بری امام بمقابلہ اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب: اشرافیہ کی ناجائز تجاوزات بھی جائز - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد رپورٹ)جب کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کچی آبادیوں سے سرکاری زمین واگزار کرانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نے امیر طبقے کے لیے قائم دو کلبوں کی مبینہ تجاوزات سے آنکھیں موڑ لی ہیں۔
’ڈان‘ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات پر سی ڈی اے کی ٹیمیں اسلام آباد میں سرکاری زمین سے تجاوزات ختم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف کچی آبادیوں، حاصل شدہ زمینوں پر آباد پرانے دیہاتیوں اور ریڑھی بانوں کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
ایک سرکاری افسر نے کہا کہ ’’تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنا ایک اچھا قدم ہے، ہم اس کے خلاف نہیں ہیں۔ سرکاری زمین ہر ایک سے واپس لی جانی چاہیے، چاہے وہ اشرافیہ کے قبضے میں ہو یا غریب کچی آبادی والوں کے پاس۔‘‘انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
اسلام آباد کلب لیز پر دی گئی زمین پر قائم کیا گیا تھا،اس پر الزام ہے کہ اس نے سی ڈی اے کی 51 کنال سے زائد زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، اس کے علاوہ اس پر کرایہ بھی واجب الادا ہے۔ اسی طرح ایک اور اشرافیہ کے لیے مخصوص سہولت، گن اینڈ کنٹری کلب، تقریباً 256 کنال زمین پر سی ڈی اے سے بغیر کسی الاٹمنٹ یا لیز لیٹر کے کام کر رہا ہے، جبکہ زمین کی باقاعدہ حد بندی بھی ابھی تک نہیں ہوئی۔
سی ڈی اے کی ایک دستاویز کے مطابق اسلام آباد کلب نے سی ڈی اے کی 51 کنال زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ ادارے کے ذرائع کے مطابق اس پر 48 کروڑ 50 لاکھ روپے سالانہ گراؤنڈ کا کرایہ بھی واجب الادا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’مذکورہ رقم کا ڈیمانڈ نوٹس کلب انتظامیہ کو جاری کیا جا چکا ہے اور کئی بار یاد دہانیاں بھی کروائی گئی ہیں، تاہم واجب الادا رقم ابھی تک جمع نہیں کروائی گئی۔ کچھ زمین پارکنگ اور دیگر استعمالات کے لیے اسلام آباد کلب کے زیر استعمال ہے، جس میں سی ڈی اے کی زمین اور مری روڈ کا رائٹ آف وے بھی شامل ہے۔ کل زیر قبضہ رقبہ تقریباً 54 کنال بنتا ہے۔‘‘
دستاویز میں مزید کہا گیا کہ سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے 24فروری 2023کو اسلام آباد کلب انتظامیہ کو ایک خط لکھا جس میں مری روڈ کے رائٹ آف وے پر قائم تجاوزات اور باڑ ہٹانے کی ہدایات دی گئیں۔ تجاوزات کا معاملہ وفاقی آڈٹ حکام کے سامنے بھی اٹھایا گیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان پہلے ہی اپنے آڈٹ پیراگراف میں دونوں کلبوں کے مسائل کی نشاندہی کر چکا ہے، تاہم سی ڈی اے اس کے باوجود غیر متحرک نظر آتا ہے۔ جب سی ڈی اے کے ایک افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ادارہ صرف کچی آبادیوں کو نشانہ بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم ہمیشہ بلاامتیاز کارروائیاں کرتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب اسلام آباد کلب کی انتظامیہ نے تحریری جواب میں کہا کہ کلب کو 1968-69 میں سی ڈی اے کی جانب سے 352.8 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔ یہ زمین رعایتی نرخوں پر لیز پر دی گئی کیونکہ کلب ایک غیر منافع بخش، خود کفیل ادارہ ہے جو کسی سرکاری فنڈ یا خزانے کی مدد کے بغیر چلتا ہے۔
جواب میں کہا گیا کہ ’’سی ڈی اے نے مطالبات اٹھائے اور حساب کتاب کی بنیاد فی ایکڑ سے بدل کر فی مربع گز کر دی۔ کلب نے ان مطالبات کو چیلنج کیا اور درخواست کی کہ اس کی خصوصی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رعایتی نرخ لاگو کیے جائیں۔‘‘
تجاوزات سے متعلق سوال کے جواب میں کلب نے کہا کہ ’’کلب نے اپنے قیام (1968-69) سے اب تک اپنی حدود برقرار رکھی ہیں۔ یہ معاملہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا اور بعد ازاں ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آیا۔ کلب نے وضاحت دی کہ باڑ سفارتکاروں اور ارکان کی حفاظت کے لیے لگائی گئی تھی اور سی ڈی اے کی ہدایت پر اسے ہٹا دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ حدود میں کبھی تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے یہ تجاوزات کے زمرے میں نہیں آتا، اور اس زمین پر کوئی مستقل تعمیر بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
کلب کے مطابق یہ معاملہ 25 مئی 2023 کو ڈی اے سی کے اجلاس میں نمٹا دیا گیا تھا، جس میں اس وقت کے سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی شریک تھے۔ گن اینڈ کنٹری کلب تقریباً 32 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے جو شکرپڑیاں کے علاقے میں واقع ہے۔ اسے 2004 میں نویں جنوبی ایشیائی کھیلوں کے دوران شوٹنگ رینج کے طور پر قائم کیا گیا تھا، مگر بعد میں یہاں ایک کلب بنا دیا گیا۔ اس کے معاملات بین الصوبائی تعاون کی وزارت دیکھ رہی ہے۔
جب ایک سینئر آئی پی سی افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کلب نے کوئی تجاوز نہیں کیا، اگرچہ اس کے پاس سی ڈی اے سے کوئی الاٹمنٹ یا لیز دستاویز موجود نہیں ہے۔افسر کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک جائز سہولت ہے۔ جہاں تک زمین کی لیز کا تعلق ہے، ہم سی ڈی اے کو ادائیگی کے لیے تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایت پر سی ڈی اے کو زمین کی درست حد بندی کے لیے کئی خطوط لکھے جا چکے ہیں، اور 6 اپریل کو جاری ہونے والا تازہ خط بھی شیئر کیا۔ خط میں کہا گیا کہ’’یہ ایک بار پھر درخواست کی جاتی ہے کہ گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کے لیے زمین کی حد بندی اور لیز کے معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔‘‘
سی ڈی اے کے ایک افسر نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اس کلب کے لیے کبھی زمین الاٹ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو 145 ایکڑ زمین الاٹ کی تھی، لہٰذا یا تو یہ کلب اسپورٹس بورڈ کی زمین پر بنایا گیا ہے یا پھر سی ڈی اے کی زمین پر قبضہ کر کے۔ حد بندی کے دوران سب کچھ واضح ہو جائے گا۔‘‘