قتل عام اور نسل کشی کے تسلسل کو موثر طور پر روک سکے۔

درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6 جولائی 2025 کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے:

کیا یہ سچ ہے کہ برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت نہیں کر رہے؟

ایرک توساں: جی ہاں۔ برکس اجلاس کے حتمی اعلامیے (6 جولائی 2025) میں برکس ممالک غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی نہیں کہتے۔ وہ اسرائیل کے طاقت کے استعمال پر تنقید تو کرتے ہیں (نکات 24 تا 27)، مگر کہیں بھی ’نسل کشی‘، ’نسلی تطہیر‘ یا’قتل عام‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔

مزید یہ کہ 6 جولائی 2025 کا جو بیان غزہ سے متعلق ہے، وہ تقریباً اسی طرح ہے جیسے اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں ہونے والے برکس اجلاس کے حتمی اعلامیے (نکتہ 30) میں تھا۔

گویا ہر روز بڑھتے ہوئے نسل کشی کے شواہد بھی ان کو یہ لفظ استعمال کرنے پر مجبور نہیں کر رہے۔

کیا یہ درست ہے کہ برکس ممالک اسرائیل پر پابندیاں تجویز نہیں کر رہے؟

ایرک توساں:جی یہ درست ہے۔ اپنے حتمی اعلامیے میں برکس ممالک نے اسرائیل پر پابندیوں کی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔ انہوں نے ان معاہدوں کو توڑنے کی بھی بات نہیں کی جو ان کو اسرائیل سے جوڑتے ہیں۔ حالانکہ جاری نسل کشی اور غزہ کے لوگوں کا خوراک کی تلاش میں قتل عام ایسی کارروائیوں کو لازمی اور ناگزیر بناتا ہے جو صرف زبانی احتجاج سے آگے ہوں۔

اکتوبر 2024 میں کازان اجلاس کے موقع پر برکس ممالک کا احتجاج بالکل ناکافی تھا اور 2025 میں تو اور بھی زیادہ ناکافی ہے۔ اصل اور طاقتور اقدامات صرف حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عوامی مظاہرے، عوامی مقامات اور جامعات پر قبضے، اور شہری تنظیموں کی قانونی جدوجہد بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن وہ ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں کے اقدامات کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔

کیا برکس ممالک اسرائیلی حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں؟

ایرک توساں:بطور گروپ برکس ممالک اسرائیلی حکومت کے خلاف کسی بھی طرح کے ٹھوس اقدامات، جیسے بائیکاٹ یا پابندی، نافذ نہیں کر رہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا ہے جو ایک مثبت اقدام ہے، مگر اس کی اپنی عملی پالیسیاں اس قانونی اقدام سے متصادم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر اس کے کوئلے کی برآمدات کے ذریعے۔

نسل کشی کے آغاز سے اب تک تقریباً 17 جہاز 16 لاکھ ٹن کوئلہ اسرائیل بھیج چکے ہیں تاکہ اسرائیلی بجلی کے نظام کو چلایا جا سکے۔ اس پر فلسطین یکجہتی مہم، کان کن علاقوں کی مقامی کمیونٹیز اور ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے مظاہرے ہوئے ہیں، جیسے 22 اگست 2024 اور 28 مئی 2025 (عالمی یومِ احتجاج) کو گلنکور کے خلاف اور 5 اپریل 2025 کو اس کے مقامی شراکت دار افریکن رینبو منرلز کے خلاف۔ یہ کمپنی جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے بہنوئی پیٹریس موتسیپے کی ملکیت ہے۔

کیا برکس ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں؟

ایرک توساں:ایران کے سوا باقی برکس ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے علاوہ روس، برازیل، متحدہ عرب امارات، مصر اور چین اسرائیل کو ایندھن (تیل، گیس، کوئلہ وغیرہ) فروخت کرتے ہیں۔ یہ اسرائیلی حکومت کو اہم سہارا فراہم کرتا ہے، جو اپنی توانائی کے ذرائع متنوع بنانا چاہتی ہے تاکہ جنگی مشینری اور معمولات زندگی کو جاری رکھ سکے اور اسرائیلی عوام کی ناراضگی کو بے قابو ہونے سے روک سکے۔

اسرائیل کے تجارتی تعلقات میں چین کا کردار کیا ہے؟

ایرک توساں: چین اسرائیل کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔ چین اسرائیل میں نمایاں سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ چین نے 2022 میں اسرائیل کو 13 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، 2023 میں یہ حجم 16 ارب ڈالر اور 2024 میں 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اگر کوئی پابندی یا بائیکاٹ نہ لگایا گیا تو 2025 میں یہ حجم آسانی سے 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ اعداد و شماراسرائیل امپورٹس فرام چائنہ اور چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا سے لیے گئے ہیں۔ 2023 میں چین مسلسل چوتھے سال اسرائیل کا سب سے بڑا درآمدی ذریعہ رہا۔ امریکہ دوسرے نمبر پر تھا۔ 2024 میں چین کی یہ بالادستی مزید مستحکم ہوئی۔

چین اور اسرائیل کے درمیان تجارت کی بڑی اکائیاں ہائی ٹیک مصنوعات پر مشتمل ہیں، جن میں الیکٹرانک آلات، صنعتی مشینری، اور آپٹیکل و طبی سامان نمایاں ہیں۔

چین کے ساتھ اسرائیل کا تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے۔ اسرائیل چین سے کہیں زیادہ درآمد کرتا ہے جتنا چین کو برآمد کرتا ہے۔ 2024 میں اسرائیل کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اگر یورپی یونین کے تمام ممالک کو ایک ساتھ لیا جائے تو یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا سپلائر ہے، جس نے 2024 میں تقریباً 26 ارب ڈالر کی اشیا اسرائیل کو برآمد کیں۔ تاہم چونکہ یورپی یونین کے ہر ملک کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے، اس لیے (2024 میں 19 ارب ڈالر کی برآمدات کے ساتھ)چین کو اسرائیل کا سب سے بڑا انفرادی سپلائر مانا جاتا ہے،جبکہ امریکہ (9 ارب ڈالر سے کچھ زائد برآمدات کے ساتھ)دوسرے نمبر پر ہے۔

