برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ دوم)
ایرک توساں
(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)
اسرائیل کے تجارتی تعلقات میں چین کا کردار کیا ہے؟
ایرک توساں: چین اسرائیل کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔ چین اسرائیل میں نمایاں سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ چین نے 2022 میں اسرائیل کو 13 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، 2023 میں یہ حجم 16 ارب ڈالر اور 2024 میں 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اگر کوئی پابندی یا بائیکاٹ نہ لگایا گیا تو 2025 میں یہ حجم آسانی سے 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ اعداد و شماراسرائیل امپورٹس فرام چائنہ اور چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا سے لیے گئے ہیں۔ 2023 میں چین مسلسل چوتھے سال اسرائیل کا سب سے بڑا درآمدی ذریعہ رہا۔ امریکہ دوسرے نمبر پر تھا۔ 2024 میں چین کی یہ بالادستی مزید مستحکم ہوئی۔
چین اور اسرائیل کے درمیان تجارت کی بڑی اکائیاں ہائی ٹیک مصنوعات پر مشتمل ہیں، جن میں الیکٹرانک آلات، صنعتی مشینری، اور آپٹیکل و طبی سامان نمایاں ہیں۔
چین کے ساتھ اسرائیل کا تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے۔ اسرائیل چین سے کہیں زیادہ درآمد کرتا ہے جتنا چین کو برآمد کرتا ہے۔ 2024 میں اسرائیل کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اگر یورپی یونین کے تمام ممالک کو ایک ساتھ لیا جائے تو یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا سپلائر ہے، جس نے 2024 میں تقریباً 26 ارب ڈالر کی اشیا اسرائیل کو برآمد کیں۔ تاہم چونکہ یورپی یونین کے ہر ملک کو الگ الگ شمار کیا جاتا ہے، اس لیے (2024 میں 19 ارب ڈالر کی برآمدات کے ساتھ)چین کو اسرائیل کا سب سے بڑا انفرادی سپلائر مانا جاتا ہے،جبکہ امریکہ (9 ارب ڈالر سے کچھ زائد برآمدات کے ساتھ)دوسرے نمبر پر ہے۔
چین کی تیار کردہ مصنوعات میں وہ ڈرون بھی شامل ہیں جو اصل میں فوجی مقاصد کے لیے نہیں بنائے گئے تھے مگر اسرائیلی فوج انہیں ہتھیاروں میں تبدیل کر کے فلسطینی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کی تصدیق آزاد اسرائیلی میڈیا پلیٹ فارم +972میگزین کی ایک تحقیق سے ہوتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرون شینزن میں قائمAutel Roboticsنامی نجی چینی کمپنی بناتی ہے، جو EVO ڈرون تیار کرتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا:
”اسرائیلی فوج نے چینی ساختہ کمرشل ڈرونز کے ایک بیڑے کو ہتھیار بنا لیا ہے تاکہ غزہ کے ان حصوں پر فلسطینیوں پر حملہ کیا جا سکے جنہیں وہ آبادی سے خالی کرانا چاہتی ہے۔ یہ انکشاف +972میگزین اور لوکل کال کی ایک تحقیق میں ہوا ہے۔غزہ میں تعینات 7فوجیوں اور افسران کے انٹرویوز کے مطابق یہ ڈرونز زمینی فوجی ہاتھوں سے کنٹرول کیے جاتے ہیں اور اکثر فلسطینی شہریوں، بشمول بچوں، کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے یا ان علاقوں میں واپس آنے سے روکا جا سکے جنہیں خالی کرایا گیا ہے۔سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ڈرونز EVO ہیں جو چینی کمپنی Autel تیار کرتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر فوٹوگرافی کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کی قیمت تقریباً 10 ہزار شیکلز (یعنی لگ بھگ 2500پاؤنڈ) ہے اور ایمیزون پر باآسانی دستیاب ہیں۔ تاہم فوجی ترمیم کے ذریعے، جسے اندرونی طور پر’آئرن بال‘کہا جاتا ہے، ان ڈرونز پر دستی بم لگایا جا سکتا ہے اور بٹن دبانے سے اسے گرا کر زمین پر دھماکہ کیا جا سکتا ہے۔ آج اسرائیلی فوج کی اکثریت غزہ میں انہی ڈرونز کا استعمال کرتی ہے۔
S.، جو رواں سال رفح کے علاقے میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی تھا، نے شہر کے اس محلے میں ڈرون حملوں کی نگرانی کی جسے فوج نے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کی بٹالین تقریباً 100 دن وہاں تعینات رہی، اور اس دوران روزانہ کی رپورٹس کے مطابق فوجیوں نے درجنوں ڈرون حملے کیے، جنہیں +972 اور لوکل کال نے بھی دیکھا۔ان رپورٹس میں تمام ہلاک شدہ فلسطینیوں کو ’دہشت گرد‘لکھا گیا۔ تاہم S.کی گواہی کے مطابق ایک شخص جس کے پاس چھری ملی اور ایک موقع پر مسلح جنگجوؤں سے مڈبھیڑ کے علاوہ، باقی تمام درجنوں افراد غیر مسلح تھے، یعنی اس کی بٹالین کے علاقے میں اوسطاً روزانہ ایک شخص مارا گیا۔ اس کے مطابق ڈرون حملے جان بوجھ کر مارنے کی نیت سے کیے گئے، حالانکہ زیادہ تر متاثرین فوجیوں سے اتنے فاصلے پر تھے کہ وہ کسی قسم کا خطرہ پیدا ہی نہیں کر سکتے تھے۔“
(+972 میگزین، 10 جولائی 2025)
جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں قائم ایک آزاد غیر سرکاری تنظیم یورومیڈ مانیٹر نے فروری 2024 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اسرائیلی فوج کے AUTEL روبوٹکس کے تیار کردہ ڈرونز کے استعمال کی پہلے ہی مذمت کی تھی۔ یہ این جی او مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ (MENA) اور یورپ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی دستاویز بندی کے لیے وقف ہے۔ اس نے چینی کمپنیوں، بشمول AUTEL، سے بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا تھا:
