برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ پنجم)
ایرک توساں
(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)
جنوبی افریقہ کے اسرائیل سے تعلقات کیا ہیں؟
ایرک توساں: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت مثبت قدم تھا جب جنوبی افریقی حکومت نے 29 دسمبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف شکایت درج کرائی۔ یہ شکایت بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں دائر کی گئی، جو ریاستوں کے مابین تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا ادارہ ہے۔ پریٹوریا نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے غزہ پر اپنی فوجی یلغار کے دوران نسل کشی کے جرائم کی روک تھام اور سزا دینے سے متعلق کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔
جنوبی افریقہ کی درخواست میں اسرائیل کے اقدامات کو ایک وسیع تر تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جسے وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے 75 سالہ اپارتھائیڈ، 56 سالہ جارحانہ قبضے اور 16 سالہ غزہ کی ناکہ بندی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ 26 جنوری 2024 کو عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں نسل کشی سے متعلق اقدامات کو روکے، اگرچہ عدالت نے جنوبی افریقہ کی یہ درخواست منظور نہیں کی کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری رکھی اور انسانی امداد کی ناکہ بندی کو مزید سخت کر دیا۔
جنوری 2025 میں جنوبی افریقہ نے ہیگ گروپ کے قیام میں مدد دی، تاکہ اسرائیل کی غزہ پالیسی کے خلاف قانونی و سفارتی اقدامات کو مربوط کیا جا سکے۔ افتتاحی اعلامیے کے مطابق بنیادی وعدے درج ذیل ہیں ہیں:
بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف گرفتاری وارنٹس پر عمل درآمد کا مطالبہ، ایسے ہتھیار یا فوجی مقاصد کے لیے ایندھن کی فراہمی پر پابندی جو تنازعے میں استعمال ہو سکتے ہوں، اور اسرائیل کے لیے فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں میں داخلے سے روکنا۔
اس گروپ کے بانی ممالک میں جنوبی افریقہ، کولمبیا، بیلیز، بولیویا، کیوبا، ہونڈوراس، ملائیشیا، نمیبیا اور سینیگال شامل ہیں۔ جولائی 2025 کے وسط میں بگوٹا میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔
برکس (BRICS) کے حوالے سے دیکھا جائے تو چار بانی ریاستوں (برازیل، روس، بھارت اور چین) میں سے کوئی بھی تاحال جنوبی افریقہ کی شکایت میں شامل نہیں ہوا، اگرچہ اب تک 15 ممالک کسی نہ کسی سطح پر شامل ہو چکے ہیں۔ پانچ برکس ممالک میں سے صرف برازیل نے بہت تاخیر سے، یعنی جولائی 2025 میں، مستقبل میں شکایت میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اگر 2025 کے موجودہ 10 برکس ممالک کو مدنظر رکھا جائے تو ان میں سے صرف مصر نے اب تک شکایت میں شمولیت اختیار کی ہے۔
جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے افسوسناک پہلو، جو اس کی جائز شکایت سے سنگین تضاد رکھتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر کوئلہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق اسرائیل کی کھپت کا 15 فیصد کوئلہ جنوبی افریقہ سے آتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک یونیورسٹی پروفیسر پیٹرک بونڈ نے بارہا اسرائیل کو جنوبی افریقی کوئلے کی ترسیل کی مذمت کی ہے۔
بونڈ کے مطابق پریٹوریا حکام کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر کوئلے کی سپلائی بند کی جائے تو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کی خلاف ورزی ہوگی۔ بونڈ کا کہنا ہے کہ یہ دلیل بالکل غیر سنجیدہ ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں متعدد ریاستوں نے ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مزید برآں اسرائیل کے ساتھ تجارت ختم کرنا جنوبی افریقہ کا بالکل جائز اقدام ہوگا۔
جیسا کہ اقوامِ متحدہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیسی نے اپنی رپورٹ’قبضے کی معیشت سے نسل کشی کی معیشت تک‘کے پیراگراف 89 میں لکھا:
’’توانائی اور معدنیات نکالنے والی بڑی کارپوریشنز، اگرچہ شہری توانائی کے ذرائع فراہم کرتی ہیں، لیکن انہوں نے اسرائیل کے فوجی اور توانائی کے ڈھانچے کو بھی ایندھن فراہم کیا ہے، جو فلسطینی عوام کی تباہی کے حالات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘‘
یہ بنیادی رپورٹ جون 2025 کے آخر میں برکس اجلاس سے قبل شائع ہوئی تھی۔ تاہم 6 جولائی 2025 کو جاری ہونے والے برکس کے اجلاس کے حتمی اعلامیے میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
بونڈ نے جنوبی افریقی اسلحہ ساز کمپنی پیرا ماؤنٹ گروپ پر ایک تفصیلی ڈوزیئر بھی مرتب کیا ہے، جو آئیور ایچیکووِٹز (Ivor Ichikowitz) کی سربراہی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ بونڈ خصوصاً پیرا ماؤنٹ گروپ اور اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ (Elbit) کے تعاون کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا ڈوزیئر’کیا جنوبی افریقہ اسرائیل تجارت میں اسلحہ بھی شامل ہے؟‘کے عنوان سے21 دسمبر 2024 کو شائع ہوا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیرا ماؤنٹ گروپ کے سربراہ آئیور ایچیکووِٹز نے جنوبی افریقہ کی اسرائیل کے خلاف شکایت کی مذمت کی۔ انہوں نے فورچون میگزین میں لکھا:
’’جنوبی افریقہ کا حالیہ موقف اسرائیل کے خلاف کھلم کھلا دشمنی اور حماس کے لیے بے حد ہمدردی پر مبنی ہے۔اس کا نتیجہ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں گھسیٹنے کی صورت میں نکلا۔ اس کے باعث جنوبی افریقہ کو AGOA سے نکالے جانے کی سزا بھی مل سکتی ہے۔ یہ امکان اب بھی امریکہ اورجنوبی افریقہ کے تعلقات پر منڈلا رہا ہے۔‘‘
(ماخذ: ایور ایچیکووِٹز،’Soud Africa Should be truly non-aligned – and stop risking its vital trade ties with the West‘، فورچون، 26جنوری2024)
بونڈ، مختلف جنوبی افریقی تحریکیں اور بے شمار کارکن پریٹوریا حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں ، یعنی اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات بند کی جائیں اور ہر طرح کے تجارتی تعلقات ختم کر دیے جائیں۔