چین کی تیار کردہ مصنوعات میں وہ ڈرون بھی شامل ہیں جو اصل میں فوجی مقاصد کے لیے نہیں بنائے گئے تھے مگر اسرائیلی فوج انہیں ہتھیاروں میں تبدیل کر کے فلسطینی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کی تصدیق آزاد اسرائیلی میڈیا پلیٹ فارم +972میگزین کی ایک تحقیق سے ہوتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرون شینزن میں قائمAutel Roboticsنامی نجی چینی کمپنی بناتی ہے، جو EVO ڈرون تیار کرتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا:

’’اسرائیلی فوج نے چینی ساختہ کمرشل ڈرونز کے ایک بیڑے کو ہتھیار بنا لیا ہے تاکہ غزہ کے ان حصوں پر فلسطینیوں پر حملہ کیا جا سکے جنہیں وہ آبادی سے خالی کرانا چاہتی ہے۔ یہ انکشاف +972میگزین اور لوکل کال کی ایک تحقیق میں ہوا ہے۔غزہ میں تعینات 7فوجیوں اور افسران کے انٹرویوز کے مطابق یہ ڈرونز زمینی فوجی ہاتھوں سے کنٹرول کیے جاتے ہیں اور اکثر فلسطینی شہریوں، بشمول بچوں، کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے یا ان علاقوں میں واپس آنے سے روکا جا سکے جنہیں خالی کرایا گیا ہے۔سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ڈرونز EVO ہیں جو چینی کمپنی Autel تیار کرتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر فوٹوگرافی کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کی قیمت تقریباً 10 ہزار شیکلز (یعنی لگ بھگ 2500پاؤنڈ) ہے اور ایمیزون پر باآسانی دستیاب ہیں۔ تاہم فوجی ترمیم کے ذریعے، جسے اندرونی طور پر’آئرن بال‘کہا جاتا ہے، ان ڈرونز پر دستی بم لگایا جا سکتا ہے اور بٹن دبانے سے اسے گرا کر زمین پر دھماکہ کیا جا سکتا ہے۔ آج اسرائیلی فوج کی اکثریت غزہ میں انہی ڈرونز کا استعمال کرتی ہے۔

جو رواں سال رفح کے علاقے میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی تھا، نے شہر کے اس محلے میں ڈرون حملوں کی نگرانی کی جسے فوج نے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کی بٹالین تقریباً 100 دن وہاں تعینات رہی، اور اس دوران روزانہ کی رپورٹس کے مطابق فوجیوں نے درجنوں ڈرون حملے کیے، جنہیں +972 اور لوکل کال نے بھی دیکھا۔ان رپورٹس میں تمام ہلاک شدہ فلسطینیوں کو ’دہشت گرد‘لکھا گیا۔ تاہم S.کی گواہی کے مطابق ایک شخص جس کے پاس چھری ملی اور ایک موقع پر مسلح جنگجوؤں سے مڈبھیڑ کے علاوہ، باقی تمام درجنوں افراد غیر مسلح تھے، یعنی اس کی بٹالین کے علاقے میں اوسطاً روزانہ ایک شخص مارا گیا۔ اس کے مطابق ڈرون حملے جان بوجھ کر مارنے کی نیت سے کیے گئے، حالانکہ زیادہ تر متاثرین فوجیوں سے اتنے فاصلے پر تھے کہ وہ کسی قسم کا خطرہ پیدا ہی نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ (+972 میگزین، 10 جولائی 2025)

جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں قائم ایک آزاد غیر سرکاری تنظیم یورومیڈ مانیٹر نے فروری 2024 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اسرائیلی فوج کے AUTEL روبوٹکس کے تیار کردہ ڈرونز کے استعمال کی پہلے ہی مذمت کی تھی۔ یہ این جی او مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ (MENA) اور یورپ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی دستاویز بندی کے لیے وقف ہے۔ اس نے چینی کمپنیوں، بشمول AUTEL، سے بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا تھا:

’’جنگ زدہ خطوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں شراکت دار بننے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورتحال میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ ان شدید خطرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی احتیاط اور اضافی ذمہ داری سے کام لیں۔ خاص طور پر جب کسی مصنوعات کو اس طرح غلط استعمال کیا جائے جو کمپنی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پرامن اقدار کے منافی ہو، اور بالخصوص جب وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو کر بین الاقوامی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سبب بنے، تو کمپنی کو فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسے فوری طور پر ایسے کسی بھی تعاون کو ختم کرنا چاہیے یا روکنا چاہیے اور باقی ماندہ اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ یورومیڈ ہیومن رائٹس مانیٹر زور دیتا ہے کہ Autel Roboticsجیسی چینی الیکٹرانکس اور ڈرون بنانے والی کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں کو بین الاقوامی قانون کی مکمل پابندی کرنی چاہیے۔‘‘ (یورومیڈ مانیٹر،1 جولائی 2024)

اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی آبادی کے خلاف اپنی جنگ میں ایک اور چینی کمپنی کے سویلین ڈرونز بھی استعمال کر رہی ہے۔ یہ ڈرونز ڈی جے آئی (دا جیانگ انوویشنز) تیار کرتی ہے، جو شینزین (چین) میں قائم ایک نجی کمپنی ہے اور دنیا بھر میں سویلین اور پروفیشنل ڈرونز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

جیسا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے اپنی جون 2025 کے شائع شدہ رپورٹ’قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک‘میں لکھا:

