← Back to Newsroom OS خبریں

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (آخری حصہ)

By جدوجہد • 2025-09-13 • 12 min read

ایرک توساں

(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)

ایتھوپیا کا اسرائیل کے ساتھ رویہ کیا ہے اور کیااسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان فوجی تعاون موجود ہے؟

ایرک توساں:غزہ میں جاری نسل کشی کے باوجود ایتھوپیا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون جاری ہے ، اور ایتھوپیا برکس کا مکمل رکن ہے۔

متعدد ذرائع کے مطابق اسرائیل ایتھوپیا کے اہم فوجی سپلائرز میں سے ایک ہے، خصوصاً فضائی دفاعی نظاموں کی فروخت کی جا رہی ہے۔ ان میں سے ایک سپائیڈر ایم آر ہے، جو گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم کو فضائی حملوں سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ فوجی تعاون ادیس ابابا میں حکومت کی تبدیلیوں کے باوجود جاری رہا ہے۔ اس کا آغاز 1960-1990 کی دہائیوں میں ہوا تھا۔ اسرائیل نے ایتھوپین فوج کے لیے پیرا ٹروپر یونٹس اور انسداد بغاوت کی افواج (نیبل بال ڈویژن) کی تربیت کی، ڈیڑھ لاکھ رائفلیں اور کلسٹر بم فراہم کیے، اور صدارتی گارڈ کو تربیت دینے کے لیے فوجی مشیر بھیجے۔ نومبر 2020 سے موساد اور ایتھوپین سکیورٹی سروس (NISS) کے درمیان بھی ایک تعاون معاہدہ ہے، جو مہارت کے تبادلے اور انسداد بغاوت کے اقدامات پر مشتمل ہے۔

غزہ میں جاری نسل کشی کے سبب یہ فوجی شراکت داری نسبتاً خاموش رکھی گئی ہے، لیکن یہ ایتھوپیا کی سلامتی کی حکمت عملی اور مشرقی افریقہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں انٹیلی جنس کا تبادلہ، اسٹریٹیجک ہم آہنگی اور ایتھوپیا میں صلاحیت سازی شامل ہے۔

یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہیے کہ اسرائیل کے اس خطے میں یوگنڈا کی موسوینی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ( ریو میں ہونے والے برکس اجلاس میں یوگنڈا کے نائب صدر نے نمائندگی کی تھی)۔

اسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان تجارت کم ہے، جو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ تاہم اسرائیلی کمپنیاں ایتھوپیا میں زراعت میں سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

انڈونیشیا اور اسرائیل کے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:انڈونیشیا نے اسرائیل سے جاسوسی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی درآمد کی ہے۔

انڈونیشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلم ملک ہے اور برکس کا مکمل رکن ہے۔ اس کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مئی 2024 میں اسرائیلی روزنامہ ہارٹز، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ٹیمپو کی ایک مشترکہ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ انڈونیشیا نے اسرائیل سے جاسوسی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی درآمد کی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2017 سے 2023 کے درمیان انڈونیشیا نے انتہائی خفیہ اسپائی ویئر اور دیگر جدید نگرانی کی ٹیکنالوجیوں کی ایک وسیع رینج درآمد اور استعمال کی۔ کئی اسرائیلی کمپنیوں کی نشاندہی بالواسطہ سپلائر کے طور پر ہوئی۔ این ایس او گروپ نے کیو سائبر ٹیکنالوجیز ایس اے آر ایل لگسمبرک کے ذریعے سپلائی کر رہی ہے، جس نے پیگاسس اسپائی ویئر تیار کیا،اس کے علاوہ پریڈیٹر سافٹ ویئر کے لیے مشہور انٹلیگسا کنسورشیم ، کینڈیرو/سائٹو ٹیک،اور وینٹیگو سسٹمز لمیٹڈجیسی کمپنیاں شامل ہیں۔

انڈونیشیا نے جو اسپائی ویئر حاصل کیا، جیسے پیگاسس، پریڈیٹر وغیرہ، وہ انتہائی خفیہ ہے، بغیر واضح تعامل کے متاثر کر سکتا ہے، اور تصاویر، پیغامات، کالز، لوکیشن وغیرہ کے انتظام کو ممکن بناتا ہے۔ جن اداروں نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کی ان میں انڈونیشین نیشنل پولیس (Polri)، نیشنل سائبر سکیورٹی اور کرپٹوگرافی ایجنسی (BSSN) شامل ہیں، اور کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت دفاع بھی شامل ہے۔ ایمنسٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ آلات شہری آزادیوں، خصوصاً آزادی اظہار اور نجی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

جولائی 2025 کے وسط میں انڈونیشیا نے بوگوٹا میں 15 اور 16 جولائی 2025 کو ہونے والی ہنگامی کانفرنس میں باضابطہ طور پر’دی ہیگ گروپ‘میں شمولیت اختیار کی ۔ اب یہ ان 13 ممالک میں شامل ہے جو غزہ میں جاری نسل کشی کے جواب میں بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت سالانہ 200 ملین ڈالر سے بھی کم ہے۔

غزہ اور برکس پر نتیجہ: نسل کشی کی مذمت اور پابندیاں لگانے سے انکار

ایرک توساں:غزہ میں جاری نسل کشی کے جواب میں برکس رکن ممالک کے موقف اور عملی اقدامات کا تفصیلی تجزیہ ایک واضح تضاد ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سرکاری بیان بازی اکثر بین الاقوامی قانون، کثیرالجہتی اور اقوام کی خودمختاری پر مرکوز رہتی ہے ، لیکن ان کے عملی اقدامات مختلف ہیں۔ جیسا کہ روس کے یوکرین پر حملے یا متحدہ عرب امارات کے اقدامات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

درحقیقت برکس پلس کے 10 رکن ممالک نے اجتماعی طور پر غزہ میں جاری جرم کو نسل کشی کے طور پر تسلیم نہیں کیا، حالانکہ یہ بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے کی طرف سے وسیع پیمانے پر ڈاکومنٹڈ ہے اور مذموم قرار دیا جا چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ برکس نے کوئی سخت اجتماعی اقدامات نہیں کیے۔ نہ پابندیاں، نہ سفارتی یا اقتصادی تعلقات کا خاتمہ، نہ اسلحے کی فراہمی پر پابندی، حتیٰ کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کی علامتی معطلی بھی نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس ان میں سے زیادہ تر ممالک کے تجارتی تعلقات ، خاص طور پر توانائی، نگرانی کی ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور اسلحہ جیسے اسٹریٹیجک شعبوں میں ، 2024 اور 2025 میں جاری رہے اور یہاں تک کہ بڑھے۔

یقینا جنوبی افریقہ کا ایک استثنائی کردار ہے، جس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں شکایت درج کرائی، لیکن اس کی یہ مثبت کارروائی بھی اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات اور دیگر تجارتی تعلقات کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے۔

یہ سفارتی دوہرا معیار ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنی’زیادہ منصفانہ عالمی نظام‘ کی بیان بازی کے باوجود برکس ممالک بنیادی طور پر اپنے جیو پولیٹیکل، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں، اور ایسا اکثر بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کی قیمت پرکیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ان ترقی پسند حلقوں کی امیدوں کو توڑ دیتی ہے جو اس بلاک کو ’متبادل قطب‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بائیں بازو کے ان لوگوں کے لیے جو برکس کی طرف سے عوام کے حق میں واضح اقدامات کرنے کے حوالے سے خوش فہمیاں رکھتے ہیں، تازہ ترین سربراہی اجلاس اور غزہ میں جاری نسل کشی کے بارے میں ان کا اجتماعی رویہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)