بسنت: تفریح کا حق اور رجعتی دیواروں کی بوسیدگی
قمرالزماں خاں
لاہور کی فضاؤں میں سترہ برس بعد لوٹنے والی بسنت کی رونق اور گہما گہمی نے تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح وقتی طور پر ہی سہی‘ عام انسانوں کو مروجہ سیاست کی پراگندگی، معاشی بدحالی اور سماجی حبس و گھٹن کے ماحول سے نکال کر چند لمحے سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ یہ کوئی انقلاب تو نہیں لیکن ایک مثبت ثقافتی و سماجی پیش رفت ضرور ہے۔ جس میں نہ صرف لاہور کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ باسیوں کی وسیع اکثریت بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے خصوصی طور پر بسنت منانے کے لئے آنے والے لاکھوں لوگوں نے بنیاد پرستی، رجعت، ملائیت اور تحریک انصاف جیسے نیم فسطائی سیاسی رجحانات کا ’بو کاٹا‘ کیا ہے۔ عرصہ قبل یادداشت سے محو ہو چکے گیت نہ صرف سپیکروں پر چل رہے تھے بلکہ ہر کسی کی زبان پہ تھے۔ اسی طرح پتنگ سازی کی صنعت سے جڑے دسیوں ہزار محنت کشوں کو دوبارہ روزگار ملا ہے۔ آسمان پر تیرتے ان گنت رنگ برنگے پتنگ اس دبی ہوئی سماجی تڑپ کا اظہار ہیں جو ہر طرح کی ریاستی پابندیوں اور مذہبی و سماجی رجعت کو چیر کے باہر آنے کا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ یہ یقیناً ایک خوش آئند قدم ہے۔ لیکن یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ایسے ثقافتی میلے ٹھیلے اور سیر و تفریح کے مواقع بنیادی انسانی حق کے طور پر روز مرہ زندگی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ نہ کہ سالہا سال کے بعد ملنے والی کوئی مراعت یا عنایت۔
تاریخی طور پر دیکھیں تو اس ملک کی بیشتر حاوی سیاست کی طرح موجودہ حکمران بھی ریاستی نرسری میں پروان چڑھے ہیں۔ یہ ضیا آمریت کا وہ تاریک دور تھا جس نے پاکستانی معاشرے سے رونق، مسکراہٹ، محفلیں اور رنگ چھیننے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ ظلمت آج تک بھی چھٹ نہیں سکی۔ لیکن یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ اپنی بقا کی خاطر انہیں بہت کچھ اپنے ماضی سے مختلف یا متضاد کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ریاست اور حکمران جماعت کی کوئی بنیادی نظریاتی تبدیلی نہیں ہے۔ بلکہ پچھلی ڈیڑھ دہائی کے سیاسی انتشار اور معاشی زوال پذیری کے پس منظر میں اپنی ساکھ بچانے اور اپنے بحران زدہ نظام کو بحال کرنے کی سرتوڑ کوششوں کا ایک پہلو ہے۔ جس میں انہیں عوام کو خوشی کے چند لقمے دینے پڑ رہے ہیں۔ لیکن اس سرکاری بسنت نے جہاں بہت سے چہروں پر خوشیاں بکھیریں اور پورے لاہور میں راتوں رات گویا ایک میلہ سج گیا وہاں اس کا ایک تلخ رخ سیفٹی سے جڑے خدشات اور انتظامات (بارکوڈ والی پتنگیں اور ڈوریں، مخصوص سپلائرز کو پتنگ بازی کے سامان کی تیاری اور فروخت کی اجازت وغیرہ) کی وجہ سے جنم لینے والی قلت، بلیک مارکیٹ اور انتہائی مہنگی پتنگوں اور ڈوروں کا بھی تھا۔ جس نے پتنگ بازی کو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا۔ حتیٰ کہ نسبتاً متمول مڈل کلاس گھرانوں کے لوگ بھی سامان مہنگا ہونے کا شکوہ کرتے نظر آئے۔ جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جسے ادائیگی کی سکت کے باوجود سامان نہیں مل سکا۔ مثلاً ایک ننھے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو مہنگی پتنگ نہ خرید سکنے کی وجہ سے خود سے بنائی ہوئی ”شاپر“ (پولیتھین) کی پتنگ اڑا رہا تھا جس پر پولیس نے بڑی بے دردی سے اسے گرفتار کر لیا۔ یہ واقعہ جہاں ایک طبقاتی سماج میں تہواروں کے طبقاتی کردار کو عیاں کرتا ہے وہاں یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس نظام میں ریاستی قانون اور ضابطے ہمیشہ غریب اور کمزور کے خلاف حرکت میں آتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ منافع خوری کے نظام میں موقع ملتے ہی تفریح کو بھی لوٹ مار اور منافعوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ بہرحال اس بسنت کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ لوگوں نے بڑی حد تک اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیفٹی قوانین کا خیال رکھا۔