’’20۔جہاں کارپوریٹ ادارے اپنی سرگرمیاں اور تعلقات اسرائیل کے ساتھ جاری رکھتے ہیں، چاہے وہ اس کی معیشت، فوج، یا سرکاری و نجی شعبوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جڑے ہوں، تواسے جان بوجھ کرفلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی خلاف ورزی میں، فلسطینی علاقوں کے الحاق میں، ایک غیر قانونی قبضے کو قائم رکھنے میں (جو جارحیت کا جرم ہے اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کی پامالیاں ہیں)، نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) اور نسل کشی کے جرائم میں، اور دیگر متعلقہ جرائم و خلاف ورزیوں میں کی گئی شراکت داری قرار دیا جا سکتا ہے۔ مختلف دائرہ اختیار میں فوجداری اور دیوانی قوانین کے تحت کارپوریٹ اداروں یا ان کے ایگزیکٹوز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور/یا بین الاقوامی قوانین کے تحت جرائم کی ذمہ داری پر کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

21۔لہٰذا یہ لازمی ہے کہ ان ممالک کی حکومتیں جہاں یہ کمپنیاں قائم ہیں اور کمپنیاں خود بھی اسرائیلی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری سے گریز کریں۔ یہ ذمہ داری چین پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسے دنیا کے باقی تمام ممالک پرلاگو ہوتی ہے۔‘‘

یوں یہ ذمہ داری ان ممالک کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جہاں یہ کمپنیاں قائم ہیں، اور خود ان کمپنیوں پر بھی، کہ وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری سے اجتناب کریں۔ یہ ذمہ داری چین پر بھی اتنی ہی لاگو ہے جتنی باقی دنیا پرلاگو ہوتی ہے۔

کیا چین اسرائیل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے؟

ایرک توساں:جی ہاں۔ چین نے اسرائیل کی دو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہوں، حیفہ اور اشدود، میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جو بحیرہ روم پر واقع ہیں۔چائنہ ہاربر انجینئرنگ کمپنی(جوچائنہ کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی کی ذیلی کمپنی ہے) نے اشدود کی بندرگاہ کو جدید بنایا اور اس کی توسیع کی۔ اس منصوبے سے بندرگاہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور عالمی تجارت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا گیا۔ اشدود اسرائیل کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے، اور اس کی جدیدیت نے خطے میں اس کی اسٹریٹجک حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ یہ منصوبہ چین اور اسرائیل کے درمیان تجارت کو سہولت فراہم کرتا ہے، خاص طور پربیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کے تناظر میں۔

اسی طرح چائنہ نیشنل آف شور آئل کارپوریشن(CNOOC) نے حیفہ کنٹینر ٹرمینل میں بڑا حصہ خریدا ہے، جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ شراکت داری کے تحت ہوا۔ یہ منصوبہ بھی اسرائیل کی بندرگاہی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری لے کر آیا۔ حیفہ کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کچھ بھارتی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہے۔

بندرگاہوں کے علاوہ چینی کمپنیاں دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جیسے ٹرانسپورٹ، توانائی اور ہائی ٹیکنالوجی۔ مثال کے طور پر اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں بڑے چینی ادارے جیسے Huawei اورZTE اسرائیل میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

روس اور اسرائیل کی حکومتوں کے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں: یہ بات سب جانتے ہیں کہ ولادیمیر پیوٹن اور نیتن یاہو ایک دوسرے کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، حالانکہ روس بظاہر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے۔ ابھی تک پیوٹن نے اپنی کسی تقریر میں غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت نہیں کی۔ تاہم یہی پیوٹن ’نسل کشی‘کا لفظ بار بار استعمال کر چکے ہیں،تاکہ یوکرین پر حملے اور اس کے کچھ حصے کے انضمام کو درست ثابت کر سکیں۔ یوکرین میں ’خصوصی فوجی آپریشن‘کو جواز فراہم کرنے والی 24 فروری 2022 کی اپنی تقریر میں پیوٹن نے کہا تھا:

’’ہمارا مقصد ان لوگوں کا تحفظ ہے جو 8برسوں سے کیف حکومت کی نسل کشی کا شکار ہیں۔ ہم یوکرین کو غیر مسلح اور نازی اثرات سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘(روسی صدرکا خطاب)

یہ بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ 1 جولائی 2025 کو روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے برکس سربراہی اجلاس (ریو) سے کچھ دن قبل کہا:

’’ہم خوش ہیں کہ اسرائیل کی نئی حکومت کے سربراہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ایک ماہ میں دو مرتبہ فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اظہار کیا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ موقف عملی اقدامات سے بھی تقویت پائے گا۔ اپنی جانب سے ہم مذاکرات کے دوبارہ آغاز میں مدد فراہم کرتے رہیں گے، چاہے یہ دوطرفہ ذرائع سے ہو یا مختلف بین الاقوامی فورمز پر، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے کوارٹیٹ (چار فریقی گروپ) کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔ غزہ کی پٹی کی صورت حال پر نظر رکھنا ضروری ہے جہاں آبادی سنگین انسانی مشکلات کا شکار ہے۔ محاصرے کو ختم کرنے یا کم از کم نرم کرنے کے لیے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔‘‘(وزارت خارجہ روس کی سرکاری ویب سائٹ پر مکمل بیان بعنوان:’’فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار کے شرکا کے لیے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا پیغام‘‘)

جیسا کہ اس بیان سے ظاہر ہے کہ سرگئی لاوروف نے جاری نسل کشی کی مذمت نہیں کی، اور فاشسٹ وزیراعظم نیتن یاہو کے بارے میں ان کا رویہ مثبت ہے، جو بالکل ناقابل قبول ہے۔

