← Back to Newsroom OS خبریں

برکس ممالک غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟ (حصہ ہفتم)

By جدوجہد • 2025-09-12 • 11 min read

ایرک توساں

(درج ذیل سوال و جواب کی سیریز میں ایرک توساں برکس سربراہی اجلاس کے 6جولائی 2025کے اعلامیے اور برکس کے عملی اقدامات اور ان کے قائم کردہ اداروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس سیریز کو سلسلہ وار جدوجہد کے قارئین کے لیے اردو ترجمہ کر کے پیش کیا جارہاہے۔)

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کیا ہیں؟

ایرک توساں:2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں ابرہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات معمول پر آئے۔ 29 اگست 2020 کو معاہدوں کے اعلان کے چند ہفتے بعدعرب امارات نے 1972 کا وفاقی قانون منسوخ کر دیا،جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات ممنوع تھے۔ اس فیصلے نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری، اسرائیلی مصنوعات کی درآمد و فروخت، سائنسی، ثقافتی اور تکنیکی تعاون وغیرہ کو قانونی حیثیت دے دی۔ اس منسوخی سے پہلے بھی تعلقات بتدریج قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔

ابراہیمی معاہدوں کے بعد 31 مئی 2022 کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر دستخط ہوئے جو یکم اپریل 2023 کو نافذ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت تقریباً 96 فیصد ٹیرف لائنوں اور 99 فیصد تجارتی قدر پر کسٹم ڈیوٹی ختم یا نمایاں طور پر کم کر دی گئی۔ اس معاہدے کا مقصد پانچ سال کے اندر دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچانا ہے۔ غزہ میں تنازعے نے 2024 میں تجارتی سرگرمیوں کی نمایاں نمائش کو کم ضرور کیا، لیکن تجارت جاری رہی اور بڑھتی رہی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ 2022 میں دو طرفہ تجارت 2.5 ارب ڈالر تک پہنچی اور توقع ہے کہ 2025 میں یہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

بلومبرگ کے مطابق 2025 میں تقریباً 600 اسرائیلی کمپنیاں متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی ہیں، اور دبئی چیمبر کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد اماراتی کمپنیوں نے اسرائیل میں تعلقات قائم کیے یا آپریشن شروع کیے ہیں، یہ سب تعلقات کی بحالی کے بعد ممکن ہوا۔

کیا اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسلحہ کی تجارت بھی ہے؟

ایرک توساں:جی ہاں، 2020 میں تعلقات کی بحالی کے بعد سے اسرائیل اور امارات کے درمیان اسلحہ کی تجارت حقیقت میں موجود ہے۔ اس میں بنیادی طور پر فضائی دفاعی نظام (سپائیڈر، باراک 8، آئرن ڈوم)، ڈرونز اور الیکٹرانک ٹیکنالوجیز شامل ہیں،اور یہ صنعتی تعاون پر بھی مبنی ہے۔ اگرچہ مخصوص معاہدے حساس نوعیت کے ہیں، لیکن 2022 کے بعد سے تجارت میں تیزی آئی ہے اور 2024-2025 سے اس کی عوامی نمائش بھی بڑھ گئی ہے، خصوصاً اسلحہ کی نمائشوں جیسے IDEX کے ذریعے، جو ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ فروری 2025 میں ہونے والی IDEX نمائش میں 34 اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں موجود تھیں۔ اماراتی اسلحہ ساز کمپنی ایج اسرائیلی کمپنیوں ایل بٹ،رفائل،آئی اے آئی،آر ٹی اور Thirdeyeکے ساتھ فعال تعاون کر رہی ہے۔

کیا اماراتی مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست تعاون موجود ہے؟

ایرک توساں:اگرچہ دونوں فریق اس بات کا باضابطہ اعتراف نہیں کرتے، لیکن یقینا اماراتی مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان فوجی تعاون پایا جاتا ہے۔ ایران اور اس کے خطے میں اثرورسوخ کے خلاف دونوں ممالک کی دشمنی اس تعاون کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہی صورتحال یمن میں حوثیوں کے خلاف ان کے مشترکہ مفادات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

یمن کی جنگ کے آغاز (2015) سے متحدہ عرب امارات نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی، خاص طور پر سقطری کے مرکزی جزیرے پر، جو باضابطہ طور پر یمن کا حصہ ہے۔ امارات نے اس جزیرے پر قبضہ کر کے ایک فوجی اڈہ قائم کیا اور وہاں اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یمن کے ساحل کے قریب بحر ہند میں واقع سقطری کا جزیرہ نمابحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم جہاز رانی کے راستوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہر سال تقریباً 20ہزار مال بردار جہاز سقطری کے قریب سے گزرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 9 فیصد عالمی تیل کی سپلائی سے وابستہ ہیں۔

مزید برآں،متحدہ عرب امارات اسرائیل، بھارت اور یورپی یونین کے کئی ممالک (اٹلی، جرمنی، فرانس، یونان) کے ساتھ ایک منصوبے پر تعاون کر رہا ہے تاکہ خلیج دبئی کو سعودی عرب کے راستے ریاض سے جوڑتے ہوئے حائفہ کی بندرگاہ تک زمینی راستہ بنایا جائے۔ اس کا مقصد ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے سوئز کینال کو بائی پاس کرنا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ چین کی نئی شاہراہِ ریشم کے متبادل کی تیاری بھی ہے۔

امریکہ کے ساتھ امارات کا فوجی تعاون کس نوعیت کا ہے؟

ایرک توساں:یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جوبرکس کا رکن بھی ہے اور اس کی سرزمین پر امریکہ کا مستقل فوجی اڈہ بھی موجود ہے، اور یہ واضح طور پر اسرائیل کے ساتھ اس کی تعاون کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

امریکہ کی فوجی موجودگی متحدہ عرب امارات میں نمایاں، اسٹریٹجک اور طویل عرصے سے قائم ہے، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے دوطرفہ دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔ امارات کے دارالحکومت کے قریب امریکہ کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے جہاں لڑاکا طیارے (F-22، کبھی کبھار F-35)، نگرانی کے جہاز (AWACS، JSTARS)، مسلح ڈرونز (MQ-9 Reaper)، ایندھن بھرنے والے طیارے وغیرہ تعینات ہیں۔ یہ اڈہ خلیج فارس، عراق اور شام میں امریکی آپریشنز کے لیے ایک کلیدی لاجسٹک مرکز ہے، CENTCOM (مشرق وسطیٰ/وسطی ایشیا کمانڈ) کا حصہ ہے اور ایران پر نگرانی کرتا ہے۔ وہاں تقریباً 2ہزار سے 3ہزار امریکی فوجی مستقل یا باری باری تعینات رہتے ہیں۔

امریکہ نے متحدہ عرب امارات میں پیٹریاٹ PAC-3 جیسے میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، بحرین میں مقیم امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات مشترکہ بحری مشقوں اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی تعاون جیسے اقدامات میں شریک ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات امریکی بیڑے اور اس کے اتحادیوں کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔

(جاری ہے)

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)