ریاست کے سیاسی و مذہبی بیانیوں، میڈیا اور تعلیمی نصابوں وغیرہ سے عام انسانوں کو اطاعت اور پژمردگی کے مخصوص سانچوں میں ڈھالنے کا کام لیا جاتا ہے۔ بالخصوص ہمارے جیسے بحران زدہ اور پسماندہ معاشروں میں یہ عمل زیادہ جابرانہ، سخت اور واضح ہوتا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں تو یہاں ایسی صورتحال بنا دی گئی ہے کہ لوگوں کے مل بیٹھ کر محفل جمانے اور قہقہہ لگانے کو بھی معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ یہاں کے نوجوانوں میں منشیات، جرائم اور بنیاد پرستی کے رجحانات کا پنپنا بے وجہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب انہیں کوئی صحتمند تفریح یا اجتماعی سرگرمی نہیں ملے گی تو جوانی کی بے پناہ توانائی سماج دشمن اور منفی شکلوں میں اپنا اظہار کرے گی۔ ایسے میں جشن بہاراں یا بسنت جیسے میلے یا تہوار (جو ہر ثقافت میں مختلف شکلوں میں موجود ہوتے ہیں) انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے اور جوڑتے ہیں۔ وقتی طور پر ہی سہی لیکن انہیں زندگی کی نہ ختم ہونے والی کٹھنائیوں اور فکروں سے آزاد کر کے تازہ دم ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہیں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں اور بہتر زندگی کی اجتماعی جدوجہد کا راستہ دکھاتے ہیں۔انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ غم روزگار سے ہٹ کے بھی کوئی سرگرمی‘ کوئی خوشی ہو سکتی ہے۔ ان سرگرمیوں سے رقص، موسیقی اور شاعری وغیرہ ایسے تخلیقی اور تفریحی عوامل کو جلا ملتی ہے جو انسان کو جانور سے ممتاز کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے مذہبی عرسوں یا میلوں کی طرف لوگوں کا میلان بھی بنیادی طور پر زندگی کی تلخیوں سے فرار کی ایک صورت ہوتی ہے۔ وہاں صنف کے تعصبات کچھ مٹتے ہیں، ڈھول کی تھاپ پر بوجھل دل ہلکے ہوتے ہیں اور انسان اپنی فطرت کے ان پہلوؤں سے جڑتا ہے جسے ریاستوں اور حکمران طبقات نے گناہ یا بے حیائی قرار دے رکھا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی بسنت کی بے شمار ویڈیوز اور تصاویر میں خواتین کی بھی بھرپور شرکت نظر آئی ہے۔ حقیقی سماجی آزادی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک خواتین کو ان کی آزادانہ انسانی شناخت کے ساتھ ان سرگرمیوں میں شریک نہ کیا جائے۔ عوامی زندگی میں ان کی شرکت و شمولیت کسی رشتے کی مرہونِ منت نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اسی طرح بزرگوں کے لئے فعال سماجی زندگی کے مواقع اور کھیل، سیر اور تفریح کے میدانوں تک عام آدمی کی رسائی وہ ”اکسیجن“ ہے جس کی اس گھٹن زدہ سماج کو اشد ضرورت ہے۔ محض کرکٹ کے حصار سے نکل کر کشتی، کبڈی، ملاکھڑا، گتکہ، تیراکی، مارشل آرٹس اور نیزہ بازی وغیرہ جیسے کھیلوں کو تعلیمی اداروں اور گلی محلوں تک پھیلایا جانا چاہئے۔ چولستان کی جیپ ریلی جیسے بڑے ایونٹس ہوں یا سستی سیاحت اور تفریح کے مواقع‘ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عام آدمی کی ان تک پہنچ ممکن بنائے۔ ایسے ایونٹس کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے کاروبار اور روزگار کے خاطر خواہ مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشی یا طبقاتی آزادی کے بغیر ہر قسم کی سیاسی اور سماجی آزادی ادھوری ہی رہے گی۔ جہاں ریاست پینے کے صاف پانی، تعلیم، علاج، روزگار جیسے حقوق سلب کر رہی ہو اور بنیادی سہولیات سے ہاتھ کھینچ کر انہیں نجی شعبے کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہو وہاں تہواروں اور میلوں ٹھیلوں کے رنگ بھی ماند پڑ جاتے ہیں اور دولت و پیداواری وسائل کی طرح سیر و تفریخ اور مسرت کے وسیلے بھی مخصوص طبقات کی اجارہ داری میں چلے جاتے ہیں۔ ہمارا مطمع نظر ایک ایسا اشتراکی سماج ہے جہاں زندگی کے قیمتی لمحات ذلت آمیز مشقت کی بھٹی میں جلنے کی بجائے انسانی معاشرے کی آرائش، تخلیق و تعمیر اور کائنات کی تسخیر کے عمل میں صرف ہوں۔ اور خوشی، سہولت، فرصت اور راحت کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق تصور ہو۔