اسرائیل اب بھی خوراک (اناج) اور توانائی (تیل، گیس، کوئلہ) کے لیے جزوی طور پر روس پر انحصار کرتا ہے، باوجود اس کے کہ دونوں کے درمیان جغرافیائی کشیدگیاں موجود ہیں۔ اسرائیل روس کو قیمتی زرعی مصنوعات، طبی آلات، کیمیکلز اور الیکٹرانکس برآمد کرتا ہے۔ اسرائیل کا روس کے ساتھ تجارتی خسارہ نمایاں ہے۔ 2023 میں روس پر پابندیوں کے بعد تجارت میں کمی آئی، لیکن 2024 میں دوبارہ بحال ہو گئی۔ تجارتی حجم 2022 میں 3.5 ارب ڈالر، 2023 میں 2.6 ارب ڈالر اور 2024 میں 3.9 ارب ڈالر رہا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مغرب کی طرح روس پر عملی پابندیاں نہیں لگائیں، اور روس نے بھی اسرائیل پر پابندیاں عائد نہیں کیں، باوجود اس کے کہ وہ نسل کشی کر رہا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے ارب پتیوں اور نئے تارکین وطن کے کھاتوں کے ذریعے سینکڑوں ملین ڈالر (تقریباً ہر سہ ماہی میں 300 ملین ڈالر) اسرائیل منتقل ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اکتوبر 2023 سے مارچ 2024 کے دوران تقریباً 500 ایسی اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی کارروائیوں میں حصہ لیا، جن کے پاس روسی پاسپورٹ بھی تھے۔ ان میں سے 9 مارے گئے۔ یہ معلومات اسرائیلی حکام نے فراہم کی ہیں۔

سال 2025 کے لیے درست اعداد دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ معلوم ہے کہ نسل کشی میں شریک اسرائیلی فوجی روسی اور اسرائیلی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ روسی حکام ان فوجیوں پر کوئی تنقید نہیں کرتے، چاہے وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ ہی کیوں نہ لڑ رہے ہوں۔

بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر ہے۔ بھارت اسرائیل کو تیل کی مصنوعات، ہیرے اور دیگر قیمتی پتھر، کیمیکلز، دواساز مصنوعات اور ہتھیار (بشمول ڈرون) فراہم کرتا ہے۔

اس کے بدلے اسرائیل بھارت کو ہتھیار (میزائل)، گولہ بارود اور دفاعی نظام فراہم کرتا ہے۔ بھارت کی ایک بڑی مالیاتی ویب سائٹ’منی کنٹرول ڈاٹ کام‘کے مطابق اسرائیل اور بھارت کے درمیان اسلحے کی تجارت 2015 سے 2024 کے درمیان 33 گنا بڑھ گئی ہے، جو 2024 میں 185 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

نیو انٹرنیشنلسٹ کے جنوری 2025 کے شمارے میں لکھا گیا:

’’بھارتی کمپنیاں جیسے اڈانی ایلبٹ ایڈوانسڈ سسٹمز انڈیا، پریمیئر ایکسپلوسیوزاور ریاستی کمپنی میونیشنز انڈیافعال طور پر ڈرون اور ہتھیار اسرائیل کو فراہم کر رہی ہیں جبکہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کش جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپریل میں ان معاہدوں کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے بھارت نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر ووٹنگ سے پرہیز کیا جس میں اسرائیل پر اسلحہ پابندی کی تجویز بھی شامل تھی۔ اسرائیل نے بدلے میں بھارت کو اسلحہ فراہم کرنا جاری رکھا۔ یہ ایک اہم عہد تھا کیونکہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے دوسرے ممالک کو 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کی برآمد میں تاخیر کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں برسراقتدار آنے کے بعد بھارت اسرائیل کی اسلحہ تجارت میں کلیدی کھلاڑی بن گیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بھارت،اسرائیل کا سب سے بھروسہ مند خریدار ہے، جو اس کی کل اسلحہ برآمدات کا 37 فیصد بنتا ہے۔‘‘ (محمد آصف خان، ’پارٹرنرز ان پاور: اسرائیل، انڈیا اینڈ دی آرمز ٹریڈ‘، 1جنوری2025)

مزید تفصیلات کے لیے اڈانی گروپ کی ویب سائٹ پر ایلبٹ اور امریکی اسلحہ کمپنی کے ساتھ نئے اشتراکی منصوبے دیکھیں۔

اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ بھارتی وزیراعظم کا اسرائیل نواز موقف بدلے گا (وہ جولائی 2025 میں ریو میں برکس سربراہی اجلاس میں بھی بنفس نفیس شریک ہوئے)۔ بھارت اور اسرائیل 2025 کے اختتام سے پہلے ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل (18 فروری 2025) کے مطابق:

’’اسرائیل اور بھارت اس سال ایک طویل عرصے سے زیرانتظار آزاد تجارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک نئے تجارتی راستے کے منصوبے کو ازسرنو ترتیب دیا ہے جو اسرائیل سے گزرے گا۔‘‘

جہاں تک فلسطین پر بھارت کے موقف کا تعلق ہے تو نریندر مودی کے انتخاب کے بعد سے اسرائیل کے حق میں ایک نمایاں جھکاؤ آیا ہے۔ مودی نے 2017 میں روایت توڑتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کیا، لیکن فلسطین کا دورہ نہیں کیا۔ مودی حکومت نے اسرائیل پر براہ راست تنقید سے گریز کیا ہے، خاص طور پر غزہ پر بمباری (2014، 2021، 2023، 2024 اور 2025) اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے دوران۔ ملک کے اندر فلسطین سے یکجہتی کو ہندو دائیں بازو کی جانب سے زیادہ سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے بدنام اور غیر معتبر قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اثر سیاسی و نظریاتی ماحول میں یہ سلسلہ مزید تیز ہو چکا ہے۔

جنوبی افریقہ کے اسرائیل سے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت مثبت قدم تھا جب جنوبی افریقی حکومت نے 29 دسمبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف شکایت درج کرائی۔ یہ شکایت بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں دائر کی گئی، جو ریاستوں کے مابین تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا ادارہ ہے۔ پریٹوریا نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے غزہ پر اپنی فوجی یلغار کے دوران نسل کشی کے جرائم کی روک تھام اور سزا دینے سے متعلق کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

جنوبی افریقہ کی درخواست میں اسرائیل کے اقدامات کو ایک وسیع تر تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جسے وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے 75 سالہ اپارتھائیڈ، 56 سالہ جارحانہ قبضے اور 16 سالہ غزہ کی ناکہ بندی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ 26 جنوری 2024 کو عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں نسل کشی سے متعلق اقدامات کو روکے، اگرچہ عدالت نے جنوبی افریقہ کی یہ درخواست منظور نہیں کی کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری رکھی اور انسانی امداد کی ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا۔