”جنگ زدہ خطوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں شراکت دار بننے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورتحال میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ ان شدید خطرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی احتیاط اور اضافی ذمہ داری سے کام لیں۔ خاص طور پر جب کسی مصنوعات کو اس طرح غلط استعمال کیا جائے جو کمپنی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پرامن اقدار کے منافی ہو، اور بالخصوص جب وہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو کر بین الاقوامی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سبب بنے، تو کمپنی کو فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسے فوری طور پر ایسے کسی بھی تعاون کو ختم کرنا چاہیے یا روکنا چاہیے اور باقی ماندہ اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ یورومیڈ ہیومن رائٹس مانیٹر زور دیتا ہے کہ Autel Roboticsجیسی چینی الیکٹرانکس اور ڈرون بنانے والی کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں کو بین الاقوامی قانون کی مکمل پابندی کرنی چاہیے۔“
(یورومیڈ مانیٹر،1 جولائی 2024)
اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی آبادی کے خلاف اپنی جنگ میں ایک اور چینی کمپنی کے سویلین ڈرونز بھی استعمال کر رہی ہے۔ یہ ڈرونز ڈی جے آئی (دا جیانگ انوویشنز) تیار کرتی ہے، جو شینزین (چین) میں قائم ایک نجی کمپنی ہے اور دنیا بھر میں سویلین اور پروفیشنل ڈرونز بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔
جیسا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے اپنی جون 2025 کے شائع شدہ رپورٹ’قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک‘میں لکھا:
”20۔جہاں کارپوریٹ ادارے اپنی سرگرمیاں اور تعلقات اسرائیل کے ساتھ جاری رکھتے ہیں، چاہے وہ اس کی معیشت، فوج، یا سرکاری و نجی شعبوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جڑے ہوں، تواسے جان بوجھ کرفلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی خلاف ورزی میں، فلسطینی علاقوں کے الحاق میں، ایک غیر قانونی قبضے کو قائم رکھنے میں (جو جارحیت کا جرم ہے اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کی پامالیاں ہیں)، نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) اور نسل کشی کے جرائم میں، اور دیگر متعلقہ جرائم و خلاف ورزیوں میں کی گئی شراکت داری قرار دیا جا سکتا ہے۔ مختلف دائرہ اختیار میں فوجداری اور دیوانی قوانین کے تحت کارپوریٹ اداروں یا ان کے ایگزیکٹوز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور/یا بین الاقوامی قوانین کے تحت جرائم کی ذمہ داری پر کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
21۔لہٰذا یہ لازمی ہے کہ ان ممالک کی حکومتیں جہاں یہ کمپنیاں قائم ہیں اور کمپنیاں خود بھی اسرائیلی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری سے گریز کریں۔ یہ ذمہ داری چین پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسے دنیا کے باقی تمام ممالک پرلاگو ہوتی ہے۔“
یوں یہ ذمہ داری ان ممالک کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جہاں یہ کمپنیاں قائم ہیں، اور خود ان کمپنیوں پر بھی، کہ وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت داری سے اجتناب کریں۔ یہ ذمہ داری چین پر بھی اتنی ہی لاگو ہے جتنی باقی دنیا پرلاگو ہوتی ہے۔
کیا چین اسرائیل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے؟
ایرک توساں:جی ہاں۔ چین نے اسرائیل کی دو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہوں، حیفہ اور اشدود، میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جو بحیرہ روم پر واقع ہیں۔چائنہ ہاربر انجینئرنگ کمپنی(جوچائنہ کمیونیکیشن کنسٹرکشن کمپنی کی ذیلی کمپنی ہے) نے اشدود کی بندرگاہ کو جدید بنایا اور اس کی توسیع کی۔ اس منصوبے سے بندرگاہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور عالمی تجارت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا گیا۔ اشدود اسرائیل کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے، اور اس کی جدیدیت نے خطے میں اس کی اسٹریٹجک حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ یہ منصوبہ چین اور اسرائیل کے درمیان تجارت کو سہولت فراہم کرتا ہے، خاص طور پربیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو(بی آر آئی) کے تناظر میں۔
اسی طرح چائنہ نیشنل آف شور آئل کارپوریشن(CNOOC) نے حیفہ کنٹینر ٹرمینل میں بڑا حصہ خریدا ہے، جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ شراکت داری کے تحت ہوا۔ یہ منصوبہ بھی اسرائیل کی بندرگاہی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری لے کر آیا۔ حیفہ کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کچھ بھارتی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہے۔
بندرگاہوں کے علاوہ چینی کمپنیاں دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جیسے ٹرانسپورٹ، توانائی اور ہائی ٹیکنالوجی۔ مثال کے طور پر اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں بڑے چینی ادارے جیسے Huawei اورZTE اسرائیل میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