جنوری 2025 میں جنوبی افریقہ نے ہیگ گروپ کے قیام میں مدد دی، تاکہ اسرائیل کی غزہ پالیسی کے خلاف قانونی و سفارتی اقدامات کو مربوط کیا جا سکے۔ افتتاحی اعلامیے کے مطابق بنیادی وعدے درج ذیل ہیں ہیں:

بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف گرفتاری وارنٹس پر عمل درآمد کا مطالبہ، ایسے ہتھیار یا فوجی مقاصد کے لیے ایندھن کی فراہمی پر پابندی جو تنازعے میں استعمال ہو سکتے ہوں، اور اسرائیل کے لیے فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں میں داخلے سے روکنا۔

اس گروپ کے بانی ممالک میں جنوبی افریقہ، کولمبیا، بیلیز، بولیویا، کیوبا، ہونڈوراس، ملائیشیا، نمیبیا اور سینیگال شامل ہیں۔ جولائی 2025 کے وسط میں بگوٹا میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

برکس (BRICS) کے حوالے سے دیکھا جائے تو چار بانی ریاستوں (برازیل، روس، بھارت اور چین) میں سے کوئی بھی تاحال جنوبی افریقہ کی شکایت میں شامل نہیں ہوا، اگرچہ اب تک 15 ممالک کسی نہ کسی سطح پر شامل ہو چکے ہیں۔ پانچ برکس ممالک میں سے صرف برازیل نے بہت تاخیر سے، یعنی جولائی 2025 میں، مستقبل میں شکایت میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اگر 2025 کے موجودہ 10 برکس ممالک کو مدنظر رکھا جائے تو ان میں سے صرف مصر نے اب تک شکایت میں شمولیت اختیار کی ہے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے افسوسناک پہلو، جو اس کی جائز شکایت سے سنگین تضاد رکھتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر کوئلہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل کی کھپت کا 15 فیصد کوئلہ جنوبی افریقہ سے آتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک یونیورسٹی پروفیسر پیٹرک بونڈ نے بارہا اسرائیل کو جنوبی افریقی کوئلے کی ترسیل کی مذمت کی ہے۔

بونڈ کے مطابق پریٹوریا حکام کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر کوئلے کی سپلائی بند کی جائے تو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کی خلاف ورزی ہوگی۔ بونڈ کا کہنا ہے کہ یہ دلیل بالکل غیر سنجیدہ ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں متعدد ریاستوں نے ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مزید برآں اسرائیل کے ساتھ تجارت ختم کرنا جنوبی افریقہ کا بالکل جائز اقدام ہوگا۔

جیسا کہ اقوامِ متحدہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیسی نے اپنی رپورٹ’قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک‘کے پیراگراف 89 میں لکھا:

’’توانائی اور معدنیات نکالنے والی بڑی کارپوریشنز، اگرچہ شہری توانائی کے ذرائع فراہم کرتی ہیں، لیکن انہوں نے اسرائیل کے فوجی اور توانائی کے ڈھانچے کو بھی ایندھن فراہم کیا ہے، جو فلسطینی عوام کی تباہی کے حالات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘‘

یہ بنیادی رپورٹ جون 2025 کے آخر میں برکس اجلاس سے قبل شائع ہوئی تھی۔ تاہم 6 جولائی 2025 کو جاری ہونے والے برکس کے اجلاس کے حتمی اعلامیے میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

بونڈ نے جنوبی افریقی اسلحہ ساز کمپنی پیرا ماؤنٹ گروپ پر ایک تفصیلی ڈوزیئر بھی مرتب کیا ہے، جو آئیور ایچیکووِٹز (Ivor Ichikowitz) کی سربراہی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ بونڈ خصوصاً پیرا ماؤنٹ گروپ اور اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ (Elbit) کے تعاون کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا ڈوزیئر’کیا جنوبی افریقہ اسرائیل تجارت میں اسلحہ بھی شامل ہے؟‘کے عنوان سے21 دسمبر 2024 کو شائع ہوا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیرا ماؤنٹ گروپ کے سربراہ آئیور ایچیکووِٹز نے جنوبی افریقہ کی اسرائیل کے خلاف شکایت کی مذمت کی۔ انہوں نے فورچون میگزین میں لکھا:

’’جنوبی افریقہ کا حالیہ موقف اسرائیل کے خلاف کھلم کھلا دشمنی اور حماس کے لیے بے حد ہمدردی پر مبنی ہے۔اس کا نتیجہ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں گھسیٹنے کی صورت میں نکلا۔ اس کے باعث جنوبی افریقہ کو AGOA سے نکالے جانے کی سزا بھی مل سکتی ہے۔ یہ امکان اب بھی امریکہ اورجنوبی افریقہ کے تعلقات پر منڈلا رہا ہے۔‘‘ (ماخذ: ایور ایچیکووِٹز،’Soud Africa Should be truly non-aligned -96 and stop risking its vital trade ties with the West‘، فورچون، 26جنوری2024)

بونڈ، مختلف جنوبی افریقی تحریکیں اور بے شمار کارکن پریٹوریا حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں، یعنی اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات بند کی جائیں اور ہر طرح کے تجارتی تعلقات ختم کر دیے جائیں۔

مصربھی اب باضابطہ طور پر برکس کا رکن ہے، اس کا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے کیسا برتاؤ کر رہا ہے؟

ایرک توساں:سب سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ جون 2025 میں مصری حکام نے سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے درجنوں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ہزاروں افراد کو اس بات سے روک دیا کہ وہ ملک کے اندر سفر کرکے رفح بارڈر کراسنگ تک پہنچ سکیں تاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں، نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور جنگ بندی کی ضرورت کی حمایت کریں۔ 10 جون 2025 کو 50 سے زائد ممالک کے کارکنان نے ’گلوبل مارچ فار غزہ‘کا آغاز کیا، جو ایک سول اقدام تھا اور جسے ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد کی حمایت حاصل تھی۔ اس مارچ کا مقصد اسرائیلی محاصرے کی مذمت کرنا اور رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ کے لیے انسانی راہداری کھولنے کا مطالبہ کرنا تھا۔

تاہم مصری حکام نے مارچ کوروک دیا اور ابتدا ہی سے منتظمین کے خلاف میڈیا پر ایک بدنام کرنے والی مہم چلائی۔ کریک ڈاؤن میں شدت آئی تو گلیوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں گرفتاریاں شروع ہوئیں، پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے اور فون تباہ کیے گئے، قافلوں کو قاہرہ سے نکلنے سے روک دیا گیا۔ اسماعیلیہ میں بھی تشدد اور گرفتاریوں کی اطلاعات ملیں، جہاں 200 کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔ ہوائی اڈے پر کئی ملک بدریوں اور جبری واپسی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

یہ جبر مصر، اسرائیل اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے، جو فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے برخلاف ہے۔ درحقیقت جمال عبدالناصر کے دور میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت جاری رکھی تھی۔ تاہم ان کے جانشین انور سادات نے 1979 میں امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ فلسطینیوں اور خطے کی اقوام (جن میں خود مصری بھی شامل تھے) کے نزدیک غداری کے مترادف تھا اور اس نے عسکری، سلامتی اور اقتصادی تعاون کے بڑھنے کی راہ ہموار کی۔

صدر عبدالفتاح السیسی کے دور میں یہ تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ معمول پر آگئے ہیں۔ سلامتی کے شعبے میں تعاون، اسرائیلی گیس پر بڑھتا ہوا اقتصادی انحصار، غزہ کے محاصرے کی بالواسطہ حمایت، رفح کراسنگ پوائنٹ پر سخت کنٹرول اور غزہ کے ساتھ تجارتی سرنگوں کا خاتمہ، یہ سب اسی عمل کا حصہ ہیں۔ حکومت فلسطین نواز مظاہروں کو منظم طریقے سے دباتی ہے۔ حتیٰ کہ فلسطینی پرچم لہرانے جیسے علامتی اقدامات پر بھی دہشت گردی کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں۔

اس وقت مصر اور اسرائیل کے درمیان تجارت کی صورتحال کیا ہے؟

ایرک توساں:2022 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 300 ملین ڈالر تھا، جو 2021 کی رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 330 ملین ڈالر سے کم تھا۔ 2023 میں یہ تجارت 2022 کے مقابلے میں 56 فیصد بڑھ گئی، جس کا کل تخمینہ تقریباً 468 ملین ڈالر لگایا گیا۔ 2024 میں سال کے آخر میں اس ترقی نے تیزی پکڑی، چوتھی سہ ماہی میں 168 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ پورے سال کے درست مجموعی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ مصر کی جانب سے اسرائیل سے خریدا جانے والا سب سے اہم سامان قدرتی گیس ہے۔ 2025 کے اوائل میں اسرائیلی گیس مصر کی کھپت کا 15 سے 20 فیصد حصہ تھی۔

کیا مصر اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون موجود ہے؟

ایرک توساں: جی ہاں، مصر اور اسرائیل کے درمیان خفیہ لیکن نمایاں عسکری تعاون موجود ہے، حالانکہ ان کی تاریخ میں شدید تنازعات اور جنگیں (1948، 1967 اور 1973) شامل ہیں۔ 2007 سے مصر اور اسرائیل نے عملی طور پر غزہ کا منظم محاصرہ کیا ہوا ہے، اشیاء اور افراد کی آمد و رفت پر پابندیاں ہیں،اور سرنگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مصر اور اسرائیل اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے مشترکہ آپریشن کرتے ہیں تاکہ غزہ اور مصر کے درمیان سرنگوں کو تباہ کیا جا سکے۔ مصر نے اسرائیلی نگرانی کے نظام (جس میں ایلبٹ کے ریڈار بھی شامل ہیں) یورپی ثالثوں کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق7 مارچ 2024 کو اسرائیل نے مصر کے راستے غزہ کو جانے والے ہتھیاروں کے خلاف خفیہ فضائی حملے کیے ہیں، جن پر مصری حکام نے خاموش رضامندی ظاہر کی۔ امریکہ مصر کو 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جو قاہرہ کے اسرائیل سے تعاون پر مشروط ہے۔ امریکہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ شرط پوری کی جائے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں ابرہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات معمول پر آئے۔ 29 اگست 2020 کو معاہدوں کے اعلان کے چند ہفتے بعدعرب امارات نے 1972 کا وفاقی قانون منسوخ کر دیا،جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات ممنوع تھے۔ اس فیصلے نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری، اسرائیلی مصنوعات کی درآمد و فروخت، سائنسی، ثقافتی اور تکنیکی تعاون وغیرہ کو قانونی حیثیت دے دی۔ اس منسوخی سے پہلے بھی تعلقات بتدریج قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔

ابراہیمی معاہدوں کے بعد 31 مئی 2022 کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر دستخط ہوئے جو یکم اپریل 2023 کو نافذ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 96 فیصد ٹیرف لائنوں اور 99 فیصد تجارتی قدر پر کسٹم ڈیوٹی ختم یا نمایاں طور پر کم کر دی گئی۔ اس معاہدے کا مقصد پانچ سال کے اندر دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچانا ہے۔ غزہ میں تنازعے نے 2024 میں تجارتی سرگرمیوں کی نمایاں نمائش کو کم ضرور کیا، لیکن تجارت جاری رہی اور بڑھتی رہی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ 2022 میں دو طرفہ تجارت 2.5 ارب ڈالر تک پہنچی اور توقع ہے کہ 2025 میں یہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

بلومبرگ کے مطابق 2025 میں تقریباً 600 اسرائیلی کمپنیاں متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی ہیں، اور دبئی چیمبر کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد اماراتی کمپنیوں نے اسرائیل میں تعلقات قائم کیے یا آپریشن شروع کیے ہیں، یہ سب تعلقات کی بحالی کے بعد ممکن ہوا۔

کیا اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسلحہ کی تجارت بھی ہے؟

ایرک توساں:جی ہاں، 2020 میں تعلقات کی بحالی کے بعد سے اسرائیل اور امارات کے درمیان اسلحہ کی تجارت حقیقت میں موجود ہے۔ اس میں بنیادی طور پر فضائی دفاعی نظام (سپائیڈر، باراک 8، آئرن ڈوم)، ڈرونز اور الیکٹرانک ٹیکنالوجیز شامل ہیں،اور یہ صنعتی تعاون پر بھی مبنی ہے۔ اگرچہ مخصوص معاہدے حساس نوعیت کے ہیں، لیکن 2022 کے بعد سے تجارت میں تیزی آئی ہے اور 2024-2025 سے اس کی عوامی نمائش بھی بڑھ گئی ہے، خصوصاً اسلحہ کی نمائشوں جیسے IDEX کے ذریعے، جو ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ فروری 2025 میں ہونے والی IDEX نمائش میں 34 اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں موجود تھیں۔ اماراتی اسلحہ ساز کمپنی ایج اسرائیلی کمپنیوں ایل بٹ،رفائل،آئی اے آئی،آر ٹی اور Thirdeyeکے ساتھ فعال تعاون کر رہی ہے۔

کیا اماراتی مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست تعاون موجود ہے؟

ایرک توساں:اگرچہ دونوں فریق اس بات کا باضابطہ اعتراف نہیں کرتے، لیکن یقینا اماراتی مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان فوجی تعاون پایا جاتا ہے۔ ایران اور اس کے خطے میں اثرورسوخ کے خلاف دونوں ممالک کی دشمنی اس تعاون کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہی صورتحال یمن میں حوثیوں کے خلاف ان کے مشترکہ مفادات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

یمن کی جنگ کے آغاز (2015) سے متحدہ عرب امارات نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی، خاص طور پر سقطری کے مرکزی جزیرے پر، جو باضابطہ طور پر یمن کا حصہ ہے۔ امارات نے اس جزیرے پر قبضہ کر کے ایک فوجی اڈہ قائم کیا اور وہاں اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یمن کے ساحل کے قریب بحر ہند میں واقع سقطری کا جزیرہ نمابحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم جہاز رانی کے راستوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 20ہزار مال بردار جہاز سقطری کے قریب سے گزرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 9 فیصد عالمی تیل کی سپلائی سے وابستہ ہیں۔

مزید برآں،متحدہ عرب امارات اسرائیل، بھارت اور یورپی یونین کے کئی ممالک (اٹلی، جرمنی، فرانس، یونان) کے ساتھ ایک منصوبے پر تعاون کر رہا ہے تاکہ خلیج دبئی کو سعودی عرب کے راستے ریاض سے جوڑتے ہوئے حائفہ کی بندرگاہ تک زمینی راستہ بنایا جائے۔ اس کا مقصد ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے سوئز کینال کو بائی پاس کرنا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ چین کی نئی شاہراہِ ریشم کے متبادل کی تیاری بھی ہے۔

امریکہ کے ساتھ امارات کا فوجی تعاون کس نوعیت کا ہے؟

ایرک توساں:یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جوبرکس کا رکن بھی ہے اور اس کی سرزمین پر امریکہ کا مستقل فوجی اڈہ بھی موجود ہے، اور یہ واضح طور پر اسرائیل کے ساتھ اس کی تعاون کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

امریکہ کی فوجی موجودگی متحدہ عرب امارات میں نمایاں، اسٹریٹجک اور طویل عرصے سے قائم ہے، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے دوطرفہ دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ امارات کے دارالحکومت کے قریب امریکہ کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے جہاں لڑاکا طیارے (F-22، کبھی کبھار F-35)، نگرانی کے جہاز (AWACS، JSTARS)، مسلح ڈرونز (MQ-9 Reaper)، ایندھن بھرنے والے طیارے وغیرہ تعینات ہیں۔ یہ اڈہ خلیج فارس، عراق اور شام میں امریکی آپریشنز کے لیے ایک کلیدی لاجسٹک مرکز ہے، CENTCOM (مشرق وسطیٰ/وسطی ایشیا کمانڈ) کا حصہ ہے اور ایران پر نگرانی کرتا ہے۔ وہاں تقریباً 2ہزار سے 3ہزار امریکی فوجی مستقل یا باری باری تعینات رہتے ہیں۔

امریکہ نے متحدہ عرب امارات میں پیٹریاٹ PAC-3 جیسے میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین میں مقیم امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات مشترکہ بحری مشقوں اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی تعاون جیسے اقدامات میں شریک ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات امریکی بیڑے اور اس کے اتحادیوں کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔

ایتھوپیا کا اسرائیل کے ساتھ رویہ کیا ہے اور کیااسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان فوجی تعاون موجود ہے؟

ایرک توساں:غزہ میں جاری نسل کشی کے باوجود ایتھوپیا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون جاری ہے، اور ایتھوپیا برکس کا مکمل رکن ہے۔

متعدد ذرائع کے مطابق اسرائیل ایتھوپیا کے اہم فوجی سپلائرز میں سے ایک ہے، خصوصاً فضائی دفاعی نظاموں کی فروخت کی جا رہی ہے۔ ان میں سے ایک سپائیڈر ایم آر ہے، جو گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم کو فضائی حملوں سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ فوجی تعاون ادیس ابابا میں حکومت کی تبدیلیوں کے باوجود جاری رہا ہے۔ اس کا آغاز 1960-1990 کی دہائیوں میں ہوا تھا۔ اسرائیل نے ایتھوپین فوج کے لیے پیرا ٹروپر یونٹس اور انسداد بغاوت کی افواج (نیبل بال ڈویژن) کی تربیت کی، ڈیڑھ لاکھ رائفلیں اور کلسٹر بم فراہم کیے، اور صدارتی گارڈ کو تربیت دینے کے لیے فوجی مشیر بھیجے۔ نومبر 2020 سے موساد اور ایتھوپین سکیورٹی سروس (NISS) کے درمیان بھی ایک تعاون معاہدہ ہے، جو مہارت کے تبادلے اور انسداد بغاوت کے اقدامات پر مشتمل ہے۔

غزہ میں جاری نسل کشی کے سبب یہ فوجی شراکت داری نسبتاً خاموش رکھی گئی ہے، لیکن یہ ایتھوپیا کی سلامتی کی حکمت عملی اور مشرقی افریقہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں انٹیلی جنس کا تبادلہ، اسٹریٹیجک ہم آہنگی اور ایتھوپیا میں صلاحیت سازی شامل ہے۔

یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہیے کہ اسرائیل کے اس خطے میں یوگنڈا کی موسوینی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں (ریو میں ہونے والے برکس اجلاس میں یوگنڈا کے نائب صدر نے نمائندگی کی تھی)۔

اسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان تجارت کم ہے، جو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ تاہم اسرائیلی کمپنیاں ایتھوپیا میں زراعت میں سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

انڈونیشیا اور اسرائیل کے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:انڈونیشیا نے اسرائیل سے جاسوسی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی درآمد کی ہے۔

انڈونیشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلم ملک ہے اور برکس کا مکمل رکن ہے۔ اس کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مئی 2024 میں اسرائیلی روزنامہ ہارٹز، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ٹیمپو کی ایک مشترکہ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ انڈونیشیا نے اسرائیل سے جاسوسی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی درآمد کی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2017 سے 2023 کے درمیان انڈونیشیا نے انتہائی خفیہ اسپائی ویئر اور دیگر جدید نگرانی کی ٹیکنالوجیوں کی ایک وسیع رینج درآمد اور استعمال کی۔ کئی اسرائیلی کمپنیوں کی نشاندہی بالواسطہ سپلائر کے طور پر ہوئی۔ این ایس او گروپ نے کیو سائبر ٹیکنالوجیز ایس اے آر ایل لگسمبرک کے ذریعے سپلائی کر رہی ہے، جس نے پیگاسس اسپائی ویئر تیار کیا،اس کے علاوہ پریڈیٹر سافٹ ویئر کے لیے مشہور انٹلیگسا کنسورشیم، کینڈیرو/سائٹو ٹیک،اور وینٹیگو سسٹمز لمیٹڈجیسی کمپنیاں شامل ہیں۔

انڈونیشیا نے جو اسپائی ویئر حاصل کیا، جیسے پیگاسس، پریڈیٹر وغیرہ، وہ انتہائی خفیہ ہے، بغیر واضح تعامل کے متاثر کر سکتا ہے، اور تصاویر، پیغامات، کالز، لوکیشن وغیرہ کے انتظام کو ممکن بناتا ہے۔ جن اداروں نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کی ان میں انڈونیشین نیشنل پولیس (Polri)، نیشنل سائبر سکیورٹی اور کرپٹوگرافی ایجنسی (BSSN) شامل ہیں، اور کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت دفاع بھی شامل ہے۔ ایمنسٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ آلات شہری آزادیوں، خصوصاً آزادی اظہار اور نجی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

جولائی 2025 کے وسط میں انڈونیشیا نے بوگوٹا میں 15 اور 16 جولائی 2025 کو ہونے والی ہنگامی کانفرنس میں باضابطہ طور پر’دی ہیگ گروپ‘میں شمولیت اختیار کی۔ اب یہ ان 13 ممالک میں شامل ہے جو غزہ میں جاری نسل کشی کے جواب میں بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت سالانہ 200 ملین ڈالر سے بھی کم ہے۔

غزہ اور برکس پر نتیجہ: نسل کشی کی مذمت اور پابندیاں لگانے سے انکار

ایرک توساں:غزہ میں جاری نسل کشی کے جواب میں برکس رکن ممالک کے موقف اور عملی اقدامات کا تفصیلی تجزیہ ایک واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سرکاری بیان بازی اکثر بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی اور اقوام کی خودمختاری پر مرکوز رہتی ہے، لیکن ان کے عملی اقدامات مختلف ہیں۔ جیسا کہ روس کے یوکرین پر حملے یا متحدہ عرب امارات کے اقدامات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

درحقیقت برکس پلس کے 10 رکن ممالک نے اجتماعی طور پر غزہ میں جاری جرم کو نسل کشی کے طور پر تسلیم نہیں کیا، حالانکہ یہ بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے کی طرف سے وسیع پیمانے پر ڈاکومنٹڈ ہے اور مذموم قرار دیا جا چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ برکس نے کوئی سخت اجتماعی اقدامات نہیں کیے۔ نہ پابندیاں، نہ سفارتی یا اقتصادی تعلقات کا خاتمہ، نہ اسلحے کی فراہمی پر پابندی، حتیٰ کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کی علامتی معطلی بھی نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس ان میں سے زیادہ تر ممالک کے تجارتی تعلقات، خاص طور پر توانائی، نگرانی کی ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور اسلحہ جیسے اسٹریٹیجک شعبوں میں، 2024 اور 2025 میں جاری رہے اور یہاں تک کہ بڑھے۔

یقینا جنوبی افریقہ کا ایک استثنائی کردار ہے، جس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں شکایت درج کرائی، لیکن اس کی یہ مثبت کارروائی بھی اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات اور دیگر تجارتی تعلقات کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے۔

یہ سفارتی دوہرا معیار ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنی’زیادہ منصفانہ عالمی نظام‘ کی بیان بازی کے باوجود برکس ممالک بنیادی طور پر اپنے جیو پولیٹیکل، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں، اور ایسا اکثر بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کی قیمت پرکیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ان ترقی پسند حلقوں کی امیدوں کو توڑ دیتی ہے جو اس بلاک کو ’متبادل قطب‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بائیں بازو کے ان لوگوں کے لیے جو برکس کی طرف سے عوام کے حق میں واضح اقدامات کرنے کے حوالے سے خوش فہمیاں رکھتے ہیں، تازہ ترین سربراہی اجلاس اور غزہ میں جاری نسل کشی کے بارے میں ان کا اجتماعی رویہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)